باب ۱۲ از ۶۵صفحات ۸۴–۸۸
سلسلۂ نقشبندیہ، مجددیہ کے عالمی ترجمان
مولاناعبد الرحیم مجددی نقشبندی
خلیفۂ حضور بحر العرفان، ملک چین
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم
اما بعد:تمام تعریفیں اللہ سبحانہ تعالی کی جو سارے جہان کا پالنہار ہے اور بے شمار درود و سلام نبی رحمت جناب محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی ذات پاک پر۔
انتہائی افسوس اور صدمہ ہوا یہ سن کر کہ سلسلۂ نقشبندیہ، مجددیہ کے عالمی ترجمان فردفرید اور عظیم سپوت، فکر مجددی کے معتبر و مؤقر اور موقع شناس عالم ربانی عصر حاضر میں تجدید احیاءتصوف کرنے والے یکتائے روزگار شخصیت، حضور بحر العرفان،مرشد گرامی حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی، نقشبندی، بانی و سرپرست اعلی الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ) قنوج ، یوپی، بھارت، مورخہ 9 ذی قعدہ 1440ھ بمطابق 13 جولائ 2019 کو وصال یار کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
حضور بحر العرفان کی رحلت نہ صرف مسلمانان ہندکےلیےبلکہ عالم اسلام کےلیے عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ آپ نے درویشانہ زندگی بسر کی مگر شہنشاہوں پر فوقیت لے گئے،آپ خود قناعت کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شکم سیری کی سبیل فراہم کرتےآپ نے مسجد کے ایک کونے میں زندگی گذار دی مگر طالبان علوم نبوت کے لیے شاندار رواق اور کمرے بنوادیے۔ آپ موجودہ دور کے واحد شیخ طریقت تھے جن کی سوچ و فکر میں بلند پروازی، وسعت و گہرائی، قدیم و جدید سے استفادہ کی پہل اور مصالح امت کے لیے ہر طرح سے قربانی کا جذبہ پایا جاتا تھا ،یقینا آپ کی ذات امت مرحومہ کےلیے باعث رحمت تھی، جو اب بھی ہے اس لیے کہ مرد حق آگاہ کی آخری آرام گاہ بھی باعث خیر و رحمت اور انوار و تجلیات الٰہی کا آیئنہ دار ہوتی ہے اور آج سرزمین قنوج میں آپ کی بابرکت ذات سے انوار وتجلیات کی برسات ہورہی ہے ، اور فیضان سرکار نقشبند و حضرت مجد الف ثانی سے شہر کا ذرہ ذرہ مثل آفتاب و ماہتاب بن چکا ہے .اخیر میں ،میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں اپنی پوری زندگی میں صرف چار علمی و روحانی شخصیت سے متأثر اور ان کا گرویدہ رہا ہوں ، پہلی ذات حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی ہے اور اس کے بعد یکے بعد
دیگرے حضرت شاہ کمال الدین و حضرت سید عبد الفتوح نقشبندی و حضرت سید داؤود رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی ہے۔ اللہ ان سب برگزیدہ بندوں کے طفیل ہمیں دارین کی سعادتوں سے سرفراز فرمائے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین
انتقال پر ملال
ادارہ تعلیمات نقشبندیہ مجددیہ پاکستان
اتر پردیش ہندوستان میں روحانی و علمی شخصیت محترم حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد رحمۃ اللہ علیہ مجددی نقشبندی کے انتقال پر ملال کے موقع پر ان کے تمام لواحقین اور جملہ خلفاء و مریدین سے تعزیت و افسوس کا برملا اظہار کرتے ہیں اور ان کی اس دکھ کی گھڑی میں انکے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ لواحقین و دیگر کو صبر جمیل عطا کرے اور مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے آمین ۔
حضرت کا پل پل کرامت تھا
قاری سید محمد اخترحسین صاحب کانپوری
تحریر اور ہوتی ہے تقریراور ہوتی ہے اس کے لئے یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم لوگ قریب رہنے کی وجہ سے سمجھ نہیں پائے ورنہ قسم خدا کی حضرت کی پل پل زندگی کرامت ہے اور درحقیقت حضرت کی زندگی ایسی زندگی ہے کہ اگر کوئی اسے قلمبند کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا ہے بس سب سے بڑی چیز ہے کہ جو حضرت نے عطا کیا ہے اس پر عمل کرنا ۔
یہ دور جب کہ کرامتیں گڑھنے کا دور ہے لیکن حضرت کی ذات با برکت سراپا کرامت ہے۔ حضرت اپنےحلم، اپنے علم وادب،تقویٰ و پرہیز گاری اور اخلاص ہر ایک چیز میں بے مثال نظر آتے ہیں ۔ حضرت نے اپنی مبارک اور مختصر زندگی میں جتنا بڑاکام کر دیا یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں یہ سب وہی کر سکتا ہے جس پر اللہ رب العزت کا خاص فضل ہوتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے نیکوں اور محبوبوں کے طفیل ہم سب کی مغفرت فرمائے اور حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
بے نشانوں کا نشاں متٹانہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائیگا
عظیم صوفی و بزرگ
مولانا انوار احمد قادری
محب گرامی! ترجمان خانقاہ مجددیہ آفاقیہ حضرت مولانا محمد آصف صاحب مجددی زید مجدہٗ
سلام مسنون مقرون ۔ مزاج وھاج
بہت ہی درد و کرب اور غم کی بات ہے کہ رہبر شریعت و طریقت حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی نور اللہ مرقدہٗ اپنے خالق و مالک حقیقی سے جاملے، آپ کے وصال کی خبر ملتے ہی ایسا لگا کہ دنیا تاریک ہوگئی اور آسمان ولایت پر پھیلا ہوا آفاق نہاں خانہ دل و دماغ سے محو ہوگیا ۔وہ ایک عظیم علمی و روحانی دنیا کو سیراب فرمارہے تھے ،آج ہمارے علماء و مشائخ انکے نقش قدم پر چل پڑیں تو عالم اسلام میں ایک عظیم علمی و روحانی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
ایسے عظیم صوفی اور بزرگ کی رحلت پر ہم کن الفاظ سے تعزیت پیش کریں ۔ ایسے خلیق و ملنسار ، علمی وقار ، فاضلانہ کردار، مشفقانہ گفتار غرضیکہ آپکی شخصیت ایک تحریک،ایک انجمن کے مانند تھی، جماعت اہل سنت میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیاہے،یہ ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری ملت کا نقصان ہے خداوند قدوس حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے اور پنے جوار خاص میں جگہ عطا فرماکر رحمتوں کی بارش برسائے اور جملہ صاحبزادگان و احباب،مریدین و منتسبین کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
کیسے بھولوں کہ اختیار نہیںپھر وہ بے اختیار یاد آئے
خانقاہ شیریہ شاہجی نگر بہیڑی ، (بریلی شریف)
ناقابل فراموش خدمات کے حامل
سید نور اللہ شاہ بخاری
دار العلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف ،باڑ میر، راجستھان
عالی مرتبت شہزادگان بحر العرفان حضرت مولانا احمد سعید آفاقی و برکات احمد آفاقی مجددی صاحبان السلام علیکم و رحمۃا للہ
مجھے یہ جان کر بے پناہ مسرت ہوئی کہ ’’فروغ تصوف فاؤنڈیشن ‘‘ کی طرف سے بحر العرفان
حضرت علامہ الحاج مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ کے عرس چہلم کے موقع پر آپ کے حیات و کارنامہ حیات پر مشتمل ایک عظیم و ضخیم کتاب بنام ’’بحر العرفان سمات و جہات‘‘ منظر عام پر آرہی ہے !
اپنے اسلاف کرام و مشائخ ذوی الاحترام نیز علماء ربانیین کی حیات اور کار نامہ حیات کتابی شکل میں محفوظ ہو جائے یہ بلا شک و شبہ لائق تحسین و تبریک کار نامہ ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کتاب سے استفادہ کر کے اپنی زندگی قابل رشک بنا سکیں !
ویسے بھی حضرت بحر العرفان علامہ مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ ان مسلم الثبوت علماء و شیوخ طریقت میں سے تھے جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ، لہٰذا اہل سنت با لخصوص حضرت کے تلامذہ متعلقین ،نیز مریدین و متوسلین کا یہ فرض ہے کہ حضرت مفتی صاحب قبلہ کی حیات وخدمات ،اقوال و فرمودات ،نیز نصائح کو آنے والی نسلوں کے سامنے پیش کریں تاکہ مفتی صاحب کے فیوض و برکات سے اہل سنت فیضیاب ہو سکیں جنہیں ان سے براہ راست فیض حاصل کرنے کا موقع میسر نہ آسکا یا یہ کہ جنہوں نے انہیں دیکھا تک نہیں ۔
دنیا میں روزانہ نہ جانے کتنے انسانوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے جو اپنی زندگی گزار کر چلے جاتے ہیں ،لیکن دنیا کو ان کے آنے جانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ ہی تاریخ میں ان کا کہیں کوئی ذکر ملتا ہے ۔ البتہ اس کائنات آرزو میں کچھ ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی اپنے تشخص ، اپنے کردار و عمل ،اپنے تلامذہ ،اپنی تصانیف اور اپنے رشد و ہدایت سے زندہ و جاوید ہو جاتی ہیں ۔ان کے اس دنیا ئے فانی سے چلے جانے کے بعد ایک دنیا غم مناتی ہے ،مخلصوں میں انکے مسلسل تذکرے ہو تے رہتے ہیں ، یہ اللہ عزوجل کا احسان عظیم ہے کہ اس نے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات و التسلیم کو کسی بھی دور میں ایسی عظیم شخصیات سے خالی نہیں رکھا ۔یہی وہ شخصیات ہیں کہ انکے وصال کو اگر چہ سالہا سال گزر جائیں مگر انکی یادیں انکے تذکرے اور انکی خدمات انسانیت کے سینوں کو مسلسل حرارت ایمانی دے کر اپنی عظمت منواتی رہتی ہیں ،ان ہی رہنماؤں کے سلسلئہ عالیہ میں ایک روشن نام تصوف کو فروغ دینے والی ایک عظیم شخصیت بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔
دار العلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف کے سابق مدرس و ناظم تعلیمات حضرت مولانا شمیم احمد نوری
مصباحی کے ذریعہ فقیر بخاری کو یہ پر رنج و الم خبر موصول ہوئی کہ بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ کا ابھی حال ہی میں 9 ذیقعدہ 1440ھ بروز ہفتہ انتقال پر ملال ہو گیا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت کے وصال پر ملال کے اس غم کے موقع پر ہم دار العلوم انوار مصطفیٰ سہلاو شریف کے جملہ مدرسین و طلبہ کی طرف سے حضرت کے جملہ پسماندگان با لخصوص آپ کے اہل خانہ ، مریدین و متوسلین اور تلامذہ کو تعزیت پیش کرتے ہو ئے بارگاہ رب ذو الجلال میں دعا کناں ہیں کہ مولیٰ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی خدمات دینیہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور انہیں اپنا قرب خاص عطا فرماکر انکے چھوڑے ہوئے دینی و تعلیمی مشن کو اہل سنت و جماعت با لخصوص انکی اولاد و تلامذہ کو پایہ تکمیل تک پہچانے کی توفیق خیر عطا فرمائے ،اور اہل سنت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ و آلہ ٖافضل الصلوات و ازکی التحیات