باب ۵۶ از ۶۵صفحات ۳۸۱–۳۸۳
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے
عالمہ شفا صدیقہ دخترحضور بحرالعرفان٭
نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ حبیبہٖ الکریم
آج میں جس شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنے کی جرأت کر رہی ہوں وہ کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ اپنے زمانے کی بہت نادر و نایاب ہے، اس لیے کہ ایسے پر فتن دور میں جہاں لوگ عیش و آرام اور تن پروری میں لگے ہیں کسی کو شریعت کے کام کی کوئی پرواہ نہیں،لوگ سنت نبوی پر عمل نہیں کرتے ایسے حالات میں اس مرد مجاہد نے دنیا کی ہر خواہش کو ٹھکرا کر نبی اکرم ﷺ کی ہر چھوٹی سی چھوٹی سنت پر عمل کر کے اپنے اور پرائے کو یہ درس دے دیا کہ اگر دونوں جہاں کی بھلائی مطلوب ہے تو اپنے نبی ﷺ کی پیروی کر لو تمہارے دونوں جہان کامیاب ہو جائیں گے۔
خامہ فرسائی سے قبل میں سوچ رہی تھی کہ کیا لکھوں وہ مرد قلندر جس کی ہر دا انوکھی اور نرالی ہے،جسے اگر میں والد کی حیثیت سے دیکھوں تو ایسا والد میری نگاہوں نے دیکھا نہیں ہے اس لیے کہ انھوں نے اپنے سبھی بچوں سے ایسا ہی پیار کیا جیسا کہ ایک ماں اپنے اکلوتے بیٹے سے کرتی ہے خاص کر ہم بہنوں سے اتنا پیار کیا کہ جسے میں بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے یاد ہے کہ میں بچپن میں ضد کرتی اور بہت روتی تھی جبکہ میرے والد صاحب کو رونا بہت نا پسند تھا پھر بھی بڑی محبت سے مجھے بلاتے اور بہت تعریف کرتے ساتھ ہی میری امی جان سے کہتے کہ میری بچیوں سے کچھ مت کہا کرو اور ہمیشہ یہی کہتے کہ میری زندگی میں کبھی ما یوس نہ ہونا اور نہ کسی بات کی فکر کرنا،نہ ہی کسی سے ڈرنا اور نہ ہی کوئی دنیا اور آخرت کا غم کرنالیکن آج جو غم مجھے ملا ہے وہ شاید کسی کو ملے۔
وہ باپ جس نے خود تکلیفیں برداشت کیں مگر مجھے پریشان نہ ہونے دیا،جو خود بھوکا رہا مگر ہمیں پیٹ بھر کھلایا،جس نے ہر مصیبت برداشت کی مگر ہمیں مصیبتوں سے دور رکھا،ان کی مصیبتیں دیکھ کر مجھے لگتا تھا کاش! میرے پاس دولت ہوتی تو میں ان کی مدد کرتی،جن کی محنتیں دیکھ کر مجھے لگتا کہ اگر شریعت کے احکام مجھ پر لاگو نہ ہوتے تو میں ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیتی، میں ہمیشہ یہ دعا کرتی کہ میرے مولیٰ! میرے والد کی ہر خواہش پوری فرما، مجھ کو ہمت دے کہ میں ان کی مدد کر سکوں،اس لیے کہ ان
کی محبتیں، شفقتیں، مہربانیاں اور ان کے پیار نے مجھے ان کا گرویدہ بنا لیا ہے۔
مجھے لگتا کہ میں ہمیشہ انھیں دیکھتی رہوں،ان کی باتوں کو سنتی رہوں اس لیے کہ یہ وہ والد ہیں جنھوں نے ہمیں اپنے نبی ﷺ سے محبت کرنا اور ان کی ہر سنت پر عمل کرنا سکھایا،ہمیشہ یہی درس دیتے کہ دنیا بے کار ہے،اس کے عیش و آرام نبی اکرم ﷺ کی یاد سے غافل کرتے ہیں اور اس کے فیشن رسوائی اور ذلت کی طرف لے جاتے ہیں،تم اپنے نبی ﷺ کی ہو کر رہو اللہ تعالیٰ بلندیاں دے گا اور درجات بڑھائے گا،ہمیشہ ہم سب کو اپنے نبی ﷺ کی سیرت اور صحابہ و صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہم و عنہن کی سیرت پر مشتمل کتا بیں پڑھنے کا حکم فرماتے۔
سرکار امام ربا نی رضی اللہ عنہ کی سیرت اکثر بیان فرماتے اور فرماتے کہ امام ربانی وہ ہیں کہ جن کا نام لے کر میں قنوج میں داخل ہوا اور آج میں جو بھی ہوں یہ سب ان ہی کا کرم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم سب بہنیں بچپن ہی سے صوم و صلاۃ کے پابند تھے ،نماز سے اتنی محبت کہ سفر و حضر میں کبھی قضا نہیں ہو نے دیتے تھے اور فرماتے تھے خوب کھاؤ اور خوب دین کا کام کرو،پردےکا اتنا خیال تھاکہ غریبی کے عالم میں بھی کسی سواری سے سفر نہیں کرنے دیا بلکہ ہمیشہ علیٰحدہ گاڑی کا اہتمام فرمایا اور فرماتے:‘‘مجھے بالکل پسند نہیں ہے کہ میری بیٹیاں کسی گاڑی میں جائیں اور غیر محرم کے دھکے لگیں۔‘‘
ہمیشہ تہجد کی نماز کی تاکید فرماتے اس لیے کہ ہم سب اکثر تہجد کی نماز میں کوتاہی برتتے تھے،اور جب گھر پر ہم سب سے گفتگو فرماتے تو صرف اپنے نبی ﷺ کی پیاری باتیں ،ان سے محبت کے فضائل اور ان کے دیار سے محبت کے فضائل بیان فرماتے اس کے علاوہ بزرگان دین کا تذکرہ اور ان سے محبت کی تاکید فرماتے،الحمد للہ یہ ان کی عطا ہے کہ ہم سب کو ہر بزرگ سے محبت،پیار اور عقیدت ہے۔
یہ چند باتیں جو ظاہری تربیت سے متعلق تھیں میں نے بیان کردیں ورنہ آپ کی ولایت،بزرگی اور کرامات جو میں نے دیکھی ہیں وہ بے شمار ہیں ذیل کے سطور میں چند بطور نمونہ پیش ہیں:
‘‘اب سے تقریباً سولہ یا سترہ برس پہلے کی بات ہے،ایک مرتبہ ڈونڈوا بزرگ جانے سے پہلے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی عالمہ عاتکہ کو سینے سے لگایا اور کہاکہ مجھے اس بیٹی کی بہت فکر ہے پھر اسی دن آپ کا بہت بھیا نک اکسیڈنٹ ہوا جس میں آپکا بایاں ہاتھ ٹوٹ گیا ۔’’
آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تریسٹھ برس کی عمر اکثر خطرے میں رہتی ہے اگر یہ گزر گئی تو
خوب ہو جائے گی،اور اچانک میں آپکا وصال ہو نا یہ تو آپ کے پیر و مرشد نے آپ کے مرید ہونے کے چند دن بعد ہی ایک شعر(؎ مرا حال ہو گا ظاہر کبھی مرگ نا گہاں سے) کی شکل میں بیان فرمادیا،یہ آپ نے مجھ سے اس وقت بیان فرمایا تھا جب میں آپ کے پاس مؤطا شریف پڑھتی تھی،آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہ شعر مرشدعالی وقار نے میرے لیے لکھا ہے۔
آج ان کے نہ ہونے پر جو مجھے دکھ ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتی کیونکہ ہماراسایہ،ہمارا مسیحا،ہمارا رہبر،ہمیں ہر غم سے بچانے والا،ہر مصیبت میں تسلی دینے والا،ہماری ہر خواہش کی تکمیل کرنے والا،ہمیں یاد رکھنے والا،ہمیں برائیوں سے دور رکھنے والا ،ہمیں سیدھا راستہ دکھانے والا،ہمارے دکھوں کو ختم کرنے والا،ہمیں دین کی تبلیغ کا جذبہ دینے والا اورہمارے حوصلوں کو بڑھانے والا آج ہماری نگاہوں سے روپوش ہو گیا اور ایسا غم دے کر گیا جس کی ٹیسیں تا حیات اٹھتی رہیں گی،وہ غم جسے سہنے کی ہمارے اندر طاقت نہیں،وہ جدائی جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے،وہ صدمہ جس نے زندگی کا ہر لمحہ اندھیرا کردیا اور پوری زندگی سونی کردی،ہمارے دل و دماغ کو بے قابو کر دیا،نیندوں کو اڑا دیا،جس کے غم نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر ہم زندہ کیوں ہیں؟جس کی ہر ادا مجھے رلاتی ہے،جس کی ہر بات مجھے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
جس کے سہارے میں جی رہی تھی وہ سہارا مجھے ہر وقت غم دیتا ہے،میرے ابا جان میں آپ کی شان کے لیے کہاں سے الفاظ لاؤں اور کس جگر سے آپ کا بیان کروں،ہمارا چین و سکون آپ ہیں،ہمارے دلوں کی دھڑکن آپ ہیں،ہماری زندگی کا سہارا آپ ہیں،ہماری نظروں کا نور آپ ہیں،ہمارے گھروں کی رونق آپ ہیں،ہماری زیست کا سامان آپ ہیں،ہماری دنیا و آخرت آپ ہیں۔
بس ہماری دعا ہے کہ اللہ عز و جل ہمارے نبی ﷺ کے طفیل جو غم ہم کو ملا ہے اس پر صبر عطا فرمائے اور ہمارے والد بزرگوار کا باطنی سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر رکھے،آمین! بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین علیہ وعلیٰ آلہٖ الصلاۃ و التسلیم
٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ