مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتحضور بحر العرفان ایک نظر میں

باب ۴ از ۶۵صفحات ۴۷–۵۲

حضور بحر العرفان ایک نظر میں

مولانا اخلاق احمد مجددی

برادر صغیر بحر العرفان

ولادت باسعادت : ۱۳۷۹ھ بمطابق ۱۹۵۹ء ماہ ستمبر یا اکتوبر ۔

جائے پیدائیش : موضع بھڑونسہ پوسٹ جراری ضلع فرخ آباد ، یوپی، (انڈیا)۔

ابتدائی تعلیم : بھڑونسہ ، و جراری ضلع فرخ آباد ، اسکے بعد تقریباًدوسال موضع بھرگین ضلع ایٹہ میں ابتدائی تعلیم حاصل فرمائی ۔

درس نظامی کی تعلیم :

درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پہلے تقریباً سات سال دار العلوم مسجد جعفری ، گھنٹہ گھر بدایوں شریف میں رہے، پھر دورہ حدیث کی تعلیم کے لیے ۱۳۹۷ھ بمطابق ۱۹۷۸ء مین جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ تشریف لے گئے۔

سن فراغت :

دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعد ۱۳۹۸ھ مطابق۱۹۷۹ء میں ممتاز علماء اہل سنت کے مقدس ہاتھوں سند حدیث اور دستار فضیلت سے نوازے گئے ۔

تدریسی خدمات:

شوال المکرم۱۳۹۹ھ سے شعبان المعظم۱۴۰۱ھ تک جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ پھر وہاں سے مستعفی ہوکر مدرسہ گلشن رضا چھپیہ بازار ضلع گورکھپور یوپی چلے آئے اور ۱۴۰۲ھ سے ۱۴۰۵ ھ تک مسلسل تین سال مدرسہ مذکور میں بحیثیت مدرس قیام فرمایا ۔ پھر شہر قنوج میں ۱۴۰۵ھ سے تا بہ وقت وصال تقریباً ۳۵؍ سال متواتر اہتمام جامعہ اور تدریسی خدمات کے فرائض انجام دئے ۔

بیعت و ارادت :

ماہ ربیع النور شریف ۱۴۰۱ھ کی ۲۰ سے ۲۵ تاریخ کے دوران حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ حضور شیخ

العالم عارف باللہ مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ کمالپوری( ضلع مرزا پور) دام ظلہ العالی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔

خلافت و اجازت:

۲۳ شعبان المعظم ۱۴۰۵ھ بمقام کمالپور شریف ضلع مرزا پور بموقع سالانہ عرس مبارک حضور ابدال زماں شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ غلام محمد خاں صاحب نقشبندی علیہ الرحمۃ و الرضوان ،حضور شیخ العالم دام ظلہ العالی نے حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کوخلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا ۔

قیام جامعہ :

۴؍رمضان المبارک۱۴۰۵ءھ بمطابق ۱۹۸۴ءمیں شہر قنوج (جو صوبہ اتر پردیش ، ہندوستان کا ایک عظیم تاریخی شہر ہے ) کے محلہ حمالی پورہ میں الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کی بنیاد رکھی ۔

نام و نسبت:

امام ربانی قیوم زمانی محبوب سبحانی واقف اسرار سبع مثانی عالم مقطعات قرآنی مجدد الف ثانی حضور سیدنا شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہٗ کے نام نامی احمد کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس مرکز علم و عرفان کا مبارک نام ‘‘الجامعۃ الاحمدیہ’’ تجویز کیا گیا ، پھر بعد میں قادیانیوں سے امتیاز کے لئے ‘‘السنیہ ’’ کا اضافہ بھی کیا گیا اس طرح اس گلشن مجدد کا اب پورا نام الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ ہے اور اسی سے مشہور ہے۔

سانحہ وصال :

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ والرضوان کا سانحہ وصال ۹؍ ذیقعدہ ، ۱۴۴۰ھ بمطابق ۱۳؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بوقت اشراق پیش آیا ۔

حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان وصال سے تدفین تک

میں محمد آصف رضا مجددی آفاقی حلفیہ طور پر چشم دید حالات بغیر کسی مبالغہ آرائی کے تحریر کرتا ہوں۔

٤ بجے صبح میں حضور قبلہ کے بھانجے حافظ محمد محسن کا فون آیا کہ حضرت کی طبیعت بگڑ گئی ہے اٹیک پڑا ہے اور ہم لوگ حضرت کو کارڈیولوجی لے آئے ہیں آپ فوراً آجائیں، ہم لوگوں نے گاڑی والے سے بات کی، اس نے کہا تھوڑی دیر میں پہونچتا ہوں، اس کے آنے تک ہم نے نماز فجر باجماعت ادا کی اور کانپور کی طرف روانہ ہوگئے، راستے میں کئی مرتبہ احوال دریافت کیا، جواب حوصلہ افزا ہونے کی وجہ سے کچھ سکون ہوا، لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد تقریباً چھ بجے گھر سے فون آیا کہ وہاں کوئی فون نہیں ریسیو کر رہا ہے پتا کیا جائے کیا بات ہے؟ میں نے ریاض بھائی کانپور والے کا نمبر لگایا تو انہوں نے یہ روح فرسا خبر سنائی کہ قمری اعتبار سے ٦٣ سال تک افق عالم پر طلوع رہنے والا آفتاب ولایت اچانک رو پوش ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں جس وقت کارڈیولوجی میں پہونچا تو وہاں موجود احباب کا برا حال تھا۔ خاص طور پر حضرت کے چھوٹے شہزادے مولانا برکات احمد رو روکر بیہوش ہوگئے تھے۔ وہ وقت بڑا صبر آزما تھا ایک طرف خود بھی غم سے نڈھال دوسری طرف انکا یہ حال ،کسی طرح انہیں گاڑی میں ڈال کر قنوج کی طرف روانہ ہوئے۔ ایمبولینس آگے تھی ہماری گاڑی پیچھے، راستے میں نہ جانے کتنے لوگوں کے فون آئے اور کسے کیا جواب دیا کوئی خبر نہیں۔ ہزار سنبھالنے کے با وجود دل بیٹھا جا رہا تھا اور کسی طرح یہ باور کرنے کو تیار نہ تھا کہ ہزاروں قلوب کو ذکرِ خدا سے زندہ کرنے والا مسیحا ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہو گیا ہے

ارول سے آگے یاسین پور کے سامنے پہونچے تو عاشقوں کی ایک ٹولی سر راہ دیدار کے لئے منتظر تھی کچھ اور آگے بڑھے تو بلگرام تراہے پر دیوانوں کا ہجوم کھڑا تھا قنوج پہونچے تو محسوس ہوا کہ پورا شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے گھر کے قریب پورا روڈ جام تھا زائرین کا سیلاب تھا ایک جھلک پانے کے لئے لوگ بیتاب تھے کوئی گاڑی کے کانچ سے سر پٹک رہا تھا تو کوئی صدمے سے بیہوش ہوگیا تھا شہر کےاحباب کے مشورے سے جسدِ اطہر کو جامعہ کے گراؤنڈ میں منتقل کر دیا گیا اور بیری کیٹنگ کرکے آنے جانے والوں کے لئے راستہ متعین کردیا گیا تاکہ زائرین کو دشواری نہ پیش آئے تھوڑی ہی دیر میں پورا میدان مردوں عورتوں سے

کھچا کھچ بھر گیا پھر عورتوں اور مردوں کے لئے جنازہ مبارکہ کے دائیں بائیں الگ الگ راستہ بنا دیا گیا۔ دیر رات تک عقیدت مندوں کا تانتا لگا رہا قرب و جوار کے علماء کرام مشائخ و سادات کرام بھی ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے لوگ پروانہ وار شمع علم و عرفان کے اردگرد منڈلاتے رہے نگاہیں رخ انور سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں، اپنے تو اپنے بیگانے بھی ایسے بلک رہے تھے کہ سنبھالنا مشکل تھا پورا دن آپ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیلتی رہی یہ دیکھ کر حضرت علامہ تطہیر احمد رضوی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی علامہ تنظیف احمد رضوی صاحب سے فرمایا دیکھو یہ ہے اللہ والوں کی شان۔ دہلی سے آئے توحید الرحمٰن خان صاحب نے بتایا کہ چونکہ پورا دن حضرت کا چہرہ مبارکہ آسمان کی طرف رہا یہ دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ آپکا چہرہ قبلہ کی طرف کیوں نہیں ہے اسی وقت دل نے کہا چونکہ میرے سرکار نے زندگی میں کبھی کسی کا دل نہیں توڑا اس لئے آج کیسے محروم کر سکتے ہیں لہذا مردوں اور عورتوں دونوں کو زیارت کا موقعہ عنایت فرما رہے ہیں. گھر کی خواتین کو زیارت کرانے کے لئے نعش مبارک ٢ بجے رات میں گھر پہ لیجائی گئ جامعہ کے خزانچی حاجی عبد الرزاق صاحب رضوی نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ٤ بجے صبح جب جنازہ واپس اٹھانے کے لئے گئے تو حضرت کی چھوٹی بچیاں چار پائی سے چمٹ گئیں اور کسی طرح جنازہ نہیں اٹھانے دے رہی تھیں تو حضرت نے آنکھیں کھول دیں بچی کی طرف دیکھا اور بند کرلیں یہ دیکھ کر بچی نے چار پائی چھوڑ دی بعد نماز فجر قرآن خوانی اور ایصال ثواب کے بعد صلاۃ و سلام اور جامعہ کا ترانہ پیش کیا گیا تو ہر ایک کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوگیا کئ ایک کی چیخیں بلند ہو گئیں۔

صبح سات بجے غسل شروع ہوا، حضرت کے اعزہ کے علاوہ اسٹاف اور چند معتقدین شامل رہے جب کپڑے اتارے گئے تو آپ ایک ہاتھ سے تہبند تھامے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا شہادت کی انگلی پر اس طرح رکھا تھا جیسے تسبیحات پڑھ رہے ہوں، غسل کیلئے نیا تہبند ڈالا گیا اور میں نے کمر سے نیچے پانی ڈالنے کے لئے تہبند کا ایک کونا اٹھانا چاہا تو دیکھا کہ آپ اپنی انگلیوں کے بیچ میں تہبند مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں، میں نے ہاتھ ہٹاکر پانی ڈالا لیکن جب دوبارہ پانی ڈالنے کے لئے کونا اٹھانا چاہا تو وہ اسی طرح انگلیوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا اسی درمیان سر مبارک خود بخود قبلہ رو ہوگیا۔ مولانا ابو القیس صاحب جو آپکے چہرے کی طرف تھے انکا حلفیہ بیان ہے کہ حضرت نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور پھر بند کرلیں چوبیس گھنٹے ہونے کے باوجود جسم انتہائی ملائم اور نرم تھا تازگی کا یہ عالم کہ بقول مفتی سید محمد اشرف جیلانی مصباحی

آپ پچیس سالہ جوانوں کی طرح لگ رہے تھے استنجا کرانے میں بھی کسی طرح کی غلاظت کا خروج نہیں ہوا اس دوران آپ کے جسم کی مخصوص خوشبو جسے آپ کے احباب بخوبی پہچانتے ہیں برابر آتی رہی۔

متعدد اشخاص نے مجھ سے بیان کیا کہ دوران غسل قلب کی طرف نگاہ ڈالی تو جس طرح حیات ظاہری میں حرکت کرتا تھا ویسے ہی حرکت ہو رہی تھی جب سینے پر ہاتھ رکھا تو وہاں گرمی محسوس ہو رہی تھی غسل کا پانی لوگوں نے بوتلوں میں بھر لیا۔

بعد غسل جنازہ مبارکہ زیارت کے لئے رکھا گیا بھیڑ کی کثرت کی وجہ سے ہم لوگوں نے شہزادۂ بحر العرفان حضرت مولانا احمد سعید صاحب سے عرض کیا کہ نماز کے لئے جنازہ گاڑی سے لے جایا جائے لیکن انہوں نے کہا کہ میرے والد نے اپنی زندگی قوم کے لئے وقف کر رکھی تھی اب آخری وقت میں انکا جنازہ قوم کے کاندھوں پر ہی جائے گا۔

میدان میں رات ہی سے بیری کیٹنگ کردی گئی تھی، جنازہ اٹھنے کے بعد میں شارٹ کٹ راستے سے میدان میں پہونچ گیا جہاں دیوانوں کی صفیں لگی ہوئی تھیں، مولانا زین العابدین صاحب اور مولانا ابو دجانہ صاحب مجمع کو کنٹرول کر رہے تھے اور ساتھ میں احترام مومن امن و شانتی برقرار رکھنے کی تلقین کر رہے تھے جنازہ پہونچنے سے پہلے ہی بورڈنگ میدان تقریباً پر ہوچکا تھا اس لئے عوام کو دائیں بائیں اور روڈ پر صفیں لگانے کے لئے عرض کیا گیا، عوام سے بار بار گزارش کی جا رہی تھی کہ علماء ومشائخ اور سادات کرام کو ہیلی پیڈ کی طرف بیری کیٹنگ کے آگے آنے کا موقع دیں لیکن جنازہ پہونچنے سے پہلے ہی علماء و مشائخ و سادات کرام کی صفیں شامیانے سے کافی آگے بڑھ کر لگ چکی تھیں بعد میں آنے والے حضرات کی وجہ سے جنازہ مبارکہ مزید آگے بڑھایا گیا، نماز جنازہ حضرت کے پیر و مرشد عارف باللہ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب نقشبندی کمال پوری دام ظلہ نے پڑھائی، چونکہ مقررہ جگہ سے بہت آگے بڑھنا پڑا اس لئے مائک پیچھے رہ گیا لہٰذا مکبرین کا بھی انتظام کیا گیا اگلی بیس پچیس صفوں میں زیادہ تر علماء ومشائخ رہے حضور رفیق ملت سید نجیب حیدر میاں صاحب قبلہ مارہرہ شریف، حضرت مولانا حضرت سید سہیل میاں صاحب بلگرام شریف، حضرت سید محضر علی مداری مکنپور شریف، ڈاکٹر عبدالسلام جیلانی علی گڑھ، مفتی اسرافیل مداری، مفتی فہیم احمد ازہری ثقلینی، علامہ عبد الرحیم صاحب باڑ میر وغیرہ ہزاروں علماء و مشائخ اور لاکھوں عوام اہل سنت کے علاوہ سیکڑوں غیر مسلم بھی صفوں میں لگے ہوئے تھے اور وہ سب بھی سر ڈھک کر کھڑے تھے۔ اس

جنازے کی یہ بھی خصوصیت رہی کہ نوے ہزار لوگ تھے۔ ہر شخص رو رہا تھا اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کر رہا تھا، حاضرین و زائرین کی سہولت کے لئے اہل قنوج نے رضاکارانہ طور پر دو دنوں تک کھانے پینے کا مثالی انتظام کیا یہاں تک کہ جنازہ آنے جانے کے وقت روڈ پر پانی کے پاؤچ لئے کھڑے رہے، اہل محلہ نے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے، پورے شہر کی مارکیٹ پہلی مرتبہ مکمل بند رہی۔

نماز کے بعد دوسرے راستے سے جنازہ خانقاہ مجددیہ میں واپس لایا گیا، جہاں تین جگہ انتظامیہ پولیس اور رضاکار محبت کے ساتھ لوگوں کو خانقاہ کی بجائے جامعہ کی طرف بھیج رہے تھے تاکہ آسانی کے ساتھ ہر کسی کو تدفین میں شرکت کا موقع مل سکے، مولانا اخلاق احمد صاحب، مولانا سید نورعالم مصباحی اور راقم الحروف محمد آصف رضا مجددی قبر انور میں اترے، گلاب جل آب زم زم اور دیگر عطریات چھڑکے گئے نعش مبارک نیچے اتاری گئی جو کہ انتہائی ہلکی پھلکی پھول جیسی محسوس ہوئی، دل نے کہا کیوں نہ ہو کہ آپ اکثر و بیشتر اپنی دعاؤں میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ و الرضوان کے اس شعر

ہوں بار گنہ سے نہ خجل دوش عزیزاں

للہ میری لاش کو کر جان چمن پھول

کو پڑھکر رویا کرتے تھے اس لئے آج اس دعا کی قبولیت کا ظہور ہوگیا۔

قبر میں لٹاتے ہی چہرہ مبارکہ گلاب کی طرح کھل اٹھا۔

ساڑھے گیارہ بجے تدفین عمل میں آئی اور نماز مغرب تک مٹی دینے والے ترتیب کے ساتھ آتے رہے اور دوسرے راستے سے نکلتے رہے جبکہ نہ جانے کتنے لوگ نماز جنازہ پڑھکر ہی بھیڑ کی وجہ سے گراؤنڈ سے ہی رخصت ہوگئے۔

تدفین کے بعد فاتحہ خوانی اور صلوٰۃ و سلام کے وقت اہل ذکر پر آپ کے فیوضات و برکات کی ایسی بارش ہوئی کہ اسے الفاظ میں بیان کیا کرنا مشکل ہے اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی حضرات کو اس حاضری کی بدولت ذکرِ قلبی کی دولت حاصل ہوگئی۔

فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری

خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر