باب ۳۶ از ۶۵صفحات ۲۴۹–۲۵۸
بحر العرفان ایک وسیع الفکر عالم
مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی٭
بحر العرفان حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ ایک وسیع الفکر عالم‘جلیل القدر مبلغ‘صاحب تصنیف بزرگ، متعدد کمالات علمی کے جا مع تھے ،آپ نے الجامعۃالاحمدیۃ قنوج اور کئی اسلامی و عصری مدارس قائم کیے ،قوم و ملت کو دینی و عصری تعلیم کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کرنے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیا تھا، اشاعت دین ،دفاع اسلام کے سچے جذبے سے سرشار ہوکر جہد مسلسل کرتے رہے ہر طبقہ کو اس کے لحاظ سے فیضیاب کیا عوامی اجتماعات میں خطابات مواعظ و رسائل کے ذریعہ عامۃالمسلمین کی صلاح وفلاح کے لئے خدمات انجام دیں ، وابستگان سلسلہ کو اصلاح با طن‘ تصفیئہ قلب کے لئے اذکار و اوراد کی تلقین اورمراقبہ کی تاکید فرماتے جس کے لئے آپ نے خانقاہ مجددیہ کا قیام عمل میں لایا اور سلسلہ مجددیہ کی ترویج وا شاعت میں اہم رول ادا کیا ، کوئی ملی مسئلہ درپیش ہوتا تو فکر مند ہوجاتے اور علما سے رابطہ کرتے ، حضرت ، احقر سے بھی جدید فقہی مسائل میں گفتگو فرماتے
تھے، مسئلہ کو حل کرنے کی تابہ امکان کوشش کرتے جو صورت بنتی اس کے مطابق عوام کی رہنمائی کرتے اس سلسلہ میں حکام سے رابطہ کی ضرورت پیش آتی تو اس سے گریز نہ کرتے اسی وجہ سے ہر پیچیدہ مسئلہ میں اور ہر الجھن میں آپ عوام کا مرجع بنے ہوتے تھے ،اخلاق حسنہ کا بہترین نمونہ تھے ،ہر ایک کے ساتھ خوش اخلاقی سے ملاقات کرتے اور شیریں کلامی سے گفتگو کرتے، سماجی اور علمی وقار کے باوجود منکسر المزاجی قائم رکھتے ،طبیعت میں درشت روئی و شدت پسندی بالکل نہ تھی، سادگی کا نمونہ‘ ہمدردی و غمگساری کی مثال تھے، عام لوگوں کے دکھ درد میں شریک رہتے دوسروں کونیکی کی دعوت دیتے، برائیوں سے منع کرتے،گفتار و کردار کے غازی، کسی بھی عمل کو پابندی وا ستقامت کے ساتھ کرتے،آپ کی عمر زیادہ تھی لیکن حوصلہ جوان تھا۔
بحر العرفان حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہ مجددیہ کی وسیع پیمانہ پر عظیم خدمات انجام دیں،مادیت زدہ افراد کو طریقت کا جام پلایا ، بندوں کو خدا سے جوڑنے اور خدا کے حکم کے مطابق ذکر الہی سے بہرہ ور کرنے کی سعی مقبول کی،لوگوں کے دلوں کو نور محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم سے منور اور معرفت و آشنائی سے معمور کرنے کے لئے ملک کی متعدد ریاستوں میں خانقاہوں کی تعمیر کروائی جس میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں قلب و زبان ذکر خداوندی میں مشغول ہیں چنانچہ آپ کی زیر نگرانی قنوج، بنارس، وشاکھا پٹنم، دہلی، چندی گڑھ اور مدھیہ پردیش میں مجددی خانقاہیں کام کرتی رہیں اور ان شاء اللہ آپ کے مشن کے مطابق کرتی رہیں گی۔
حضرت بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ اپنے دل میں اللہ تعالی کا خوف رکھتے تھے ،آپ کی زندگی خوف الہی و خشیت ربانی کی آئینہ دار تھی جس کا اظہار آپ کے وعظ و نصیحت اور تقریر و تحریرسے ہوتا ہے ،آپ کی شخصیت کا شمار ان علماء میں ہے جن کے بارے میں فرمایا گیا: انمایخشی اللہ من عبادہ العلماء ۔
جیسا کہ خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے:
درد دل کے واسطہ پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
اسی درد دل کو ظاہر کرنے کے لئے اور دوسروں میں اس درد کو منتقل کرنے کے لئے شاعری کو ذریعہ بنایا حمد و نعت، مناجات و منقبت اور دیگر اقسام سخن میں شعر کہے۔
غربا و یتامی کی اعانت، کمزوروں اور ضعیفوں کی مدد کرنا آ پ کامرغو ب عمل تھا،آپ اسے سعادت و
نیک بختی کی علامت جانتے تھے،غریب لڑکیوں کی شادی ماں باپ کے لئے سماج میں ایک بوجھ بن چکی ہے،جہیز ولین دین کے رواج نے اسے نہایت ہی بوجھل کردیا، آپ نے اس کی طرف خصوصی توجہ فرمائی اور غریب لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں آپ کی زیر سرپرستی ہوتی رہیں۔
آپ نے علم کا احترام اور اہل علم کی توقیر کا بڑا خیال رکھا ،طلبہ وعلماء آپ کے پاس کسی غرض سے ملاقات کے لئے آتے تو رخصت کرتے وقت علم و اہل علم کا اکرام کرتے ہوئے انہیں تحفۃ پیش کرتے۔
کئی اداروں کی سربراہی و سرپرستی کے باوجود تدریسی خدمات برابر جاری رکھتے ،صحیح بخاری شریف کا درس بڑے اہتمام سے دیا کرتے ، چند سال قبل جامعہ نظامیہ حیدرآباد تشریف لائے تھے، حضرت شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ فاروقی بانیٔ جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار پر حاضری دی اور حضرت شیح الجامعہ دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات بھی کی ۔میرے دادا پیر حضرت عارف باللہ ابوالحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمتہ اللہ علیہ اورسیدی و مرشدی حضرت ابوالبرکات سید خلیل اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمتہ اللہ علیہ شہزادہ اکبروجانشین حضرت محدث دکن علیہ رحمہ کے مزارات پر انوار پر حاضری دی ۔نسبت نقشبندیہ کے حوالے سے احقرکو جامعہ احمدیہ قنوج کے زیر اہتمام منعقد شدنی سیمینارس و کانفرنسوں میں مقالہ و خطاب کے لئے مدعو کیا چنانچہ کثرت مصروفیات کے باعث احقر شریک سیمینار نہ ہوسکا لیکن اپنا مقالہ ارسال کردیا تھا حضرت نے اپنے ادارہ کے کسی استاذ سے وہ مقالہ سیمینار میں پڑھوایا۔صدیق اکبر کانفرنس اور شہید اعظم کانفرنس میں شرکت و خطاب کی سعادت حاصل کی ۔حضر ت نے اپنے دولت کدے پر مدعو کیا نہایت سادہ گھر،نشست و برخواست تکلف سے عاری ،تواضع کا نمونہ، ملاقات و گفتگومیں علمی ذوق اور سادگی جھلکتی تھی کہ اسلاف کی بے ریا زندگی یاد آجائے۔
اللہ تعالی حضرت کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس نصیب فرمائے ، درجات بلند سے بلند تر فرمائے، خلف و جانشین صاحب و جملہ فرزندان ،خلفاء و اہل خانوادہ اور جمیع وابستگان کو نقش قدم پر چلنے والا بنائے،حضرت کی علمی یادگاروں کو تادور شمس و قمر سرچشمہ فیض بنائے رکھے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم اجمعین
٭شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ حیدر آباد
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان بحیثیتِ دافع بلا
مولاناغلام ربانی آفاقی مجددی
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین
بے شمار تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے اور انگنت درود و سلام اللہ کے محبوب سید المرسلین خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جن کے صدقے میں ساری کائنات کو چین وسکون نصیب ہوا بے انتہا رحمتیں نازل ہوں رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ان عالی منزلت امتیوں کے مزارات پرانوار پر جن کو پرور دگار عالم نے زمین کی میخیں بنایا جن کا وجود مسعود امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوات والتسلیمات کے لئے مشکل کشا دافع بلا حاجت روا بن کر سب کے کام آیا۔ انھیں مقبولان بارگاہ ایزدی میں سے ایک ذات والا صفات ہمارے سرکار مرشدی حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ کی ہے جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔
یوں تو وصال پرملال کے بعد دنیا نے دیکھا جو دیکھا لیکن جس خوش نصیب انسان نے حضور بحر العرفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حیات ظاہری میں ایک بار ملاقات کا شرف حاصل کیا وہ آج تک یہی کہتا نظر آرہا ہے کہ حضرت جیسا آج تک میری نگاہوں نے کہیں نہیں اور کبھی نہیں دیکھا۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جس میدان میں دیکھے چاہے علمی ہو یا عملی قولی ہو یا فعلی دینی خدمات ہوں یا قوم و ملت کی فلاح وبہبود کی فکر یا پھر لوگوں کے دکھ درد میں شرکت ہو یا انکی مشکل کشائی ہر ایک میں وہ منفرد اور عدیم المثال نظر آتے ہیں چونکہ میرا عنوان حضور بحر العرفان بحیثیت دافع بلا ہے اس لئے میں اپنے مقصد کی طرف آتے ہوئے اپنے چشم دید کچھ حقیقی واقعات کو قلمبند کر کے بات مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔
(۱)محمد آصف امردہ قنوج جو میرا پھو پھو زاد بھائی ہے اس کے لیور کے پاس والی آنت میں کینسر ہوگیا تھا کانپور وغیرہ میں ڈاکٹر نے منع کردیا جس کی عمر 22 سال ہوگئ دھلی ایمسمیں دکھایا ڈاکٹر نے اپریشن کو کہا زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں تھی دو ماہ سے پہلے کھانا بند کردیا تھا حالت بہت ناساز تھی۔
جناب ماسٹر اقرار خاں آفاقی نے حضور بحر العرفان سے عرض کیا آپ دھلی تشریف لے گئے آپ نے جناب آصف کو اپنے ہاتھ سے کچھ چیزیں کھلائیں اور فرمایا کھاؤ یہ بھی کھاؤ یہ بھی کھاؤ اور دعاء فرمائی الله تعالیٰ نے حضور بحر العرفان کی دعا کے صدقے بغیر آپریشن کے شفاء عطا فرمائی وہ اب مکمل ٹھیک ہے۔ یہ واقعہ 22 اگست 2018 کا ہے۔
(۲) جناب سید نسیم جعفری آفاقی چمن گنج کانپور کے گھر خبیثوں نے قبضہ کرلیا تھا ان کا بیٹا ابراہیم جس کی عمر 16 سال /۲۰۱۸ کی بات ہے اس پر حاضر ہوجاتے اور پورے گھر والوں کو پریشان کرتے کبھی سامان پھینکتے کبھی کرسی اِدھر اُدھر کرتے لاکھوں روپے برباد کردیا۔ جب بھی ابراہیم نماز کے لئے وضو کرنے بیٹھتا اس کو اٹھا کر دور دور پھینک دیتے۔
مختلف جگہ دکھایا لیکن کہیں آرام نہیں ملا کسی صاحب کے بتانے پر قنوج تشریف لائے اتفاق کہ حضور بحر العرفان باہر تشریف لے گئے تھے میں فقیر آفاقی نے کچھ تعویز دے کر دوسرے دن ان کے گھر جاکر بلند آواز سے گھر میں کہا آپ لوگ یہاں سے چلے جاؤ اب حضور بحر العرفان کا کام شروع ہوگیا ہے۔
الله تعالیٰ نے آپ کے نام میں اتنا رعب رکھا تھا اگر یقین کے ساتھ پکار کر دہائی دی جائے تو جنات وہاں سے بھاگ جاتے ہیں جب حضور بحر العرفان سے یہ واقعہ بیان کیا آپ مسکرائے۔
اور سید صاحب کے عرض کرنے پر گھر تشریف لے گئے گھر کے سارے لوگ حضور بحر العرفان کے ہاتھ پر بیعت ہوگئےبیعت کے بعد تین خبیثوں نے ابراہیم پر حاضر ہو کر غلطی کی معافی مانگی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئےجو ان کا سردار تھا وہ کہنے لگا اگر آپ کے پیر صاحب اتنے بڑے ولی نہ ہوتے تو میں اس لڑکے کو مار دیتا۔
(۳)جناب محمد ریاض مجددی بغیہ فضل امام قنوج نے مجھ فقیر آفاقی سے خود بیان کیا ان کا لڑکا انصار جس کو پیلیا ہو گیا تھا پی لیاbilrubin 26جب ہوتا ہے تو دماغ تک پہنچ جاتا ہے جس سے انسان مرجاتا ہے انصار کو پی لیا 32 تھا کسی دوسرے ڈاکٹر کو دکھا نے کانپور لے جا رہے تھے جناب ریاض مجددی نے حضور بحر العرفان کو فون کیا آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہے تم کہیں اور نہ جانا ڈاکٹرAhuja کے پاس چلے جاؤ جب ڈاکٹر نے دیکھا تو بولا یہ لڑکا سڑک سے پیدل چل کر آیا ہے یا گود میں جناب ریاض صاحب کہتے ہیں پیدل چل کر آیا ہے ڈاکٹر کہنے لگا، یا تو یہ رپورٹ غلط ہے یا اس پر بزرگوں کا سایا ہے 26
میں تو لوگ مر جاتے ہیں اس کو تو 32 پیلیا ہے جناب ریاض نے کہا ہم بحر العرفان کے مرید ہیں حضرت نے دعا کی ہے اور پینے کو تعویز بھی دیا ہے ڈاکٹر Ahuja نے لڑکے کوAdmit کرلیا اور چار دن تک کوئی جواب نہیں دیا حضور بحر العرفان سے ڈاکٹر فون پر برابر بات کرتا رہا آپ فرماتے آپ علاج کرو میں دعا کرتا ہوں۔
روزانہ محمد ریاض احمد حضور بحر العرفان اور مجدد الف ثانی کو یاد کرتے کرتے سو جاتے چوتھے روز خواب میں دیکھاچار لوگ تشریف لائے حضور بحر العرفان اور ان کے داہنے جانب مجدد الف ثانی دو لوگوں کو میں پہچان نہ سکا حضور بحر العرفان نے فرمایا آج تمہارا لڑکا ٹھیک ہو جائے گا جب ڈاکٹر آیااور اس نے معائنہ کیا تو اس نے کہا آپ کا لڑکا خطرے سے باہر ہوگیا ہے جناب ریاض احمد نے کہا مجھے معلوم ہے ڈاکٹر بولا آپ کو کیسے پتا ریاض احمد نے کہا بحر العرفان آج رات میرے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا تمہارا لڑکا ٹھیک ہو جائے گا۔
(۴)جناب ریاض احمد مجددی نےہی مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ بھڑونسہ سے قنوج بارات سے واپس آرہے تھے جب عیسی پور پہونچے حضور بحر العرفان نے مولانا تنظیف احمد صاحب سے فرمایا مغرب کی نماز عیسی پورمیں پڑھ لی جائے ساتھ میں آٹھ یا دس لوگ تھے سب نے کہا حضور ابھی اتنا وقت ہے ہم لوگ خدا گنج پہونچ سکتے ہیں آپ نے پھر فرمایا نماز یہیں پڑھ لی جائے پھر سب نے وہی کہا پھر آپ نے فرمایا نماز یہیں پڑھ لی جائے تو سارے لوگ وہیں نماز کے لئے رک گئے جیسے ہی مسجد میں وضو بناکر داخل ہوئے بہت تیز طوفان آیا اور بارش ہوئی طوفان کی وجہ سے تمام درخت سڑک پر گر گئے۔
بعد میں حضور بحر العرفان نے فرمایا اچھا رہا نماز یہیں پڑھ لی راستے میں کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ یہ واقعہ تقریباً 15 سال پہلے کا ہے۔
(۵)میں فقیر آفاقی غالباََ 2016میں رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں چندے کے سلسلہ میں دھلی گیا تھا ماسٹر اقرار خان آفاقی نے حضور بحر العرفان کی دعوت کی آپ ذاکرنگر سے ہرش بہار جناب جمال خاں آفاقی کی موٹر سائیکل سے تشریف لائے عشاسے پہلے جمال خان کے گھر سے فون آیا عصر کے وقت لڑکا گھر سے باہر گیا تلاش کرنے کے باوجود ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے سب لوگ بہت پریشان ہیں جب حضور بحر العرفان سے عرض کیا آپ دعا فرمائیں آپ نے مجھ فقیر آفاقی سے فرمایا
جمال بھائی سے کہہ دو پریشان نہ ہوں تمہارا لڑکا مسجد میں سورہا ہے جب مسجد میں دیکھا تو واقعی سو رہا تھا اللہ تعالیٰ نے حضور بحرالعرفان کو ایسا کشف عطا فرمایا تھا جس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔
(۶)فقیر آفاقی کو حضور بحر العرفان نے 2013 میں کَچھ گجرات بھیجا تھا ایک خاتون پر زبر دست جن تھا چھ ماہ سے کئ عامل پیر وغیرہ کے دیکھنے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔
حضور بحر العرفان نے چلتے وقت نصیحت فرمائی جب وہاں پہونچ جانا جن حاضر ہو تو اس کو بتا دینا میں قنوج سے آیا ہوں، جب میں وہاں پہونچا وہ جن حاضر ہوا اتنے جلال میں تھا مجھ سے کہنے لگا تم کو جلا کر خاک کر دوں گا ماردوں گا ۔میں نے کہا مجھ کو حضور بحر العرفان علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نے بھیجا ہے جن بولا کون ہے مفتی آفاق احمد مجددی جب اس کو بحر العرفان کی شناخت کرائی ایک دم نارمل پڑ گیا لمبی سانس لی اور چند لمحے خاموش رہا فقیر آفاقی نے بحکم بحر العرفان چند تعویذ اور فلیتے دیے حضور بحر العرفان نے خاتون کے شوہر سے فون پر فرمایا پریشان نہ ہو ٹھیک ہو جائے گی تھوڑے ہی دنوں میں حضور بحرالعرفان کے تصرف نےاس خاتون کو سرکش جن سے چھٹکارا عطا فرمایا۔
(۷)مولانا احمد علی آفاقی بڑہریا سیوان نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا حضور بحر العرفان اپنے خلیفہ اور خادم خاص مولانا آفتاب عالم آفاقی کا نکاح پڑھانے کے بعد 9 فروری 2010 کو میرے گھر پہلی مرتبہ تشریف لائے میری چھوٹی بہن کا لیور خراب ہو گیا تھا بہت بیمار تھی جیسے ہی حضور بحر العرفان گھر میں داخل ہوئے بہن سامنے کھڑی تھی دیکھتے ہی فرمایا بیٹی بیمار ہے کیا؟ ان کے والد نے کہا جی حضور، آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ایک ہفتہ کے بعد خواب میں حضور بحر العرفان نے مٹھائی دی فرمایا اسے کھالو مٹھائی کھانے کے بعد بغیر کسی علاج کے مکمل صحت یاب ہوگئ اور آج تک ٹھیک ہے۔
(۸)مولانا احمد علی آفاقی نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا انکی دوسری بہن جو جامعة المحصنات میں زیر تعلیم تھی اکثر بےہوش ہو جاتی اور سر میں درد اتنا رہتا تھا کہ سب لوگ بہت پریشان ہو جاتے خلیفہ بحر العرفان علامہ آصف رضا صاحب قبلہ جو حضور بحر العرفان کے داماد ہیں وہ بھی بہت پریشان تھے جب حضور بحر العرفان سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا اگر اب کی مرتبہ بے ہوش ہو جائے تو میرے سامنے لیکر آنا آپ کا اتنا فرمانا تھا کہ اس کے بعد کئی سال ہو گئے آج تک نہ بے ہوش ہوئی اور نہ کوئی تکلیف ہوئی۔
(۹)محمد جاوید بسندرہ ضلع ایٹہ پر ایک طاقت ور جن نے قبضہ کرلیا تھا جب حاضر ہوتا آٹھ دس لوگوں
کو ایک جھٹکے میں الگ کر دیتا مختلف جگہ دکھانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا جہاں جہاں دیکھا یا تعویذ کرنے والوں کو اس نے مارا ہی تھا مولانا سلمان مین پوری کے کہنے پر میں فقیر آفاقی ان کے گھر گیا جب وہ جن جاوید پر اپنی پوری آب تاب کے ساتھ حاضر ہوا میں نے فوراً حضور بحر العرفان کو یاد کیا آپ نے فوراًمیری مدد فرمائی اس نے قاعدے سے بات کی گھر والے کہنے لگے مولانا صاحب پہلے انسان آپ ہیں جو اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا ورنہ ہر تعویذ کرنے والے کو مارتا ہے۔
میں نے ان سے کہا آپ جاوید کو قنوج حضور بحر العرفان کی بارگاہ میں لیکر آنا چند دنوں کے بعد وہ جاوید کو لیکر حاضر ہوئے حضور بحر العرفان نے جن کو حاضر کیا اور بات کی جلال میں فرمایا آج ہی اس کو چھوڑ نا پڑے گا بحر العرفان کا رعب اور روحانیت کی طاقت نے سرکش جن کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا اور قسم کھائی اب پریشان نہیں کرے گا جب سے جاوید مکمل ٹھیک ہے۔ یہ واقعہ 5 اگست 2018 کا ہے۔
(۱۰)فقیر آفاقی کے بچپن ہی سے ناک سے خون آتا تھا بہت علاج کرایا جس نے جو کچھ بتایا وہ کیا لیکن آرام نہیں ملتا تھا کبھی کبھی آدھا گھنٹہ ہوجاتا خون بند نہیں ہوتا بہت پریشان رہتا تقریباً 15 سال ہوگئے کبھی بھی کہیں بھی خون نکلنے لگتا ایک مرتبہ میں نے حضور بحر العرفان سے عرض کیا ناک سے خون آتا ہے پریشان ہوں آپ نے اعمال رضا کتاب دیتے ہوئے فرمایا اس میں تعویذ ہے بنا لو میں نے کتاب لیتے ہوئے اپنے دل میں سوچا حضور اپنے ہاتھوں سے بنادیں تو بہتر رہے گا اور کتاب رکھ دی کچھ دیر کے بعد حضور نے دوبارہ کتاب دیتے ہوئے فرمایا تعویذ بنالو میں نے عرض کی حضور تعویذ نہیں باندھوں گا آپ صرف نگاہ کرم کردیں اتنا عرض کیا آپ نے نگاہ اٹھائی میں کانپ سا گیا پھر نگاہ نیچی کرلی آپ کی ایک نگاہ کرم ہوئی میرا کام ہو گیا اللہ نے شفاء دے دی بحمدہ تعالیٰ اس کے بعد ناک سے خون نہیں آیا۔
(۱۱)جناب ماسٹر رئیس الحسن رورہ ضلع قنوج نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا کہ میں نے حضور بحر العرفان کو اپنے والد جناب شبیر خاں کی فاتحہ چہلم کے موقع پر 1 جون 1994 میں بلایا دوپہر کا وقت تھا ماسٹر صاحب کے دوسرے گھر میں آگ لگ گئی جس کی لپٹیں دو تین منزل تک اٹھ رہی تھیں ماسٹر صاحب اور لوگوں کے گھر میں رائی کی لکڑی وغیرہ جمع تھی ہوا بھی بہت تیز تھی آگ کی لپٹیں اتنی تیز تھیں
کے پورا گاؤں آگ کی لپیٹ میں آسکتا تھاحضور بحر العرفان نے فوراً کچھ کنکر پڑھ کر آگ میں ڈالے آگ کی لپٹیں سیدھی اوپر کو جانے لگیں جتنے حصے میں آگ لگی تھی وہیں پر جل کر ختم ہوگئی ورنہ پورا گاؤں خطرے میں تھا حضور بحر العرفان کے تصرف نے پورے گاؤں کو بہت بڑے حادثے سے بچالیا۔
(۱۲)جناب قاری دین محمد عرف امامی صاحب نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا جناب عاقل خان ممبئی والے ان کے سر میں ٹومر ہوگیا تھا حالت اتنی خراب ہوگئی صرف پانچ پرسینٹ بچنے کی امید تھی ان کو جناب شاکر خان جو جناب شاھد صاحب پاٹا نالہ قنوج کے بھائی ہیں انہوں نے کہا آپ حضور بحر العرفان کے پاس چلو دعا کراتے ہیں قنوج تشریف لائے حضور بحر العرفان سے ملاقات کی آپ نے دعاء فرمائی اللہ تعالىٰ نے آپ کی دعا سے خان صاحب کو شفاء عطا فرمائی آج بھی وہ ٹھیک ہیں یہ واقعہ غالباً 2009 کا ہے۔
(۱۳)انہیں دین محمد عرف امامی صاحب نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا کہ جناب ولی خان صاحب قائم گنج رو رو کر بتا رہے تھے کہ میں اتنا بیمار ہو گیا کئی مہینوں سے میں نے کھانا نہیں کھایا تھا بدن میں اتنی طاقت نہیں کہ دس منٹ بھی بیٹھ سکوں دعاء کے لئے حضور بحر العرفان کی بارگاہ میں حاضر ہوا حضرت نے مہمانوں کے لئے کولڈرنک منگائی سب کو دی گئی خادم نے مجھے بھی دی خان صاحب کہنے لگے میں نے کئی مہینوں سےکھانا نہیں کھایا ہے میں نہیں پیوں گا کسی نے کہا بحر العرفان کا تبرک ہے تھوڑی پی لو خان صاحب کہتے ہیں جیسے میں نے ایک گھونٹ پی ایسا لگا جیسے آگ پر پانی ڈال دیا ہو بہت آرام مل گیا میں نے خادم سے کہا کیا اور مل سکتی ہے خادم نے ایک گلاس بھر کر دی میں نے سب پی لی حضور بحر العرفان کا ایسا کرم ہوا میں لیٹ کر آیا تھا چل کر گھر گیا۔
(۱۴)حاجی انیس صاحب لطیفی ڈینگر پور ضلع مراد آباد نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا ان کے ساڑو کے سر میں درد رہتا تھا بہت پریشان تھے علاج کروانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا حاجی انیس صاحب نے حضور بحر العرفان سے عرض کیا آپ نے صرف پانی پر دم کیا اسی وقت سے آج تک درد نہیں ہوا یہ واقعہ 2007 کا ہے۔
(۱۵)انہیں حاجی انیس صاحب نے مجھ فقیر آفاقی سے بیان کیا کہ میں اور جناب اسلم صاحب اور بڑے داماد عبد الرِؤف مرادآباد سے قنوج 2007 میں حضور بحر العرفان سے ملاقات کے لئے چلے جناب اسلم صاحب کو ایلرجی تھی جب بھی چائے پیتے پورے بدن میں چھالے سے پڑ جاتے جب گاڑی فرخ آباد پہونچی
میں نے چائے پی اور اسلم بھائی کو بھی پلادی چائے پیتے ہی اسلم بھائی کے بدن میں چھالے سے پڑ گئے۔
بہت پریشان ہوئے جب صبح قنوج پہونچے حضور بحر العرفان کی عادت کریمہ تھی کوئی بھی مہمان آتا تو چائے ناشتہ ضرور کراتے آپ نے پوڑی سبزی منگا کر ناشتہ کرایا اور بعد میں چائے دی حاجی انیس صاحب نے عرض کیا حضور اسلم بھائی چائے پیتے ہیں تو بدن میں چھالے سے پڑجاتے ہیں حضور نے فرمایا گلاس میں پانی دو کچھ دم کیا اور پینے کو کہا اسلم بھائی کہتے ہیں جب سے لیکر آج تک اگر پیٹ بھر کر بھی چائے پی لو تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
یہ چند واقعات میں نے حضور بحر العرفان کے تعلق سے قلمبند کیے اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو حضور بحر العرفان کی دعاء اور تصرف سے لوگوں کی بگڑی بنی اللہ ہمیں بحر العرفان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے آپ کی سچی محبت عطا فرمائے آپ کے فیضان سے مالا مال فرمائے۔