مواد پر جائیں

باب ۲ از ۶۵صفحات ۲۷–۴۱

عرض حال (جاری)

جاتے ہیں آپ بہت سے علوم و فنون مثلاً علم توقیت، اقلیدس وغیرہ سے بھی واقف تھے۔ منطق و فلسفہ کی آخری درجہ کی کتب نہایت عمدگی کے ساتھ پڑھاتے تھے، علم کے ساتھ ساتھ تفہیم بھی خدا داد تھی، کٹھن سے کٹھن کتاب نہایت آسانی سے ہر قسم کے طلباء کے ذہن میں اتار دیتے تھے۔ عام طور پر اس دور میں معقولی حضرات عمل سے بہت دور نظر آتے تھے نیز بعض فحش جرائم کے مرتکب بھی ہوتے تھے مگر حضرت اشرفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہایت پاک دامن و با عمل انسان تھے مجھے بہت چاھتے تھے کتاب فہمی اور خدمت و محنت کی وجہ سے بہت پیار کرتے تھے، ایک دفعہ ہمارے ایک عزیز پر فالج کا اثر ہو گیا میں انہیں دیکھنے کے لئے چند دن کی رخصت لے کر آگیا اتفاق سے دو تین دن تاخیر سے پہنچا آپ نے مرقات الفرائض کے اسباق مؤخر کر دئے اور فرمایا جب آفاق آئے گا تب پڑھاؤں گا ۔

اسی طرح حاشیہ میر زاھد جو رسالہ قطبیہ پر ہے اسے میرا ذہن اور شوق دیکھ کر پڑھایا، پہلے رسالہ قطبیہ پھر میر زاھد، ہر معاملہ میں مجھ سے ہمدردی کرتے تھے ایک سال پڑھکر میرا دورہ حدیث مکمل ہو گیا، امتحان کے لئے اس وقت مفتی طیب تشریف لائے تھے جو اس وقت مدرسہ منظر حق ٹانڈہ کے صدر مدرس تھے چونکہ مجھے درسی کتابوں پر اتنا عبور تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ جہاں سے بھی یہ فرمائیں گے میں پڑھ دونگا، بخاری شریف کا تقریری امتحان لے رہے تھے ان کے امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ باری باری کرکے ہر طالب علم سے فرماتے تھے کہ جہاں سے جی چاہے پڑھو ، جب میری باری آئی، اگر چہ گستا خی کا میرا کوئی ارادہ نہ تھا بس سوچا کہ ہو سکتا ہے میرے نمبر زیادہ آجائیں گے اس لیے میں نے عرض کیا کہ حضرت جہاں سے فرمائیں میں پڑھ دوں، میرا یہ جملہ انہیں پسند نہ آیا زبان سے تو کچھ نہیں کہا نمبر کم کر دیے ۔

شعبان میں چھٹی ہو گئی جامع اشرف کا دستور تھا کہ دستار بندی حضرت مخدوم قدس سرہ کے عرس کے موقع پر 27 محرم کو کرتے تھے، دستار بندی تک رہا کچھ پیٹ میں تکلیف تھی اس وجہ سے گھر چلا آیا ابتداء صفر سے رمضان تک بے کار رہا، مجھے اس بےکاری کا احساس اس قدر رہتا کہ نہ دن میں سکون ملتا تھا نہ رات کو صحیح نیند آتی تھی۔ ایک دو جگہ ملازمت کے لیے بھاگ دوڑ بھی کی کہ کچھ اچھے طلبہ پڑھانے کو مل جائیں، بدایوں شریف میں جب کہ وہاں میری تعلیم بے قاعدہ ہوئی تھی اس کے باوجود عنایت خدا وندی سے ذہن اس قدر تیز تھا کہ دورۂ حدیث کے سال میں اپنی جماعت کے سب سے اعلیٰ درجہ کے طلباء

کو ہدایہ اولین کی تکرار کراتااور پڑھاتا تھا۔ ایک بار کا واقعہ ہے جب میں ھدایہ اولین بدایوں میں ایک استاذ سے پڑھتا تھا، ایک عبارت ان کی سمجھ میں نہیں آئی اور انہوں نے کہہ دیا کہ ہر رکعت کا دوسرا سجدہ واجب ہے جب کہ عبارت کا اصل مطلب یہ تھا کہ دوسرا سجدہ کھڑے ہونے سے پہلے واجب ہے، مطلب یہ کہ دوسرا سجدہ تو فرض ہے مگر قیام سے پہلے اسے اداکر لینا واجب ہے کافی دیر تک بحث چلتی رہی، اسے ماننے میں وہ توہین محسوس کر رہے تھے با لآخر مولوی خلیل صاحب تک بات پہنچی تب انھوں نے مانا، اس طرح کی بحثوں سے وہ مجھے گستاخ سمجھتے تھے حالانکہ مجھ میں گستاخی کا شائبہ بھی نہ تھا، مگر ابھی نئے نئے فارغ ہوئے تھے اور خارجی کتب کا زیادہ مطالعہ بھی نہ تھا آدمی ذہین تھے اور میری عادت تھی کہ جو بات میری سمجھ میں نہ آتی اس کو میں پوچھ بیٹھتا۔ میرے ساتھی عام طور خاموش رہتے تھے،پھر ان کا بتایا ہوا مطلب اگر عبارت کے موافق نہ ہوتا تو میں خاموش نہ ہوتا، میرا قلب خود بھی ان سے گریزاں رہتا کیونکہ وہ ایسے مصباحی تھےجو ظفر ادیبی کے شاگرد اور انکا رنگ رکھتے تھے نیز اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی شان میں گستاخانہ جملے بول جاتے تھے ،میں ان کو بالکل برداشت نہ کرتا تھا کبھی نہایت مہمل اور ناموضوع باتیں ان کی طرف منسوب کر دیتے تھے، ایک دفعہ کہنے لگے کہ دیکھئے اعلیٰ حضرت نے کس قدر غلط بات کہہ دی، میں نے عرض کیا، وہ کیا؟ کہا حدائق بخشش کا شعر ہے ؎

وہ جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر

میں نے کہا یہ شعر حدائق بخشش کا نہیں ہے، حدائق بخشش میری سب پڑھی ہوئی ہے ۔اس پر وہ بہت چراغ پا ہوئے، اچھا یہ سچ تھا کہ حدائق بخشش کا مطالعہ بہت تھا ہم لوگ ہر جمعرات کو جناب افتخار بھائی برکاتی کے گھر پر میلاد خوانی کرتے تھے، آواز موٹی ہونے کی وجہ سے میں اشعار ترنم کے ساتھ نہیں پڑھ پاتا تھا لیکن شوق میں ان طلباء کے ساتھ آواز ملاکر نعتیں پڑھا کرتا تھا جو اچھے نعت خواں تھے۔

اعلیٰ حضرت کے ساتھ جو مجھے عقیدت تھی اور ہے، اسکا نتیجہ یہ تھا کہ میں آپ کی کتب دور طالب علمی میں ہی بہت پڑھتا تھا، اتفاق یہ ہوا کہ حافظ غلام رضا صاحب سہسوانی جو نابینا تھے، وہ اعلیٰ حضرت کے بڑے عاشق تھے، اعلیٰ حضرت کے جو بھی رسائل اس وقت تک چھپ چکے تھےوہ قریب قریب سبھی ان

کے پاس تھے، انہیں کوئی سنانے والا ملتا نہیں، میں نے یہ خدمت اپنے ذمہ لے لی اور دوپہر کا کھانا کھا کر سونے کے بجائے میں ان کو وہ رسائل پڑھ کر سنا نے لگا، کیونکہ صبح کا وقت تعلیم اور شام کا مطالعہ و تکرار میں گزرتا تھا، بحمد ہٖ تعالیٰ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اگر چہ ہم اس وقت تمام دلائل تو محفوظ نہ کر پائے اور نہ مسئلہ کی تفصیل،مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس مسئلہ کی تفصیل فلاں رسالہ یا فلاں کتاب میں ہے، یہ معلوم ہو گیا،کافی رسائل کے نام بھی معلوم ہو گئے اور عقیدت میں اضافہ بھی ہوتا رہا۔ مولانا خلیل احمد صاحب مجھے سب سے زیادہ چاہتے تھے،مگر ان کی باتوں سے تنفر بڑھتا اور اعلیٰ حضرت سے جو عقیدت تھی اس میں کوئی کمی نہیں آتی، بدایوں میں کچھ کتب مولانا عبد الوکیل صاحب سے بھی پڑھیں جو اشرفیہ کے فارغ تھے، شاعر بھی تھے ذہین بھی تھے، ردّر پور ضلع دیوریا کے رہنے والے تھے اور نئے نئے فارغ ہوکر آئے تھے ۔

جامع اشرف میں ہماری جماعت میں ایک مولانا کمیل احمد اشرفی تھےجو مبارک پور کے رہنے والے تھے، ان سے صرف اس بنیاد پر دوستی ہو گئی کہ وہ اس معاملہ میں بہت وسیع القلب تھے نیز ہماری جماعت میں وہی صرف یو پی کے تھےباقی سب طلباء بہار کے تھے،دستار بندی کے بعدمیں پریشان تھا کہ کیا کروں ، اتفاق سے جامعہ عربیہ ناگپور میں میری تقرری کی بات ہو گئی ،تنخواہ وغیرہ بھی طے ہو گئی، سوچا تھا کہ بعد رمضان چلا جاؤں گا، اتفاق سے انہیں ایام میں ہمارے مذکورہ ساتھی کا خط آگیا کہ حضرت اظہار اشرف صاحب نے فرمایا ہے کہ تم آئندہ سال جامع اشرف پڑھانے کے لئے آ جاؤ۔اگرچہ میرے ساتھیوں نے بے پناہ کوششیں کیں کہ انہیں حضرت مہتمم صاحب تعلیم و تدریس کے لئے رکھلیں مگر میری طرف سے نہ کوئی کوشش تھی نہ درخواست و سفارش، خود انہوں نے پسند کیا، خط ملا، بہت کشمکش کا شکار ہوا کہ ناگپور کا وعدہ کر لیاتھا، جامع اشرف میں وہاں کی بنسبت تنخواہ چوتھائی سے بھی کم تھی، مگر یہ سوچا کہ یہ سادات ہیں نیز یہاں کا نمک بھی کھایا ہے، اس لئے انکار نہ کر سکا، ناگپور معذرت کر لی اس طرح شوال میں جامع اشرف پہنچ گیا ۔

تدریس کا آغاز ہوا، نیا فارغ تھا، ابتدائی کتب ملیں، ایک اور مولانا اشرفی تھے جو سادات کچھوچھہ سے کافی ربط رکھتے تھے اور کافی دخیل تھے، انہیں اور ہمیں ابتدائی درجات کی کتب تقسیم کرکے دیدی گئیں، چند ہی ماہ میں حضرت مہتمم صاحب اس قدر مانوس ہوئے کہ کچھ مزید اوپر کے درجات کی کتب

دے دیں، اتفاق سے کچھ وجوہ سے دوسرے مولانا اچانک چھوڑ کر چلے گئے، کسی دوسرے مدرس کا ان کی جگہ پر انتظام نہیں ہو پایا، میں نے ہمت باندھ لی وہ ساری کتب بھی میں ہی پڑھانےلگا، دونوں وقت پڑھاتاتب پڑھا پاتا، طلباء بحمدہٖ تعالیٰ حد درجہ مطمئن تھے، حضرت مہتمم صاحب کی خوشیوں کی کوئی حد نہ تھی، اب وہ مجھے ہر موقع پر ترجیح دینے لگے نیز وفا داری ہمیشہ میرا شیوہ رہا، میں مدرسہ پر یا اسکے متعلقین پر کبھی تنقید نہ کرتا اصلاح کے تعلق سے جو کچھ ہوسکتا تھاکرتا ۔

جامع اشرف نیا نیا قائم ہوا تھا، ابتدائی کتب پہلے سال زیادہ تر میرے پاس تھیں خانوادہ کے سادات نے پڑھنا شروع کیا تو ان کی کچھ نہ کچھ کتب میرے پاس بھی رہیں، اس طرح بحمدہٖ تعالیٰ وہاں نوجوان سادات کی تعلیمی خدمات کا بہت موقع ملا، ان میں حضرت نظام میاں، حسنین میاں، اختر میاں، حسن میاں جائسی، قادری میاں، حضرت علیم اشرف صاحب جائسی اور راشد مکی میاں جو مدنی میاں کے بھتیجے ہیں وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، نیزیہ رب تعالیٰ کا فضل رہا کہ میں جہاں بھی رہا لوگوں کی محبت بہت ملی۔

دوسرے سال مفتی عبد الجلیل صاحب تشریف لے آئے، منقولات میں بڑی صلاحیت کے مالک تھے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ ان سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔ تیسرے سال حضرت خواجہ مظفر حسین صاحب بھی تشریف لے آئے۔ حضرت مولانا غلام مجتبیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بعض وجوہ سے جامع اشرف چھوڑ کر بھیونڈی دارالعلوم دیوان شاہ میں صدر مدرس ہو کر تشریف لے گئے ،حضرت خواجہ صاحب سے مجھے استفادہ کا موقع ملا اور صدرا کے اسباق مثناۃ بالتکریرتک انہیں سے پڑھے، نیز میبذی بھی عین القضاۃ کے ساتھ ان سے پڑھی، علم توقیت حضرت غلام مجتبیٰ صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا ۔

خانوادہ کچھوچھہ شریف کے بزرگ بھی ہم سے بڑی محبت کرتے تھے اور دو سال ہی میں ہماری کارکردگی کی شہرت طلباء اور اہل کچھوچھہ کے درمیان بہت ہو گئی، پھر تو مجھے بہت عزت ملنے لگی، تیسرے سال درجہ عالمیت کی کتب پڑھانے لگا ۔زمانہ طالب علمی میں،میں دیابنہ کی اردو شروحات دیکھتا تھا تو بہت بد دل ہوتا تھا اسی وقت سے تہیہ کر لیا تھا کہ توفیق ملی تو ساری درسی کتب کی شروحات لکھوں گا، جامع اشرف میں میرے لئے ماحول بہت سازگار تھا، قیام و طعام نہایت معقول اور کتب بھی اعلیٰ درجہ کی پڑھانے کو ملنے لگی تھیں، خانوادے کے سبھی چھوٹے بڑے بے حد مجھے چاہتے تھے صبح شام حضرت مخدوم اشرف قدس سرہ کے دربار گہربار میں حاضری بھی ہو جاتی تھی۔

حضرت مہتمم صاحب اور انکے فرزند و ولیعھد حضرت محمود اشرف صاحب قبلہ کے الطاف و عنایات بہت تھے، میری صلاحیت و استعداد اور کام کی سلیقہ مندی نیز جامع اشرف کے ساتھ وفاداری کی بنیاد پر مجھے وہ آنےوالے سالوں میں صدر مدرس بنانا چاہتے تھے جیسا کہ انکے خاص لوگوں نے مجھے بتایا تھا ۔

1397ھ میں غالبا ًمیں کچھوچھہ شریف برائے تعلیم پہنچا ۔محرم 98 ۱۳ھ میں دستار بندی ہوئی، بقیہ سال گھر رہا پھر ۱۳99ھ تا شعبان 1401ھ مدرس رہا، اسی سال 14 محرم کو حضرت مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا وصال ہوا میں جنازہ میں شرکت سے محروم رہا مگر فاتحہ چہلم جو عرس رضوی کے موقع پر ہوئی اس میں شریک ہوا اور وہیں حضرت مولانا محمد حنیف رضا خاں صاحب گورکھپوری کے ذریعہ عارف با للہ حضرت مولانا احمد رضا صاحب کے بارے میں علم ہوا۔

یوں تو جب ہوش و خرد کی منزل پر پہنچا تب ہی سے اشتیاق تھا کہ کوئی بزرگ صاحب نسبت ملیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ ولایت کیا ہے، کیسے حاصل ہوتی ہے، کیا ذرائع و اسباب اپنانا پڑتے ہیں، بہت دعائیں کرتا تھا کہ کوئی اس طرح کا مل جائے کہ سلوک طے کرا دے، بریلی شریف میں جب معلوم ہوا تو بہت تڑپ پیدا ہوئی جناب مولانا مذکور سے طے ہو گیا کہ آپ حضرت کی کوئی تاریخ لے لیں کہ وہ ہمارے گاؤں تشریف لے آئیں غالبا ً ربیع النور کی کوئی تاریخ طے ہوئی، پورا انتظام ہو گیا اور ہم سب لوگ استقبال کے لئے گرسہائے گنج تک آئے مگر حضرت کسی مجبوری کی وجہ سے کانپور آکر رک گئے اور مقررہ تاریخ کو تشریف نہ لا سکے، پھر چند دن بعد تشریف لائے اور میں بلا تامل مرید ہو گیا، حضرت کی طرف میلان اور بلا تامل مرید ہونا اگر چہ بظاہر دور اندیشی پر مبنی نہ تھا مگر یہ سب من جانب اللہ اسباب بنتے گئے،بعض وجوہ عقیدت میں نے تذکرہ مشائخ مجددیہ میں ذکر کر دئے ہیں ۔

اب میری زندگی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی تھی، روحانیت کا شوق دن بدن بڑھتا جا رہا تھا، غالبا ً میں ماہ ربیع النور 1401 ھ میں 20 سے 25 تاریخ کے دوران مرید ہوا، غالبا ً فروری کا مہینہ تھا حضرت کا طریقہ تھا کہ مرید کرنے کے بعد خاص لوگوں کو لطائف کی تعلیم دیتے تھے اور لطیفہ، قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ ، نفس ،پر انگشت شہادت رکھ کر توجہ ڈالتے اس طرح لطائف جاری ہونے میں آسانی ہو جاتی مگر مجھے مرید کر کے بس ذکر بتا دیا میں نےشروع کردیا، حکم ہوا کہ خاص خاص موقعوں پر جیسے عرس وغیرہ میں حاضر ہو تے رہو، میری عقیدت و محبت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا یہ بھی ایک منجانب اللہ

انتظام تھا کہ مرید ہونے سے قبل ہی حضرت مجدد قدس سرہ اور ان کے سلسلہ کے تعلق سے کئی کتب میرے پاس موجود تھیں۔

اس زمانہ میں مکتبہ الشفیق کے مالک حسین علمی صاحب، استانبول، ترکی نے سنت و سنیت کی نشر واشاعت کی خاطر مختلف زبانوں میں ، مختلف ملکوں میں کتابیں بھیجنا شروع کیں ، میں بھی منگانے لگا ، مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ میں جو اسماء کتب لکھ کر بھیجتا وہ تو کم آتیں مگر ہر بنڈل میں ایک دو کتب سلسلہ ٔ نقشبندیہ اور حضرت مجدد قدس سرہٗ کے تعلق سے ضرور ہوتی تھیں ، میں کھولتا اور جب دیکھتا تو بد دل ہوتا ،مجھےاس طرح کی کتب سے کوئی رغبت نہیں تھی ، جب وابستگی ہوئی تو سمجھ میں آیا کہ سب من جانب اللہ تھا ،مشائخ سلسلہ کی عنایت !یہ سرمایہ ہمارے بہت کام آیا۔

مشائخ سے جو محبت و عقیدت ہونی چاہیے اس میں ان کتابوں نے بہت مدد کی ، ہندوستان میں اس سلسلہ کے تعلق سےکتب ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتی تھیں۔

جامع اشرف میں مجھے ہر طرح کی سہولتیں حاصل تھیں اور بانی جامع اشرف مجھے بہت چاہتے تھے ، میری تعلیم و تدریس اور جامع اشرف کے ساتھ وفا داری اور محنت نے انہیں بہت متاثر کیا تھا وہ سارے اساتذہ میں مجھ سے خاص لگائو رکھتے تھے، جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں ۔

مگرجب حضور مرشدی دام ظلہ العالی سے وابستہ ہوا اور اکتساب فیض کی رغبت بڑھی تو حضرت دام ظلہ نے اشارہ فرمایا: لگتا ہے میری عمر کم ہے، تم مجھے اس وقت ملے جب ضعف غالب آ چکا ہے میں چاہتا ہوں کہ کچھ دنوں صحبت میں رہو، پھر اس کے بعد حکم فرمایا کہ مولانا حنیف چھپیابازار (ضلع مہراج گنج)میں مدرسہ قائم کر رہے ہیں تم وہاں آ جائو، میں آپ کے حکم کے مطابق جامع اشرف سے مستعفی ہو گیا اگر چہ مہتمم صاحب کی عنایات کی وجہ سے بہت شرمندہ تھا ۔

مدرسہ گلشن رضا میں آکر اس کی تعمیر و ترقی کے لئے بہت کوششیں کیں، حضرت مرشدی دام ظلہ سے عقیدت و محبت نیز مولانا موصوف سے بھی ابتداً جو لگائو تھا اس کی وجہ سے اپنے کو کبھی مدرس نہ سمجھا، عربی کے محدود طلبا ءتھے، میں ان سب کوپڑھاتا بھی اور چندہ بھی وصول کرتا جو مل جاتا اس پر اکتفاءکرتا، مولانا موصوف کے کاموں میں بھر پور ہاتھ بٹاتا مدرسہ کے لئے امداد و اعانت حاصل کرنے میں اس علاقہ میں بہت محنت کرنا پڑی ۔

ایک بار پروگرام بنا کہ مچھلیاں پالنے کے لئے ایک تالاب کھود لیا جائے، اس میں جملہ طلبا ء و اساتذہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ایک بار پروگرام بنا کہ اینٹ کی بھٹیاں لگا لی جائیں جنکے اخرجات کے لیے سب کو چندہ کے لئے نکلنا پڑا، گائوں گائوں مارے مارے پھرتے رہے دو دو چار چار روپے وصول کرتے تھے میں کسی وجہ سےتفصیل سے ان وجوہ کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جن کی وجہ سےمیں کس قدر پریشان ہو ا،اور کس قدر غم و حزن کے ساتھ وقت کاٹنا پڑا، تین سال رہ کر تجربہ ہو گیا کہ اس علاقہ میں مولانا موصوف کے زیر اہتمام چاہے کتنی مشقت اور محنت تا حیات کرڈالیں مگر ہم کوئی خاص خدمت دین نہیں کر پائیں گے، اور نہ ترقی کے آ ثار دکھائی دے رہے تھے ۔

نیز یہ احساس بھی دن بدن بڑھتا رہا کہ کسی بھی مدرسہ میں خواہ کتنی بھی سہولتیں حاصل ہوں کسی کے ما تحت رہ کر ہم اپنے جذبات کے مطابق سنت وسنیت کا کام نہیں کر سکتے ہیں ۔

مدرسہ گلشن رضا میں قیام کے آخری سال میں میری اہلیہ بھی ساتھ تھی، اس نے بھی میری خاطر بے انتہاء تکالیف برداشت کیں، حضرت مولانا سید قسیم اشرف صاحب عرف حسن میاں جائسی جو مولانا سید کلیم اشرف اور سید علیم اشرف صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں جامع اشرف میں مجھے انکی کچھ تعلیمی خدمات انجام دینے کا موقع ملا تھا وہ سبھی مجھ سے بہت مانوس تھے جامع اشرف سے میرے نکلنے کے بعد وہ برائوں شریف آ گئے تھے کیونکہ اسی سال حضرت خواجہ مظفر صاحب بھی جامع اشرف چھوڑ کر برائوں شریف تشریف لے آئے تھے، جب حسن میاں کو معلوم ہوا کہ میں چھپیا بازار میں ہوں تو وہ بھی آخری سال میں یہیں آ گئے، مجھے بھی انسے بہت انس تھا دل بہت اچاٹ ہو چکا تھا انسے کافی دل بستگی رہتی تھی وہ نہایت حساس ہوشمند بے پناہ شریف انسان تھے، انہیں بھی بھر پور احساس تھا کہ یہاں ترقی نہیں ہو سکتی ہے میرے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا اگر میں کسی جامعہ کی بنیاد ڈالوں گا تو اسکے اخرجات کہاں سے پورے ہونگے، کیونکہ میرا خود نہ کوئی حلقہ اثر تھا نہ آبائی طور پراور نہ کسی علمی شہرت کی بنا پر، اس وقت تک مجھے خلافت بھی نہیں ملی تھی،حضرت حسن میاں صاحب سے برابر اسی تعلق سے گفتگو رہتی اور جب ہم اور وہ شام کے وقت ٹہلنے جاتے تو یہی موضوع ہوتا ۔

بالآخر وہ اس پر نہایت خوشدلی سے آمادہ ہو گئے کہ اخراجات کو پورا کرنا ہمارا کام ہوگا ، ہمارے والد بزرگوار کا ایک وسیع حلقۂ اثر و ارادت ہے نیز خاندانی شہرت و عزت اس قدر حاصل تھی کہ محتاج تعارف

نہیں ، جامعہ کے قیام کے لیےاس وقت جو مناسب جگہ خیال میں آئی وہ قنوج تھی ، یہاں کوئی اہل سنت کا جامعہ یا مدرسہ تو بڑی بات ہے کوئی اچھا مکتب تک نہ تھا ، نہ کوئی عالم یہاں تحفظ سنیت کا کا م کر رہے تھے، قریب قریب پورا شہر دیوبندیوں کی لپیٹ میں آچکا تھا ، مساجد میں امام انہیں کے تھے ، عیدین و جمعہ کی نمازبھی وہی پڑھاتے تھے ۔

عام طور پر لوگ مذہبی معاملا ت میں انہیں کی طرف رجوع کرتے تھے ، حد تو یہ کہ میلاد کے نام پر جو محافل منعقد ہوتیں وہی لوگ آکر تقریر کرتے اور بغیر قیام و سلام محافل کا اختتام ہوجا تا ، جنازوں کی نمازیں وہی پڑھاتے ۔

چونکہ اس دیارمیں قنوج کو ایک مرکزیت حاصل تھی اسی لیے اس کا اثر مواضعات اور گاؤں پر بھی بہت پڑ رہا تھا ، مالدار طبقہ زیادہ ترپوری طرح ان کے ہاتھ میں آچکا تھا، قرآن خوانیوں میں ہر جگہ وہی بلائے جاتے تھے۔ میرا یہاں کسی سے کوئی تعلق نہ تھا ، جب میری شادی اس علاقہ میں ہوئی تو کچھ تعلق بڑھا ، قنوج کے قریب واقع گاؤں بخش پوروہ کے پردھان محمد شریف صاحب جن کا میری سسرال سے دور کا رشتہ تھا، مگر لگاؤ بہت تھا ، وہ شہر میں دوکان کئے ہوئے تھے ، نہایت سمجھدار تھے اور قومی وسماجی کاموں میں حصہ لیتے تھے، تعلقات وسیع تھے، اس طرح ان سے تعلق ہو ا ، قنوج کی حالت زار دیکھ کر یہ احساس پید اہوا کہ یہاں سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اہل سنت کا کوئی مدرسہ ہو ، اسی احسا س کی وجہ سے میں نے انہیں ابھارنا شروع کیا اور وہ آمادہ ہوگئے، کہ آپ مدرسہ قائم کیجئے میں تعلقات پیدا کراؤں گا چنانچہ جب میں چھٹی پر چھپیا سے گھر آتا اور سسرال جاتا تو ان سے بھی ملاقات کرتا ، انہوں نےمجھے محمد نعیم صاحب وارثی سائیکل والے سے ملایا،وہ بھی نہایت خندہ پیشانی سے تیار ہوگئے۔

جب حالات کچھ سازگار ہوتے معلوم ہوئے تو میں نے عزم محکم کر لیا ادھر حضرت حسن میاں صاحب سے ملاقات اور بات چیت نے مزید قوت پیدا کی ، اب یقین ہو چکا تھا کہ انشاء المولیٰ الکریم قنوج میں مدرسہ کامیاب ہوجائے گا ، ان لوگوں سے میں نے وعدہ کرلیا تھا کہ میں آئندہ سال آجائو ں گا ، حالات سے بد دلی کی وجہ سے میں چھپیا پہلے ہی چھوڑ دیتا مگر حضرت دام ظلہ کے فرزند و ولی عہد جناب مولانا رئیس الخیری صاحب کی تعلیمی خدمات میرے سپر د تھیں ، لہٰذا ان کی دستار بندی تک میں نےبہر حال رکنا ضروری جانا ، یہاں سب تیاری کرلی ، حضرت حسن میاں صاحب نے بھی دوران گفتگو الجامعۃ

الاحمدیہ نام تجویز کیا ، چونکہ حضرت مجدد الف ثانی سیدنا شیخ احمد سرہندی فاروقی قدس سرہٗ سےانہیں بھی کافی لگائو پیدا ہوگیا تھا ، اب یہ طے ہوگیا کہ نظامت و اہتما م کے فرائض وہ انجام دیں گے ، اور تدیسی خدمات میں بجا لائوں گا ، نیز تعمیر و ترقی کی راہ ہموار کرنے میں جو بھی مجھ سے ہو سکے گا کروں گا، مدارس کے تعلیمی و تربیتی انحطاط کی وجہ سے یہ احساس یقین کی حد میں داخل ہوگیا تھا کہ جب تک اپنا مدرسہ نہ ہوگا اس وقت تک ہم جامع الصفات افراد جو کہ علوم و فنون میں اچھی مہارت رکھتے ہوں ، عربی زبان و ادب پر بھی اچھی قدرت حاصل ہو ، اسلاف کی سیرتوں کے حامل بھی ہوں اور حسن اخلاق کی دولت سے مالامال بھی ہوں ، پیدا نہیں کر سکتے ہیں ۔

اب سب سے بڑا مسئلہ ہمارے سامنے حضور مرشدی دام ظلہ سے چھپیا چھوڑنے کی اجازت و رخصت لینا تھی، ہم جانتے تھے کہ جوحضر ت دام ظلہ کو مولانا موصوف سے لگائو ہے ، اس مدرسہ کے لیے جو محنت ہوئی ہے، اور ایک دم سے اس کو جو اس علاقہ میں ترقی ہوئی ہے، اور اس کی بہترین شہرت پھیلی ہے اس کا حضرت دام ظلہ کو بھر پور احساس ہے ، اور اس میں ہمارا کتنا دخل ہے ، ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر وہ کبھی بھی ہمیں خوشی سے جانے کی اجازت نہ دیں گے ، رفتہ رفتہ ہماری یہ باتیں ان کے کانوں تک پہنچیں ، دوسروں کی زبانی میں انکے تاثرات بھی لیتا رہا ۔

میں نے ابتدا میں خود بالمشافہ کہنا کچھ مناسب نہیں سمجھا اور نہ حضرت دام ظلہ اس سے کچھ خوش ہوئے، مگر سال کے آخر تک وہاں ایسے حالات پیدا ہوگئے جن کی وجہ سےوہ نیم راضی ہوگئے ۔

دستار بندی کا جلسہ ہوا ، حضرت دام ظلہ نے اسی سال حضرت شیخ المشائخ قدس سرہٗ کے عرس کے موقع پر مجھے خلافت و اجازت سے بھی نواز ا، اس وقت حضرت شیخ المشائخ قدس سرہٗ کا عرس مبارک ۲۲۔۲۳شعبان المعظم کو قطب بنارس قدس سرہٗ کے عرس کے دوسرے دن بعد ہوا کرتا تھا ۔ چناں چہ جلسہ دستار بندی کے بعد عرس واقع ہوا ، میں جلسہ دستار بندی کے بعد مستعفی ہو کر گھرچلا آیا ۔پھر یہاں سے عرس میں شرکت کے لیے گیا ، کچھ کتب برائے مطالعہ میں پہلے ہی جناب محمد نعیم صاحب کے پاس رکھ گیا تھا ، پھر میں عرس کے بعد رمضان المبارک سے غالباً ۲۔۳ دن قبل باضابطہ تیاری کے لئے قنوج آگیا ، نعیم صاحب سے طے یہ ہوا تھا کہ حاجی شریف زندنی علیہ الرحمۃ و الرضوان کے احاطہ مزار میں مسجد کے نیچے جو عمارت ہے ،سر دست اسے کام میں لے لیں گے ، نیز کافی وسیع آراضی درگاہ سے متعلق

ہے، اسے بھی کام میں لایا جا سکتا ہے ، مختصر یہ کہ آغاز سال میں ہی یہ سب طے ہو گیا تھا ، میں آتا جاتا رہا ، جب رمضان سے قبل مستعفی ہو کر قنوج آیا تو سب سے بڑا مسئلہ ہمار ے سامنے ان طلباء و مدرسین کے قیام و طعام ، کتب اور تنخواہوں کی ادائیگی کا تھا ، جنہیں بعد رمضان آنا تھا ،جن سے ہم وعدہ بھی کر چکے تھے۔

سوچاکہ رمضان میں محنت کرکے کچھ وصولیابی کر لیں گے جس سے مدرسہ کا آغاز ہو جائے گا، اب جب رمضان المبارک سے چند روز قبل قنوج حاضرہو ا تو عین چاند رات والے دن نعیم صاحب نے کسی وجہ سے انکار کر دیا ، اور کہا اگلے سال دیکھا جائے گا ۔قنوج میں ابھی تک میرے قیام و طعام کا کوئی بند وبست نہ تھا ،اور نہ کسی سے شناسائی ،میری پوری زندگی میں جو سب سے زیادہ دشوار دن آئے اور جنہیں میں حزن و غم کے لحاظ سے سب سے سخت دن کہہ سکتا ہوں ، ان میں سے یہ د ن جو اگرچہ سب سے بڑا نہیں تھا مگر ہلکا بھی نہ تھا ۔ میرے دل پر انکے جواب سے کیا بیتی یہ علیم و خبیر جل و علا ہی جانتا ہے، اب میں بہت پریشان کہ جائوں تو کہاں جائوں ۔

شام قریب تھی، چاند نکلنے والا تھا ، تراویح و سحری و کھانے وغیرہ کا انتظام تھا نہ کہیں لیٹنے بیٹھنے کا،نہ کوئی آشنا تھا جس سےباتیں کرکے دل بہلاتا اور غم ہلکے کرتا ، حاجی بابا میں ایک بابا رہا کرتے تھے ،جو لنگڑے بابا سے مشہور تھے، میں نے جب سے قنوج آنا جانا شروع کیا تبھی سےدرگاہ شریف پر بھی حاضری دیتا تھا، ان سے ملاقات کرتا ، وقت گزارتا اورکبھی تھوڑی دیر آرام کرلیتا، وہ کھانے کے وقت کہیں سے کھانا منگوا کر کھلا دیا کرتے تھے۔

اب ان کی یاد آئی میں نے سوچا انہیں کے پاس گزارا کر لوں گا ، کچھ مشورہ بھی کر لوں گا ، وہ میرے قیام و طعام وغیرہ کا انتظام بھی کردیں گے ،جب میں وہاں پہنچا تودیکھا کہ حجرے میں تا لا پڑا ہے ،پوچھا تو معلوم ہو ا وہ کئی دن سے باہر گئے ہوئے ہیں ، اب تو اس قدر غم کہ بیان نہیں کر سکتا ، سوئے اتفاق ابھی چند روز قبل ہی کاغذیانے میں ایک حاجی صاحب کا قتل ہوا تھا ،جس کی وجہ سے بہت سنسنی تھی ، بدمعاشوں کےخوف سے حاجی بابا میں سر شام ہی سناٹا ہو جاتا تھا ، آبادی کوئی خاص وہاں نہ تھی ، مارے شدت غم کے حیران تھا کہ اب کیا کروں ، کہاں جائوں ، رات کیسے گزرے گی ۔

پروردگار عالم جل وعلا کا کرم اس وقت مایوسیوں کے عالم میں یہ ہوا کہ ایک ادھیڑ عمر شخص جنکا نام میں

بھول رہا ہوں جو کافی عرصہ سے وہاں رہ رہا تھا مل گیا میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ میں پیسے دے دیتا ہوں آپ آٹا خرید کر چند روٹی بنوا دیں ، جو اس وقت اور سحری میں کام آجائیں ، ساتھ میں کچھ چٹنی جو سالن کا کام دے۔ بہر حال انہوں نے پیسے نہ لیے اور تھوڑی دیر کے بعد چند روٹی ، اور کچھ سبزی لے آئے ، تو کچھ شدت بھوک میں اسی وقت کھالیں ، کچھ سحری کے لئے بچاکر رکھ لیں اور ایک چٹائی پرانی مل گئی جسے میں نے وہیں باہر حجرے کےسامنے بچھا لیا اور لیٹ گیا ، رات بھر کافی تیز ہوا چلتی رہی ، گرد غبار بھی اڑتا رہا ، خنکی بھی تھی، نیز خوف و دہشت کا عالم تھا ، قریب میں کوئی انسان بھی رات بھر نظر نہ آیا ، وہ رات کس طرح کٹی یہ خدا ہی جانتا ہے ۔ اللہ اللہ کرکےصبح ہوئی اب فکر ہوئی کہ شہر میں کہیں نکلا جائے ، مدرسے کے قیام کا کوئی راستہ نکالا جائے ۔

زمانہ قیام گورکھپور میں ، میں مولانا حنیف کے ساتھ ایک دو بار ۹۲ بیڑی فیکٹری کی برانچ جو مکرند نگر میں ہے، گیا تھا۔ اس وقت وہاں وکیل احمد صاحب ساکن چتر پوروہ منشی تھے ، مولانا کی دعوت جناب عبد الصمد خان اور انکے بھائی واجد ملا جی نے کی تھی،واجد ملا جی مرید بھی ہوئے تھے، نیز عبد الصمد خان صاحب نے اپنے بڑے لڑکے ساجد کو چھپیا پڑھنے کے لیے بھی بھیجا تھا ،انکابیڑی بنوانےکا کام تھا ، ۹۲نمبر بیڑی کے برنچدار تھے ۔آج اس دشوار موقع پر خیال آیا کہ چلو ملا جی سے ملیں ، الغریق یتشبث بکل حشیش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کافی،صبح ملا جی کے پاس حمالی پورہ آگیا، ملا جی سے شناسائی آج ہمارے بہت کام آئی، یہ گویا آنے والے وقت کےلئے منجانب اللہ پہلے ہی سے انتظام تھا ، ملا جی کو میں نے پوری داستان سنائی اور انہیں آمادہ کیا کہ آپ کہیں مدرسہ قائم کرالیں، انہوں نے تسلی دی ، چونکہ جامعہ کا بڑا منصوبہ ذہن میں تھا ، تعلقات تھے نہیں ، خیال یہ تھا کہ ایسے محلہ میں جامعہ قائم کریں جہاں ذرائع آمدنی اچھے ہوں ، یہ ہماری فکر تھی ، اس پروردگار کو کچھ اور ہی منظور تھا ، ہمارے ساتھ یہ مسئلہ بہت رہا کہ میں اپنی محدود فکر اور دانائی و عقلمند ی کے لظ سے جو کچھ تصور کرتاوہ ہوتا کچھ اور مگر جو ہوتا وہی اچھا ہوتا تھا ، بعد میں شکر الٰہی بجا لاتا کہ اگر اس کا کرم نہ ہوتا تو ہم نامعلوم کیا کر گزرتے اور پچھتاتے،بہر حال ملاجی نے مشورہ دیا کہ شام کو محلہ شیخانہ چلیں گے، جو اہل سنت کا سب سے بڑ امحلہ ہے ،وسائل بظاہر وہاں اچھے ہیں، شام کو گیا وہاں جو مکتب قائم ہے اس کے بعض ذمہ داروں سے ملا پورا پروگرام بتایا وہ ڈاکٹر ہاشم صاحب صدیقی کے پا س لے کر گئے،ان سے اپنا تعارف کرایا ، میرے بچوں کے بڑے ماموں شکیل احمد سے انکے خاص تعلقات تھے، اس رشتے سے وہ

محبت سے پیش آئے ، مگر پروگرام سن کر انہوں نے صاف منع کر دیا کہ ابھی یہاں گنجائش نہیں ، آگے چل کر دیکھا جائے گا ، بہت مایوسی ہوئی اور نہایت ادا س لوٹا ، لوگوں سے ملنے جلنے اور تعلقات قائم کرنے میں بہت کاہل رہا ، طبیعت میں ایک عجیب قسم کی وحشت رہتی تھی ، اجنبی لوگوں کے میں جلد قریب نہیں ہو پا تا تھا ، نا متعارف ہونے کا دل میں کوئی داعیہ پید اہوتا تھا ، واپس آکر رات ملا جی کے پاس گزاری ، دوسرے یا تیسرے دن شاید جمعہ تھا، اب ملا جی نے کہا ’’ پڑوس میں محلہ شیخ پورہ ہے ، بڑا ہے ، اس محلہ والوں سے رابطہ کرتے ہیں ، جمعہ پڑھنے گیا تقریر بھی کی ، لوگوں کو بہت پسند آئی ، گرمی کے دن تھے ، روزہ بھی وہیں افطار کیا، وہاں کے لوگوں سے بات چیت کی تو وہاں سے بھی مایوسی ہوئی ۔

اب بہت پریشان! کیا کروں؟ مرتا کیا نہ کرتا، کے تحت سب سے مایوس ہوکر آخر فیصلہ کیا کہ حمالی پورہ میں جامعہ کی بنیاد ڈالی جائے ، چھوٹا محلہ تھا ، اکثر لوگ غریب تھے ،بظاہر کوئی ترقی کے اسباب نہ تھے ۔

بہرحال! ملا جی نے صادق بھائی سے ملایا ، پھر یوسف بھائی مرحوم سے ، اسی طرح چند احباب سے مشورہ لےکر کام شروع کردیا ۔محلہ کی چھوٹی مسجد میں وضو کا پانی جس میں بہتا تھا کچھ جگہ افتادہ تھی محلہ کے بچوں کو قاعدہ بغدادی وغیرہ پڑھانا شروع کردیا ، یہ میری زندگی کا پہلا اتفاق تھا ، کہ ناظرہ اس میں بھی زیادہ تر قاعدہ بغدادی پڑھا نا پڑا ، تعلیم کا آغاز غالباً ۵؍ رمضان المبارک کو کیا، حمالی پورہ کے جن لوگوں نے جامعہ قائم کرنےکی اجازت دی اور خوش ہوئے وہ اسی شرط پر راضی ہوئے تھے کہ میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ میں تنخواہ نہیں لونگا،بلکہ ادھر ادھر سے مزید چندہ لائوں گا ۔

جس مسجد میں پڑھا نا شروع کیا تھا اس میں فرش تازہ بنا تھا ، ابھی پانی بھر ا تھا ، صادق بھائی کے چبوترے پر تراویح ایک صاحب پڑھاتے جن کی داڑھی منڈی جیسی تھی ، یہ بھی ہمارے سامنےمشکل تھی کہ نہ ہم ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے تھے،اور نہ یہ ہمت تھی کہ کہیں ان کو ہٹا دو ، وہ ان کے پرانے امام تھے، نیز امام کی آمدنی بھی اسی امامت سے وابستہ تھی ، بہر حال ہم نے صادق صاحب سے کہا کہ نماز میں پڑھا دوں گا ، نذرانہ جو کچھ بھی آپ دیتے ہوں وہ انہیں دے دینا ، اس طرح یہ مشکل حل ہوگئی، میں نماز پڑھاتا ، بچوں کو پڑھاتا ، ایک چارپائی مل گئی، عبد الصمد صاحب کےدروازے پر پیپل کے درخت کے نیچےلیٹتا رہا، جس حال میں میں یہ ایام گزار رہا تھا میری ہمت نہ پڑتی تھی کہ میں اپنے سسرال والوں کو خبر دوں کہ میں یہاں ہوں ، میرے پاس صرف ایک کرتا اور ایک تہبند تھا جس میں پور ا ماہ رمضان گزاردیا ۔

ہم جس دور سے گزر چکے تھے اسکے لحاظ سے اب جو کچھ میسر آگیا تھا وہ ہمارے لئے بہت بڑی نعمت تھی، صادق بھائی ہماری بہت خدمت کرنے لگے تھے ، یوسف بھائی وغیرہ ساتھ بیٹھنے اٹھنے لگے ، مختصر یہ کہ اس رحیم و کریم مولیٰ جل و علا نے اپنے نیکوں کے طفیل بہت جلد ہماری دل بستگی کا سامان مہیا کر دیا، احباب بھی اچھے ہاتھ آگئے ۔ اب مشکل سب سے بڑی سامنےیہ تھی جن بیرونی طلباء سے وعدہ تھا انکی آمد کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا ، اور ابھی تک انکے قیا م و طعا م کا کوئی بند و بست نہ تھا ، اس کا انتظا م یہ ہوگیا کہ مرحو م عبد الصمد خان صاحب نے ایک سال کے لئے اپنے گھر کا، آگے والا کمرہ اور جناب مشکور خاں صاحب نے اپنے آگے والے دو کمرے عارضی طور پر عطا کر دئے اور چند احباب نے ایک طالب علم کے دونوںوقت کھانے کا وعدہ کر لیا تعلیم کی صلاحیت پروردگار جل وعلا نے مجھ کو بخشی ہی تھی اس ابتدائی سال میں قیام و طعام و تعلیم کا مفت میں انتظا م ہو گیا اور بحمدہ ٖتعالیٰ شوال میں اسی چھوٹی مسجد میں ابتدائی کتب سے شرح جامی تک پہلے ہی سال شروع ہوگئی ،آغاز تعلیم کے وقت شہر کے کافی تعداد میں متحرک اہلسنت موجود تھے بہت جلد شہر میں جامعہ کو شہرت حاصل ہو گئی۔

حضرت مولانا سید قسیم صاحب عام پیر زادوں سے ہٹ کرمزاج وطبیعت کے مالک تھے، محنت و مشقت بھاگ دوڑ،سادگی و بے تکلفی بے حد تھی، بہت جلد ہم دونوں نےقنوج اور اسکے اطراف میں دعوت و تبلیغ اور جامعہ کے لئے اسباب کی فراہمی کا کام شروع کر دیا فطرہ وغیرہ کی کچھ رقومات [غالبا ً دو تین ہزار روپے] بموقع عید الفطر جمع ہو گئی تھیں سب سے بڑی فکر جامعہ کے لئے زمین فراہم کرنے کی تھی، موجودہ امام چوک کے پاس ایک پتلی سی پٹی تھی، جسکے بارے میں صادق بھائی وغیرہ کی رائے ہوئی کہ اسے خرید لیا جائے، وہ بہت مختصر زمین تھی میرے عزائم کے اعتبار سے کچھ بھی نہ تھی، مگر ان احباب کی بے سرو سامانی کی وجہ سے ہم پوری تفصیل سے وہ خاکہ بیان نہ کرتے تھے جو ہمارے ذہن میں تھا، حالات با لکل گواہی نہ دیتے تھے، انکے اصرار پر ہم اس کو خرید نے کے لئے تیار ہو گئے،انکے بعض رشتہ دار گرسہائے گنج میں رہتے تھے، جب عید الفطر کے موقع پر گھر آنے لگا نیز سوچا تھا کہ کچھ چندہ گائوں سے مل جائے گا ،نیز گندم بھی تیار تھاسوچا کہ کچھ غلہ بھی وصول کر لیں گے تو صادق بھائی ،یوسف بھائی بھی ہمارے ساتھ ان مالکان سے زمین کا سودا کرنے کے لئے گرسہائے گنج تک آئے مگر مالکان سے عدم ملاقات کی وجہ سے کوئی بات نہ ہو سکی ، میں نےگھر آکر چند دنوں میں غلہ وغیرہ کے ذریعہ تقریباً ڈھائی ہزار روپئے جمع کر لیے ، اور جلد واپس

آکر ان احباب کے پاس جمع کر دئے ،یہ لوگ بہت خوش ہوگئے اور کہنےلگے آپ کتنے اچھے ہیں بجائے لینے کے، لاتے ہیں ، بعد رمضان اسی زمین کے بغل میں ایک پتلی سی پٹی تھی ، اس کے مالک ہونے کے جو دعویدار تھے ان سے بات چیت کی ، انہوں نے بہت بے اعتنائی سے گفتگو کی اور بڑی کثیر رقم مانگی جسکے ہم لو گ متحمل نہ تھے ،یہ بھی اس پروردگار جل و علا کا خاص احسان ہے کہ اسی دوران جناب سمیع اللہ خان صاحب نے اپنا وہ کھیت جوان کے مکان سے متصل تھا نو ہزار روپے میں دے دیا ، جس میں آج جامعہ کی قدیم عمارت بنی ہوئی ہے ، یہ نو ہزار روپئے بڑی مشکل سے کافی عرصہ میں دے پائے ، اور اس کی رجسٹری کرا پائے۔ پہلے جو زمین دی تھی وہ انکےمکان کےپیچھے اتر دکھن لمبا سات ڈسمل کا ایک کھیت تھا اسکے آگے جانب مغرب انکا مکان اور کچھ افتادہ زمین انہیں کی تھی، ہمیں صرف دروازے بھر کی زمین ملی تھی ، بعد میں انکی مہربانی سے انہوں نے بھی اپنا مکان پورب پچھم کر لیا اور جامعہ کا رخ اسی طرف ہوگیا، اس طرح روڈ پر سامنے جامعہ کو زمین کافی اچھی مل گئی ۔

اس وقت ہم جس غربت و افلاس میں مبتلا تھے اسکے اعتبا ر سے اس قدر لمبی چوڑی زمین اور وہ بھی مناسب جگہ ، اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت تھی ، اب زمین طے ہو گئی اور رقم بھی دے دی گئی ، رجسٹری نہیں ہو پائی، مشورہ ہوا کہ سنگ بنیاد رکھ دیا جائے ،کسی مجبوری کے تحت حضور مرشدی دام ظلہ تشریف نہ لائے، انکے فرزند و ولی عہد حضرت مولانا رئیس الخیری صاحب تشریف لائے، اس طرح جامعہ کی خشت اول رکھی گئی، دن کے ابتدائی حصہ میں پروگرام شروع ہوا ،امید سے زیادہ شہر و دیہات کے لوگ اکٹھے ہوگئے ، جبکہ بارش بھی بہت تیز ہو رہی تھی ، مگر سنگ بنیاد کی تقریب نہایت کامیاب ہوئی ، نہایت عمدہ تقریریں ہوئیں ، دلوں میں عجب حرارت ، جوش و خروش ،اور جذبات تھے ، نہایت حسن وخوبی کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا ، پھر رفتہ رفتہ تعمیر کا کام بھی ہوتا رہا ، روابط و تعلقات وسیع سے وسیع تر ہوتے رہے ۔

شعبان المعظم میں جب سال مکمل ہوا، شہر و اطراف میں شہرت بھی خوب ہوگئی،مزید استحکام اور دیگر وجوہات کی وجہ سے منتظمہ کمیٹی کی تشکیل ہوئی ، جس میں صدر جناب اشرف حسین صاحب تاجر عطر کاغذیانہ ، جنرل سکریٹری جناب حاجی اشفاق علی صاحب وارثی و خازن جناب یٰس صاحب مقرر ہوئے ، مہتمم و ناظم اعلیٰ جناب حسن میاں صاحب جائسی مقرر ہوئے ۔

صدر صاحب کی معیت اور ہمت سے وصولیابی کے سلسلے میں پہلا سفر براہ اجمیر شریف بمبئی ہوا۔

رمضان کا مہینہ ، شدت کی گرمی ، بہت مشقت کا سامنا کرنا پڑا، مستقبل میں حالات بہت اچھے معلوم ہو رہے تھے، خاص کر حضرت حسن میاں کی وجہ سے امداد کی توقعات بہت تھیں ، جب شوال میں جامعہ کا دوسرا تعلیمی سال شروع ہونے کو تھا ، اسی دوران حضرت حسن میاں صاحب کا خط آگیا ، کہ میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے قنوج آنے سے قاصر ہوں ، اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے تھے اور جس بے سرو سامانی کا شکا ر تھے اسکے اعتبار سے ان کے خط سے جو دھکا لگا اور شدید غم پہنچا وہ اب تک کچھ یاد ہے ۔ خط پڑھ کر ہم حواس باختہ ہوگئے اور ایک سکتے کا عالم طاری ہوگیا ، تعمیرو ترقی کی ساری آس انہیں سے لگی ہوئی تھی مستقبل کا خواب ان سے وابستہ تھا ، خاص احباب کو بھی بہت دھکا لگا ، وہ وقت بھی ہمار ی بڑی آزمائش کا وقت تھا ،وہ نہایت ضبط کے انسان ہیں ، آج تک پتہ نہیں لگا کہ انہوں نے ایسے بھنور میں کیوں چھوڑ دیا ، غربت و افلاس کے دور میں کسی بھی ادارے کو قائم کرنا جب کہ کچھ بھی نہ ہو ، نہ تعلقات نہ سرمایہ ، نہ زمین نہ روپئے ، کس قدر مشکل ہے یہ جن پر بیتی ہے وہی جانتے ہیں ۔

پھر تعلیمی بند و بست ،طلباء کے قیام و طعام کا انتظام ، نیز انہیں جمع کرنا ، انکی دیکھ بھال ، سارے غم ہمارے سر تھے ، حقیقت یہ ہے کہ مختلف اوقات حیات میں جو ہمیں شدیدغم پہنچے ان میں ایک یہ وقت تھا ، احباب نے ڈھارس بندھائی رفتہ رفتہ غم دور ہوئے ، یہ سب کچھ اس رحمان و رحیم جل و علا کا احسان عظیم تھا کہ میں سنبھل گیا اور ہمت سے کام کرتا رہا۔

دوسرے سال کی تکمیل پر شعبان المعظم میں پانچ اپریل کو سالانہ اجلاس منعقد ہوا ، جس میں حضرت حافظ علی احمد سیوانی صاحب دام ظلہ العالی بھی تشریف لائے ، یہ قنوج کا سب بڑا اور نہایت کامیاب اجلاس تھا جو اس جگہ منعقد ہوا تھا جہاں آج’’ الفاروق قصر التعلیم‘‘تعمیر ہے ،اس وقت یہ آراضی جناب مشکو ر خاں صاحب کی تھی ، ارادہ تھا کہ اسے بھی خرید لیں گے ، مگر اسبا ب بالکل ناامید کرتے تھے ، جامعہ کے سنگ بنیاد کا پروگرام چونکہ اخبار میں بھی شائع ہوگیا تھا ، حاجی محبوب عالم عرف نوابوساکن مکھنیا بازار کانپورنے پڑھا انہیں بڑی خوشی ہوئی کہ اہل سنت کا جامعہ قنوج میں قائم ہوگیا ہے ، انکی سسرال محلہ احمد ی ٹولہ میں تھی۔بڑے حساس و فعال آدمی ہیں خبر بڑھ کر وہ ملنے آئے ، اس طرح ان سے روابط ہوئے ، حاجی قمر بیگ صاحب ساکن کانپور اس وقت اہل و عیال کے لئے ایک آراضی برائے قبرستان خریدنےکو تھے نوابو بھائی نے جامعہ کا تذکرہ کیا ، حاجی صاحب کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈال دی کہ زمین جو کانپور میں خریدنا چاہتے