باب ۶۰ از ۶۵صفحات ۳۹۸–۴۰۲
حضور بحرالعرفان کی احباب پر محبت و شفقت
حافظ محمد محسن رضا ابن مولانا آفتاب نوری
خواہر زادہ بحر العرفان
نہ ہوتے تم کہاں ملتا نشان زندگی مجھ کو
تمہارے بن کہاں ملتا شعورِ بندگی مجھ کو
جب غیر بھی حضور بحرالعرفان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی یاد میں آنسو بھا رہے ہیں اور اُن سبھی کے دل آپ کی یاد میں لرز رہے ہیں تو میں آپکی محبت و شفقت جو ہمارے اہل خانہ پر تھی اُس کو یاد کرکے کیوں نہ آنسو بہائیں!
حضور بحرالعرفان کی کُچھ ایسی خاص عنایتیں جو ہم سب سے وابستہ ہیں میں ان میں کچھ بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
میری والدہ محترمہ جو کہ آپ کی اکلوتی ہمشیرہ ہیں آپ دونوں کے درمیان جو اُلفت و محبت تھی وہ میں نے اب تک نہ دیکھی ایسی پوشیدہ اُلفت و محبت دور حاضر میں بھائی بہنوں کے درمیان ملنا مشکل ہی نہیں نہ ممکن سی ہے۔۔
آپ اکثر امی کے بچپن سے لے کر آخری وقت تک بہت زیادہ پریشان رہا کرتے تھے ۔ آپ گھر میں بڑے ہونے کی وجہ سے بھی آپنے کبھی بقول امی کبھی بھی آپنے کسی بھی تکلیف کو احساس تک نہ ہونے دیا بڑی سے بڑی پریشانیوں نے، مصیبتوں نے، غموں نے جب بھی گھیرا آپ نے ہمیشہ سہارا دیا۔ دور حاضر میں بہنوں کے بھائی تو بہت ہیں لیکن آپ جیسا مشفق و مہربان بھائی میری آنکھوں نے نہ دیکھا اور اب نہ دیکھ پاؤنگا۔
پچھلے سال میرے والد محترم کی طبیعت سخت علیل ہو جانے کی وجہ سے کانپور ہاسپٹل لے جانا پڑا آپ وہاں میرے ساتھ آپ نے خود ایڈمٹ کرایا اور تقریباً ایک گھنٹہ آپ ایمرجنسی وارڈ میں موجود رہے اور جب تک ابّا جان کو کُچھ سہولیات نہ ہو گئی آپ وہاں سے لوٹے نہیں۔
آپ کے ہسپتال سے واپس آنے کے بعد بار بار فون کرکے خیریت پوچھتے اور خاص دعاؤں سے نوازتے۔ یہ آپ کی کرم نوازی ہی تو تھی جو آپ اتنا ہم سب کا خیال رکھتے ورنہ سب جانتے ہیں کسی کو اب اتنا وقت نہیں کی وہ عیادت تو دور کی بات فون پر بات کرنا ہی لا محال سا ہے۔۔
میرے برادرِ کبیر محمد غفران حسیب جو پڑھائی کے تعلق سے آپ اکثر باہر رہتے تھے ماموں جان اکثر اُنکے بارے میں پوچھتے انکی خیریت پوچھتے اور آپکو دعائیں دیتے ہمیشہ آپنے ہم بھائیوں کو محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی نصیحت کرتے ۔
میرے والد محترم جو کی مدرسہ قائم ہونے کے ایک سال بعد آگئے تھے اور پھر یہیں فراغت پانے کے بعد احمدیہ ہی میں اپنی خدمتیں انجام دینے لگے اور یہیں رہنے لگے اسی وجہ سے ہم لوگوں کو بھی ابّا جان قنوج لے آئے۔
قنوج آنا تو ایک بہانہ تھا
اصل آپ کو تو بس اپنا بنانا تھا
آپ کے احسانات، آپکی مہربانیاں ، آپ کی کرم نوازیاں، آپکی نوازشیں، آپکی نصیحتیں ، آپکا حوصلا افزائی کرنے کا انداز میرے لیے خاصکر سب سے جُدا تھا۔ آپ مجھے اکثر بچپن ہی سے اپنے ساتھ دعوتوں میں قنوج کے اطراف اور کانپور وغیرہ اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ مجھے گاڑی میں چکر آتے تھے اور الٹیاں ہوتی تھیں آپ پھر نہ مانتے اور راستے میں میڈیکل سے دوائی دلوا دیتے اور فرماتے ایک ٹیبلیٹ ڈال لیا کرو جیب میں کیا پتا کب کہاں چلنا پڑ جائے۔۔میرا دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم حاصل کرنے کا جو صرف حاصل ہوا وہ بھی میرے ماموں جان کی کُچھ خاص عنایتوں میں سے ایک عنایت ہے۔ جب آپکو پتا چلا کی میں نے حفظ شروع کر دیا آپ اتنا خوش ہوئے اور اتنی دعائیں دي کی میرا اللہ گواہ ہے کی آپ کی دعائیں اس قدر کام آئیں کی میرا حفظ بہت جلد اور بہت آسانی سے مکمل ہو گیا۔
آپ کی شفقت ہم بھائی بہنوں پر کُچھ الگ ہی طرح کی ظاہر ہوتی تھی۔ آپسے پریشانیاں تو خیر کوئی بے زبان بھی ہوتا اُس کی نہ دیکھی جاتیں تو پھر ہم لوگوں کی کیوں کر دیکھ پاتے۔ آپ جب بھی گھر تشریف
لاتے اور خیریت پوچھنے کے بعد بار بار امی سے پوچھتے بٹیا کوئی تکلیف تو نہیں "کوئی تکلیف ہو تو مجھے بتانا۔
جب بھی میں آپ سے ملنے جاتا آپ مجھے کبھی بھی خالی ہاتھ نہ لوٹا تے مسکرا کرکے کُچھ نہ کُچھ پیسے میرے منع کرنے کے بعد بھی آپ مجھے ضرور دیتے۔ آخری سفر پر جب آپ راجستھان جا رہے تھے اُس وقت بھی آپنے اپنی جیب سے ۱۰۰ کا نوٹ نکالا اور مجھے دیا۔
اسی سال جشنِ مولیٰ علی کے ایک ہفتہ بعد میری نانی جان (والدہ حضور بحر العرفان ) کی طبیعت کافی زیادہ نا ساز ہوئی اور اس قدر نا ساز تھی کی آپ کا ٹھیک ہونا نا ممکن سا تھا۔ نانی جان کی حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے جب مجھ سے نہیں رہا گیا میں دوڑ کر چھوٹی مسجد گیا وہاں آپ عصر کے مراقبہ میں تھے میرے حافنے کی آواز سن کر کے آپ میری طرف دیکھنے لگے آپ پوچھنے لگے کیا ہوا میں نے تمام حالات سے واقف کرا کرکے جلدی سے جب گھر واپس آیا آپ بھی پیچھے چلے آئے۔
آپ اس قدر پریشان تھے کی آپسے انکی یہ حالت دیکھے نہیں جا رہی تھی لیکن پھر بھی آپ صبر کا مجسمہ بن کر گھر والوں کو نصیحت کرتے رہے اور سب کو صبر کی تلقین کرتے رہے۔جب آپ سے نہ رہا گیا تو میں نے دیکھا آپنے آنکھیں بند کیں اور کچھ پڑھنے لگے وہ آپکا پڑھنا اس قدر کارگر ثابت ہوا کی اسی وقت سے نانی کی حالت میں بہتری محسوس ہونے لگی۔
میں تو یوں سمجھتا ہوں کی نانی جان کو ہسپتال لے جانا ایک رسماً تھا ورنہ ٹھیک تو وہ ماموں جان کی دعاؤں سے ہی ہو گئیں تھیں۔ ورنہ اس عمر میں جو بیماری انکو ہوئی تھی اس حال میں ان کا بچنا بہت نہ ممکن سا تھا۔
نانی کے صحت یاب ہونے کے بعد آپ اکثر پہلے تو فکر مند رہتے تھے ہی بعد میں تو پل پل میں اگر ہمارے گھر ہوتیں آپ گھر پر فون کرکے خیریت پوچھتے، اور اگر آپکے ہے گھر ہوتیں تو آپ مولانا احمد سعید یا مولانا برکات یا پھر گھر پر فون کرتے اور حال پوچھتے۔
آپ اکثر نصیحت کیا کرتے تھے کہ اب نانی کا خاص خیال رکھنا کیونکہ جو کچھ بھی ہے سب انہیں کی بدولت ہے،اور نانی جان سے مسکراتے ہوئے کہتے اللہ نے آپکی نئی زندگی دی ہے اب صرف اللہ ، اللہ کرو اور ہم لوگوں کے لیے دعائیں کرتی رہو اور کیا رکھا ہے دنیا میں،، نانی جان سے اجازت طلب کرتے اور سر پر ہاتھ رخواتے سلام کرکے رخصت ہو جاتے۔۔ یہ انداز ایک مرد قلندر کا ہی ہو سکتا ہے اور ہو بھی کیوں نہ ، وہ
مرد قلندر جس گود میں پلا بڑھا تھا وہ گود بھی کوئی ایسی ویسی گود نہیں تھی وہ گود ایک ایسی گود تھی جب سے اس عابده زاہدہ کی تہجد کی نماز تک قضاء ہوئی ، جس کا ایک لمحہ بھی شاید کبھی اللہ یاد سے غافل نہ ہوا ہو۔جب ماں فاطمہ ہوتی ہے تو بیٹا حسین ہی ہوتا ہے۔
اب ایسا قوم کا رہبر، جس نے اپنی قوم کی فکر میں اپنی زندگی کو زندگی نہ سمجھا، قوم کے لیے ہر وقت فکر مند رہنے والا مرد مجاہد، قوم کا وہ ایسا مسیحا جس نےاپنا ہر پل قوم کے لیے ہی سوچا اور قوم کی رہنمائی کی، قوم کا بہتر مستقبل بنایا، قوم کے ایسے وقت کام آنے والا شیر جب قوم پر ظُلم و تشدّود کی کوئی انتہا نہ باقی رہی ہو ایسے وقت میں رہنمائی کرنا کوئی میرے مرشد ہی سے سیکھے باتیں تو سب کر لیتے ہیں اسکو عمل میں لا پانا ایک اللہ کے مقبول ولی ہی کے بس کی بات ہے۔
ماموں تو بہت دیکھیں ہیں لوگوں کے مگر آپ جیسا مشفق ، آپ جیسا سخی مل پانا بہت مشکل ہے آپکی کمی ہمیشہ ھمیش رہیگی ،آخری وقت جب آپنےاپنے ساتھ اسپتال لے جانے کے لیے کہا تو میں بہت خوش ہوا تھا کہ مجھکو خدمات کا موقعہ ملا پر کیا پتہ تھا آپ آخری سفر پر چل پڑے ہیں، اتنی جلدی جانے کیا پڑی تھی، آپنے سوچا تھا اتنے چھوٹوں کو ساتھ لے کر آخری سفر پر چل پڑے ہیں آپ کے جانے کے بعد ہم لوگوں کا کیا ہوگا کون سمجھے گا۔ اکثر لوگ آپسے حضور یا حضرت کہ کر ہی آپسے اپنی بات کہتے تھے میں نے بھی بہت کوشش کی مگر منہ سے مامو ہی نکلتا تھا۔
اب کون سنیگا کس کے پاس جاؤنگا ، کسی کا تو سہارا دے دیتے، کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہاں سے آپکو لے آؤں اور ایک بار سلام کرلوں دل پھٹکر رہ جاتا ہے۔۔ جب آپ کہیں نظر نہ آتے، وہ آخری لمحہ جب میرے پوچھنے پر آپ فرمانے لگے اُلجھن ہو رہی اور ایک منٹ بعد اتنی دور خدا کی قسم ایسا لگا زمین سی پھٹ گئی کُچھ نظر ہی نہ آیا۔۔۔
یقیناً آپ ظاہراً ہم لوگوں سے دور ہوئے ہیں، باطناً آج بھی یقین ہے آپ ہم لوگوں کے ساتھ ہیں۔ باتیں بہت ہیں جو اس گناہگار زبان سے بیان ہو سکتی ہو گئیں۔ اللہ سے دعا ہےکہ آپ کا سایہ ہم سب کے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آپ کے مشن کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تو چلا گیا مجھے چھوڑکر میں نے تجھ کو بہت صدائیں دیں
مرے راہ بر تو رکا نہیں یہ مری صدا کی شکست تھی