باب ۴۰ از ۶۵صفحات ۲۷۴–۲۸۷
اِتہاس نگر کی آفاقی خوشبو
مولانا محمد ظفرالدین برکاتی٭
وصال کے دن ۱۳ جولائی سے آج ۳۱ جولائی تک مفتی آفاق صاحب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بکھرے برکاتی اظہاریے۔
۱۳؍جولائی کو صبح سات بجے فون پر محب گرامی مفتی منظر محسن نعیمی نے سب سے پہلے وصال کی خبر دی اور مولانا نبیل اخترنوازی اشرفی آفاقی کے (واٹس ایپ) ذریعے ہمیں سب سے پہلے یہ خبر ملی کہ ‘‘مجدد سلسلۂ نقشبندیہ حضرت مرشد گرامی علامہ مفتی آفاق احمد نقشبندی، مجدی وصال یار فرماگئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون’’ ہم نے بھی ترجیع کے کلمات انا للہ و انا الیہ راجعون لکھے اور فوری طور پر افکار و خیالات احباب کو، ارسال کیے۔
یہ9 ذی قعدہ 1440ھ 13 جولائی 2019بروز ہفتہ کی بات ہے جب ہم نے بہت مشکل سے یہ جملہ لکھا کہ ‘‘سواد اعظم اہل سنت و جماعت کا خوش خصال خوش فکر عالم دین ، اللہ کو پیارا ہو گیا’’ اور مندجہ ذیل چند سطریں بھی لکھ کر احباب میں تقسیم کر دِیے:
طبعی عمر کو مکمل کرنے اور اپنے حصے کا کام پورا کرنے کے بعد اللہ کے بندے دنیا سے رخصت
ہوتے ہی ہیں اور ہر بندۂ خدا کے جانے سے بہت سوں کو یتیمی کا احساس ہونے لگتا ہے ۔بطورِ خاص علمی شخصیات کے وصال کے بعد دینی سر پرستی اور علمی قیادت و پشت پناہی کا قدرتی سایہ اٹھ جاتا ہے اور بے شمار لوگ یتیم ہو جاتے ہیں اور جو شخصیات بے شماروں کی مرکز عقیدت و محبت ہوتی ہیں، ان کے پس ماندگان کی کوئی گنتی نہیں ہوتی جیسے ہمارے کرم فرما حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب قبلہ کے اچانک انتقال سے بے شماروں کی پس ماندگی کی نوبت آن پہنچی ہے۔
یوں تو سواد اعظم اہل سنت و جماعت کی اکیسویں صدی میں عجیب صورت حال ہے کہ گزشتہ انیس سالوں میں پچاس سے زائد علمائے دین ، سفر آخرت پر روانہ ہو گئے ہیں اور اپنا کام اپنوں کے حوالے کر گئے ہیں ۔سچی بات یہ ہے کہ ذاتی طور پر شہید بغداد حضرت مولانا اسید الحق محمد عاصم القادری عثمانی بدایونی ازہری کے وصال کے وقت جو ہماری کیفیت تھی، آج انتہائی مخلص خود دار عالم دین، با عمل با کردار مفتی اور خوش خصال خوش فکر شیخ طریقت حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب قبلہ کی رحلت کے وقت بھی وہی کیفیت ہے،نہ جانے کیوں دونوں کے وصال کا درد ہمیں ایک جیسا لگتا ہے۔اللہ تعالی اپنے حبیب پاک علیہ الصلوۃ و السلام کے صدقے ہمیں ایسے مخلص بندوں کا نعم البدل عطا فرمائے ، اِن دونوں علمائے دین کی خدمات کے صدقے ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ (بندۂ عاصی برکاتی)
ایک دوست نے لکھا کہ ان کی مغفرت کی دعا بھی کریں تو ہم نے لکھا کہ وہ تو جنتی ہیں ہی، اس لیے ہم دعا کریں کہ ان کا دینی تعلیمی ادارہ جاتی نظام باقی رہے اور ترقی پذیر ہو۔ایسے نیک بندے ہماری دعائوں کے محتاج نہیں بلکہ ہم ان کے وسیلے سے عمل خیر کی دعا کریں اور اپنی اچھی بھلی آخرت کی دعا کریں۔ اس کے بعد اُسی دن ہماری دوسری یہ تحریر قلم سے نکل کر دوستوں کی بزم فکر و نظر کی آفاقی محفل میں جاپہنچی کہ یتیم ہو گئی اتہاس کی نگری، شہیدوں کی سر زمین قنوج اورفروغ تصوف کانقشبندی سورج غروب ہو گیا۔
یعنی حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی ( 1959 / 2019 ) سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔بروز اتوار صبح دس بجے تدفین ہوگی،ان شاء اللہ نماز جنازہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کریں گے ۔
مفتی محمد منظر محسن نعیمی نے مطالبہ کیا کہ مفتی صاحب پر لکھے ہوئے اپنے اداریے کا پہلا پیراگراف بھیجیے تو پہلے ہم نے انھیں مکمل اداریہ بھیجا پھر یہ اقتباس :
دیناً مسلم، اعتقاداً و مسلکاً سنی، مذہباً حنفی، مشرباً نقشبندی مجددی شیخ طریقت حضرت مفتی آفاق احمد مجددی (قنوج) خلوص کاعملی نمونہ، اخلاص کا کردار ساز پیکر، اتحادِ ملت کے لیے درد مند کوشاں، جماعتی شیرازہ بندی کا امیدوار ، دین سے الفت اور دین دار سے محبت کا داعی، گناہوں سے نفرت اور گناہ گاروں کی اصلاح و فلاح کا مبلغ، دین و سنیت سے بغاوت کادشمن اور کوتاہ فکر باغیوں کی گھر واپسی کا آرزو مند، دین بے زار سماج سے نالاں لیکن دین دار بنانے کا عملاً خواہش مند ، مذہب و مسلک بے زار نوجوانوں سے ناراض لیکن بے زار نوجوانوں کی مسلک بے زاری کے اسباب پر غور و خوض کا متمنی ، نوجوان علما میں بغاوت کے تیور سے پریشان لیکن باغیانہ آگ کو بجھانے کی حکمت عملی پر فکر بند ، چلتی ٹرین پر نماز کی ادا و قضا سے متعلق زبانی اور قلمی جنگ سے بیزار لیکن جنگ و جدل مزاج ، عمل بے زار عالموں کو نمازوں کی پابندی کی دعوت دینے والا تلقین کار۔اب نہیں رہا ۔
اس کے بعد محب گرامی مولانا فہیم احمد ازہری کے چند خیالات کو ہم نوابناکر ہم نے یہ گزارش نامہ پیش کیا کہ نماز جنازہ میں عقیدت مندوں کے سیلاب کو سنبھالنے کی تیاری شروع کر دی جائے۔قنوج کے علمائے کرام توجہ دیں:
(۱)بیرونی مہمانوں کی رہنمائی فرماتے رہیں ۔ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹیشن پر رہنمائی کے لیے رضا کار منتخب کیے جائیں، بھروسے مند غیر مسلم نوجوانوں کی خدمات بھی لی جا سکتی ہیں،بطورِ خاص مرکزی علاقے میں عوام کی بھیڑ کو روکنے کے لیے یہ سب کرنا لازم ہے ۔ (۲)قنوج شہر کے اندر جتنے راستے داخل ہوتے ہیں اُن راستوں پر پڑنے والی تمام مساجد کی نشاندہی فرمائیں تاکہ وضو ،غسل، نماز ،وغیرہ سے لوگ بآسانی فارغ ہو سکیں ۔(۳) قنوج کے مضافات، قرب و جوار میں جو مکتب اور مدرسے ہیں وہاں مہمانوں کو وضو ،نماز وغیرہ کی آسانی فراہم کی جائے۔(۴) نماز جنازہ کہاں ہوگی ؟ (۵)تدفین کہاں ہوگی؟ ابھی اعلان کردیا جائے(۶) نماز جنازہ کا جلوس کدھر سے میدان کی طرف جائے گا اور کدھر سے واپس آئے گا؟ یہ بھی واضح کردیاجائے۔(۷)بیرونی مہمان اپنی گاڑیاں کس طرف سے لائیں اور کہاں کھڑی کریں؟ یہ بھی بتادِیاجائے۔ (۸)انتظامی احتیاط کے تحت پولس انتظامیہ کی طرف سے کون کون سے راستے گاڑیوں کے لیے بند رہیں گے اور کون کون سے راستے گاڑیوں کے لیے کھلے رہیں گے۔اِن سب کی اطلاع دی جائے اور وضاحت نامہ جاری کر دیا جائے ۔
کل (۱۴جولائی کو)نمازِ جنازہ کے وقت اگر لائوڈ اسپیکر استعمال ہوتا ہے تو احتیاط سے دیکھ لیں کہ تاخیر کی صورت میں اور دور تک آواز پہنچانے کی صورت میں کوئی دقت نہ ہو ، وقت ضرورت مختلف اعلانات اور صف بندی کے لیے افراد منتخب کر لیے جائیں اور ایک ہی لائوڈ اسپیکر استعمال کیا جائے یا پھر مکبرین کی تیاری اور جگہوں کا انتخاب ابھی کر لیا جائے ۔برکاتی
اِس پر مولانا زین العابدین نقشبندی صاحب نے جواب دیاکہ لاؤڈ-اسپیکر اور مکبرین دونوں کا انتظام ہے۔ ہر راستے پر پولیس رہنمائی کے لیے تیار ہے۔ہم نے کہا کہ ما شاء اللہ،احتیاطی توجہ کی نظر سے نظر ثانی کر لیں اور باقی امور پر بھی توجہ دی جائے۔انھوں نے بتایاکہ اسٹیشن اور بس اڈے سے ٹیمپو والے خود ہی مدرسے تک چھوڑ رہے ہیں۔ہم نے لکھا کہ آپ حضرات میں سے بھی دو، دو افراد کا چند موٹر سائیکل گروپ ہونا چاہئے تا کہ آپ اپنے مہمانوں کی خیر و خبر سے با خبر رہیں۔مولانا نقشبندی نے بڑی اچھی بات بتائی کہ اِس وقت پورا قنوج میزبان ہے، ہندومسلم سبھی رضا کار ہیں تو ہم نے لکھا کہ’’یہ تو فطری عمل ہے مقامی لوگوں کا ، مفتی صاحب کی نیکیاں اپنی کرامت دِکھا رہی ہیں۔‘‘
نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوسکا تو ایک پیغام عام اور ایک تعزیت نامہ بنام صاحب زادگان سوشل میڈیا پرعام کیا۔
السلام علیکم احباب گرامی۔آپ قنوج کے سفر میں ہیں ، بخیر و عافیت نماز جنازہ میں شریک ہوں، ضرورت پڑے تو اپنے حصے کی رضا کارانہ خدمت ضرور پیش کریں، جذبات کو قابو میں رکھیں اور کسی بھی بندۂ خدا کے لیے زحمت نہ بنیں۔شاید اب شرکت کی سعادت سے محروم رہے، اس لیے اُسے بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالی ہم سب کو خوش حال اور فارغ البال بنائے اور اپنے دین کی خدمت کا موقع عطا فرمائے۔آمین
عزت مآب مولانا محمد آصف رضا مجددی و مولانا قاری ضیاء القمر مجددی صاحبان اور حضرت کے صاحب زادگان۔السلام علیکم
یہ زمینی اور تاریخی صداقت ہے کہ حضرت مفتی صاحب قبلہ دینی قومی خدمات کرتے کرتے قومی شخصیت بن گئے تھے، اس لیے آپ کا وصال ایک قومی ملی اور جماعتی سانحہ ہے۔ دوسری بڑی سچائی یہ ہے
کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت ہے کہ اپنے جس بندے سے جتنا کام لینا منظور ہوتا ہے، وہ لیتا ہے اور پھر واپس بلا لیتا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب قبلہ نے اِس قدرتی نظام کے تحت اپنے حصے کا کام کر لیا تھا ، اس لیے اللہ کو پیارے ہو گئے اور یقیناً بہت کچھ کیا، یہ کیا کم ہے کہ اونچی نیچی اوبڑ کھابڑ زمینوں پر علم و فضل کا آفاقی قلعہ تعمیر کر دیا جس کے مصر اور فناءِ مصر کی حدیں سرہند پبلک اسکول سے بھی بہت آگے جا چکی ہیں اور آپ حضرات ہی اس قلعہ کے محافظ ہیں، اس لیے اب ان کے سبھی پس ماندہ، باقی ماندہ دینی علمی، تعمیری اور تبلیغی، تصنیفی اور تربیتی کام آپ حضرات کے فرائض میں شامل ہو گئے ۔ حضرت مفتی صاحب کے شب و روز آپ کے سامنے ہیں، ان کی کامیاب عملی زندگی کے سفر و حضر آپ کے سامنے ہے، انہی کی روشنی میں آپ سبھی حضرات مل جل کر حضرت کی روح کو خوش کرنے کے لیے یہ فرائض انجام دینے کی بھرپور کوشش کریں۔
ان شاء اللہ حضرت مفتی صاحب قبلہ کی حیات میں ہم جو بھی تعاون کرتے رہے ہیں، اب بھی پیش کرتے رہیں گے۔ افسوس ہے کہ کسی وجہ سے حضرت کی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت سے محروم رہیں گے لیکن وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ آپ کا بھائی آپ کا دوست برکاتی۔
نماز جنازہ کے دوسرے دن جنازہ میں شریک مومنوں کی تعداد کا تقابل کرتے ہوئے شخصیات کی پیمائش ہونے لگی اور نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد سے شخصیت کے بڑی ہونے کی دلیل بازی شروع ہوگئی،کہا گیا کہ یہ سب سازش کے تحت کج فہم لوگ لکھ بول رہے ہیں تو ہم نے لکھاکہ
کوئی سازش نہیں۔ تخمینی سوچ اور پیمائشی مزاج کا فرق ہے، یہ سب کوئی مسئلہ نہیں، ایسی باتوں میں اپنے اوقات لگانے کی ضرورت نہیں۔آپ لوگ اپنی زمینی حقیقت اور تاریخ لکھنے اور محفوظ کرنے کی کوشش کریں، ایسی باتوں میں الجھ گئے تو اپنی روشن تاریخ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ مفتی صاحب سے جس بھی شخصیت کو فوقیت دینے کی کوشش کی جائے، وہ مفتی صاحب کی نظر میں بھی فوقیت رکھتی ہے تو پھر دِقت کس بات کی ہے اور تقابل کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ آپ کے مفتی صاحب کا یہ مشن نہیںبلکہ اپنے کام سے کام اور اپنے حصے کا کام کیے جانا مفتی صاحب کی روش اور سنت ہے، اس لیے آپ حضرات اپنے قائد کی روش اور سنت پر چلیں، اِدھر ادھر کی باتوں میں پڑ کر اپنی ذمے داریوں سے غافل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مفتی صاحب کے علم و عمل اور فضل و فیضان کا صدقہ
دہلی ذاکر نگر میں رضا مسجد کے امام مولانا عمران احمد ازہری نے ہماری ایک بات کے جواب میں اک بڑی اچھی بات کہی کہ (۱) انتساب علم الی صاحبہ (۲)اصاغر نوازی (۳)تواضع انکساری، یہ تینوں ہی چیزیں اِس دور مصلحت میں خال خال نظر آئیں گی جو کہ مفتی صاحب میں یکجا موجود تھیں۔ہوا یوں کہ حضرت کو میں نے یہودیوں کے دس منصوبوں کے بارے میں پہلے کبھی کسی مجلس میں بتایا تھالیکن اس پروگرام میں جس میں شریک بھی نہ تھا مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ بیان کس جگہ کا ہے، یہ اتفاق سے فیس بک پر ملا جس میں، میں نے اپنا نام حضرت کی زبانی سنا تو بے حد مسرت شادمانی محسوس ہوئی اور تین اہم باتیں سیکھنے کو ملیں جن کا ذکر اوپر ہوا ۔الغرض یہ کہ حضرت نے میرا نام لے کر اُن منصوبوں کا ذکر کیا،یہ انتساب علم الی صاحبہ ہے۔مجھ چھوٹے سے طالب علم کا ذکر کرنا، اصاغر نوازی کی ایک بہترین مثال ہے ۔ حضرت نے میری نسبت ارادت اپنی طرف کرنے کی بجائے حضرت تاج الشريعہ کی جانب کی، حالانکہ میں حضرت سے طالب تھا لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنی طرف نسبت نہ فرمائی بلکہ تاج الشريعہ کی جانب کی ، یہ تواضع و انکساری کی اعلیٰ علامت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے حضرت کے بے شمار درجات بلند فرمائے اور ہمیں نقش پا کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
مولانا عمران احمد ازہری نے اخیر میں الگ سے یہ جملہ لکھا کہ ‘‘ایک انسان کیا کیا سکھا گیا’’ تو ہم نے کہا کہ بے شک ہمیں بھی احساس ہے لیکن سفر آخرت پر روانہ ہونے کے بعد معلوم و محسوس ہوا۔اس کے بعد ‘‘اُس اک انسان’’ کی خوبیاں بیان کرنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
حضرت کے عرس چہلم کے اشتہار کو دیکھ کر ہم نے لکھا کہ
مروج روایتی بدعات سے پرہیز، بڑی مشکل بات ہے ،پھر بھی نام کے اوپر دیے گئے القاب کی بجائےنام کے بعد بانی خطیب طیبہ مسجد، بانی و سابق سربراہ و مہتمم جامعہ احمدیہ سنیہ، جامعہ محصنات للبنات ،فروغ تصوف فاونڈیشن ،وارثی انٹر کالج ،سرہند پبلک اسکول، مجوزہ امام ربانی انٹرنیشنل یونیورسٹی، الوارث اسلامک ریسرچ سینٹر ،تحریک فلاح دارین و(دیگر) مدارس و مساجد و مکاتب کثیرہ و مصنف و مولف و مترجم کتب متعددہ لکھ دیتے تو مزہ آ جاتا،اک نئی مبارک خوش گوار بدعت کی بنیاد بھی پڑ جاتی ۔
مولانا قاری ضیاء القمر آفاقی نے لکھا کہ ’’بات تو پتے کی ہے برکاتی صاحب ! ہم نے لکھ دیا کہ ’’پتے کی بات ضرور ہےضیاء القمر بھیالیکن یہ پتہ کبھی ہلنے والا نہیں‘‘ تو مولانا فہیم احمد ازہری نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ پتہ ہلنے لگا ہے اور آپ کے الفاظ ہی اشتہار میں شامل کر دِیے گئے ہیں ۔دیکھا تو واقعی ایسا ہی تھا لیکن رضی اللہ عنہ لکھنے پر ہماری وجہ سے ایک بحث نکل پڑی تو ہمیں ایک واقعہ لکھنا پڑا تا کہ ہماری گفتگو بے دلیل نہ رہ جائے ۔ وہ یہ کہ
صحابہ کرام کو ہی رضی اللہ عنہ جچتا ہے،صحیح بات تو یہی ہے ۔تابعین کے بعدکسی کے لیے لکھنا بھی نہیں چاہیے ۔دراصل خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم کے بعد کی اسلامی شخصیات کے لیے بالکل استعمال نہیں ہونا چاہئے۔یہ حضرت مفتی آفاق صاحب سے ہماری گفتگو کا خلاصہ ہے جو تین چار سال پہلے ذاکر نگر میں مشتاق احمد آفاقی کے مکان پر ہوئی۔جب ہم نے اسے عقیدہ کہا تو حضرت نے اس کی تردید کی کہ یہ عقیدہ نہیں، البتہ سچائی یہی ہے کہ انہی کو جچتا ہے جیسے علیہ السلام نبی رسول کو جچتا ہے ۔
مفتی صاحب پر قلمی کام کا مشورہ دینے والے احباب میں اپنا نام درج کرانے کے لیے ہم نے چند مشورے دِیے جیسے:
بطور خاص مفتی صاحب کی تصنیفی خدمات، کتابوں کا تعارف، مدرسے اور اسکول کے نصاب تعلیم و نظام تعلیم، دار المطالعہ، نسواں کی تعلیم و تربیت اور نصاب تعلیم و نظام، مضافات میں دعوتی اقدامات، مریدین میں اصلاحی خدمات وغیرہ پر تحریریں زیادہ عام ہونا چاہئیں۔ہم نے یہ مشورہ بھی دیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ دستیاب ایسی تمام آڈیوز، وِڈیوز کو تحریری صورت میں جمع کریں، کسی ایک شخص کے حوالے یہ کام دیا جائے اورخلفا پر کام کرنے کی گفتگو شروع ہوئی تو ہم نے لکھا کہ یہ موضوع بھی کوئی صاحب اپنے ذمہ لے سکتے ہیں’’بیعت و ارادت، اجازت و خلافت ‘‘ محب گرامی قاری ضیاء القمر نے بتایا کہ برکاتی صاحب قبلہ آج اس حوالے سے ایک نشست کی گئی ہے اور مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے اور کچھ کام کا خاکہ بھی مرتب کیا گیا ہے۔
مولانا ضیاء القمر صاحب سےایک دن ہم نے کہا کہ تعزیت نگاروں سے اصل تعزیت حاصل کریں، اخباری تعزیت نامے اور بیانات تو بہت ہوں گے لیکن یہ آپ کو نہیں بھیجے گئے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کے احباب کو بھیجے گئے ہیں ۔قنوج شہر کے چیئر مین یا میئر، سابق و موجودہ ڈی ایم ،ایس ڈی ایم، ایم
پی، ایم ایل ایز، عطر ساز تاجرین اور مقامی سماجی سیاسی افراد سے بھی کسی کو رابطہ کر کے اُن کے تحریری تاثرات جمع کرنے کے لیے لگا دیا جائےاور بطورِ خاص اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے بانیان اور پرنسپل صاحبان سے ضرور تاثرات لیے جائیں۔
اس کے بعد اہل قلم سے اِن عناوین کے تحت فرمائش کے تحت لکھوانا شروع کر دیں:
مفتی آفاق احمد مجددی ۔آباء و اجداد، جائے پیدائش۔اساتذہ و مادر علمی ۔مشائخ طریقت و خلفاء۔ تعمیری، تدریسی، دعوتی، اصلاحی، فلاحی، تربیتی، تعلیمی خدمات۔ادارہ سازی۔شخصی خوبیاں ۔عالمانہ وقار۔ صوفیانہ کردار ۔تربیت اولاد ۔تربیت اقرباء ۔ سفر و حضر ۔یومیہ معمولات۔کتب بینی اور کتابوں سے محبت ۔طرز خطابت ۔پند و نصیحت کا طریقہ ۔کامیابی پر خوشی کا معیارِ اظہار ۔ناکامی پربھی شکر گزاری ۔ ماتحتوں سے برتاؤ کا معیار ۔ اساتذہ کی کم تنخواہ پر قلبی تکلیف کے اظہاریے۔ مروجہ دینی جلسوں کی بے راہ روی پر آفاقی نظریہ۔ دینی جلسوں کی افادیت اور ذاتی جلسوں کا معیار و منہاج۔ کام کے افراد کی تلاش کی للک ۔کام کے افراد سے محبت و حوصلہ افزائی ۔جماعتی بے تنظیمی پر بے چینی کا اظہار ۔جماعتی قیادت کی بحالی کی کوششوں کا جائزہ۔ مہمان نوازی ۔معلمانہ شفقت۔ پدرانہ جذبات ۔شان سربراہی ۔ شان اہتمام و انتظام۔ نظافت و نفاست۔ نظام صفائی پر توجہ۔ طلبہ و فارغین کی رہنمائی ۔ فارغین کی خیر خواہی۔ اکابر شناسی۔ اصاغر نوازی وغیرہ وغیرہ۔
پھر ہم نے یہ گزارش کی کہ کوئی صاحب ایسے ہیں جو کانپور سے قنوج پہنچنے کے وقت سے تدفین کے بعد تک کا آنکھوں دیکھا حال لکھ دیں لیکن خیال رہے کہ غلو بالکل نہیں ہونا چاہئے،مفتی صاحب ہماری غلو مندانہ اور پیدل عقیدتوں کے محتاج پہلے بھی نہیں تھے اورآج بھی نہیں،اس کابڑا فائدہ ہے، ضرور کیا جائے۔ تو محب گرامی مولانا محمد آصف رضا مجددی آفاقی نے لکھنا شروع کیا (جسے آپ مفتی صاحب پر نکلنے والی کتاب میں ملاحظہ کریں گےلیکن یہاں) معلومات میں اضافہ کے لیے فہیم ازہری کا لکھا ہوامنظر نامہ ملاحظہ کریں:
آفاقی جنازے کا منظر بہت خوب تھاعوام کی حد بندی کے لیے بجانب مغرب بانس کے بلے باندھ دِیے گئے تھے تاکہ عوام آگے نہ بڑھ سکیں، ان بَلوں سے آگے علما مشائخ سادات تھے۔ مکبرین کے ساتھ لاؤڈاسپیکر بھی تھا جس کا انتظام خلیفہ بحرالعرفان مولانا زین العابدین مجددی گنج ڈنڈوارہ کے ہاتھ میں تھا ۔ مفتی
صاحب مرحوم کے صلہ بین البحرین ہونے کا یہ نتیجہ بڑا خوش گوار تھا کہ نمازِ جنازہ میں مکن پور شریف، بلگرام شریف اور مارہرہ شریف کے سادات بھی موجود تھے۔ دیگر انفرادی خصوصیات اور مجمع البرکات ہونے کاثبوت یہ تھاکہ سہروردی، قادری، چشتی نظامی صابری، اشرفی، وارثی، نقشبندی مجددی ،برکاتی، قلندری مداری مشائخ اور سادات اور علما تھے۔ بہت خوشی محسوس ہوئی جب اعلان کر کے بالخصوص علما ومشائخ اور سادات کو اگلی صفوں میں بلایا گیا۔
مفتی صاحب کے پیر و مرشد حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں کمال پوری نقشبندی مدظلہ العالی سجادہ نشین خانقاہ خیریہ نقشبندیہ کمال پور ضلع مرزا پور متصل بنارس نے نماز جنازہ پڑھائی۔ مفتی صاحب کی محبت میں مسلم غیرمسلم عوام و خواص سب نے وضو غسل چائے پانی ناشتے کے لیے اپنے دروازے چوبیس گھنٹے تک کھولے رکھے۔ صبح کے نو بجے میں نے ایک گھر میں ناشتہ کیا تو ایک شخص کہہ رہا تھا کہ مہمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہو، کوئی بھوکا نہ رہے ورنہ حضرت {بحرالعرفان} ناراض ہو جائیں گے کہ میں نے مہمانوں کو کبھی تکلیف نہ ہونے دی لیکن میرے بعد فوراً ہی تم لوگ مہمانوں کے آداب بھول گئے۔خانقاہ، مدرسے کا محلہ، خانقاہ سے بورڈنگ میدان تک روڈ کے دونوں طرف حاشیے پر پانی کا اچھا انتظام تھا۔ جنازہ مبارکہ الجامعةالاحمدیہ حمالی پورہ کے صحن میں مسجد کے سامنے نیم کے درخت کے سایہ میں کچھ اونچے مقام پر رکھا گیا تھا۔ ہر چہار جانب سے بانس بلے باندھ دِیے گئے تھے تا کہ آخری دیدار بآسانی ہو سکے ۔ قطار در قطار لوگ آخری دیدار کر رہے تھے۔
پرشاسن، پولیس انتظامیہ، رضا کار جامعہ کے علما و طلبہ نے ایسے حادثاتی موقع پر بھی اپنے ہوش حواس کو درست رکھتے ہوئے اچھا انتظام کیا ۔ آخری دیدار، جلوس جنازہ کی آمد و رفت، تدفین کے لیے مدرسہ و مسجد سے ہوتے ہوئے خانقاہ میں داخل ہوتے اور مٹی دے کر دوسرے راستے سے خانقاہ سے باہر نکل جاتے، جو لوگ مدرسے کے احاطے میں آخری دیدار اور وضو سےفارغ ہوتے وہ سب سیدھے بورڈنگ میدان پہنچ رہےتھے۔ وہاں پر ساؤنڈ سسٹم لگاہوتھا مجمع کو کنٹرول کرنے کے لیے اور علمائے کرام بھی موجود تھے۔ بورڈنگ میدان میں بلامبالغہ دو لاکھ افراد کی گنجائش ہے، میدان کے علاوہ بجانب مغرب کافی دور جنازہ رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سرائے سے مدرسہ تک تین کلو میٹر کی دوسری ہے، وہاں تک مجمع کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
(فہیم احمد ازہری، ککرالہ، بدایوں شریف ١٥ جولائی ٢٠١٩ ء بروز پیر)
دوچار دنوں پہلے ہم نے لکھا، عرض یہ ہے کہ الجامعہ الاحمدیہ، وارثی انٹر کالج، سرہند پبلک اسکول، جامعہ نسواں، فروغ تصوف فاؤنڈیشن، ذیلی تعلیمی اداروں اسکولوں انجمنوں اور مسجدوں کا یکجا کہیں تعارفی تذکرہ ہے تو دستیاب کرائیں، ہمیں صرف ایک ہی مضمون لکھنا ہے اور ایک خاص تناظر میں لکھنا ہے۔صوفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کا تعارفی خاکہ ہے تو ضرور فراہم کریں۔ایک ضروری بات کہ مفتی صاحب کے تعمیر و قائم کردہ اداروں میں کتنے حضرات مشاہرہ والے معلم ،استاد، امام، ملازم وغیرہ ہیں ؟تفصیلات فراہم کی جائیں۔معلومات تو نہ ملیں لیکن احمد سعید مجددی صاحب نے اِسی سوال کے تناظر میں لکھا کہ
جدید دار الاقامہ برائے طلباء کی تعمیر ۲۰۰۵ ءمیں ہوئی ۔اس کے بعد الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کی پہلی مسجد کی تکمیل ۲۰۰۶ ءمیں ہوئی ۔الفاروق دار التدریس کی تعمیر ۲۰۰۸ء میں۔ریاض حسین سینٹرل لائبریری کی تعمیر ۲۰۰۹ ء میں۔الزاویۃ المجددیۃ کی تعمیر و افتتاح حضرت عارف باللہ مولانا شاہ احمد رضا خان نقشبندی کمال پوری کے مقدس ہاتھوں اکتوبر ۲۰۱۰ ء میں ہوا۔ سرہند پبلک اسکول جس کاقیام ۱۵ رجب المرجب ۱۴۳۲ ھ مطابق ۱۸ جون ۲۰۱۱ ء میں ہوا جس میں ڈاکٹر فخرالدین ڈائریکٹر میسکو حیدرآباد، ڈاکٹر رفیق محترم عبد المعبود خاں کسٹم آفیسر ممبئی اور سپا مقامی کے رکن پالیمانی اکھلیش یادو جی اور دیگر لیڈران اور تعلیم یافتہ طبقہ حاضر ہوا ۔الوارث مرکز التحقیقات الاسلامیۃ کا افتتاح ۱۶ رجب المرجب ۱۴۳۲ھ مطابق ۱۹ جون ۲۰۱۱ ءمیں ہوا جس میں حضرت عارف باللہ اور دیگر اہم لوگ شریک ہوئے۔
وصال کے چار پانچ دنوں کے بعد ایصالِ ثواب، قرآن خوانی اور تعزیتی محفلوں میں شرکت رہی اور جہاں ہم کو اظہارِ خیال کا موقع ملا، اُسے اخبارات میں بھی جگہ ملی۔ایسی دوخبریں معلوماتی ہونے کی وجہ سے یہاں شامل کی جارہی ہیں۔
حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب قبلہ موجودہ علمائے اسلام کے درمیان ایک منفرد ممتاز عالم دین تھے جو، الگ ڈھنگ سے سوچتے اور منفرد انداز میں اقدام کی کوشش کرتے ، اپنی سوچ پر پہلے خود کاربند ہونے پر یقین رکھتے تھے، قنوج جسے ‘‘اِتہاس کی نگری’’ اور ‘‘خوشبوؤں کا شہر’’ کہا جاتا ہے وہاں مفتی صاحب نے ایک قدیم ترین چھوٹی سی مسجد سے تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا، آپ
کی منفرد مخلصانہ کوششوں کی بدولت آج سیکڑوں ایکڑ میں آپ کی تعمیری خدمتوں کے شامیانے تنے ہوئے ہیں ۔ہم ذاتی طور پر اُن کی ذاتی خوبیوں میں ایک خوبی کی وجہ سے انھیں بہت پسند کرتے ہیں کہ وہ مدرسہ و مکتب سے دست بردار ہوئے بغیر، اسلامی ماحول میں اسکولی تعلیم اور پروفیشنل کورسیز کے معیاری اسکولوں کے ذریعے اسلامی دعوت و تبلیغ اور مسلم معاشرہ کی اصلاح و فلاح کے ایسے قائل تھے کہ قنوج شہر میں دو بڑے معیاری اسکول قایم کیے، سرہند پبلک اسکول، وارثی انٹر کالج اور تیسرے کی تیاری میں تھے۔جب کہ سرہند پبلک اسکول کے آپس پاس اور پیچھے کی وسیع وعریض زمین یورنیوسٹی کے لیے حاصل کرلی تھی۔
بروز اتوار ۱۴ جولائی ۲۰۱۹ ء کو برکاتی بک سینٹر جامعہ نگر دہلی میں موجود چند نوجوان علمائے کرام سے مولانا محمد ظفر الدین برکاتی نے مفتی صاحب کا تعارف کراتے ہوئے یہ باتیں کہیں اور بتایا کہ مفتی صاحب خود کفیل مدرسہ کے قائل تھے، اسی لیے آپ نے اپنے دینی ادارہ جامعہ احمدیہ قنوج میں دھان کوٹنے، گیہوں پیسنے، مسالہ پیسنے اور مطبخ و ہاسٹل کی ضرورت کے سبھی انتظام کر رکھے ہیں تا کہ ان کے لیے بار بار مدرسہ سے دور جانا نہ پڑے۔ ماحولیات کو خوش گوار بنا کر رکھنے پر بھی مفتی صاحب اتنی توجہ دیتے کہ ہر عمارت کے ارد گرد خالی جگہ چھوڑی، سایہ دار درخت لگائے اور مختلف قسم کے پھولوں کی شجر کاری کی ہے۔ ایک خود کفیل غیر سرکاری مدرسہ میں اس طرح کی بنیادی چیزوں پر توجہ دینا، بانی و مہتمم کے انتہائی با ذوق اور نفیس طبیعت ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔ مدرسہ کے احاطے میں رونق افروز طیبہ مسجد کے سامنے کا حوض اور فوارہ بھی اعلیٰ ذوقی کانمونہ ہے۔
بی بی سی دہلی میں موجود مولانا منظر امن مصباحی، مولانا محمد مصطفی رضا مصباحی امام کلوکری فردوسی مسجد، حافظ سہیل احمد سیوانی، مولانا صغیر احمد عزیزی جامعہ نظام الدین اولیاء، حافظ محمد سجاد ابراہیمی مدرسہ عبد الرحیم، حافظ محمد فہیم نظامی وغیرہ نے بھی حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب کی دعوتی خدمات، عالمانہ کارنامے ، داعیانہ کردار و عمل اور صوفیانہ حلیہ کے ساتھ ان کی شرافت و نفاست پر اپنی معلومات کو پیش کیا۔ مولانا منظر امن مصباحی نے برکاتی صاحب کی گفتگو کو مکمل کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب نے اسلامی علوم و تاریخ، مسلم ثقافت اور بطورِ خاص تعلیمات تصوف اور صوفیہ کی تاریخ کی تعلیم و تحقیق کے لیے ایک معیاری امام ربانی انٹرنیشنل یونیورسٹی کی منصوبہ بندی کر لی تھی ، ان کے
خلوص کے صلے میں زمین بھی حاصل ہو گئی تھی لیکن اچانک ہی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ یہاں مولانا نیاز احمد مصباحی نے کہا کہ اسی لیے ہم سکتے میں ہیں کہ یہ کیا ہو گیا، لیکن مرضی مولیٰ ازہمہ اولیٰ ۔اب مفتی صاحب کے تعلیم و تربیت یافتہ حضرات کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں، امید ہے کہ وہ مفتی صاحب کے تعلیمی مشن کو مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔قومی اخبارات میں یہ خبر حافظ غلام محی الدین امجدی ، شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، کی جانب سے شائع ہوئی۔
سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے عالم دین شیخ طریقت ، حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی قنوج زندہ کرامتوں والے صوفی اور با عمل بزرگ مفتی تھے اور صوفیانہ کردار و عمل والے تجربہ کار معلم و مصنف تھے ۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ وہ سفر و حضر میں وقت پر پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کرتے اور جماعت پر توجہ دیتے تھے۔ موقع پر موجود سب سے فرماتے کہ ’’ما شاء اللہ ، اتنے لوگ ہیں کہ جماعت ہو جائے گی۔‘‘یومیہ اعمال و وظائف میں بھی فرق نہیں آنے دیتے۔دوسری بڑی کرامت یہ تھی کہ ان سے کسی کو شکایت نہیں رہی کہ فلاں شخص ان سے اس لیے ناراض ہے اور فلاں شخص کا حق مارا ہے یا فلاں شخص کی انہوں نے دل شکنی کی ہے اور فلاں وقت انہوں نے کوئی غلط فیصلہ لیا۔ تیسری بڑی کرامت یہ ہے کہ ان کی بند مٹھی نے ان کے ادارہ جامعہ احمدیہ کے بہت سے اساتذہ اور ملازمین کی بنیادی ضروریات کی تکمیل میں اہم رول ادا کیا ہے ورنہ بقول ایک مدرس کے، اتنی کم تنخواہ میں آج کل کی ضروریات کو پورا کرنا نہایت مشکل ہے، مقامی قریبی لوگوں کا بیان ہے کہ ان کی بند مٹھی میں بڑی برکت تھی ۔
۲۱ جولائی ۲۰۱۹ء کو بروز اتوار مفتی آفاق احمد مجددی میموریل سینٹر، رضا چوک ذاکر نگر دہلی میں سجی ایصال ثواب اور قرآن خوانی کی محفل میں دعاسے پہلے مولانا محمد ظفر الدین برکاتی نے مفتی آفاق احمد مجددی کی علمی اور عملی زندگی کا تعارف پیش کرتے ہوئے یہ کرامتیں بیان کیں اور کہا کہ کہیں کے بھی سسرال والوں کو مفتی آفاق صاحب جیسا داماد مل جائے تو قنوج کی طرح دینی، علمی، دعوتی اور تعمیری تدریسی خوشبو پورے آفاق میں محسوس کی جائے گی اور پھیل بھی چکی ہے۔مولانا برکاتی کی دعاؤں پر محفل ختم ہوئی اور شیرینی تقسیم کرنے کے بعد سب کی ضیافت کی گئی۔
علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب کے دینی ادارہ جامعہ قادریہ دار القلم کے طلبہ نے قرآن خوانی کی جن میں مقامی افراد بھی شامل تھے اور محفل میں میزبان جمال احمد آفاقی الجمال اسٹیشنری اسٹور والے ، قاری
رضوان احمد بریلوی ،حافظ محمد اسلم آفاقی، حافظ محمد جاویدآفاقی، مولانا نور محمد آفاقی، شفیع الرحمٰن انصاری، مشتاق احمد آفاقی وغیرہ مفتی صاحب کے بہت سے عقیدت مند عوام و خواص شریک تھے۔قومی اخبارات میں یہ اطلاع حافظ سہیل احمد سیوانی، برکاتی بک سینٹر، سرسید روڈ، بٹلہ ہاوس، اوکھلا، نئی دہلی کی جانب سے عام ہوئی۔
اپنے ایک اردو ناخواندہ دوست کے لیے مفتی صاحب کی کتابوں کا تعارف نامہ لکھا کہ مفتی صاحب کی سادگی کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ ایک تجربہ کار مدرس عالم دین ہیں۔ ان کی مصروفیتوں اور مسلسل سفر کی مشقتوں بھری زندگی سے اندازہ نہیںہوتا تھاکہ وہ بہت سی اہم اور بنیادی کتابیں لکھ چکے ہیں جیسے:
درس نظامی سے متعلق فن منطق کی مشکل ترین کتاب ‘‘ملاحسن’’ کی شرح، اصول فقہ کی عربی کتاب ‘‘اصول الشاشی’’ کی شرح، علم صرف کی ابتدائی کتاب ‘‘میزان الصرف’’ کی کنجی لکھی ہے۔ بلاغت وعلم معانی پڑھاتے پڑھاتے شاعری شروع کردی جس کے نتیجے میں نعت ومناقب کا مجموعہ ‘‘نغمات بحرالعرفان’’ منظر عام پر آگیا لیکن سب سے زیادہ علم تصوف، صوفیہ کی تعلیمات، روایات، تفردات، خدمات اور کارنامے پر کتابیں لکھی ہیں جیسے:
دعوت الیٰ اللہ، عظمت صحابہ، تحدیث نعمت، ولایت ونبوت، حدیث تجدید، غوثیت ومداریت، ذکروفکر، آداب طریقت، تذکرہ مشائخ مجددیہ، تذکرہ مشائخ سہروردیہ، الہام وکشف کی شرعی حیثیت، معارف مجدد الف ثانی، صغرویٰ سادات کی خدمات۔ داغ ہائے دل، خصائص نقشبندیہ، سلاسل طریقت کے اسباب اختلاف، ترجمہ مقامات احمدیہ سعیدیہ، تحفظ سنیت اور مشائخ نقشبندیہ وغیرہ۔
’’مہتمم اور معلم کے آداب‘‘ نامی ایک کتاب بھی مفتی صاحب نے لکھی ہے۔اس نے کہاکہ مفتی صاحب اگر بزرگ ہیں تو کرامتیں بھی ہوں گی؟ ہم نے کہا کہ بالکل، ان کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ وہ سب کے لیے کار آمد ثابت ہوئے ہیں جن کا بھی آپ سے تعلق رہا ہے۔ دوسری کرامت یہ ہے کہ کردار وعمل میں پختہ انسان تھے اور علم واخلاص واخلاق کے اعتبار سے سچے پکے مسلمان تھے، اتنے پکے مسلمان کہ غیبت ، چغلی، حسد، کینہ، بدگمانی، غلط فہمی جیسی اخلاقی برائیوں سے تقریباً محفوظ تھے۔ طبعی طورپر اتنے شریف تھے کہ کوئی بھی اپنی بات انھیں سمجھالے جاتا، اپنی باتوں سے انھیں قائل کرلیتا لیکن علم وتجربہ اور مشاہدہ اتنا ہوگیا تھاکہ کبھی اپنے ادارہ اور ملت وجماعت کا نقصان نہیں ہونے دیا، نہ
ہمیں بڑی خوشی ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب قبلہ کے وساطت سے دعوت اسلامی کے عالمی امیر مولانا محمدالیاس عطارؔ قادری صاحب قنوج بھی تشریف لا چکے ہیں۔ دعوت اسلامی نے قنوج شہر کی اپنی کابینہ کا نام تبدیل کرکے ‘‘آفاقی کابینہ’’ رکھا ہے، وجہ معلوم کرنے پر پتہ چلاکہ حضرت نے چودہ سال دعوت اسلامی میں کام کیاہے اور بمبئی کے بعد دعوت اسلامی سب سے پہلے قنوج میں آئی۔
٭مدیر اعلیٰ ماہنامہ کنزالایمان ،دہلی۔۶