مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتحضور بحرالعرفان آفاقی شہرتوں کے مالک

باب ۲۷ از ۶۵صفحات ۱۹۴–۱۹۹

حضور بحرالعرفان آفاقی شہرتوں کے مالک

مولانا محمد شاہنواز رضا قادری٭

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اس خاک دان گیتی پر لا تعداد افراد اپنے وجود کی نمائش کرکے چلے گئے مگر اس دارالحزن میں انکا کوئی نام و نشان باقی نہ رہا لیکن جب ہم اوراق کتب کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح ظاہر ہوجاتی ہے کہ اللہ جل مجدہ الکریم نے اپنی قدرت کاملہ سے کچھ ایسے نفوس قدسیہ کو بھی اس دنیا میں بھیجا جنکی چمک دمک سے پوری انسانیت روشن و تابناک ہو گئی ان نفوس قدسیہ کے علم و فضل کا خورشید جہاں جہاں طلوع ہوتا گیا وہاں وہاں سحر ہوتی گئی تنہا ان کی ذات علم و حکمت فضل و عزت اخوت و مروت خلوص و للہیت کا ایسا مہکتا ہوا انقلاب برپا کر گئی جس کے شامیانے تلے لاکھوں افراد چین و سکون کی سانس لیتے رہے ان جلیل القدر اور عالی مرتبت شخصیات میں ایک ایسی ذات با برکت کا نام بھی آتا ہے جن کو دنیا بقیہ السلف حجۃ الخلف غواص بحر تحقیق کاشف اسرار التدقیق حضور بحر العرفان حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی نو ر اللہ مرقدہ و افاض اللہ علینا فیوضہ کے مبارک نام سے جانتی ہے۔

حضور بحر العرفان کی خدمات جلیلہ اوج ثریا پر کمند ڈالے ہوئے ہیں انکے نورانی عرفانی صاف

وشفاف چہرہ پر ضیاء کی ایک جھلک پانے کے لئے عشاق شہ بطحا علیہ السلام پروانوں کی مانند انکے ارد گرد حلقہ بگوش رہتے انکا جود و نوال فضل و کمال جاہ جلال گمراہوں کے لئے مشعل راہ بنتا رہا ان کی علمی جلالت اور دینی خدمات کا ڈنکا آج ہر چہار سو بج رہا ہے انہوں نے دین حق کی پاسبانی کا عظیم فریضہ انجام دیکر قنوج و اطراف قنوج کے ایمان و عقیدے کو تحفظ فراہم کیا ورنہ بد عقیدگی کا طوفان معلوم نہیں امت مسلمہ کوضلالت و گمراہی کے کس گڑھے میں گراتا آج ہم ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے خوش عقیدہ مسلمان حضور بحر العرفان کے فضل و کمال اور ان کی دینی خدمات کے معترف اور ممنون کرم ہیں حضور بحرالعرفان ارباب علم دانش کی نظر میں ایک عارف باللہ فنافی اللہ خدا رسیدہ بزرگ ایک عظیم روحانی مرشد تھے آپ بیک وقت درجنوں کتابوں کے مصنف راسخ العلم فقیہ، فی البدیہ شاعر اور متعدد مدارس کے بانی تھے جن میں الجامعۃالاحمدیہ السنیہ قنوج حضوربحرالعرفان کی ایک عظیم یادگار ہے نیز خانقاہ مجددیہ جو کہ طالبان راہ حق کے لئے وہ انمول شاہکار ہے جو رہتے دنیا تک لوگوں کو دعوت فکر دیتی رہےگی بیشک اللہ کے ولیوں کی یہی پہچان ہے کہ جب تک دنیا میں رہتے ہیں تو ذکر الٰہی سے خود کو اور عالم اسلام کو مستفیض فرماتے ہیں اور جب اس دنیا سے رحلت فرماتے ہیں تو انکا سارا وجود ذکر خدا سے پور نظر آتا ہے حضور بحرالعرفان کی اچانک رحلت اہل سنت کا اتنا بڑا خسارا ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی ، آپ کی رحلت کسی فرد یا خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری جماعت کا نقصان ہے اور سبھی کے لئے باعث غم بھی، کیونکہ حضرت کی شخصیت سبھی کے لئے تھی نیز وہ سبھی کے لئے منارۂ نور تھی، میں نے بڑے بڑے علماء فقہاء اور مشائخ کو آپ سے ملاقات دست بوسی اور کسب فیض کو اپنی سعادت تصور کرتے دیکھا، علمی و فکری گہرائی و گیرائی میں انہیں ایک خاص ملکہ ودیعت کیا گیا تھا، ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

حضور بحر العرفان ضلع فرخ آباد یوپی کے ایک مشہور گائوں بھڑونسہ میں محترم الحاج قیام الدین صدیقی صاحب کےیہاں 1959ء میں تولد ہوئے ، ابتدائی تعلیم گائوں میں ہوئی نیز باقاعدہ تعلیمی سفر بدایو ں شریف سے شروع ہوکر کچھوچھہ مقدسہ میں تکمیل کو پہونچا ، پھر روحانی اور باطنی تعلیم کے لئے آپ نے وقت کے ایک خدا رسیدہ اور عظیم بزرگ عارف باللہ ساقئی میکدئہ عرفان واصل بارگاہ سبحان حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ احمد رضا خان صاحب نقشبندی اطال اللہ تعالیٰ عمرہ و فیضہ کا دامن تھاما اور شرف بیعت سے بھی مشرف ہوئے اکبر پور ضلع قنوج یوپی کے ایک قابل قدر محترم شبیر حسین صاحب

صدیقی مرحوم کی دختر نیک اختر سے حضور بحر العرفان کا عقد ہوا ، جن سے فرزند حضرت مولانا احمد سعید مجددی اور حضرت مولانا برکات احمد صاحب مجددی اور چھ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ۔

تقریبا 1984 عیسوی میں حضور بحر العرفان نے قنوج کی سرزمین پر قدم رنجہ فرمایا اور بڑی بے سر سامانی و پریشانی کے عالم میں الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کی بنیاد ڈالی، حضور قطب ربانی محبوب سبحانی سرکار مجدد الف ثانی کے نام کی برکتیں اور فیض حاصل کرتے ہوئے آپ نے جو الجامعۃ الاحمدیہ نام کا دیا روشن کیا وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک آفتاب بن گیا یہ آپ کی انتھک محنتوں کا ثمرہ ہے جو آج جامعہ احمدیہ ملک کے علاوہ پوری دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہے ۔

حضور بحر العرفان کی ذات ان نابغہ روزگار منتخب شخصیتوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ رب العزت نے گوناگوں فضائل و کمالات سے سرفراز فرمایا علم و تحقیق ، تصنیف و تالیف فقہ و افتاء نقدو نظر بحث و مناظرہ میں غیر معمولی مہارت و بصیرت کے ساتھ مذہب و مسلک کی حفاظت و اشاعت کے جذبہ بے کراں سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا ، علمی وجاہت فقہی جزئیات پر گہری دسترس فطری ذکاوت و فطانت ، علوم قرآن و حدیث پر استحضار آپ کی خصوصیات ہیں۔ وہ عظیم مقبول انام شخصیت تھے جن کے جود و نوال حسن وجمال کا سارا عالم معترف ہے، ان کے پر کشش چہرے کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے دنیا بے قرار ہوجاتی، حضور بحر العرفان مسند تدریس پر فائز ہو کر جب تفسیر و حدیث کا درس دیتے تو امام بیضاوی اورامام بخاری کی یاد دلا جاتے، معقولات کا درس ہو تو امام رازی ذہن و فکر میں بس جاتے ، تصوف و روحانیت کی بات فرماتے تو شیخ الشیوخ اورامام غزالی کے جلوے سامنے رقص کرنے لگتے اور جب عشق مصطفیٰ علیہ التحیۃ و الثناء کی بات فرماتے تو سرکار امام ربانی مجدد الف ثانی نیز سرکار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فاضل بریلوی کی عملی تفسیر بن جاتے، حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ نے اپنی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ مسلک و مذہب کے فروغ و استحکام کے لئے وقف کر رکھا تھا، خلق خدا کی ایسی خدمت فرماتے جو دیکھتا وہ دیوانہ ہو جاتا ، کسی کی دل شکنی تو پاس سے بھی نہیں گزری یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ آپ کی نماز جنازہ میں کثرت ہجوم نے شہر قنوج کے وسیع و عریض رقبہء زمین اور گلی کوچوں کو رشک فردوس بنا دیا ، ہر چہار جانب رنگ و نور کا طوفان امڈ پڑا، ہر طرف سے عاشقوں اور دیوانوں کا ہجوم سیل رواں کی شکل میں کشاں کشاں شہرستان علم و فضل قنوج کی طرف روانہ ہوگیا اور بعدہ حضور بحر العرفان کے فرزانوں کا

ٹھاٹھیں مارتا سمند ر قطب الارشاد کے فیوض و برکات کو اپنے وجود میں تہلیل کرنے کے لئے بے قرار تھا جسے جہاں موقع ملا وہیں کھڑا ہوگیا ، اور جسے نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی سعادت حاصل نہ ہوسکی وہ اپنے مرشد و محسن اور عالم ربانی کے شہر میں حاضری کو اپنے لئے سرمایہ افتخار اور فیض کا ذریعہ سمجھنے لگا، ملت بیضاء کے اس عظیم مرشد و مبلغ نے اہل سنت وجماعت کو اپنی نماز جنازہ کے ذریعہ امن و اتحاد کا ایک پیغام دیا کہ قادری چشتی سہروردی نقشبندی ایک ہی لڑی کے دانے ہیں جس کا ہر موتی عشق مصطفیٰ کی ضو فشانی سے اکناف عالم کو منور رکر رہا ہے ۔حضور بحر العرفان نے 9 ذی قعدہ 1440ھ مطابق 13 جولائی 2019بروز ہفتہ بوقت اشراق داعی اجل کو لبیک کہا ۔ اور اپنے پیچھے لاکھوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر رخصت ہوگئے، 14 جولائی 2019 ءمطابق 10 ذی قعدہ 1440 ھ بروز اتوار قنوج کے وسیع و عریض میدان (بورڈنگ گرائونڈ) میں آپ کی نماز جنازہ حضور عارف باللہ علامہ شاہ احمد رضا خان صاحب قبلہ نقشبندی کی اقتدا میں ادا کی گئی بعدہ آپ کو خانقاہ مجددیہ (متصل جامعہ احمدیہ) شیخ پورہ قنوج میں سپرد خا ک کیا گیا ۔

حضور بحر العرفان کو خدائے قادر قیوم نے اپنی قدرت سے ایسا جامع الصفات بنایا کہ جو دیکھتا وہ دیوانہ ہو جاتا۔ ہزاروں کی تعداد میں مریدین اس بات کے شاہد ہیں۔ حضور بحر العرفان نے پوری دیانت داری کے ساتھ بغیر کسی غلط تاویل کے اسلامی احکام کی تبلیغ فرمائی اور آخری دم تک اسی طریقے پر قائم رہے جو احکام دوسروں کو بتاتے خود بھی ان پر پورے طور سے عمل پیرا ہوئے بلکہ اور زیادہ بڑھ کے رخصت کے بجائے عزیمت کے افضل طریقے کو اپنی زندگی کا لازمی دستور بنالیتے۔ آپ وہ عظیم شخصیت تھے جس کی خلق خدا کو سخت ضرورت تھی۔ آج بھی آپ کے تربت اطہر اس بات کی گواہی دےرہا ہے کہ آپ کی حیات ظاہری سے بہت زیادہ فیضان کا دریا بہہ رہا ہے۔

حضور بحر العرفان اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور علوم وفنون کے ماہر تھے۔ اسلامیات کے حوالے سے درسی غیر درسی ہر فن پر آپ یکساں عبور رکھتے تھے۔ زبان وبیان پر گہری دسترس وگرفت تھی، آپ نہایت متبع سنت اور متقی تھے کثیر المطالعہ ہونے کے ساتھ قوی الحافظہ بھی تھے، بے شمار احادیث مبارکہ آپ کو زبانی یاد تھیں۔ عشق کی ایسی کیفیت جب مدینہ اور مدینے والے کا تذکرہ ہوتا تو یاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے مستغرق ہوجاتے کہ آنکھیں اشکبار

ہوجاتیں آپ کی یہ کیفیت دوسرے لوگوں پر بھی وہ رقت طاری ہوجاتی جو بیان سے باہر ہے۔ ع

جھک گئیں جس کے تصلب پر جبین عالم

کر کے تعمیر اصولوں کی وہ محراب گیا

ذکر خدائے عزوجل کے بعد نعت مصطفیٰﷺکائنات کا سب سے عظیم مشغلہ ہے مدحت مصطفیٰ ﷺکی دولت بے بہا سب کو عطا نہیں ہوتی۔ خدائے پاک جس پر اپنا خاص فضل وکرم فرماتا ہے ان خوش نصیبوں کو نعت نبی ﷺلکھنے پڑھنے کا اعزاز نصیب فرماتا ہے۔ حضور بحر العرفان انھیں سعادت مندوں میں سے تھے، جنھیں مدینے والے کا عشق کے صدقے میں اللہ رب العزت نے نعت لکھنے کا ہنر بخشا پھر فیضان سرکار ﷺ اور عنایات سرکار مجدد الف ثانی سے ایسی نعتیں لکھیں جنھیں پڑھنے سننے کے بعد آنکھوں کو نور اور قلب کو سرور حاصل ہوتا ہے، اور آپ کا نعتیہ دیوان بنام نغمات بحرالعرفان منظر عام پر آچکا ہے اور کافی پذیرآئی حاصل کر چکا ہے طوالت خوف سے صرف چند اشعار پیش خدمت ہے جن سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضور بحر العرفان کیسے عاشق رسول ﷺ تھے۔ ع

جی چاہتا ہے آپ کی نعتیں لکھا کروں

ہر وقت یارسول اللہ تمہاری ثنا کروں

اوصاف بے شمار ہیں سرکار آپ کے

بعد از خدا بزرگ توئی میں پڑھا کروں

ایک دوسرے مقام پر مدینہ طیبہ کی عظمتوں کا یوں ذکر کرتے ہیں۔ ع

بڑی پر نور ساعت ہے مدینہ یاد آتا ہے

سکوں دل قرار جاں سکینہ یاد آتا ہے

وہ جس کی یاد سے عرفان حق کے پھول کھلتے ہیں

تجلی نور کا مرکز وہ سینہ یاد آتا ہے

نعت گوئی ایسا وصف ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا بلکہ اس کو محض فضل الٰہی گردانا جائے سرکار بحرالعرفان اس میدان میں بھی عروج ارتقا کی منزلیں طے کرتے نظر آتے ہیں اس بارے میں رفیق گرامی وقار حضرت علامہ ومولانا آصف رضا صاحب مجددی آفاقی مدرسہ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج نغمات بحرالعرفان کے دیباچے میں بڑی جامع بات کہ گئے وہ یوں رقمطراز ہیں

’’ہمارا سلسلہ نعت بندوں کا مرہون منت نہیں بلکہ نظام قدرت ہے اس لیے ہر دور میں افق نعت پر ایک سے بڑھ کر ایک آفتاب وماہتاب طلوع اجلال فرماتے رہے اور تادم حشر اس کی رنگینیوں اور جلوہ سامانیوں میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا کبھی اس کی رونقیں ماند نہیں پڑ سکتیں اس لیے کہ نعت رسول مقبول

ﷺ وظیفہ حیات ہے متاع زیست ہے سکون دل ہے سامان بخشش ہے مداوائے زخم وجگر ہے اور دائرہ عصیاں کو مٹانے کا موثر ترین ذریعہ ہے‘‘۔

یہ نعمت عظمیٰ اور دولت کبریٰ سب کو میسر نہیں آتی بلکہ جب عشق مصطفیٰ ﷺ کی گرماہٹ بام عروج کو پہنچتی ہے تو صفحہ ذہن پر نعت کے اشعار ابھرنے لگتے ہیں۔ حضور بحرالعرفان اس میدان میں پوری طرح کامیاب وکامران نظر آئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نعتوں کا ایک ایک شعر بارگاہ سرور کونین ﷺ سے قبولیت کی سند حاصل کر چکا ہے آپ کے کثیر فضائل محمودہ اور اوصاف مشہورہ ہیں جو سب سے اعلیٰ وافضل وصف ہے وہ کا علم و فضل ہے جس کی بدولت آپ اہل سنت کے علماء وفضلاء پر تفوق وتفضل حاصل کئے رہے اہل سنت کے لیے آپ کی صحبت ومعیت کسی لعل وگہر سے کم نہیں۔ حقیر فقیر سراپا تقصیر اس لائق نہیں کہ آپ کے فضائل وکمالات کو دائرہ حصار میں لاسکے یہ جو کچھ بھی لکھا گیا آپ اس سے لاتعداد اوصاف وخصائل کے بحر عمیق ہیں آپ کا فیض حسنہ ملت اسلامیہ کے لیے قانع رنج، محسن ساطع، شروفتن ثابت ہوتا۔

حضور بحر العرفان یقینا ہم سب کے لیے حق سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے اعظم وافضل نعمت رہے مگر افسوس کہ ہم کماحقہ اس فیض بحر سے مکمل فیضیاب نہ ہوسکے۔ علم وہنر فقہ، شریعت، طریقت، تصوف، روحانیت، عمل واستقامت اور تقویٰ وطہارت کا وہ بحر بیکراں ہماری طرف سے اپنا رخ موڑ کر ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔

مولائے کریم بطفیل رسول الکریم ہم سب کو فیضان بحرالعرفان سے مالا مال ہونے کی سعادتیں نصیب فرمائے۔ آمین

کھل گئیں اس کے جنازے سے سبھی کی آنکھیں

کور دیدہ کو بھی وہ کر کے صحت یاب گیا

٭پرنسپل مدرسہ اسلامیہ غریب نواز، عزیزالپور، فرخ آباد