باب ۳۹ از ۶۵صفحات ۲۶۷–۲۷۴
بحرالعرفان،طرزِخطابت
مولانا محمدشمس تبریزقادری علیمیؔ٭
اللہ تبارک وتعالیٰ رب العالمین،احکم الحاکمین، فعال لمایرید، اور صاحب کُن فکاں ہے، وہ خالق ہفت آسماں اورمالک ایں و آں ہے مگران ساری حقیقتوں کے باوجوداس کاہرکام اسباب ووسائل ہی کے حوالے سے انجام پذیرہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کوعالم اسباب کے نام سے جاناجاتاہے۔انسانوں کایہ جم غفیرجودن ورات کائنات کی تسخیرمیں سرگرداں اورنت نئی ایجادات میں مصروف ہے ،اس کے جسم وروح کی تسکین کے لیے اس نے بے شمارچیزیں پیداکی ہیں۔ جس طرح جسم کی تسکین کے لیے زمین کامخملی فرش بچھایا۔آسمان کاشامیانہ لگایا۔کھیتوں سے اناج اورسبزہ اگایا،درختوں سے انواع واقسام کے پھل فروٹ پیداکیے،اسی طرح اس نے روح کی آرائش وزیبائش اورراحت و آرام کی خاطراپنے ذکروفکر،تسبیح وتہلیل اوراَوراد و وظائف کانسخہ عطافرمایا۔ اور ان نسخوں کے استعمال کاطریقہ بتانے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں انبیاے کرام کومبعوث فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کرشہنشاہ ذی وقار، سید ابرار و اخیار حضور احمدمجتبیٰ محمدمصطفیﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاے کرام ورسولان عظام کی ایک نورانی جماعت اسی مقصد خیرکے لیے مبعوث کی گئی۔
نبی آخرالزماںﷺکے ظاہری وصال کے بعداللہ رب العزت نے کچھ ایسے نفوس قدسیہ پیدافرمائے جنہوں نے مردہ قوموں کوجلابخشی اوربرسہابرس کے خوابیدہ لوگوں کوخوابِ غفلت سے بیدارکرکے انہیں منزل مقصودکاصحیح پتہ دیا،جنہوں نے دین اسلام کی نصرت وحمایت کواپناجزوِزندگی بنایااورہمیشہ دین متین اورامت مسلمہ کی رشدوہدایت میں کمربستہ رہے، یہ وہ مقدس ہستیاں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے گمراہوں کی ہدایت،سرکشوں کی اصلاح اورحق وباطل کے درمیان امتیازپیداکرنے کے لیے مبعوث فرمایاتھا۔جنہوں نے احیاء دین وسنیت کے لیے اپنی زندگی کوصرف کردیاتھاحق گوئی وراست بازی جن کاشعارتھا،دنیاکی کوئی طاقت انہیں اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی سے روک نہ سکی ۔
انہیں برگزیدہ نفوس قدسیہ میں سے بحرالعرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمدمجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کی ذات گرامی ہے جن کے قدوم میمنت لزوم کی برکتوں سے قنوج وگردونواح کی سرزمین تعلیم وتربیت ،رشدوہدایت کے انوارسے جگمگانے لگی،آپ نے تعلیم وتربیت،تعمیروتنظیم ،اصلاح وارشاداوراعمال وکردارکے ایسے انوکھے کارنامے انجام دیے ہیں جن سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہوتی رہیں گی اورجسے ان شاء اللہ العزیزقیامت تک یادکیاجائے گا،قنوج میں آپ کے قیام کی برکت سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ گئیں اورگم گشتہ راہوں کوہدایت ورہنمائی اورعلم دین کی دولت سرمدی نصیب ہوگئی۔
ولادت باسعادت:
آپ کی ولادت ضلع فرخ آبادکے ایک گاؤں بھڑونسہ،پوسٹ، جراری کے ایک تقویٰ شعار، دیندارگھرانے میں ۱۹۵۹ ء کوہوئی۔آپ کے والدکانام حاجی قیام الدین مرحوم ہے جو۱۰؍محرم الحرام ۱۴۲۹ ھ کواس دارفانی سے دارِبقاکی جانب رحلت فرماگئے،بڑے متقی، پرہیزگار، شب زندہ دارتھے آپ کے والدبزرگوارکے متعلق یہ بیان کیاجاتاہے کہ ‘‘عمرکے آخری ایام میں تہجدکی پابندی اس قدرتھی کہ اپنے ماتحت لوگوں کورات میں جگاکرمسجدلے جاتے اور نمازِ تہجد مسجد میں ادا فرماتے، کبرسنی میں جب کہ عام لوگوں کاحال یہ ہوتاہے کہ اپنے بسترپرخواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں ایسی کمزوری وناتوانی کے عالم میں بھی آپ ایک رات میں سوسورکعتیں نوافل پڑھاکرتے اوراپنے علم کے مطابق معتقدین کونوافل وغیرہ کی ترغیب بھی دیاکرتے تھے‘‘۔ آپ کی والدہ ماجدہ کانام بی بی حسب النساء ہے، آپ دنیاومافیہاسے بے نیازہوکرخوشنودی رب کے لیے صرف عبادت وریاضت میں لگی رہتی ہیں، نماز پنجگانہ ونوافل،مستحبات کوبڑی پابندی کے ساتھ اداکرنے والی نیک خاتون ہیں، اکثراوقات اورادووظائف، ادعیہ واذکارخصوصاًدلائل الخیرات شریف پڑھنے میں صرف کرتی ہیں، شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضورمفتی اعظم ہندرحمۃ اللہ علیہ سے بیعت وارادت رکھتی ہیں۔
حصول علوم دینیہ:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی میں رہ کرحاصل کیں،والدہ محترمہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ میرا لختِ جگرنورِنظردین کابہت بڑاعالم بنے، اس کے لیے وہ ہمیشہ اپنی دعاؤں میں رب سے التجابھی
کیاکرتی تھیں مگرقریبی علاقے میں بہترین دارالعلوم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی دلی خواہشات کی شمع ٹمٹمانے لگی تھی کہ ایک بارجب ڈنڈوانامی جگہ پرحضورمفتی اعظم ہندعلیہ الرحمہ کی تشریف آوری ہوئی توآپ بھی اپنے پیرومرشدکی زیارت کے لیے وہاں گئیں اورکسی کے توسل سے مرشدتک اپناپیغام ارسال کیا،حضورمفتی اعظم ہندکے فرمان کے بموجب حضرت بحرالعرفان کوشہربدایوں میں گھنٹہ گھرکے قریب واقع مسجدجعفری میں قائم شدہ مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل کردیاگیاآپ نے مفتی خلیل صاحب کے پاس زانوئے تلمذطے کیا اور وہیں حصول علم دین میں لگے رہے،چندبرسوں کے بعدبارگاہ تارک السلطنت، حضورمخدوم اشرف جہانگیرسمنانی علیہ الرحمہ کے دربارسے آپ کا بلاوا آگیااور آپ نے شہربدایوں سے کچھوچھہ مقدسہ کے لیے رخت ِسفر باندھا، یہاں پہنچ کرآپ نے وقت کی عظیم دانش گاہ جامع اشرف میں داخلہ لیا اور شب وروزمحنت ولگن سے حصول علم میں سرگرداں رہے، یہیں سے فراغت حاصل کی ،بعدفراغت جامعہ ہذا میں بحیثیت مدرس مقررہوگئے۔کچھوچھہ مقدسہ میں قیام کے دوران آپ یہاں کے صوفیاء ومشائخ خصوصاًشیخ اعظم حضرت علامہ مولانا سیدشاہ محمداظہاراشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کے محبوب نظربن کررہے۔
ازدواجی زندگی:
ضلع قنوج، مقام، اکبرپور، کے ایک شریف ومعزز، علمی گھرانے میں عالی جناب محمد شبیر مرحوم صاحب کی دخترنیک اختربی بی ظفرالنساء سے بروزمنگل ۲۳؍مئی ۱۹۷۸ ء میں آپ کاعقدمسنون ہوا۔ جن سے دوصاحبزادے؛ حضرت مولانااحمدسعیدمجددی،مولانابرکات احمدمجددی اورچھ صاحبزادیاں تولدہوئیں، خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے دونوں صاحبزادے اورصاحبزادیاں عا لمیت وفضیلت کے بعددرس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کے فرزندان کوسلف صالحین اورخانوادۂ مجددیہ نقشبندیہ کاسچانمونہ بنائے اوروالدبزرگوارکاصحیح معنوں میں جانشین اورقائم مقام بنائے۔آمین۔
بیعت وخلافت:
حضوربحرالعرفان علیہ الرحمہ کوحضورعارف باللہ فنافی اللہ شیخ احمدرضاخان صاحب بنارسی دام ظلہ العالی والنورانی سے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت وارادت حاصل تھیں اورباقاعدہ طورپرسلوک کی
منزلیں طے کرائی گئیں،اورسلاسل اربعہ میں اجازت وخلافت سے نوازے گئے تھے۔
طرزتقریروخطابت:
حضوربحرالعرفان علیہ الرحمہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے علوم ظاہری سے وافرحصہ عطا فرمایا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ آپ کومادہ تفہیم کی ایسی عظیم نعمت سے بھی سرفرازفرمایاکہ آپ دقیق سے دقیق اورپیچیدہ مسائل کوبڑی سادگی اورخوش اسلوبی کے ساتھ سامعین عوام الناس کے ذہنوں میں محفوظ کردیاکرتے تھے۔ حضرت کاطرزخطابت، اندازبیان، سادگی اورشائستگی سے پُر ہوا کرتاتھا، اسلوب نہایت عمدہ ہوتاتھا، درمیان خطابت کبھی کبھی جلال وجمال کا رنگ بھی نظرآتاتھاجس سے مجمع بیدار اور مستعدہوکرغوروفکرکے ساتھ کان لگاکرسننے لگتاتھا۔ اپنے خطاب کاآغازعربی خطبہ سے فرماتے تھے پھرموضوع کی مناسبت سے آیت مقدسہ تلاوت کرتے، بعدہ ٗ نبی رحمت شفیع امت ﷺ کی بارگاہ گہربارمیں نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ درودشریف کاتحفہ پیش فرماتے تھے، بزرگوں کے تحریرکردہ چند اشعار پڑھتے، پھراحادیث کریمہ اور آیات قرآنیہ، ائمہ کرام کے اقوال کی روشنی میں آیت متلو پرحالات حاضرہ کے تناظر میں ایمان افروزخطاب فرماتے تھے۔
خطابت کے درمیان آپ آیات قرآنیہ اوراحادیث مبارکہ بڑے اچھوتے اندازمیں پڑھتے تھے کہ سامعین پرایک عجب ساوجدطاری ہوجایاکرتاتھا،مطالب ومفاہیم سلیس اورنہایت آسان، عمدہ پیرایے میں بیان کرتے تھے۔ سامعین کے اذہان وافکارآپ کی خطابت سے بوجھل نہیں ہواکرتے تھے بلکہ دل ودماغ میں خوف وخشیت الٰہی موجزن ہو جایا کرتا تھا ہر ایک کادل یہ کہنے پرمجبورہوجاتاکہ آج اورابھی سے سچی توبہ کرتے ہیں اوران شاء اللہ بقیہ زندگی یادالٰہی میں گزاردیں گے۔ جب کسی کانفرنس میں حضرت کی تقریرہوتی تولوگ بغورسنتے، ذرہ برابربھی اکتاہٹ کاشکارنہیں ہوتے تھے بلکہ مجمع سے بسااوقات یہ آوازگونجتی تھی کہ تھوڑی دیراورخطاب فرمائیں ۔
حضرت کے سیکڑوں خطبات ٹیپ ہیں۔بعض خطبات یوٹیوبYoutubeپربھی اپلوڈ ہیں۔ حضوربحرالعرفان علیہ الرحمہ کی مجلس میں رقت آمیز،دل نشیں اورخشیت الٰہی سے لبریزگفتگوہواکرتی تھی ۔شب وروزوعظ ونصائح کی محفلیں سجی رہتی تھیں،خلق خداکثیرتعدادمیں شامل ہوتی اورشادکام ہوتی تھی،آپ کے خطاب کوسننے کے لیے عوام الناس کیاخواص حضرات بھی جم غفیرکی شکل میں کوشاں
رہاکرتے تھے،نصیحت آمیزکلمات سن کراس پرعمل کیاکرتے تھے۔
خطیب ومبلغ حقیقی معنوں میں ایک عالم باعمل ہی ہواکرتاہے کہ جس کے اندر خدا کا خوف اور اس کی خشیت ہو،اورتقریروخطابت سے مقصود ریا و نام ونمود نہ ہو بلکہ عوام اہل سنت کی اصلاح، بداعمالیوں سے نفرت، ان کے اندر اللہ جل جلالہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت والفت پیداکی جائے، ہم جب بحرالعرفان علیہ الرحمہ کی زندگی کامطالعہ کرتے ہیں توآپ کی زندگی خوف وخشیت الٰہی سے لبریز پاتے ہیں۔ آپ اپنی تقریرمیں عصرحاضرکے بے عمل، پیشہ ورمقرروں کی طرح حوروقصورکے قصے، کہانی بیان کرنے کے بجائے دعوت فکروعمل دیتے ہیں چنانچہ آپ ایک خطاب میں فرماتے ہیں:’’ کہ آج ہرگھرمیں پریشانی ہے، کمائی میں برکت نہیں ہے، جسے دیکھو وہی پریشان نظرآرہاہے یہ سب بلائیں کیوں آرہی ہیں؟ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک حدیث نقل کرتے ہیں بیہقی کے حوالے سے کہ انسان نمازپڑھتاہے دعائیں مانگتاہے اس کے اوپرکوئی بلاآنے والی ہوتی ہے تووہ دعاجواس کے منہ سے نکلتی ہے راستے میں جاکربَلاسے چمٹ جاتی ہے اوربلاکوگھیرلیتی ہے،یہ خالی دعائیں جب بلاؤں کوٹال سکتی ہیں تو نمازیں کتنی بلاؤں کوٹالتی ہیں۔ میرے نبیﷺ نے فرمایاکہ لوگو! گھروں کوقبرستان نہ بناؤ! آقاعلیہ السلام رغبت دلاتے ہیں کہ گھروں میں ایک جگہ خاص کردونمازوں کے لیے،تمہاری عورتیں وہاں اعتکاف بھی کرسکتی ہیں، یہ مسجدبیت ہے۔ سبحان اللہ! سرورِکائناتﷺ فرماتے ہیں جوشخص ‘‘سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ العظیم’’ سوبارپڑھے تواللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردے گا اگرچہ سمندرکے جھاگ کے برابرہوں۔
حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ کی خطابت کازیادہ ترحصہ ایسی باتوں پرمشتمل ہوتاتھاجن کوسن کرحاضرین کے دلوں میں خوفِ الٰہی اورعشقِ رسالت کی لہریں اٹھتی ہوئی نظرآتی تھیں،کیونکہ آپ اپنے طرزخطابت سے واہ واہی لوٹنااورناموری پیداکرنانہیں چاہتے تھے بلکہ خطابت کودعوت وتبلیغِ دین متین کے لیے ایک اہم ذریعہ بنائے ہوئے تھے ۔خطابت کامقصدصرف یہی تھاکہ دنیاکے غافل انسانوںکو ہربرائی سے نفرت دلائی جائے اورگناہوں سے دورکیاجائے تاکہ وہ خودکواپنے رب کے حضورمحسوس کریں ،ایک بزرگ نے ولی کی پہچان یہ بتائی ہے کہ اسے دیکھ کرخدا یاد آتاہے، سچے اسلامی خطیب کی پہچان بھی یہی ہونی چاہیے کہ اس کی باتیں سن کرخدایادآجائے ،خلوص وللہیت اورفکری طہارت
بااثراسلامی خطابت کالازمی جزہے ان کے بغیرباتوں میں اثرپیدانہیں ہوتا،خطابت کادلی مقصدبھی دعوت الی الحق، فریضۂ اسلامی کی ادائیگی اوررضائے الٰہی، خوشنودیٔ مصطفوی کی طلب ہونی چاہیے ،یہ جملہ خصوصیات آپ کے طرزتقریروخطابت میں بدرجہ اتم موجودہیں ۔آپ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کواپنے طرزخطاب میں عملی جامہ پہناتے ہوئے نظرآتے ہیں:’’ ضابطہ یہ ہے کہ جب مبلغ گفتگوکررہاہوتواس کی زبان لوگوں سے خطاب کررہی ہواوراس کادل بارگاہ ربوبیت میں کشکول بن کے پڑاہواوراللہ کی بارگاہ میں یہ آرزوکررہاہوکہ مالک لفظ تومیں اداکررہاہوں تاثیرکی شیرینی توان کے دلوں میں اتاردے‘‘۔ یہ نئی ریت خطابت کے میدان میں آپ نے ہی پیش کی تھی۔
قارئین کرام!بحرالعرفان علیہ الرحمہ کے خطبات کوجب آپ گہرائی وگیرائی سے سنیں گے توآپ کومعلوم ہوگاکہ آپ اپنے طرزخطاب سے لوگوں کوتزکیہ نفس، رجوع الی اللہ،استقامت فی الدین،ذکروفکر،پابندئی صوم وصلاۃ کادرس دیتے نظرآتے ہیں۔راقم السطورکی ملاقات حضوربحرالعرفان سے سرزمین چنچورہ، ضلع،چھپرہ، بہارکے ایک جلسہ میں ہوئی تھی ،اکثراوقات آپ کے ذکرمیں گزرتے تھے، سفروحضرمیں بھی شریعت مطہرہ کی مکمل پاسداری فرماتے تھے، آپ زیادہ ترذکرقلبی کیاکرتے ،ذکرلسانی خود بھی کرتے اوراپنے مریدین ومتوسلین کوبھی اس کی تاکید کیاکرتے تھے، امت مسلمہ کے نوجوانوں کی اصلاح کے لیے جہدمسلسل کرتے، دینی ادارے کاقیام،تبلیغی اسفار،خانقاہوں کی تعمیرفرماتے، جب قوم کے احوال پرنظرڈالتے توآپ اظہارافسوس کرتے ہوئے کہتے تھے کہ میری قوم کے جوانوں! تمہیں شوشل میڈیاکایہ کیسامرض لاحق ہوگیاہے کہ رات میں جلد سوتے نہیں بلکہ انٹرنیٹ ،ویڈیوز،گیمزمیں اپنے قیمتی اوقات صرف کرتے ہواورنمازیں قضا کردیتے ہو،اللہ تعالیٰ نے رات بنائی ہے سونے کے لیے مگرتم نے اسے دن بنادیا،اورجودن اللہ نے کام کاج،عبادت وریاضت کے لیے بنایاتھاتم نے اسے رات بنادیا،ایک تقریر میں فرماتے ہیں:کہ سرورکائنات ﷺکاایک ہی نظام تھامیرے آقاعشا سے پہلے سوناپسندنہیں کرتے اورعشا کے بعدباتیں نہیں پسندفرماتے تھے۔ اس لیے کہنایہ ہے کہ عشا سے پہلے ساری ضروری باتیں کرنی ہوکرلو،عشاء پڑھ کرسوجاؤ، سبحان اللہ! میرے نبی کوتمہاراکتنابڑاخیال ہے، تونے وضوکیاگناہوں سے پاک ہوگئے ،جوبچے وہ نمازوں سے دھل گئے ،نمازکے بعدکوئی گناہ کاکام کیے بغیرسوجاؤ توگویاتم
گناہوں سے پاک وصاف ہوکرسوئے،اگرموت اس حالت میں آگئی توسبحان اللہ !خراماں خراماں جنت میں چلے جاؤگے۔
عصرحاضرکے اکثرخطبا کے ظاہروباطن ،قال وحال میں تضادنظرآتاہے، اسٹیج سے جو پیغام عوام کودیتے ہیں خوداس پرعمل پیرانہیں ہوتے ہیں، دنیاکمانا، زورِبیاں دکھانا، واہ واہی لوٹنا، طرز خطابت میں اس قدرمسخرہ پن اختیارکرناکہ اہل فکرودانش دیکھ کربول پڑیں کہ یہ کوئی مبلغ نہیں بلکہ جوکرہے۔ اس کے برعکس بحرالعرفان کے طرزخطابت اوراندازتبلیغ کوسماعت کرنے والا سامع یہ کہنے پرمجبورہوجاتاہے کہ آپ کی زبان سے جوبات نکلتی ہے فوراً غافل انسان کے دل پراثراندازہوجاتی ہے،کیونکہ آپ کاظاہروباطن ہمیشہ یکساں نظرآتاہے پہلے خودشریعت پرعمل کرتے ہیں پھرعوام کوعمل کی دعوت دیتے ہیں، علماء ومشائخ کے متعلق آپ فرماتے ہیں: آج اکثرعلماء سرے سے نمازروزے کے پابندہیں ہی نہیں،جوہیں بھی توان کی اکثریت جماعت، خاص کرمسجدمیں مقتدیوں کے ساتھ نمازاداکرنے کاکوئی خیال ہی نہیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے دلوں سے ایسے علماء کی قدروقیمت اورعقیدت ومحبت نکل گئی ہے۔جوان علماء کی نظرمیں تونمازکی کوئی حیثیت نہیں رہی، اکثر پیر اور پیرزادے اور اساتذہ نمازسے کوسوں دورہیں، پیشہ ورمقرروں کاتونہایت بُراحال ہے، اکثرجوان حفاظ وقراء اورعلماء جومساجدکے امام ہیں وہ مجبوری میں نمازپڑھتے ہیں، امامت سے برطرف ہوتے ہی نمازکی کوئی فکرنہیں رہتی ہے۔
مزیدفرماتے ہیں کہ آج کے علماء ومشائخ کے اس کردارسے اسلام وسنیت کوجونقصان پہنچاوہ ہرحساس اورذی علم جانتاہے،مخالف فرقے عوام کوان کاکرداردکھادکھاکروہابی، دیوبندی وغیرہ بنائے جارہے ہیں، نمازکے تعلق سے اس لاپرواہی کودیکھ کرعام انسان نمازکی اہمیت وعظمت کوکھوبیٹھاہے،جب ان علماء ومشائخ کایہ حال ہے توان کے مریدین ومتوسلین اوران کے احباب ومتعلقین کی لاپرواہی کاآپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں‘‘۔ان مذکورہ بالااقوال سے ایک حساس وذی فہم آدمی بخوبی اندازہ لگاسکتاہے کہ حضوربحرالعرفان شریعت مطہرہ کی کس قدرپاسداری کیاکرتے تھے کہ اپنی خطابت سے عوام وخواص سبھوں کے دلوں میں خوف الٰہی کی شمع روشن کردیاکرتے تھے۔مختلف جلسوں،کانفرنسوں،اورسیمیناروں میں آپ کے خطبات جان پیداکرتے تھے،آپ کے طرزخطابت کی
خاص بات یہ تھی کہ اتناہی بولتے جس کی ضرورت ہوتی تھی اورجس پرآسانی سے عمل کیاجاسکے۔
وصال پُرملال:
بروزہفتہ،۹؍ذوالقعدہ ،۱۴۴۰ ھ مطابق:۱۳؍جولائی،۲۰۱۹ ء کوآپ داعی اجل کولبیک کہتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ اناللہ واناالیہ راجعون
ابررحمت انکے مرقدپرگہرباری کرے
حشرتک شانِ کریمی نازبرداری کرے
اللہ رب العزت بحرالعرفان علیہ الرحمہ کے درجات بلندکرے ،پسماندگان کوصبرجمیل واجرجزیل سے نوازے،ان کے نقوش قدم پرگامزن رکھے ۔آمین۔
٭دارالافتاء،دارالعلوم کلیمیہ رضویہ حفظ القرآن، مالدہ