مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتبحر العرفان عالم حقانی

باب ۱۶ از ۶۵صفحات ۱۰۱–۱۰۵

بحر العرفان عالم حقانی

حضرت بحرالعرفان عالم حقانی اورواعظِ لاثانی تھے

صوفی محمد شمیم عظیمی

متولی و سجادہ نشین درگاہ چراغِ الہ آباد الہ آباد یوپی

حضرت مولانا آصف رضا صاحب، السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

9/ذیقعدہ 1440ھ / 13/جولائی 2019ء بروز سنیچر حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کی رحلت نے دنیائے اہلسنت کو بڑا صدمہ دیا ہے ۔

حضرت بحرالعرفان عالم حقانی اورواعظِ لاثانی تھے۔

حضرت موصوف علیہ الرحمہ کے نام

18/جولائی 2019 ء بروز جمعرات نائبِ غوثِ اعظم شیخ العالم سید منورعلی بغدادی ثم الہ آبادی کی درگاہ پر اور چراغِ الہ آباد مولاناشاہ غلام محمد صابری علیہ الرحمہ کی درگاہ پر قرآن خوانی ہوئی اورمحلہ اکبر پور چوراہا الہ آباد میں بعد نماز عشاء تعزیتی جلسہ ہوا جس میں شہزادۂ غوثِ اعظم خلیفۂ تاج الشریعہ علامہ مفتی الحاج الشاہ پیر سید عظیم الدین ہادی الجیلانی البغدادی صاحب قبلہ نے موت العالم موت العالم کے عنوان سے حضرت بحرالعرفان کی حیات و خدمات پرایک پر مغز خطاب فرمایا جلسے میں صاحب تصانیفِ کثیرہ خلیفۂ نورالاولیاء عزیزالمشائخ علامہ الحاج پیر عبدالعزیز صاحب صدر آل انڈیا مشائخ سوشل فاؤنڈیشن ممبئی اولادِ شہیدِ کربلا خلیفۂ محبوبِ رحمانی علامہ سید شاھد میاں صاحب صدر آل انڈیا عظیمِ ملت ویلفیر سوسائٹی دھلی نبیرۂ شیخ المشائخ محافظِ اھلسنت مولانا شاہ عبدالسمیع سالک قادری لکھیم پوری وغیرہ علماء و مشائخ کی موجودگی میں صلاۃ و سلام کے بعد حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ کو قرآن خوانی اور جلسہ کا ثواب بخشا گیا۔

اہل سنت کے ایک عظیم الشان معمار

اہلِ سنت کے ایک عظیم الشان معمار و مدبراورمحدث

سید ناصرالدین جیلانی

ولی عہد سجادہ نشین درگاہ قطبِ عالم خواجہ سید نورالدین اولیاء بریلی شریف

حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

سوشل میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوا کہ 9/ذیقعدہ 1440ھ / 13/جولائی 2019ء بروز سنیچر صاحبِ تصانیفِ کثیرہ مناظرِ اہلِ سنت قاضئ شہر قنوج حضرت بحرالعرفان علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیه راجعون

بڑا صدمہ ہوا حضرت بحرالعرفان موجودہ زمانے میں اہلِ سنت کے ایک عظیم الشان معمار و مدبراورمحدث ہیں جن کے اوصاف اپنے اسلاف کے ترجمان ہیں بحرالعرفان کی درجنوں کتابیں آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں درگاہ قطبِ عالم پر حضرت علیہ الرحمہ کے نام قرآن خوانی ہوئی اور ان کے درجات میں بلندی کی دعا کی گئی ہے۔

پیرو مرشد سیاحِ یورپ و ایشیا و افریقہ حضرت علامہ مفتی خواجہ سیدعظیم الدین ھادی الجیلانی صاحب کے ذریعہ معلوم ہوا ہندوستان کے خوشبودار ضلع قنوج میں ماہرِ علوم اسلامیہ یادگارِ سلف مولانا مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب کا وصال ہوگیا ہے۔

وارثِ علوم اعلیٰ حضرت حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی الحاج الشاہ محمد اختر رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ اور شہزادۂ غوثِ اعظم خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند سرکار نورالاولیاء محبوبِ رحمانی علامہ مفتی الحاج الشاہ خواجہ سید نورالدین الجیلانی البغدادی علیہ الرحمہ کے بعدحضرت بحرالعرفان کی رحلت نے ملتِ اسلامیہ میں غم کا ماحول بنادیا ہے۔

بانی مدارس و مساجدکثیرہ

مولانا رفاقت علی ثقلینی مجددی

بانی و مہتمم جامعۃ المصطفیٰ، قصبہ ککرالہ ضلع بدایوں شریف

محب گرامی حضرت مولانا محمد آصف مجددی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بحر العرفان مجدد سلسلہ نقشبندیہ مرشدالعلماء، داعی اسلام، بانی مدارس و مساجدکثیرہ حضرت علاّمہ الحاج مولانا آفاق احمد مجددی نقشبندی مفتئ اعظم وقاضی ضلع قنوج کی رحلت ملّت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سر کی ،آنکھوں سے دیکھ کر سیّدنا امام احمد بن حنبل کا یہ قول یاد آیا کہ ’’ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے۔‘‘ قضا و قدر کے سامنے ہمارا سرتسلیم خم ہے آپ کی اتنی جلدی رحلت پر نہ ہی یقین آرہا ہے اور نہ ہی صبر ہو رھا ہے حضرت اپنے متعلقین کے لیے ایک شاہ راہ عمل چھوڑ گیے ہیں ۔جس پر چلنا اخلاف کی اولین ذمہ داری ہے ۔ آپکے دینی عصری ادارے شب و روز ترقی کرتے رہیں تاکہ حضرت کی روح پرنور و پر سکون رہے ۔اور ہم حضرت کے علمی و روحانی فیضان و برکات سے مستفیض ہوتے رہیں ۔

تحریک پیغام سنیت ککرالہ اورجامعۃ المصطفیٰ ککرالہ کے جملہ اراکین آپکے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر و سکون عطا فرمائے اور حضرت کے نفش قدم اور تعلیمات آفاقی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا مجیب السائلین بجاہ حبیبہ سید المرسلین

عرش پہ دھومیں

انجینئر شاکر اللہ انصاری محمد اکرم نقشبندی

دار العلوم انجمن اسلامیہ جامع مسجد پڈرونہ کشی نگر ہند

نحمدہ و نصلی ونسلم علیٰ حبیبہ سید المرسلین ،اما بعد

بخدمت عالی جاہ !

حضرت مولانا احمد سعید صاحب قبلہ نقشبندی مجددی ،السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مورخہ 9 /ذی قعدہ 1440 ھ مطابق 13 جولائی 2019 ،بعد نماز فجر یہ روح فرسا خبر موصول ہوئی کہ

آپ کے والد گرامی مرتبت آفاقی شہرتوں کے حامل پیر طریقت رہبر راہ شریعت ،منبع رشد و ہدایت ،واقف رموز شریعت ،پروانہ عشق رسالت لا تعداد مساجد و مدارس کے بانی و سرپرست ،مرشد بر حق ،حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ نقشبندی مجددی برکاتی ،ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

عرش پہ دھومیں مچیں وہ مؤمن کامل گیا

فرش سے ماتم اٹھے کہ طیب و طاہر گیا

آپ کے والد گرامی وقار کو ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں ۔مسکراتا چہرہ اور شاہانہ جاہ وجلال ،عالمانہ وقار فقیرانہ انکسار ،اسوہ حسنہ کی چلتی پھرتی تصویر اور سنت رسول کے مکمل آئینہ دار ،خوش خلق اور عالم باعمل، نہایت سنجیدہ اور پر وقار ،پاکیزہ صورت اور روشن سیرت، دین کے سچے داعی اور مبلغ ،اسلامی اقدار و روایات کے حقیقی وارث و امین، ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والے اور سماج سے جہالت و گمراہی کے خاتمہ کا بیڑا اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے حضرت مفتی صاحب قبلہ ہم سبھی کو بہت یاد آئیں گے ۔

حضرت جب بھی مشرقی اترپردیش کشی نگر و اطراف میں تشریف لاتے ،ملاقات کا شرف بخشتے، ہمیشہ ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہنے کی نصیحت فرماتے ،ملی سماجی مسائل کے حل کے لئے ہر آن تگ و دوکرتے رہنے کی ترغیب دیتے ،اسلام اور مسلمانوں کی سر بلندی کو اپنی اولین ترجیح بنانے کا حکم فرماتے اور تحریر و تقریر میں اصلاح امت کو موضوع سخن بنانے کا خوب صورت مشورہ دیتے۔

حضرت کا اچانک وصال فرما جانا بلا شبہ امت مسلمہ کا ایک عظیم خسارہ اور نا قابل تلا فی نقصان ہے جس کی تلافی کی اب کوئی سبیل نظر نہیں آتی حضرت کے وصال پر ہم اور ادارہ دار العلوم انجمن اسلامیہ جامع مسجد پڈرونہ کے سبھی مدرسین و ملازمین، اراکین، معاونین، مخلصین، محبین سوگوار اور غمگین ہیں آپ کی بارگاہ میں تعزیت پیش کرتے ہیں رب کریم حضرت مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ و الرضوان کی قبر پر اپنے رحمت و انوار کی بارش فرمائے اور انکے درجات کو بلند فرماکر انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے پسماندگان با لخصوص اہل خانہ و جملہ عزیز و اقارب کو صبر جمیل و استقامت کی توفیق بخشے اور آپ کے بازوؤں میں وہ توانی بخشے کہ آپ حضرت کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھائیں اور والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین متین کی خوب خوب خدمت کریں۔ (فقط والسلام)

علماء و مشائخ کے لئے آئڈیل کی حیثیت

حا فظ ضمیر احمد ثقلینی

مینیجر مدرسہ فیضان شاہ درگاہی

قصبہ ککرالہ ضلع بدایوں

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

محترم المقام خلیفہ بحر العرفان حضرت علامہ مولانا محمد آصف مجددی نقشبندی مد ظلہ العالی ۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ

بحر العرفان،مظہر فیضان مجدد الف ثانی ،عالم ربانی ،حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر قلب و دماغ پر رنج و الم کا پہاڑ بن کر ٹوٹی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

عصر حاضر میں حضرت اقدس کی ذات با برکت علماء و مشائخ کے لئے آئڈیل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس دور قحط الرجال میں آپ نے قدیم تاریخی شہر قنوج میں علم و آگہی کے چراغ روشن کئے ۔قنوج کو نقشبندیت اور علم و معرفت کا مرکز بنایا ۔مختلف النوع دینی و عصری ادارے قائم کئے ،نوجوان نسل کو علوم عصریہ سے مزین کیا ۔طلبہ علوم اسلامیہ کو خلوص و للٰہیت ،تقویٰ و طہارت ،خشیت الہٰی اور عشق رسول کی دولت سے مالا مال کیا ۔حضرت مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی ان ہمہ جہت خدمات کو ضلع قنوج کے علاوہ مختلف اطراف و اکناف ہند میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔راقم الحروف بھی متعدد بار استاد محترم حضرت مولانا صوفی رفاقت علی صاحب ثقلینی ککرالوی کے ہمراہ الجامعۃ الاحمدیہ قنوج حاضر ہوا ۔حضرت کی درس گاہ، مسجد، خانقاہ کی زیارت کی ، جہاں علم و عرفان کی خشبو محسوس کی جا سکتی تھی ۔حضرت کی وہ نورانی صورت آج رہ رہ کر یاد آتی ہے، اور دل مضطرب ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ حضرت بحر الرفان کے درجات بلند فرمائے ۔ آپ کے صاحبزادگان، خلفاء ، تلامذہ اور مریدین کو آپ کے مشن کو نہایت مظبوطی کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور آپ کے اداروں کو ترقیاں عطا فرمائے آمین بجاہ طٰہ و یٰس ﷺ۔