باب ۷ از ۶۵صفحات ۶۳–۶۸
الشيخ الطيب الخلوق
شیخ عمر الفاکہانی لبنان
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قال الله تعالى: وبشّر المؤمنين الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إلبه راجعون.
أتقدم إليكم بالتعازي بوفاة الشيخ العالم شيخ الحديث شيخ قنوج والهند الذي توفاه الله تعالى.
أسال الله العظيم أن يرزق الشيخ أفاق أحمد مجددي رحمه الله رحمة واسعة المقامات العالية في جنة عالية قطوفها دانية.
ما رأيت من الشيخ الطيب الخلوق الشيخ أفاق احمد مجددي الا حسن الخلق وحسن المعاملة وحسن الضيافة، هو شيخ متواضع كريم ذو علم واخلاق طيبة، له منزلة عالية بين الناس لا سيما في قلبي.
في كل وقت كان يفكر رحمه الله رحمة واسعة في نشر مذهب أهل السنة والجماعة الذي هو توحيد لله تعالى وتنزيه له عن مشابهة خلقه والجهات كلها.
كان يفكر جاهدا كيف يحارب الفرقة الوهابية المتطرفة التي صارت وباء ومرضا فتاكا منتشرا بين صفوف المسلمين.
ما ارتاح رحمه الله بل كل وقته تعب و کد و عمل لنصرۃ مذھب اھل السنۃ و الجماعۃ لی اطیل الکلام فلو اردنا الاطالۃ لاحتجنا ربما للکتب و أسئل اللہ بالختام ان یجمعنا مع الشیخ آفاق مجددی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ بالجنۃ مع سید البشریۃ محمد ﷺ۔
ترجمہ: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ، تعالیٰ فرماتا ہے اور ان مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ جب انہیں مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں بے شک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے، میں آپ سب کو بزرگ عالم شیخ الحدیث قنوج اور ہندوستان کے شیخ کی وفات پر تعزیت پیش کرتا ہوں جنہیں
اللہ نے اپنے جوار رحمت میں بلا لیا میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ شیخ آفاق احمد مجددی رحمه الله رحمة واسعة کو بلند وبالا اور جھکے ہوئے خوشے والی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے پاکیزہ با اخلاق شیخ مفتی آفاق احمد مجددی سے حسن اخلاق حسن معاملہ اور بہترین مہمان نوازی ہی کا مشاہدہ کیا وہ نہایت متواضع شریف الطبع صاحب علم اور پاکیزہ اخلاق کے حامل تھے لوگوں کے درمیان آپ کو بڑی قدر و منزلت حاصل تھی بالخصوص میرے دل میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمہ وقت مذہب اہل سنت (جو رب تعالیٰ کی توحید اور مشابہت خلق اور جہت و مکان سے اس کی تنزیہ و تقدیس پر مبنی ہے) کی نشر و اشاعت کے بارے میں متفکر رہتے تھے آپ بڑی سنجیدگی سے اس بات پر غور کرتے تھے کہ کس طرح دہشت گرد فرقہ وہابیت کا مقابلہ کیا جائے جو تباہ کن وباء کی صورت میں اہل اسلام کے درمیان پھیل گیا ہے آپ علیہ الرحمہ کبھی بھی چین سے نہ بیٹھے بلکہ آپکی زندگی مذہب اہل سنت کے لیےکد و کاوش اور مدد و نصرت سے عبارت تھی میں بات کو طول نہیں دینا چاہتا کیونکہ اس کے لیے مجھے کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اخیر میں رب قدیر کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں شیخ آفاق کے ساتھ جمع فرمائے۔
شیخ عمر الفاکہانی لبنان
الفقيد الغالي
الدکتور الشیخ احمد تمیم مفتي اوكرانيا
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
أتقدم باحر التعازي بالفقيد الغالي واسأل لكم الصبر والسلوان والفقيد الأمة فسيح الجنان
انا لله وانا اليه راجعون
ترجمہ: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں گم گشتہ بے بہا کے وصال پر دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتا ہوں اور آپ سب کے لیے صبر و سکون اور گم کردہ ملت کے لئے وسیع جنت کی دعا کرتا ہوں انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کا بھائی شیخ احمد تمیم مفتی یوکرین
آفاقی شہرتوں کے مالک
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
منجانب: خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ایک وجیہ ،پر وقار ،متقی ،پرہیزگار ،صاحب دل ،صاحب حال ،علم و فن کا سفیر، اپنی ذات میں بے نظیر، مجدد الف ثانی اور مجدد دین و ملت کا شیدائی ،واقف رموز شریعت و طریقت ،پروانہ برکاتیت ،آفاقی شہرتوں کے مالک حضرت علامہ مفتی آفاق احمد صاحب نقشبندی مجددی برکاتی اپنی متحرک شخصیت کی خوشبوؤں سے سر زمین قنوج کو مزید معطر کرتے ہوئے جنت کی خوشبووں سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
یہ رسمی اور تعزیتی جملہ نہیں بلکہ سو فی صد دل کی آواز اور حق بات ہے کہ دنیا ئے سنیت کو مفتی صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان کی اشد ضرورت تھی ۔وہ ان صاحب کمال شخصیتوں میں تھے جنہوں نے اس امت کو علم نافع سے جوڑنے کے لئے کمر توڑ محنت کی اور علم و فن کے ایسے لالہ زار تیار کئے جو دوسروں کے لئے قابل تقلید ہیں ۔ یہ وہ انجمن تھی جس میں صرف تحریک ہی تحریک نظر آتی تھی ۔متعدد اداروں کے بانی درجنوں کتابوں کے مصنف، عابد و زاہد متقی ،داعی و مبلغ ،ایک باعمل خطیب ،اور اپنی ذات میں بے حد مخلص ، با ادب سنجیدہ ، متین اور بے حد خود دار ،خوش ذہن اور خوش فکر شخصیت کے حامل ہمارے مفتی صاحب ہم کو بہت یاد آئیں گے ۔انکا متبسم چہرا جو انکی نیکیوں اور پاکیزگی کی عکاسی کرتا تھا وہ ہمیشہ ہمارے ذہن و دل میں گردش کرتا رہے گا ۔
ان کی ساد گی بھی قنوج کے عطر کی طرح مشہور تھی ۔ہم نے شاز و نادر ہی کسی عالم ، مفتی یا شیخ کو اتنے سادہ لباس میں دیکھا ہو ۔انکساری ایسی تھی کہ اتنے اداروں کے بانی ،ہزاروں وفادار مریدوں کے شیخ طریقت ،کو اگر مارہرہ میں تلاش کرنا ہو تو وہ پیکر انکسار خانقاہ برکاتیہ کے صدر دروازے کی پٹیہ پر بیٹھا مل جائے گا ۔ اسی اخلاص و انکسار نے مفتی صاحب قبلہ کو اتنا معروف و مقبول و محبوب کر دیا کہ سواد اعظم کے خوش عقیدہ مسلمان ہی نہیں بلکہ اطراف و جوانب کے اہل وطن اور سیاسی رہنما بھی اس بے نیاز ذات والا کی
خانقاہ برکاتیہ کا آج ہر فرد سوگوار ہے ۔ہم اور ہمارے تمام متوسلین و متعلقین اپنے پیر خانے کے محبوب ترین خلیفہ کی رحلت پر کف افسوس ملتے ہوئے دعا کر رہے ہیں کہ مولیٰ تعالیٰ امت کی خیر خواہی کرنے والے اور اہل اسلام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے اس مخلص قائد کا نعم البدل عطا فرمائے ۔
مفتی صاحب کی رحلت کے بعد انکا گھر اور گھرانہ ہی پسماند گان میں نہیں ہے بلکہ اہل سنت و جماعت کا ہر وہ مخلص فرد انکے پسماند گان میں ہے جس کے دل میں ملت اسلامیہ کا درد ہے ۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ رب کریم ہمارے مفتی آفاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درجات کو بلند فرمائے اور ہم سب کو اور بالخصوص انکے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔مولیٰ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے طفیل میں مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے علمی مشن کو دن دونی ترقی عطا فرما اور ان کے وارثین کو انکے نقش قدم پر چلاتے ہوئے دین متین کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
آمین! بجاہ سید المرسلین ﷺ۔(فقط والسلام)
سید محمد امین قادریسید نجیب حیدر نوری
سجادہ نشینسجادہ نشین
خانقاہ بر کاتیہ، مارہرہ مطہرہخانقاہ بر کاتیہ،مارہرہ مطہرہ