مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتبحرالعرفان کی پدرانہ محبت و شفقت

باب ۵۵ از ۶۵صفحات ۳۷۴–۳۸۰

بحرالعرفان کی پدرانہ محبت و شفقت

مولانابرکات احمد آفاقی

شہزادہ و نائب جانشین بحر العرفان

ایک والد جو کچھ اپنے بیٹے کے لیے کر سکتا ہے شاید اس میں حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جب ہر کوئی حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے تو میں کیوں نہ کہوں حقیقت بھی یہی ہے کہ انہوں نے کبھی مجھے احساس تک نہیں ہونے دیا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ کسی سے محبت کرتے ہیں بچپن سے ہی مجھے آپ کی خدمت کا خوب موقع ملا میری مایوسی تو جیسے انہیں دیکھنا گوارا ہی نہیں تھی گوارا بھی کیسے ہوتی وہ تو کسی بھی مسلمان کو مایوس دیکھنا نہیں چاہتے تھے پھر میں تو انکا خون ہوں جب میں کسی بات کو لے کر مایوس ہوتا تو اتنی حوصلہ افزائی فرماتے جسے بیان کرنا مشکل ہے یہ پدرانہ محبت ہی تھی کہ لوگوں نے میرے لیے آپ سے مصر وغیرہ پڑھنے کے لیے بھیجنے کا کافی اصرار کیا مگر آپ نے مجھے اپنے سے دور ہونے نہیں دیا بڑی بڑی باتیں کرتے بڑے بڑے خواب دکھاتے کہیں سفر پر جاتے تو ہر دوسرے دن ان کا مجھے کال کرنا لازمی وصف تھا کوئی کام نہ بھی ہو تو صرف خیریت معلوم کرنے کے لیے ہی کال کر لیتے ہر بات کو بغور سماعت فرماتے اور کوئی بات کو ٹالے بغیر حوصلہ افزائی ہی فرماتے اکثر امی سے فرماتے کہ آپکے بیٹے مجھے کال نہیں کرتے مجھے ہی کرنا پڑتی ہے جہاں اپنی گاڑی سے جانا ہوتا تو ضرور مجھے ساتھ لے جاتے اور جب قنوج میں جہاں کہیں بھی موٹرسائیکل سے سفر فرماتے تو موٹر سائیکل پر سفر کے لیے میں ان کی پہلی پسند تھا جو نہیں جانتے ان سے میرا تعارف کرواتے وقتاً فوقتاً تعلیم کی اہمیت، لوگوں سے ملنے کا طریقہ، مسلمانوں کا مستقبل، دور حاضر میں کام کرنے کا طریقہ، بزرگوں کے آداب، مزارات پر حاضری کی تلقین، بزرگوں سے فیض حاصل کرنے کے طریقے، مدرسہ کے طلباء کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے، صبر کی اہمیت، مخالفین کی باتوں کو در گزر کرنا، آگے بڑھتے رہنا، پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا، بھائیوں میں آپس میں میل جول رکھنا، مدرسہ اور اسکول کو کیسے چلانا، اتحاد کی طاقت، نماز اور مراقبہ پر زور دینا، ہر ایک کے

ساتھ محبت سے پیش آنا، لوگوں کے احسانات کو فراموش نہ کرنا، ہر وقت خدمت خلق کے لیے تیار رہنا، نرمی سے پیش آنا، عاجزی اختیار کرنا، ہر کام کے لیے لوگوں سے مشورہ کرنا، ہر ایک کی دل جوئی کرنا، اکابرین کی سیرت کا مطالعہ کرنا، اور اس پر عمل کرنا، امانت داری پر قائم رہنا، غریبوں اور یتیموں تک تعلیم کو کیسے پہنچانا، اور ان کے دلوں میں مدینہ والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بٹھانا، قوم کے مفاد کی بات کرنا، انسانیت کی بات کرنا، اسلام کی بات کرنا، مسلمانوں کی ترقی کی بات کرنا، ہر جگہ اتحاد کی بات کرنا، اتفاق کی بات کرنا، انصاف کی بات کرنا اگرچہ اس میں کتنا ہی بڑا خود کا نقصان کیوں نہ ہو، نیکیوں کی دعوت دینا، برائیوں سے روکنا، رخصت کے باوجود عزیمت پر عمل کرنا، ہمت نہ ہارنا، حوصلہ برقرار رکھنا، کسی میں عیب نہ نکالنا، کسی کا مذاق نہ اڑانا، برداشت کا مادہ پیدا کرنا، لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کرنا، چنگاری کو شعلہ نہ بنانا، لوگوں کو جوڑنے کا کام کرنا، مصیبتوں پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا، دنیا داروں میں کم بیٹھنا، کام کرنے میں جنون کی حد تک جانا پڑے چلے جانا مگر پیچھے نہ ہٹنا، جماعت کو ترک نہ کرنا، عبادت میں سستی نہ کرنا، 6 گھنٹے سے زیادہ نہ سونا، عزت و شہرت کی خواہش نہ کرنا، ہر ایک کا صحیح استعمال کرنا، وقت کی اہمیت کو سمجھنا، وقت کا صحیح استعمال کرنا، اور (وقت کو ضائع کرنے سے تو انہیں نفرت تھی) غریبوں سے محبت کرنا، کسی سے کسی طرح کا بھی لالچ نہ کرنا، حقوق اللہ اور حقوق العباد وغیرہ وغیرہ پر اکثر گفتگو فرمایا کرتے تھے شاید انہیں مجھ سے اتنی جلدی جدا ہونا تھا اسی لیے وہ مجھ سے اتنی کم عمر میں اتنی بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھےآپ ہر دن تہجد کی نماز سے پہلے گھر کے صحن میں ٹہلتے اور رقت انگریز اشعار بلند آواز سے پڑھتے تھے فجر کی نماز کے لیے سب سے پہلے آپ بیدار ہوتے اور وضو فرمانے کے درمیان باری باری سب کو بیدار کراتے اکثر ہم دونوں بھائی فجر میں سستی کرتے تو چہرے پر پانی ڈلوا دیتے اور جب تک سب بیدار نہیں ہوجاتے آپ مسجد کے لیے روانہ نہیں ہوتے فجر کی سنتیں اکثر آپ گھر پر ہی ادا فرماتے اگر کوئی گھر میں بیمار ہوجاتا تو فوراً اس کی دوا کا انتظام کرواتے اور برابر کال کرکے اس کی خیریت معلوم کرتے رہتے کئی سال سے میرے گردے میں پتھری کی شکایت ہے جب سے مجھے یہ شکایت ہوئی تب سے شاید آپ نے کوئی سفر ایسا باقی رکھا ہو جس میں دوا نہ لے کر آئے ہوں ہر سفر پر کوئی نہ کوئی ڈاکٹر مل ہی جاتا تھا اور آپ اس سے اپنے لیے اور میرے لیے ضرور دوا لے کر آتے نہ تو انہوں نے کبھی خود کسی ایک مستقل ڈاکٹر کی دوا

کھائی اور نہ مجھے کھانے دی جو نئی دوا لے کر آتے تو پہلے جس سے دوا لائے ہیں اس ڈاکٹر یا حکیم کی خوبیاں بیان کرتے پھر دوا دیتے کیونکہ میں آپ سے تو کچھ نہیں کہتا مگر امی سے ضرور شکایت کرتا کہ میں کس کس کی دوا کھاؤں اسی لیے آپ پہلے اس حکیم یا ڈاکٹر کی تعریفیں کرتے اپنے آخری سفر پر بھی کسی حکیم سے ملاقات کی کسی وجہ سے فوراً وہ دوا تو نہیں لے پائے مگر کسی مرید سے ڈاک کے ذریعے بھیجنے کو فرمایا اور آخری دن بھی آپ مجھے اس دوا کے بارے میں بتا رہے تھے اور اس حکیم کی مہارت بھی بیان فرما رہے تھے وہ دوا مجھے آپ کے وصال کے 2 دن بعد ڈاک کے ذریعے موصول ہوئی جسے دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پایا یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کی اور میری بچی ہوئی دوا کو جمع کیا جائے تو ایک میڈیکل اسٹور بن جائےگا جشنِ مولا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دن پہلے صبح کے وقت میرا پیر ٹوٹ گیا آپ بے چین ہوگئے اور جب میں ایمرجنسی روم سے نکل کر ایکسرے کے لیے جارہا تھا تو میں نے دیکھا ہاسپٹل میں آپ دور کھڑے تھے اور مجھے دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں بھی رونے لگا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ پڑھانے کے درمیان پڑھائی کو ترک کرکے کسی کی عیادت کے لیے ہاسپٹل گئے ہوں آپ کا دل اتنا نرم تھا کے میری تکلیف آپ کو بالکل برداشت نہیں ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ آپ مجھے دور سے ہی دیکھتے رہے میرے قریب نہیں آئے اس درمیان میرا گھر پر آپ کے ہی روم میں قیام رہا لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے آپ گھر کے دوسرے روم میں آرام فرمانے لگے یہ دیکھ کر کہ آپ کو میری وجہ سے پریشانی ہورہی ہے میں اپنی بڑی ہمشیرہ کے گھر یہ کہہ کر منتقل ہوگیا کہ وہ خانقاہ کے قریب ہے اور خانقاہ میں انگلش سیٹ ہے اس لیے مجھے یہاں بہت آرام ہے مگر آپ بار بار امی سے مجھے واپس گھر آنے کو کہلواتے مگر میں گھر نہیں گیا آپ کی درسگاہ میں تقریباً ہر دن کوئی کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی چیز لے کر آتا ہی رہتا تھا تو جس سے وہ سامان گھر بھیجتے تو اس سے فرماتے کہ پہلے برکات کے پاس لیتے جاؤ وہ جو کھائیں گے لے لیں گے پھر گھر لیتے جانا اور اکثر جب آپ مدرسہ سے گھر جاتے تو مجھ سے ملاقات کر کے ہی جاتے اور اکثر لوگوں سے میرا حال بیان کرتے اور افسوس کا اظہار فرماتے جس دن میرا آپریشن تھا آپریشن کے بعد ڈاکٹر سے ان کا جو پہلا سوال تھا وہ یہی تھا کہ یہ موٹر سائیکل کتنے دنوں میں چلانے لگیں گے اس درمیان میں جہاں کہیں آپ مریدین و معتقدین کے ہاں دعوت میں جاتے تو اکثر محبین کھانا باندھ کر دیتے تو میرے لئے خاص طور پر کہلوادیتے کہ یہ برکات کے لیے ہے برابر

فون پر خیریت معلوم کرتے رہتے آپ کو بخارا شریف امام الطرائق و الحقائق حضرت سیدنا خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند بخاری علیہ الرحمہ اور دیگر مشائخ بخارا کی زیارت کا بڑا اشتیاق تھا رواں سال 24 اپریل 2019 کو ہی بخارا جانے کا پروگرام طے ہوچکا تھا ساتھ میں مجھے بھی جانا تھا لیکن اس وقت تک میرے ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے اس سفر کے ارادے کو ترک کردیا اور فرمایا کہ اگلے سال چلیں گے اور تبھی سے آپ سفر سے جب واپس آتے تو کبھی 1 ہزار کبھی 2 ہزار اور کبھی 5 ہزار روپے مجھے دیتے اور فرماتے کہ یہ پیسے تمہارے بخارا کے ٹکٹ کے لیے ہیں اسے اپنے پاس ہی رکھنا وہ پیسے آج بھی میرے پاس رکھے ہوئے ہیں جس چیز کو انہیں محفوظ رکھنا ہوتا اسے آپ میرے پاس ہی رکھتے تھے۔

مجھے دنیا میں عزت و شہرت تو خوب مل جائے گی مگر آج میں آپ کی شفقت، آپ کی محبت، آپ کی تربیت، آپ کی باتوں، آپ کی زیارت ، آپ کی صحبت، آپ کے سہارے، آپ کی حوصلہ افزائی، آپ کی کرم نوازی ، آپ کی مسکراہٹ، آپ کی فکر مندی، آپ کے حسن اخلاق، آپ کی رہنمائی، آپ کی رہبری، آپ کی خوش کلامی، آپ کی نصیحت، آپ کی ہدایات، آپ کی خدمت، آپ کی سرپرستی، آپ کی قدم بوسی، اور اپنی ہر خوشی سے محروم ہوگیا ہوں وہ آپ کا بیٹا کہہ کر بلانا وہ آپ کا فون پر کافی دیر تک گفتگو فرمانا وہ آپ کا چمکتا ہوا چہرہ میں کیسے بھول پاؤں گا جب میں کہیں سفر پر جاتا تو میرے سر پر آپ شفقت کا ہاتھ رکھتے خوب دعائیں دیتے آخر میں آپ ایک ہی بات فرماتے کہ بیٹا جلدی واپس آجانا اب کون میری اتنی فکر کرے گا ابا جان اب کون میرے سر پر ہاتھ رکھے گا اب کون مجھے بیٹا کہہ کر بلائے گا اب کون میری دوا لے کر آئے گا اب کون میری تربیت کرے گا اب کون میری حوصلہ افزائی کرے گا اب کون مجھے نصیحت کرے گا اب کون میرے غم کو ہلکا کرے گا اب کون میرے زخم پر مرہم رکھے گا ابا جان کس کے سہارے مجھے چھوڑ کر گئے ہو زندگی میں تو مجھے ہر غم سے آزاد کر رکھا تھا جاتے جاتے غم کا پہاڑ توڑ دیا مجھے معلوم ہے کہ موت قدرت کا اٹل فیصلہ ہے مگر آپ نے جس طرح میری فکر کی اسی طرح اپنی فکر کی ہوتی جس طرح میری بیماری کی فکر کی اسی طرح اپنی بیماری کی فکر کی ہوتی تو مجھے آج تسلی ہوجاتی آپ کے بعد نہ مجھے کسی چیز کی خواہش ہے اور نہ اپنی زندگی کی کوئی فکر اس عمر میں آپ کے مجھ سے جدا ہوجانے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے شاید یہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہے عجب سی بے چینی ہے سونا چاہتا ہوں مگر نیند نہیں آتی آپ کی مزار مبارک سے ٹھوڑی دیر کے لیے جدا ہونا

قیامت سی ڈھارہا ہے شاید کوئی تنہائی ایسی ہو جو مجھے رُلا نہ رہی ہو ہر وقت آپ کی یادوں اور آپ کے خیالوں میں ڈوبا ہوا ہوں آپ کے ساتھ گزرا ہوا ایک ایک پل مجھے رہ رہ کر یاد آرہا ہے زندگی عذاب سی بن گئی ہے مجھے اپنی زندگی سے زیادہ آپ کی زندگی محبوب تھی آپ جیسا محسن، آپ جیسا رہنما، آپ جیسا استاد، آپ جیسا مرشد میں کہاں سے لاؤں گا باتیں اور یادیں تو بہت سی ہیں سب بیان کرنا تو نا ممکن ہے اسی لیے اتنا ہی کافی ہے اگر یہ کہا جائے کہ یہ تحریر قلم سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے لکھی گئی ہے تو بے جا نہ ہوگا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے برادر کبیر اور سب گھر والوں کو اور تمام حضور بحرالعرفان قدس سرہ النورانی کے مریدوں و متعلقین و معتقدین اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین اور انکے مشن کو عام کرنے کے لیے حوصلہ ہمت اور جنون عطا فرمائے۔

نظم بر سانحہ ارتحال حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ

منجانب جملہ دختران حضور بحرالعرفان

جائیں کس در پہ ہم والدمحترم

لے کےقصۂ غم والد محترم

چھوڑ کر جب سے تنہا ہمیں تم گئے

ہے کمر میری خم والد محترم

دست شفقت لیے اب تو آجائیے

یہ ہے کیسا ستم والد محترم

عارفہ اور شفا صالحہ عائشہ

ان کی آنکھیں ہیں نم والد محترم

فاطمہ عاتکہ رو رہی ہیں بہت

یاد کرکے کرم والد محترم

محبت و شفقت کے پیکر حضور بحر العرفان

جن کے بغیر زندگی بے رنگ و نور ہوگئ

عالمہ عارفہ صدیقہ دختر بحر العرفان٭

الحمد اللہ و کفی والصلوۃ والسلام علی نبیہ المصطفی وعلی آلہ وصحبہ

میں اس وقت زندگی کے سب سے بڑے غم سے دوچار ہوں۔ ذہن و دماغ پر حزن و ملال کی ایک نا قابل بیان کیفیت چھائی ہے اور میری آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے دل اب بھی یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہوا وہ واقعی ہو چکا ہے۔

مگر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر سواے یقین کرنے کے چارہ کیا ہے! ہم مجبور بندے کیا کر سکتے ہیں یہ تو ایسا صدمہ ہے جس کے غم کی روداد الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

والدین کی محبت و شفقت ہر انسان جانتا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد سے کتنی محبت ہوتی ہے لیکن ہم نے اپنے والد جیسا محبت کرنے والا آج تک نہیں دیکھا ان کے پیار اور محبت پر صدیوں لکھوں تو لکھ نہیں سکتی ان کی محبت و شفقت کا حال تو یہ تھا کہ کبھی ہم بہنوں کانام بھی نہیں لیتے تھے ہمیشہ بٹیا ہی کہہ کے پکارا اب ہم یہی سوچتے ہیں کہ ہمیں بٹیا کہہ کے کون بلائے گا ہم بھائی بہنوں کو کبھی کسی چیز اور کسی بات کا احساس ہونے نہیں دیا جب کبھی کوئی چیز گھر پہ لے کرآتے رات ہو یا دن اسی وقت کھلاتے ہم سب بہنوں کے ساتھ ہر چیز میں برابری کا برتاؤ کرتے یہاں تک کہ کسی بہن سے کوئی بات کرتے تو سب کا لفظ استعمال کرتے برابری کا حال تو یہ تھا کہ مدرسہ سے ظہر کی نماز کے بعد گھر تشریف لے جاتے ہمارے دروازے سے ہوکر نکلتے آپکے ہاتھ میں کوئی چیز ہوتی تو دروازے پر آواز دیتے میں جاتی آپ فرماتے اس میں سے آدھی لے لو اور آدھی شفا کو دے دیں گے جو ہم سے چھوٹی بہن ہیں، گھر پر چھوٹی بہنوں کو کوئی چیز تقسیم کرتے تو اتنی ہی چیز ہم دونوں بہنوں کے گھر بھی بھجواتے جس طرح آپ نے باہر والوں کو تعلیم دی اسی طرح اپنے گھر والوں کو بھی تعلیم دی جب کبھی اپنے بچوں سے بات کرتے توبزرگان دین اور علماے کرام کی ہی بات کرتے اور ہم سبھی بہنوں کو دین کے ہی کام پر ا بھارتے اور ہمیشہ یہ فرماتے بٹیا دین کا ہی کام کرنا ہے سب کو جس طرح آپ نماز پنجگانہ فرائض و سنن ذکر و فکر کی

پابندی کرتے ہم سب بہنوں کو بھی پابندی کرنے کو فرماتے۔

میں اپنے والد بزرگوار کی کن کن خوبیوں کو بیان کروں سنہ شعور سے لے کر اب تک جتنے اوصاف و کمالات اور فضائل و امتیازات میں نے اسلاف کرام کی سوانح عمریوں میں پڑھے تھے وہ سبب میں نے حضور بحر العرفان میں یکجا دیکھے۔ میرا یقین ہے کہ اگر شمائل ترمذی وغیرہ کو دیکھا جائے تو آپ مصطفیٰ کریمﷺ کی سنتوں کا پیکر مجسم نظر آئےگی

اے میرے والد بزرگوار آپ تو چلے گئے مگر میرے ذہن میں یہ بات بار بار گردش کرتی ہے کہ زندگی بھر آپ نے ہم سب کا ساتھ دیا جب ہم گھر والوں کو کوئی تکلیف ہوتی تھی تو آپ بے چین ہو جاتے تھے آپ سے ہماری تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی ہمیشہ ہم بھائی، بہنوں کے ناز اٹھائے ہر خواہش پوری کی جب آخری سفر پر نکلے تو کچھ بتائے بغیر خاموشی سے چل دیے۔ اے میرے بابو! کیا آپ سے اب کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کی بیٹیاں کہاں ہیں! آپ جاتے ،ایک دن تو سبھی کو جانا ہے۔ یقیناً اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا مگر تم جیسے گئے ویسے بھی جاتا نہیں کوئی۔ مجھے نہیں معلوم تھا 13 جولائی آپ کی زندگی کی آخری تاریخ ہوگی، آخری ملاقات ہوگی، آخری دیدار ہوگا۔ اے میرے ابا جان! مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کے بعد آپ کی پر نور محفلیں ہمیں دیکھنے کو نہ مل سکیں گی ہم نہیں سمجھ سکے کہ آپ ہمیشہ کے لئے جارہے ہیں اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے ہمارے گھر کے بام و در آپ کے پر نور چہرے کی زیارت کو ہمیشہ کے لئے ترس جائیں گے۔ ہم نہیں جان سکے کہ میری بے نور آنکھیں جو آپ کے رخ زیبا کو دیکھ کر دمک جایا کرتی تھیں ہمیشہ کے لئے پتھرا جائیں گی اور آپ کے وجود مسعود سے محفلوں میں جو گرمی ہوا کرتی تھی وہ ہمیشہ کے لئے ٹھنڈ ہو جائے گی۔ ابا جان! آپ چلے گئے آپکے مریدین آتے ہیں، احباب و متعلقین آتے ہیں دلاسہ دیتے ہیں آپ کے چھوڑے ہوئےمشن کی تکمیل کے لئے عہد و پیمان بھی کرتے ہیں آپ کے تذکروں کی محفلیں بھی سجائی جا رہی ہیں مگر یہ کیسی ویرانی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی؎

تم نہیں ہو تو میری بزم میں سناٹا ہے

تم بھی خاموش ہو محفل کی فضا بھی خاموش

٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ