باب ۲۳ از ۶۵صفحات ۱۶۹–۱۷۱
بحر العرفان اور امر با لمعروف و نہی عن المنكر
مفتی شبیر احمد علوی مصباحی
اللہ تعالیٰ نے مذہب و ملت کی ترویج و اشاعت اور احقاق حق و أبطال باطل کے لئے انبیاء کرام و رسولان عظام کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد علماے ربانیین و مشائخ کرام و صوفیاے ذوی الاحترام کو جلوہ گر فرمایا جنہوں نے مادی طاقتوں اور دنیاوی ساز و سامان سے بے نیاز ہو کر امر با المعروف و نہی عن المنكر کا جذبہ لیکر روے زمین پر مذہب مہذب کی اور دین متین کی سچی اور صحیح معنوں میں خدمت کی اسی سلسلۃ الذھب کی ایک کڑی حق و صداقت کے علمبردار علم و عمل کے تاجدار فکر و فن کے شہسوار تصلب فی الدین کے شاہکار بد مذھب و لا دینیت کے لئے شمشیر آبدار بحر العرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صدیقی علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات گرامی ہے۔ میں امر بالمعروف و نہی عن المنكر سے متعلق چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں ملاحظہ کریں۔
زکوٰۃ و عشر کا کھانا:
حضرت مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ کی خدمت میں ایک پرانے ملاقاتی حاضر ہوئے جو صاحب حیثیت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے دوران گفتگو آپ نے بڑی متانت و سنجیدگی سے فرمایا کیا آپ زکوٰۃ و عشر کھاتے ہیں انہوں نے کہا ہرگز نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی عطاءں سے میرے پاس بہت کچھ ہے صبح و شام بڑے اطمینان سے کٹ رہے ہیں روزانہ ایک دو فقیر مانگنے والوں
کو کھانا بھی کھلا دیتا ہوں پہلے میں اکیلا کمانے والا تھا مگر اب بحمدہ تعالیٰ لڑکے بھی ہاتھ بٹانے اور کام کاج کرنے لگے ہیں آپ نے فرمایا اچھا بھائی یہ بتائیں کہ آپ حساب لگا کر مکمل زکوٰۃ و عشر نکالتے ہیں یہ سنتے ہی موصوف بول پڑے حضرت حساب لگا کر زکوٰۃ و عشر نہیں نکالتا ہوں لیکن مدرسے والے یا فقیر گھر پہ آ جائیں تو واپس نہیں جاتے ہیں کبھی کبھار دوسرے ضرورت مند آ جائیں تو انہیں بھی دے دیتا ہوں اس پر آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ زکوۃ و عشر میں واجب ہونے والی مقدار کا صحیح علم اور مکمل زکوۃ و عشر نکل جانے کا یقین آپ کو کس طرح حاصل ہوتا ہے کہنے لگے اس کا یقینی علم مجھے حاصل نہیں ہوتا ویسے مکمل نکالنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میرے ذمہ وہ باقی نہ رہ جائیں یہ سن کر مفتی آفاق صاحب قبلہ
نے فرمایا جناب یاد رکھئے زکوٰۃ و عشر کا جتنا بھی حصہ آپ کے پاس باقی رہ گیا اسے خود کھایا یا اپنے اہل و عیال کو کھلایا یا اپنے مصرف میں خرچ کیا تو یہ زکوۃ و عشر کھانا ہی ہوا یہ اور بات ہے کہ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں مگر اپنے اوپر واجب شدہ زکوۃ وغیرہ کھانا کھلایا یہ غریب محتاج بیوہ یتیم وغیرہ کا حق ہے اس طرح ہرگز ہر گز مت کیجئے خدائے پاک سے ڈرئے اس کی بارگاہ میں ذرے ذرے کا حساب دینا ہے اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے حساب لگا کر پیسہ پیسہ اور دانہ دانہ زکوۃ وغیر نکال دیجئے اس سے ایک طرف تو مال پاک و صاف اور طیب و طاھر اور ضائع ہوئے محفوظ ہو جائےگا اور دوسری طرف آپ خود اللہ تعالی کی رحمتوں سے مالامال ہوں گے ۔
جاندار فوٹو اور مجسموں سے نفرت:
حضرت مفتی آفاق احمد مجددی صاحب ایک دعوت پر تشریف لے گئے جس کمرے میں آپ قیام پزیر تھے اس میں لکڑی و پلاسٹک وغیرہ کے گھوڑے ،طوطے اور جانوروں کے مختلف مجسمے رکھے ہوئے تھے یہ دیکھ کر صاحب خانہ سے فرمایا ارے بھائی آپ مسلمان ہیں اور صاحب سلسلہ مرید بھی ہیں اور جاندار مجسموں سے کمرے کو سجائے ہیں یہ ایک قسم کے بے جان بت ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے جس جگہ جاندار کی تصویریں ہوتی ہیں وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے نہ اللہ تعالی کی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور گھروں میں رکھنا ناجائز و حرام ہے ان مجسموں کو توڑ پھوڑ کر پھینک دیجئے اور ان کی جگہ گنبد خضریٰ و کعبہ معظمہ وغیرہ کے طغروں سے مکانوں کو آراستہ کیجئے جن کی وجہ سے برکتیں آیئں اور ایمان میں تازگی اور رونق آئے۔
ادھ کٹا نام:
آج کل ان پڑھ یا کم پڑے لکھے لوگ عبدالرحمان عبدالجبار عبدالغفار عبدالرزاق کو رحمان جبار غفار رزاق وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں بلکہ اَن پڑھ ہی کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ پڑھے لکھے کہلانے والے بھی بے توجہی اور لا پرواہی میں ایسا کہہ جاتے ہیں لیکن حضرت مفتی آفاق احمد صاحب کی ذات با برکت وہ تھی کہ آپ اس طرح کے الفاط سنتے تو فورا تنبیہ کرتے اور صحیح نام لینے کا ڈھنگ اور طریقہ بڑے اچھے انداز میں بتاتے حضرت مفتی آفاق احمد صاحب کے سامنے ایک شخص رحمنوا کہ کر پکارا آپنے سنتےہی فورا بلا کر اسے سمجھایا کہ ایسے نہ کہا کرو اس طرح کہنا حرام اشد حرام بلکہ حد کفر تک پہونچتا ہے سچے دل سے
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر توبہ کرو شرم و ندامت کے آنسو بہاؤ اس سے معافی مانگو کہ اے اللہ تیری ذات نرالی تیری عطا بڑی اور تو بندوں پر بڑا بڑا مہربان ہے نادانی اور بھول سے بیجا اور خلاف شرع کلمہ زبان سےنکل گیا ہے اپنے کہے پر شرمندہ اور نادم ہوں اور تیری بارگاہ میں سچی توبہ کرتا ہوں اور کلمہ اسلام پڑھتا ہوں تو اپنے حبیب اکبر پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقے اور طفیل میرے جرم و خطا اور غیر مناسب بولے ہوئے لفط کو معاف فرما اب کبھی بھی زباں پر ایسا لفظ نہیں لاؤں گا۔
اللہ تعالیٰ کو اللہ میاں کہنا:
ایک مرتبہ حضرت مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ کی صحبت میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کو اللہ میاں کہہ دیا یہ سنتے ہی حضرت موصوف نے اس کہنے والے سے فرمایا بھائی صاحب اللہ تعالیٰ کو اللہ میاں مت کہو ایسا کہنا شرعاً ممنوع اور حرام ہے توبہ کرو اور ایسا کہنے سے پرہیز کرو اللہ تبارک و تعالیٰ کا جب نام لینا ہو تو بڑے ادب اور محبت سے اس کا نام لو اللہ میاں کے بجائے اللہ پاک اللہ رب العزت یا اللہ کہا کرو پروردگار اور خالق وغیرہ کہا کرو غیر مہذب اور غلط طریقے سے اللہ کا نام لے کر قہرو غضب کے حق دار نہ بنو ۔
اردو حروف کا ادب:
اردو کتابوں کے اوراق اور اردو اخباروں کے ٹکڑے یا ان کے پرزے ادھر ادھر پھیلے دیکھتے تو اسے اٹھا کر ادب کی جگہ رکھ دیتے اور دوسروں کو بھی کی ترغیب دیتے اور ایسا کرنے کا حکم فرماتے تھے ایک مرتبہ حضرت مفتی آفاق صاحب قبلہ جامعہ احمدیہ سے مسجد کی طرف جا رہے تھے راستے میں کوڑا کرکٹ میں اردو اخبار کے چند ٹکڑے بکھرے پڑے تھے دیکھ کر فرمایا اردو کے ان ٹکڑوں کو اٹھا لو انہیں بلند اور ادب کی جگہ رکھ دو یا دیوار میں لگا دو اگرچہ یہ اخباری کاغذ اور اس پر اخباری خبریں لکھی ہوئی ہیں مگر ان کے مفردات تو اخباری نہیں ہیں مفردات تو وہی ہیں جو قرآن وحدیث کے ہیں ان مفردات حرفوں کی تعظیم بھی ضروری ہے ان خبروں کو نہ دیکھو ان میں لکھے ہوئے حروف کا ادب کرو۔
........
دارالعلوم شعیب الاولیا کٹلیا چوراہا ضلع بہرائچ