باب ۱۴ از ۶۵صفحات ۹۲–۹۷
نقیب الصوفیہ والمشائخ بحر العرفان
مولانا سید محمد جیلانی اشرف
بانی و مہتمم جامعہ صوفیہ کچھوچھہ ٭دارالعلوم دیوان شاہ بھیونڈی
عالی مرتبت شہزادہ حضرت بحر العرفان مولانا سعید احمد مجددی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نقیب الصوفیہ والمشائخ بحر العرفان حضرت العلام مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر بڑا ملول ہواحضرت بحر العرفان کی زندگی مسلک حق اہل سنت وجماعت کے لئے عملی جدوجہد سے عبارت تھی ۔آپ نے صرف الجامعۃ الاحمدیہ کی صورت میں سیکڑوں کی تعداد میں تشنگان علوم و فنون کو سیراب نہیں کیا بلکہ فروغ تصوف فائونڈیشن کے شاندار وجاندار پلیٹ فارم سے
قنوج واطراف کے دینی مدارس ومکاتب کی رہنمائی کر کے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں۔دعوت وتبلیغ کے میدان میں آپ کا کردار مثالی اور قابل تقلید ہے۔اہل علم اور طلب علم کی راہ کے مسافروں کی ہر موڑ پر حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔تشنگان راہ معرفت کو راہ مولیٰ عطا فرماتے تھے الغرض ان کے کارہائے نمایاں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس غم وکرب کی حالت میں مفتی صاحب کے فراق کا احساس صرف آپ کے صاحبزادگان ،عزیز واقارب،مدرسین،متوسلین،مریدین اور آپ کے تلامذہ ہی کو نہیں بلکہ آج تمام سواد اعظم اہل سنت وجماعت کو ہے اللہ تعالی بطفیل رسولہ الاعلیٰ علیہ السلام مفتی صاحب کو فردوس کے بالاخانوں میں بلند مقام عطا فرمائے ۔
آفاق ملت ایک متحرک ا ورصوفی صفت عالم دین تھے
مولانا محمدعبدالمبین نعمانی
دارالعلو م قادریہ چریاکوٹ مئو
۱۳جولائی ٢٠١٩ء (٩ذی قعدہ ١٤٤٠ھ) بروز شنبہ جماعت اہل سنت کے ایک صوفی صفت آفاقی عالم دین، فکر رضا کے امین، حضرت مولانا آفاق احمد نقش بندی مجددی علیہ الرحمہ اس دار فانی سے رخصت ہوکر عالم جاودانی میں جا بسے، اِنّا للّٰہ و اِنّا اِلیہ راجعُونْ
مولانا کی شخصیت حرکت و عمل سے عبارت تھی، جہاں آپ نے تعلیم و تربیت کی جوت جگائی اور عظیم جامعات کی بنیاد ڈالی، وہیں ارشاد و ہدایت اور فروغ روحانیت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، بریلی شریف عرس اعلیٰ حضرت اور عرس قاسمی برکاتی مارہرہ شریف میں متعدد بار ملاقات ہوئی، بڑے تپاک اور حسن سلوک سے پیش آتے تھے، ایک بار راقم الحروف کو ختم بخاری شریف کے لیے بھی قنوج میں مدعو کیا اور ناچیز حاضر بھی ہوا، اور ان کے مراحم خسروانہ سے متاثر و محظوظ بھی،ان کے جامعہ کا نام ’’الجامعۃ الاحمدیہ‘‘ ہے جو قنوج میں واقع ہے،تصوف کے موضوع پر مولانا نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں، سلسلہ نقش بندیہ کے ایک بڑے اور مقبول مرشد تھے، جن کا حلقہ ارادت بڑا وسیع ہے،ناچیز ان کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتا ہے، اور پسماندگان کو تعزیت و تسلی سے یاد کرتا ہے،مولیٰ عزوجل ان
کے قائم کردہ اداروں کی حفاظت فرمائے اور متعلقین و پسماندگان کو توفیق بخشے کہ ان کی علمی و روحانی یادگاروں کی بقا اور ترقی کی فکر کریں، اور ان کو مزید آگے بڑھانے اور چھوڑے ہوئے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حوصلہ دے، رب العزت مرحوم کی قبر کو رحمت و نور سے بھر دے۔آمین بجاہ سید المرسلین علیہ و آلہ و صحبہ الصلوۃ والتسلیم
مفتی آفاق احمد مجددی کا سانحۂ ارتحال
مولانا یٰسین اختر مصباحی ،امجد رضا علیمی آصف جمال مصباحی
دار القلم ،قادری مسجد روڈ ، ذاکر نگر ،جامعہ نگر دہلی 25
آج صبح ہی صبح یہ افسوس ناک خبر ملی کہ حضرت مولانا شاہ محمد آفاق احمد مجددی ،بانی الجامعۃ الاحمدیہ، قنوج، یو پی، اچانک اس دار فانی سے رخصت ہو گئے ۔
مولانا محمد آفاق احمد مجددی ایک ذمہ دار عالم اور مصلح قوم و ملت تھے ۔آپ کے وصال سے اہل سنت کا بڑا نقصان اور قومی و ملی خسارہ ہے ۔ حضرت مولانا یٰسین اختر مصباحی نے آپ کی خبر وفات پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مغفرت اور ترقی درجات کی دعا کی ۔
دردو غم کے اس موقع پر الجامعۃ القادریہ ،دار القلم ،دہلی آپ کے اہل خانہ اور آپ کے ادارہ ،الجامعۃ الاحمدیہ کے وابستگان کو صبر جمیل تلقین کرتاہے ۔دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقہ و طفیل میں آپ کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔آمین ۔
اسلاف کی عمدہ یادگار
مولانا مجیب الرحمٰن علیمی صاحب
آج ہی صبح محب گرامی مولانا ضیاء الرحمان علیمی نے اطلاع دی کہ شہر قنوج اتر پردیش کے معروف عالم دین شیخ طریقت حضرت مفتی آفاق احمدنقشبندی مجددی کا وصال ہو گیا خبر ملتے ہی میں نے حضرت مفتی صاحب کے نائب و داماد مولانا آصف نقشبندی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے تفصیلات سے آگاہ فرمایا ۔
حضرت مفتی آفاق احمد نقشبندی اپنے طرز کے ایک منفرد عالم دین تھے ،مارچ 2018 ء میں اس فقیر کی حضرت مفتی صاحب سے قنوج میں ہی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد بھی دو چار بار فون پر حضرت سے گفتگو رہی آپ اسلاف کی عمدہ یادگار اخلاف کے لئے نمونہ عمل تھے ۔
انہوں نے اپنے شہر کے مسلمانوں کے درمیان تعلیمی وتربیتی بیداری پیدا کرنے میں بڑی محنت کی، مختلف تعلیمی ادارے قائم کئے ،مفتی صاحب کے اچانک انتقال پر ہم آپ کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور انکی بلندی درجات کے لئے دعا کرتے ہیں ۔
علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر
علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر اور صاحب زہد و ورع
مولانا تطہیر احمد صاحب
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔کُلُّ من علیھا فان و یبقیٰ وجہ ربّکٰ ذوالجلال والاکرام ولا نجعل فی قلوبنا غلاّ للذین آمنواُ ربّنا انّک رؤفُ رحیم۔ اللّھم ربّنا افرغ علینا صبراوثبّت اقدامنا فانصرنا علی القوم الکافرین ۔
آج بتاریخ ١٣ جولائی ۔٢٠١٩ ہجری بروز ہفتہ بوقت صبح ایک اور درد ناک خبر سننے کو ملی کہ حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے حضور بحر العرفان کا سانحہ ارتحال جماعت اہل سنت کا ایک عظیم نقصان ہے اللہ تعالیٰ نعم البدل پیدا فرمائے حضور بحر العرفان صاحب قبلہ ایک زبردست عالم و فاضل علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب زہدو ورع تھےپیکر علم و عمل تھے ارباب مجاہدہ و ریاضت سے تھے حضور بحر العرفان صاحب قبلہ نے سر زمین قنوج پر قدم رکھا جو کسی زمانے میں ہندوستان کی راجدھانی ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب علم و فضل علما ء فضلاء و اولیاء کا مسکن رہی وہ ویران سی ہو چکی تھی حضور بحر العرفان صاحب قبلہ نے اپنا سفر حمّالی پورہ کی ایک چھوٹی سی مسجد کی امامت سے شروع کیا اور پھر دھیرے دھیرے بڑھتے ہی چلے گئے۔
چمن میں پھول کا کھلناتو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول گلشن بناے صحرا کو
ان کا کارنامہ آج قابل دیدہ ہے قنوج کا نظارہ آج دیکھنے کے لائق ہے الجامعة الاحمدیہ السنیہ جو ادارہ
انہوں نے قائم فرمایا اس کے مختلف شعبہ جات پر جب آپ نظر ڈالیں گے تو اشاعت دین و سنیت اور مسلک اعلی حضرت کے فروغ کے لیے جس جس پوانٹ پر کام کرنے کی ضرورت تھی انہوں نے ہر محاذ پر کام چھیڑ رکھا تھا اور وہ اس میں پوری طرح سے کامیاب تھے مذہب اہل سنت اور مسلک اعلی حضرت کے داعی تھے ٣٦ سال سے یہ ادارہ دین و سنیت کی خدمت کرتا چلا آرہا ہے ان کے یہاں صبح کو مدرسہ کی تعلیم شروع ہونے سے پہلے جو ترانہ پڑھا جاتا ہے اس میں اعلی حضرت امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمة ورضوان کا لکھا ہوا منظوم عجیب غریب درود شریف۔
کعبہ کے بد رالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
پابندی سے پڑھایا جاتا ہے میں فقیر قادری نوری تطہیر احمد بریلوی ان کے انتقال پر ملال پر غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے تمام اہل خانہ اولاد امجاد ان کے تلامذہ ان کے خلفاء مریدین متوسلین سب کے ساتھ اس غم میں شریک ہوتے ہوے گزارش کرتا ہوں کہ ان کے مشن کو آگے بڑھایں اور یہ سمجھیں کے ان کی روحانی تائید ہمارے ساتھ ہے ۔
دنیا ئے تصوف کا ایک اورستارہ ٹوٹا، آہ بحر العرفاں نہ رہے
مولانا انیس رضا منظری رضوی ہارونی
مدرس جامعہ مدینۃالعلوم چورو راجستھان
سجادہ نشین خانقاہ ہارونیہ نقشبندیہ مجددیہ سرونیاں گوپال گنج بہار
جماعت اہل سنت کے عظیم ترین رہنما یاد گار اسلاف و اخلاف سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے عظیم قائد بحر العرفان پیر طریقت وشریعت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ آفاق احمد صاحب قبلہ مجددی نقشبندی کے وصال پر ملال کی خبر سن کر بے حد افسوس ہوا. انا للہ وانا الیہ راجعون. حضرت بحر العرفان اپنے زمانے میں جماعت اہلسنت کے معتمد عالم دین وعظیم مفتی .اور تصوف کے اہم بزرگ تھے. آپ کی صوفیانہ اور زاہدانہ زندگی جماعت اہلسنت کے لئے ایک بہترین نمونہ تھی. تقریروتحریر اور تبلیغ و ارشاد تعلیم و تربیت بلکہ دور حاضر میں آپ ہر میدان کے شہسوار اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے حضرت
بحرالعرفان کی چند تصانیف کردہ کتابیں جنھیں حضرت نے خود مجھے اپنے دست مبارک سے میرے گھر پر عطا کی تھیں جو کہ تصوف اور دیگر موضوعات پر مشتمل ہیں۔
میں نے بغور مطالعہ کیا تو یقیناً اسلاف کا چہرہ جھلکتا ہوا پایا۔ حقیقتاً حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ بڑی خصوصیات کے حامل تھے وہ اپنے وقت کے داعی اسلام مبلغ سنیت اور ناشر سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ تھے حضرت کو دیکھ کر اسلاف کی عظیم زندگی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی لیکن آج وہ ظاہراً ہم میں موجود نہیں ہیں مگر ان کی یادوں کے نقوش ہمیشہ دل پر ثبت رہیں گے قنوج کی تاریخ کا فقید المثال اژدحام جنازہ یقیناً آپکی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں مقبولیت کی دلیل ہے. میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیضان کو عام تام فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے صاحبزادگان اور مریدین ومتوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل سنت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین۔