باب ۶۴ از ۶۵صفحات ۴۳۷–۴۴۲
حق نما آفاق ہیں
محمد دلشاد احمد مصباحی
.
حق نما آفاق ہیں فخر زماں آفاق ہیں
دین و سنت کی امانت کا نشاں آفاق ہیں
آج نظروں سے وہ اوجھل ہیں مگر دل میں سدا
اہل دل کے واسطے تو جاوداں آفاق ہیں
علم و عرفاں سے شغف رکھتے ہیں جو اس دور میں
رہنما ان کے لیے ہیں ضوفشاں آفاق ہیں
ہر کسی کی فہم میں وہ آنہیں سکتے کبھی
برتر و بالا بہت وہ از گماں آفاق ہیں
دین و سنت کی وہ خدمات جلیلہ کے سبب
اس زمیں کی پستیوں میں آسماں آفاق ہیں
تم کو گھبرانے کی حاجت کچھ نہیں ہے دوستو
ہر پریشانی میں جب وہ مہرباں آفاق ہیں
سنتوں پر ہے عمل ہر اک ادا محبوب ہے
سنیوں کے ناخدا وہ پاسباں آفاق ہیں
ہوں مقامات طریقت یا شریعت کے رموز
صاحب اسرار ہیں وہ رازداں آفاق ہیں
ذکر و فکر و علم کے چشمے رواں کر کے گئے
علم و عرفان و تصوف کی زباں آفاق ہیں
اولیاء اللہ کو ہے غم نہ کوئی خوف ہے
اس لیے مرقد میں اپنے شادماں آفاق ہیں
تو بھی اے دلشادؔ لے لے حصہ اس درگاہ سے
رحمت و برکات کا ابر رواں آفاق ہیں
آہ رحمت کے ساماں کو نیند آگئی
پیش کردہ: ذرہ بے مقدار خاکپاے غبار شہنشاہ محبت وارث پاک نور اللہ ضریحہ
حاجی محمد خلیل وارثی تروا گنج قنوج
...
آہ رحمت کے ساماں کو نیند آگئی
حاصل دین و ایماں کو نیند آگئی
درد پنہاں کے درماں کو نیند آگئی
زندگانی کے نگہباں کو نیند آگئی
آئینہ دار عرفاں کو نیند آگئی
کاشف سر قرآں کو نیند آگئی
موت کیا ہے زمانے کو بتلائیں کیا
عازم کوئے جاناں کو نیند آگئی
چہرہ صبح ہستی ظلمت بکف
آج کیا مہر تاباں کو نیند آگئی
کون چمکائے گا اب دلوں کی ضیاء
نور شمع شبستاں کو نیند آگئی
غنچہ حیران ہیں گل پریشان ہیں
آہ جان گلستاں کو نیند آگئی
جسکے جلوے نے چمکائی ساری فضا
ہاں اسی نور یزداں کو نیند آگئی
مرد آہن نما
نتیجۂ فکر : مولانا محمد شاہد رضا مجددی
مرد آہن نما رحماء کی عملی تفسیر
بحر عرفاں کی بھلا کیسے ملے کوئی نظیر
حسن و عرفان و عمل زہد و سخا عفو و وفا
ان محاسن سے گندھا میرے مجدد کا خمیر
قرن اول سے بہت ملتی تھی فطرت ان کی
آج اس بات کا قائل ہے ہر اک خورد و کبیر
جانفشانی تری ہر گام پہ بتلاتی ہے
اتنا آساں بھی نہیں ہونا جماعت کا امیر
بخت بیدار کا احسان تو دیکھے کوئی
مصطفیٰ پیارے کی رحمت کا دیا ہم کو سفیر
قلب ابلیس پہ شمشیر سی ہے نوک قلم
دل عاشق کو جلا دیتی ہے تیری تحریر
حشر تک بہتے رہیں فیض کے دھارے یوں ہی
نور آفاق سے آفاق رہیں یوں ہی منیر
برکتیں سب کو ملیں حضرت برکات سے خوب
فیض سرہند سے احمد ہوں سعادت کی ضمیر
اب کہاں جائیں گے اعداء ترے اے قبلۂ دل
شاہد اصغر و اکبر ہوئے سب تیرے اسیر
خادم جامعہ احمدیہ سنیہ قنوج
علم و عمل کا خوبرو پیکر
بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی مفتی اعظم قنوج کے وصال پر ملال پر لکھا گیا کلام
نتیجہ فکر :شریک غم مولانا مستقیم نعمت نگر ثم چھبرامئو قنوج
.......
علم و عمل کا خوبرو پیکر چلا گیا
عشق نبی کا ایک سمندر چلا گیا
ہر قوم فیض اٹھاتی تھی جس کے وجود سے
دکھ درد رکھنے والا وہ دلبر چلا گیا
علم حدیث علم تصوف پہ تھا عبور
ملک ادب کا ایسا سکندر چلا گیا
زہد و پرہیزگاری و تقویٰ ہے بے مثال
اخلاص اور وفا کا وہ خو گر چلا گیا
دین نبی کی نشر و اشاعت میں صبح و شام
جس کے گزر رہے تھے وہ رہبر چلا گیا
اہل سخن بھی کہنے لگے غم میں ڈوب کر
بزم ادب کا میری سخنور چلا گیا
ایسی نہ دیکھی پیر پرستی کسی میں آج
جس طرح میرا شیخ دکھا کر چلا گیا
اہل سنن کی بس ہے زباں پر یہی صدا
دنیائے سنیت کا وہ کشور چلا گیا
جس طرح بڑھیں تھیں باغ مجدد کی رونقیں
احمد رضا کا وہ گل خو شتر چلا گیا
وہ ایک مدبر اور مفکر ولی صفت
ہم سب کے درمیاں سے اٹھ کر چلا گیا
قنوج اور جوانب و اطراف کا وقار
جس سے بلند تھا وہ قلندر چلاگیا
اہل طلب نے پایا ہے جس سے دلوں میں نور
وہ مستقیم ماہ منور چلا گیا
مفتی آفاق سب کا بھلا کر گئے
از: بلال آفاقی
..........
زندگی کا سلیقہ عطا کر گئے
مفتی آفاق سب کا بھلا کر گئے
اپنے روحانی فیضان سے دیکھیے
کتنے قلب و جگر جگمگا کر گئے
عمر ترسٹھ برس کام اتنا بڑا
ساری دنیا کو حیرت زدہ کر گئے
گلشن معرفت میں بہار اگئ
گل طریقت کے ایسے کھلا کر گئے
مفتی آفاق شاہ تم پہ لاکھوں سلام
شان اسلام کی تم بڑھا کر گئے
جامعہ احمدیہ سلامت رہے
اہل سنت کو جو وہ عطا کر گئے
صرف پینتیس برس میں مرے بھائیو
دیکھیے تو ذرا کیا سے کیا کر گئے
اس صدی کے وہ تھے بالیقیں نقشبند
جانے کتنے دلوں کو جگا کر گئے
کوئی مانے نہ مانے مگر جان لیں
سیدھا رستہ وہ سب کو بتا کر گئے
شکر کر اے بلالؔ حزیں عمر بھر
تیرے ایمان کو وہ بچا کر گئے
فیضِ آفاق
مولانا محمد ابو دجانہ آفاقی مجددی نقشبندی،الجامعہ الاحمدیہ السنیہ قنوج
.......
فیضِ آفاق ابھرتا ہی نظر آتا ہے
اب تو قنوج چمکتا ہی نظر آتا ہے
ہو گئے قلب منور ترے صدقے جاناں
ہر گھڑی فیض برستا ہی نظر آتا ہے
کر دیا تازہ مجدد کا چمن پھر تم نے
اب تو گلشن یہ مہکتا ہی نظر آتا ہے
اور تصوف کو بھی بخشا ہے بہت تم نے عروج
آج ہر سمت یہ بڑھتا ہی نظر آتا ہے
تری نسبت ہی شفاعت کا ذریعہ ہے مرا
تو مجھے آسرا یکتا ہی نظر آتا ہے
ہم نے ڈھونڈی ہیں بہت تیری مثالیں جاناں
تو مجھے دور میں یکتا ہی نظر آتا ہے
تری رحلت نے بھی منگتوں کو سدا ہمت دی
کام کا حوصلہ بڑھتا ہی نظر آتا ہے
ایک لمحہ بھی نہ غافل رہا رب سے تیرا
اللہ اللہ سدا کرتا ہی نظر آتا ہے
اپنے عاصی کو بھی دامن میں چھپائے رکھنا
ورنہ یہ خاک میں ملتا ہی نظر آتاہے
نام آفاق کام آفاقی
نام آفاق کام آفاقی
تیرے سنگ ہر گھڑی کا کیا کہنا
اور پھر زندگی کا کیا کہنا
بایزید و جنید یاد آئیں
تیری اس زاہدی کا کیا کہنا
دھارے سرہند اور بخارا کے
فیض کی اس ندی کا کیا کہنا
نام آفاق کام آفاقی
فاتح عالمی کا کیا کہنا
ایک تو حسن بے مثال ترا
اور پھر سادگی کا کیا کہنا
ایک لمحے میں قلب ہو روشن
قوت باطنی کا کیا کہنا
بیٹھےجتنے بھی سائے میں تیرے
ان کی خوش قسمتی کا کیا کہنا
روضہ مثل بہشت لگتا ہے
اس پہ پھر حاضری کا کیا کہنا
ہیں سمندر یہ علم و عرفاں کے
حکمت و آگہی کا کیا کہنا
ہیں مجدد کے مظہر و نائب
آپ کی نائبی کا کیا کہنا
صدق و عدل و سخاوت و ہمت
قوت حیدری کا کیا کہنا
پائی عاصی نے آپ کی صحبت
نور کی اس گھڑی کا کیا کہنا