باب ۶۱ از ۶۵صفحات ۴۰۲–۴۱۲
شبِ دیجور اور صبحِ نور
مولانا سید نور عالم مصباحی
حامداً و مصلیاً و مسلماً
حضور بحر العرفان علامہ الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمۃ و الرضوان سے میری پہلی ملاقات ۲۰۱۱کے آخر یا ۲۰۱۲ء کے اوائل میں اوپر کوٹ علی گڑھ کی تاریخی جامع مسجد میں ہوئی،اس سے پہلے حضرت سے بس اتنی آشنائی تھی کہ جامعہ اشرفیہ مبارکپورکے زمانۂ طالب علمی میں اپنے کسی ہم سبق ساتھی سے اتنا سن رکھا تھا کہ حضرت مفتی صاحب کا دل ذاکر ہے اور جس پر آپ توجہ فرمادیتے ہیں اس کا دل بھی ذاکر ہو جاتا ہے۔
ملاقات کی نوعیت یہ تھی کہ عالی جناب سیدمصطفیٰ علی صاحب کی کوششوں سے مذکورہ مسجد میں میلاد شریف کی محفل تھی اور سید صاحب کے بقول آزادی ہند کے بعد اس مسجد میں میلاد پاک کی پہلی محفل تھی،جس میں حضرت کا خصوصی خطاب ہونا تھا،حضرت مولانا نعمان احمد ازہری صاحب نے اختیار ات مصطفیٰ ﷺپر خطاب فرمایا جبکہ نظامت کے فرائض میں نے انجام دیے،حضرت شروع سے آخر تک محفل ہی میں تشریف فرما رہے،آپ کے ساتھ آپ کے خادم خاص حضرت مولانا آفتاب احمد مجددی صاحب بھی تھے،اس ملاقات میں حضرت کی سادہ مزاجی اور عام فہم گفتگو کے بعد مجھے جس چیز نے متاثر کیا وہ مِہرن کلر کا آپ کا عمامہ تھا جو آپ کے گورے چہرے اور سفید زلفوں پر بہت ہی اچھا لگ رہا تھا۔
دوسری ملاقات جامعہ البرکات علی گڑھ کے گیسٹ ہاؤس میں ۲۰۱۲ء میں ہوئی اس کا پس منظر یہ تھا کہ شہزادۂ حضور امین ملت حضرت سید محمد امان میاں قادری برکاتی دام ظلہ(جو ابھی جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں زیر تعلیم تھے) مارہرہ مطہرہ میں ایک عا لیشان مدرسے کی بنیاد رکھنا چاہ رہے تھے(حضور بحر العرفان کے بعد میں نے حضرت امان میاں کو سب سے زیادہ مشورہ کرنے والا پایا) لہٰذا اس سلسلے میں مشورہ کرنے کے لیے انہیں حضور بحر العرفان کی ذات سب سے زیادہ موزوں لگی اس لیے کہ آپ
عملی طور پر دو اسکول اور دو مدرسے کامیابی کے ساتھ چلا رہے تھے۔
اتفاق کہ جب ایک روز حضور بحر العرفان بذریعہ روڈویز بس قنوج سے دہلی جا رہے تھے تو سید مصطفیٰ علی صاحب نے حضرت امان میاں کو بتایا انھوں نے رابطہ کیا اور علی گڑھ آنے کی دعوت دی حضرت آگے کا سفر مؤخر کرکے سیدھے البرکات علی گڑھ آگئے اور دونوں حضرات ایک دوسرے کی دست بوسی کے لیے جھکے۔
پھر بڑے ہی سنجیدہ ماحول میں مشوروں کا دور شروع ہوا۔ بیچ بیچ میں ہم جیسے کوتاہ فکروں سے بھی مشورے ہوتے یا ہم خود ہی اپنی راے دیتے جو حضرت کے مشورے کے خلاف بھی ہوتے تب بھی حضرت پسند فرماتے اور کسی قسم کی نا گواری کا اظہار نہ ہونے دیتے۔ حضرت اور ہمارے مشوروں میں ایک خاص خط امتیاز یہ ہوتا کہ ہم جو بھی کہتے وہ ماضی کی کسی نہ کسی چیز سے لیا ہوا ہوتا مگر حضرت کا مشورہ سب سے الگ تھلگ،انوکھا اور بے مثل ہوتا اور اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ مستقبل کو دیکھ کر پلاننگ کیا کرتے تھے۔
ایک گھنٹے یا اس سے زائد یہ مشورتی میٹنگ چلتی رہی جس کے اختتام پر حضرت امان میاں صاحب نے نذرانے کے لفافے کے ساتھ رخصت کیا جسے حضور بحرالعرفان نے بمشکل قبول فرمایا۔
۲۰۱۲ء کے آغاز میں میں نے حضرت امان میاں صاحب کے مشورے سے ایک ساتھ اپنی دو بہنوں کو حضرت کے مدرسے جا معۃ المحصنات میں داخل کرا دیا،چند دنوں میں سید مصطفیٰ علی صاحب کی صاحبزادی کے توسط سے میری بہنیں حضور بحر العرفان کی صاحبزادیوں سے گھل مل گئیں اور پھر حضرت کی تیسرے نمبر کی بیٹی کے ساتھ میرے رشتے کی بات چل نکلی بیچ میں کافی نشیب و فراز آئے اور آخر کار یہ رشتہ طے ہو گیا اور ۲۵ نومبر ۲۰۱۴ء کو حضرت نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول فرمالیا۔
(اب یہاں خاص شادی کے روز چند باتیں سب اس لیے قلم بند کی جاتی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اکیسویں صدی کے اس مغرب زدہ ماحول میں حضور بحر العرفان نے اپنے گھر کا ماحول کس قدر سنت نبوی کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا)
حضرت کا سنتوں بھرا خانوادہ:
خاص شادی کے دن جبکہ میرا اور میرے چھوٹے ہم زلف مولانا قاری ضیاء القمر مجددی کا یکے بعد
دیگرے نکاح ہونے ہی والا تھا کہ حضرت نکاح اور رخصتی کے فرائض ادا کرنے سے پہلے کسی میت کی وصیت پر اس کے جنازے کی نماز پڑھانے چلے گئے،اس واقعے سے بھی میں کا فی متاثر ہوا۔
رخصتی کے وقت میں اپنے چند اہل خانہ کے ساتھ حضرت کے گھر کے باہر روڈ پر کھڑا تھا،ایک ساتھ دو دو بیٹیوں کی رخصتی تھی اس لیے رخصتی کے وقت پورا گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھامگر جوں ہی حضرت کی صاحبزادی کے قدم گھر کی دہلیز سے باہر اٹھے تو اب صرف سسکیاں رہ گئی تھیں تاکہ کسی غیر محرم کے کان میں ان کی آواز نہ پہنچے۔
شادی کے بعد جب میں پہلی بار حضرت کے گھر گیا تو میرے لیے حضرت کے گھر کا ماحول بالکل عجیب و غریب تھا اس لیے کہ میرے دماغ میں سسرال کا جو تصور تھا وہ یہ تھا کہ،محرم و غیر محرم سبھی رشتہ داروں سے سامنا ہوگا،دلہن کے بھائی اور بہنیں خوب ہنسی مذاق کریں گی وغیرہ وغیرہ۔
مگر یہاں تو ماحول بالکل انوکھا اور میرے خیال کے بر عکس تھا یہاں تو ہر نشست و برخاست،ملن جلن سب کچھ شریعت و سنت کے عین مطابق تھا،نہ سالیاں سامنے آتی تھیں اور نہ ہی کوئی اور غیر محرم عورت حد یہ کہ خود میری خوش دامن یعنی حضرت کی اہلیہ محترمہ اس قدر حیاء کا پیکر ہیں کہ اپنے کسی داماد کے سامنے آنا تو کجا شرم سے بات چیت بھی نہیں کیا کرتی ہیں،جب کہ مامتا کے معاملے میں دامادوں کو اپنے بیٹوں پر سدا فوقیت دیتی ہیں۔ کبھی کبھار ان کے فرزند سبب دریافت کرتے ہیں تو ان کا بس سیدھا سادہ جواب یہی ہوتا ہے کہ بیٹے تو اپنے ہوتے ہی ہیں مگر دامادوں کو اپنا بنانا پڑتا ہے۔
الغرض یہ کہ آغاز میں مجھے اس ماحول سے بڑی حیرانگی تھی بلکہ ایک دو بار جھنجلاہٹ بھی ہوئی تھی۔ مگر اب بار بار دل سے یہی صدا نکلتی ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ حضرت کے ذریعہ آراستہ کیے ہوئے اس مثالی ماحول کی وجہ سے ایک طرف جہاں بہت سے جانے انجانے گناہوں سے بچ گیا وہیں دوسری طرف ایک مثالی اسلامی گھرانہ کیسے بنایا جاتا ہے اس کی بھی سیکھ ملی۔
میرے اور میرے سارے کنبے کے لیے اس سے بھی حیران کن معاملہ یہ در پیش آیا کہ جب حضرت کی صاحبزادی پہلی بار میرے گھر پر پہنچیں تو سحری کا وقت تھا طلوع فجر میں کوئی آدھا پون گھنٹہ بچا ہوگا جبکہ مغرب کی نماز کے بعد رخصتی ہوئی تھی، مگر قنوج سے میرے گاؤں ’نرچہوا ‘سیف ضلع بلرامپور میں لمبا فاصلہ ہونے کی وجہ سےیہ وقت ہو گیا،وہاں میرے گھرانے کی تقریبا سبھی عورتیں اپنے نئے
مہمان کے استقبال کے لیے کھڑی تھیں،جوں ہی وہ لے کر گھر کے برامدے میں داخل ہوئیں تو ان کی توقع کے خلاف دلہن نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی شاگردہ یعنی میری بہن کو بلایا اور جب وہ آگئی تو عشا کی نمازپڑھنے کے لیے مصلیٰ مانگا۔اس پابندی نماز پر دیندار طبقے نےکافی سراہا اور پرورش و پرداخت کی داد دی۔
صبح ہوتے ہی ایک اور واقعے نے پورے گھر کو حیران کردیا؛ وہ یہ تھا کہ حضرت کی صاحبزادی مجھ سے یہ مطالبہ منوانے میں کامیاب رہیں کہ وہ کسی دیور یا غیر محرم مرد کے سامنے نہیں ہوں گی۔ میری بڑی کو ششوں کے باوجود بس ایک زینہ نیچے آئیں کہ میرے سگے بھائیوں کے سامنے بس اسی قدر آئیں گی کہ جتنے کی بعض علما نے اجازت دی ہے مثلاً چہرہ اور ہتھیلی کھولنا،اس چیز کو لے کر میرے گھر میں کافی کشمکش رہی۔ خاص کرمیرے چچیرے بھائیوں کی طرف سے اور بہتیرے ناراض بھی ہو گئے۔ مگر آخر کار جیت حضرت کی اس تربیت ہی کی ہوئی کہ‘‘لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق’’ (یعنی اگر مخلوق کی بات ماننے میں اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو تو کسی کی بھی بات نہیں مانی جائے گی،)اور آج میرا پورا گھرانہ اس تربیت و عمل بر عزیمت پر کافی خوش ہے اور اسے بیان بھی کرتا ہے۔
میری جس وقت شادی ہوئی میں جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے فضیلت کرنے کے بعد،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی میں ایم،اے فارسی کا طالب علم تھا اور ساتھ ہی مسجد البرکات میں امامت کی بھی ذمہ داری تھی شروع میں تو مجھے تصوف و صوفیہ سے کافی لگاؤ تھا مگر بعد میں خانقاہوں کی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر یہ کہنے لگا تھا کہ اب اہل اللہ صرف کتا بوں میں رہ گئے ہیں ورنہ کوئی شخصیت ایسی نہیں نظر آرہی ہے جو راہ سلوک طے کراکے معرفت الٰہی کے جام پلادے۔
حضور بحر العرفان کی عادت کریمہ تھی کہ ہر شخص سے اس کے مزاج کے مطابق باتیں کیا کرتے تھے لہٰذا مجھ سے جو ابتدائی ملاقاتیں رہیں ان میں زیادہ تر تعلیم و تعلم ہی موضوع سخن رہا۔
ایک بار بعد نماز مغرب جبکہ حضرت اپنے حجرۂ خاص میں کسی کتاب کی تالیف میں مشغول تھے اجازت لے کر داخل ہوا،جہاں صفات باری تعالیٰ کے عین ذات یا غیر ذات ہونے پر گفتگو شروع ہوئی مقصد آزمانا نہیں تھا بلکہ اس مسئلے کو حل کرنا تھا اس لیےکہ جامعہ اشرفیہ کے زمانۂ طالب علمی میں جبکہ حضرت مولانا نصیر ملت سےشرح عقائد نسفی پڑھ رہا تھا اسی میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا تھا مگر نہ تو کتاب
اور نہ ہی شرح میں اس کا کو ئی تشفی بخش حل مل سکا مگر جب حضرت سے گفتگو ہوئی تو حضرت نے میرے اس لا ینحل مسئلے کو حضرت مجدد الف ثانی کے حوالے سے اس قدر تشفی بخش جواب دیا کہ میں مطمئن ہو گیا۔
اس ملا قات کے بعد میں حضرت کے علم ظاہر کا یک گونہ عقیدت مند ہو گیا مگر اب بھی آپ کی روحانی عظمتوں کا بالکل بھی معترف نہ تھا اس کی کئی وجہیں تھیں،پہلی وجہ تو یہ کہ میں حضور امین ملت دامت برکاتہم العالیہ کے دست حق پرست پر سلسلۂ قادریہ برکاتیہ میں بیعت تھا اور چاروں سلاسل کی حقانیت کے باوجود روحانیت صرف اسی سلسلے میں منحصر سمجھتا تھا،دوسری یہ کہ میرا تعلق سادات گھرانے سے تھا اور بچپن ہی سے حضرات سادات کرام کے فضائل و مناقب پڑھ پڑھ کر اور سن سن کر یہ بات دل میں بیٹھ سی گئی تھی کہ اولیاء اللہ تو سادات میں سے ہوں گے۔
میرے دونوں ہم زلف خصوصاً حضرت قاری ضیاء القمر مجددی صاحب نے کئی بار بڑے حکیمانہ انداز میں ذکر و فکر سے جڑنے کی صلاح دی مگر ہر بار میں قوم کا رونا روکر اور حالات حاضرہ پر گرما گرم گفتگو کرکے انھیں خاموش کر دیتا یا پھروہ میری قلبی قساوت کو دیکھ کر خود ہی خاموش ہو جاتے۔
مگر شاید مقدر میں یہی لکھا تھا کہ یہ قلعہ باہر کے بجائے اندر سے فتح ہو،میری شریک حیات بھی میری ظاہر بینی کو لے کر بڑی متفکر رہا کرتی تھیں اور بار بار مجھے اپنے ابا جان کی صحبت میں بیٹھنے پر ابھارا کرتیں مگر بھلا میں کب سننے والا تھا الٹا انھیں کو ادھر ادھر کی سنا کر خاموش کر دیا کرتا۔
ایک بار تو بڑا عجیب و غریب لطیفہ در پیش آیا؛ہوا یوں کہ میں نے فاتحہ کی کسی محفل میں حضرت کے دل کو کس کے دھڑکتے اور کپڑے کے اوپر سے سے بھی نیچے اوپر ہوتے دیکھ لیا جس سے مجھے لگا کہ شاید حضرت کو کچھ ہارٹ پروبلم ہے پھر گھر پہنچ کر میں نے اپنی اہلیہ کو مفت میں یہ مشورہ دے ڈالا کہ میں نے ابھی جے پور کے جس ہو سپٹل میں اپنے والد صاحب کو پیس میکر لگوایا ہے اسی میں حضرت کو بھی دکھا دینا چاہیے! اس لیے کہ آج میں نے ان کے دل کو بہت تیز دھڑکتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس بے چاری نے میری اس انجانی گستاخی پر میرا منھ پکڑ لیا اور بتایا کہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ذکر قلبی ہے جو ہمارے سلسلے میں رائج ہے۔
یہ سن کر میں بڑا متاثر ہوا اور فوراً میرے دماغ میں مشکات شریف کی وہ حدیث پاک آ گئی کہ جس کا
مفہوم یہ تھا کہ جب پیارے آقا علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام نماز پڑھتے تو آپ ﷺ کے قلب اقدس سے پانی کے ابلنے کی آواز آتی۔
صبحِ نور:
اس واقعے کے بعد جب ایک دن اور میری اہلیہ محترمہ نے حضرت کی محفل میں بیٹھنے کے لیے کہا تو اس بار میں دل سے تیار ہو گیا۔ عصر کی نماز کے بعد جبکہ حضرت اپنی مسجد کے برآمدے میں اکیلے تشریف فرما تھے،گرمیوں کی شام تھی،لو جیسی گرم ہوائیں ابھی بھی کسی قدرتیز چل رہی تھیں،ساتھ ہی ساتھ ادھر ادھر سے یکہ دکا مچھر بھی کاٹ رہے تھے،میں بس چپ چاپ بیٹھ گیا۔ اس کے بعد میرے ساتھ جانے کیا ہوا؛ نہ گرمی کا احساس ،نہ مچھروں کے کاٹنے کا بلکہ خود کا بھی تو پتہ نہیں رہا۔ میں نہ تو نیند میں تھا اور نہ ہی بیہوش یکایک کانوں میں مغرب کی اذان کی صدا پہنچی تو میں حیرت زدہ اٹھ کھڑا ہوا کہ آخر اتنی جلدی نماز مغرب کا وقت کیسے ہو سکتا ہے؟غرض کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شفق کو تکے ہی جا رہا تھا کہ اندرون سینہ طلوع فجر کا بھی احساس ہو نے لگا۔ حالت غیر ہو رہی تھی کہ حضرت شیخ میری طرف دیکھا میں نے بھی روزانہ کی طرح نظریں ملانا چاہا مگر نگاہیں اٹھنے کی بجائے از خود جھک گئیں،پھر تو چھٹی حس نے یہ فیصلہ سنا دیا لو! اب تو جو ہونا تھا وہ ہو گیا سب کچھ اسی نگاہ مخمور کا کمال ہے۔
چند ایک صحبتوں کے بعد حضرت نے مولانا آفتاب صاحب آفاقی مجددی کو حکم فرمایا اور انھوں نے لطائف کی تشریح کے ساتھ مجھے ذکر نقشبندی مجددی کی تعلیم دی (انھوں نے ہر ہر لطیفہ پر غالباً ساٹھ ساٹھ بار ضربیں لگانے کے لیے کہا تھا مگر آج تک مجھ جیسے کاہل سے گیارہ بار سے زیادہ نہ ہو سکا) اور ساتھ ہی ساتھ اپنے سینے کی طرف دکھا کر ذکر لطائف کا حسین منظر بھی دکھایا اور فرمایا کہ اگر آپ بھی ذکر کریں تو آپ کے لطائف بھی چالیس دن کے اندر ذاکر ہو جائیں گے۔
آغاز امر ہی میں حضرت نے امی جان(میری خوش دامن) سے فرمایا تھا ‘‘تمہارے داماد محنت کر رہے ہیں اور میں بھی ان پر توجہ رکھ رہا ہوں اگر وہ اسی طرح محنت کرتے رہیں گے تو جلد کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘
تقریباً ایک مہینے کے آس پاس یہ مراقبہ جاری رہا پھر تصور شیخ کرنا چاہا مگر میرے لیے یہ فیصلہ کرنا کافی مشکل تھا کہ میں تصور کس کا کروں اپنے پیر و مرشد حضور امیں ملت کا یا پھر اپنے حضرت کا؟میں
نے امی جان سے پوچھوایا جس پر حضرت صرف مسکرا کر رہ گئے اور کوئی جواب نہیں دیا۔میں سمجھ گیا کہ حضرت غایت درجہ انکساری اور حضور امین املت کے ادب کی وجہ سے خاموش ہو گئے ہیں اور اپنے تصور کا نہیں کہہ رہے ہیں،لہٰذا مفتیِ دل کے اس فتویٰ کے بعد میں حضرت ہی کا تصور کرنے لگا، چند ہی دن کے اندر میں نے اس ذکر و مراقبے کے واضح اثرات دیکھے، اکثرنمازیں خشوع و خضوع سے دا ہو نے لگیں،تلات کلام پاک کی لذت بڑھ گئی، نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت سی ہونے لگی۔
اسی بیچ نظر کشفی میں بہت سارے مشائخ سلسلہ کی مدد بھی شامل رہی جن میں حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت قطب بنارس رحمہما اللہ کے نام سر فہرست ہیں۔ میں اپنی کیفیات و واردات کو حضرت سے بیان کرتا حضرت بغور سنتے،خوش ہوتے اور میری حوصلہ افزائی کے لیے بڑی بڑی بشارتوں سے نوازتے۔
قنوج کا جب اگلا سفر ہو ا تو میری اہلیہ محترمہ نے کہا کہ با قاعدہ سیر و سلوک طے کرنے کے لیے طالب ہو نا ضروری ہے لہٰذا آپ بھی طالب ہو جائیں،میں حضرت کے پاس حاضر ہوا نماز فجر و مراقبہ سے فراغت کے بعد جب مسجد میں صرف حضرت اور حضرت کے خادم خاص مولانا آفتاب صاحب باقی رہ گئے تھے،مجھ میں حضرت سے براہ راست عرض کرنے کی ہمت نہیں تھی (جب کہ آج سے پہلے ہر بات بے خوف ہو کر کر لیتا تھا) لہٰذا میں نے مولانا آفتاب صاحب سے عرض مدعا کردیا،انھوں نے حضرت سے کہہ سنایا حضرت نے از راہِ انکسار فرمایا کہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں آپ سے تو ویسے بھی کافی لگاؤ ہے مگر پھر آپ نے داخل سلسلہ فرمالیا۔
طالب ہونے کے بعد جب میں بذریعۂ بس قنوج سے علی گڑھ آرہا تھا تو حالت کچھ یوں تھی؎
اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
شیخ تربیت کی محبت جب عشق میں بدلا اور عشق کی سوزش نے اپنا کام کیا تو شاعری سے طبعی مناسبت نہ ہونے کے باوجود بھی بس ہی میں فارسی میں اشعار آنا شروع ہو گئے،سارے اشعار تو کتاب کے آخر میں مناقب کے گوشے میں ہیں مگر یہاں اس کے دو شعر صرف بطور نمونہ حاضر ہیں؎
آں شراب عشق و مستی جرعہ جرعہ می چشم
ساقیِ سرہند دادہ جام اورا یار ما
شہر جاناں جان جاناں ہست در ہندوستاں
خس شمامہ مجموعہ محبوب دارد یار ما
مذکورہ فارسی منقبت اور ایک اردو منقبت کو ٹائپ کراکے اگلے سفر میں بارگاہِ حضور بحر العرفان میں اس وقت پیش کرنے کا شرف حاصل کیا جب حضرت کے حجرۂ خاص میں نعت خوانی کی روح پرور محفل سجی تھی۔
طالب ہونے کے بعد اذکار و مراقبات میں کافی سرعت پیدا ہو گئی،کشف باطن میں بھی جلا پیدا ہوئی۔ حضور ختم المرسلین ﷺ کی خصوصی عنایتیں اور اولیائے کرام رحمہم اللہ کے فیوض جھما جھم برسنے لگے۔ خاص کر فاتحہ اور شجرہ خوانی کے وقت جس کا بھی تصور ہوتا ان کی خاص توجہ ہونے لگ جاتی۔ کئی بار توعالم واقعہ میں ایسے ایسے احوال ظاہر ہوئے جنھیں حضرت نے قلم بند فرمانے کا حکم دیا،ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور ستر احوال کی بھی تاکید فرمائی۔
میں اپنے احوال و واردات کو چھپاتا رہتا مگر جب قنوج پہنچتا تو حضرت مجمع یاراں میں احوال دریافت فرمالیتے میں ہر چند دھیمی آواز میں بیان کرتا تاکہ صرف حضرت ہی سن سکیں مگر حضرت بلند آواز سے بتانے کے لیے کہتے،مجھے اندر سے بہت عجیب سا لگتا مگر پھر’’الامر فوق الادب‘‘ کے بموجب میں اپنی یا د داشت کو یہ سوچ کر بیان کر جاتا؎
دل من پارہ گشت از غم نہ زاں گونہ کہ بہ گردد
وگر جاناں بدیں شاد ست یارب !پارہ تر بادا
ایک بار عشا کے بعد کے مراقبے میں انوار کی بڑی ہما ہمی تھی،ہر کوئی اپنے ظرف اور استعداد کے مطابق لطف اندوز تھا،مراقبہ ختم ہونے کے بعد حضرت اس مفلوک الحال کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’آج کچھ نظر آیا‘‘ میں سمجھ گیا بلکہ سمجھتا بھی تھا کہ حضرت کو سب کچھ پتہ ہے،میں نے عرض کیا:حضور! ایسا لگا کہ جیسے آپ کے سینۂ مبارک کے دائیں اور بائیں جانب سے دودھ سے بھی زیادہ سفید رنگ والی دو نہریں نکل رہی ہیں اور پھر آگے چل کر دونوں با ہم مل جا رہی ہیں جس سے سیلاب کی سی
صورت پیدا ہو رہی ہے جس میں ہم سب مثل تنکوں یا مرخابیوں کے تیر رہے ہیں اور بڑے خوش ہو رہے ہیں،حضرت نے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ جب میں توجہ ڈالتا ہوں تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے ایک ساتھ ڈالتا ہوں۔
(اس ناچیز کو حضرت نے توجہ ڈالنے کے ایک طریقہ کی تعلیم دی تھی پھر دو مزید طریقے حضرت سید شاہ ابو الخیرات و حضرت خواجہ سیف الدین رحمہما اللہ کی جانب سے عطا ہوئے جو بہت ہی با اثر ثابت ہوئے مگر حضرت کے مذکورہ طریقے کے بارے میں بڑی تلاش تھی اور سوچا تھا کہ حضرت سے پو چھوں گا مگر حیف صد حیف! اے بسا آرزو کہ خاک شد۔
ابھی ۲ ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ کو بعد نماز عشا حضرت کے مزار پر انوار پر مراقب تھا اور حضرت کے اشارے سے آپ کے بعض اقربا پر توجہ ڈال رہا تھا کہ اچانک حضرت نے توجہ کا مطلوبہ طریقہ پورے شرح و بسط کے ساتھ القا فرمادیا،توجہ کا یہ طریقہ اس قدر پر اثر تھا کہ جب اس طریقے پر توجہ ڈالنے کا آغاز ہوا تو مفیض و مستفیض دونوں کے در وبام ہل گئے)
ابھی یہ بے بضاعت پا نچوں آسمانوں کے مراقبات کر ہی رہا تھا کہ جامعہ البرکات کے چند سعادت مند طلبہ بھی میرے ساتھ ذکر و مراقبہ کرنے لگے،جب میں نے حضرت سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا:ماشاء اللہ یہ بڑا خوش آئند ہے۔
ساتھ ہی حضرت کی یہ بڑی عنایت رہی کہ آپ نے ساتھ ذکر و مراقبہ کرنے والے طلبہ پر توجہ دالنے کا بھی حکم دیا اور توجہ دالنے کا طریقہ بھی بتایا،مجھے اب بڑا تعجب ہو رہا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا جبکہ میں نے حضرت کی زبان حق ترجمان سے یہ سن رکھا ہے کہ توجہ اسی وقت کار آمد ہو تی ہے جبکہ توجہ ڈالنے والا فنا ئیت کے درجے پا فائز ہو اور اسی طرح اسی شیخ کا تصور فائدہ دیتا ہے جو کہ فنا فی اللہ کے مقام پر ہو۔
حضور مرشد عالی وقار کےحکم کی تعمیل ہی اور ایک ہی دو نشستوں کے بعد فیضان و انوار کی وہ کثرت ہوئی کہ ہمارے ننھے اسکولی طلبہ جو اس وقت ساتویں سے نویں کلاس کے درمیان تھے رہ رہ کے ان کے قلب میں ذکر قلبی کی حرکت شروع ہو گئی اور ایک بار تودسویں محرم کی شب جب اپنے بچوں پر توجہ ڈال رہا تھا ،ایسا ہوا کہ دوران مراقبہ کئی طلبہ کے سینوں میں لطائف کے مقام پر درد کی وہ شدت ہوئی کہ وہ گھبرا کر اپنا اپنا سینہ پکڑے مسجد سے باہر چلے گئے اور جب میں مراقبہ سے فارغ ہو کر نکلا تو بچوں
نے سارا ماجرا کہہ سنا یا۔(ان بچوں میں محمدتوحید مہراجگنج،حسان چشتی مین پوری اور سید کیف طارق کا نام سر فہرست ہے)
میں بھی اس غیر متوقع صورت حال سے تھوڑا گھبرایا اور پھر حضرت سے رابطہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں جب استعداد سے بڑھ کر فیض آنے لگتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے،توجہ جاری رکھنا چند دنوں میں بچوں کی استعداد بڑھ جائے گی۔
جامعہ البرکات کی طرف سے مہینے میں میری چار چھٹیاں منظور تھیں لہٰذا میں قنوج تبھی جاتا جب حضرت تشریف فرما ہوتے۔ قنوج جا کر میں اپنے پچھلے مراقبوں کو دہراتا اور نئے مرا قبے بھی کرتا جنھیں کبھی میں خود پوچھتا اور کبھی حضرت از راہ کرم خود بتاتے،قنوج والے مرا قبوں میں بڑی واردات و کیفیات پیدا ہوتیں جنھیں اکثر حضرت از خود دریافت فرماتے اور جب کبھی جب آپ نہیں پوچھتے تو میں موقع دیکھ کر خود بیان کردیا کرتا تھا،حضرت سن کر مسرور ہو تے ۔
میں چونکہ مہجور و دور افتادہ تھا جو حضرت کی ظاہری صحبت سے محروم تھا لہٰذا حضرت نے اس کی تلافی کے لیے از راہ کرم میرے ذمے اپنی کتابوں کی ترتیب و اشاعت اور نبیرۂ حضرت مجدد الف ثانی حضرت خواجہ سیف الدین قدس اللہ اسرارہما کے مکتوبات شریفہ کے ترجمے کا کام سپرد کیا،لہٰذا میں دل و جان سے اس کار خیر میں لگ گیا،حضرت کی کتا بوں کے مطالعہ و کتابت کے دوران زبردست فیضان رہا کرتا یا کم از کم ہر دم تصور شیخ رہا کرتا۔
ثانی الذکر یعنی مکتوبات خواجہ سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمے سے نہ صرف علمی فائدہ ہوا بلکہ اثنائے ترجمہ آپ کے فیضان کا سلسلہ برابر قائم رہا اور حضرت خواجہ کے الطاف و عنایات کا یہ سلسلہ آپ کے مزار فائض الانوار کی حاضری کے وقت ہنوز مزید دراز ہو جاتا ہے۔
میں مذکورہ باتوں کا تذکرہ جب حضرت سے کرتا تو آپ تبسم کناں ہو کر’’اللہ اور نوازے‘‘فرما کر مزید الطاف و عنایات کے دروازے کھول دیتے۔
آسمانوں کے مراقبے کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اب ایک مہینہ انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ میری کتاب’’سلسلۂ نقشبندیہ اور اس کا سلوک‘‘ پڑھ کر آگے کا سبق خود بڑھاتے رہیں۔
اب میں نے مراقبۂ احدیت شروع کردیا اور اس مراقبہ کے ذیل میں حضرت نے جن کیفیتوں
کے بارے میں اشارہ فرمایا تھا وہ سب پیش آئیں بلکہ اس پر بھی کچھ مستزاد،قنوج پہنچ کر میں نے عرض کیا :حضور! نظر کشفی میں تو حضرت ابن العربی قدس سرہ کا دیا ہوا نظریہ و حدۃ الوجود ہی صحیح لگ رہا ہے جبکہ ہمارے مشائخ یعنی محققین مشائخ نقشبندیہ کا موقف و حدۃ الشہود کا ہے،اس پر حضرت نے ایک دلربانہ مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا: ’’کوئی بات نہیں یہ تو پہلی منزل ہے میں تمہیں اس سے آگے بڑھا دوں گا۔‘‘
اس دن کے بعد سے وحدۃ الشہود پر دل مطمئن ہو گیا اور وحدۃ الوجود کی کیفیات دوبارہ وارد نہ ہوئیں۔
اس مختصر بیان میں صرف مجددی سلسلے کے پہلے مراقبے یعنی مراقبۂ احدیت(واضح رہے کہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے زمانے میں سلوک کا آغاز اسی مراقبے سے ہوتا تھا،بعد کے مشائخ نے پھر چند مراقبات کا اس میں اضافہ فرما دیا ہے۔)تک کا اجمالی بیان تحریر کیا ہے یہ صرف اس لیے قلم بند کیے گئے تاکہ ہمارے مرشد عالی وقار کی طاقت تسلیک کا تھوڑا سا تعارف ہو جائے،ان میں میرا ذرہ برابر بھی کوئی کردار نہیں اور مجھ پر حضرت سعدی کا یہ تمثیلی قطعہ صد فی صد صادق آتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی نےحمام میں ایک خوشبو دار مٹی( صابن) سے پوچھا کہ بتا تو سہی تیرے اندر یہ خوشبو کہاں سے آئی جبکہ اور مٹیوں سے تو نہیں آتی ہے وہ کہنے لگی کہ ایک عرصے تک میں پھول کی ہم نشین رہی لہٰذا یہ خوشبو تو اسی ہم نشین کی ہے اور میں آج بھی وہی نا چیز مٹی ہی ہوں۔؎
جمال ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
باقی کے احوال و کوائف اور واردات و مکاشفات جنھیں حضرت نے قلم بند فرمانے کا حکم بھی صادر فرمایا تھا انھیں یہاں لکھنے کی نہ مجھ میں سکت ہے اور نہ ہی پڑھنے والے کو یقین ہو گا۔
ابھی بس سگان بارگاہ میں شمولیت کی غرض سے دو نشستوں میں یہ ٹوٹے پھوٹے چند بے ربط جملے سپرد قلم کر دیے اس لیے کہ؎
کس سے مثال دوں تری زلف دراز کو
عمرِ طویلِ خضر ہے اک مختصر جواب