باب ۱۳ از ۶۵صفحات ۸۸–۹۲
بڑا افسوس ناک اور غمناک سانحہ
دنیائے اہل سنت کے لیے ایک بڑا افسوسناک اور غمناک سانحہ
مولانا احمد القادری اسلامک اکیڈمی آف امریکہ
السلام علیکم ورحمة الله و بركاته، انا للہ وانا الیه راجعون
پیر طریقت صوفی باصفا خیرالاتقیا حضرت علامہ مفتی آفاق صاحب نقشبندی مجددی رحمة اللہ علیه کے انتقال پرملال پر ہماری طرف سے تعزیت پیش ہے، بلاشبہ ان کا وصال دنیائے اہل سنت کے لئے ایک بڑا افسوسناک اور غمناک سانحہ ہے۔اللہ تعالی اہل سنت والجماعت کو صبر جمیل اور ان کا نعم البدل یا بدل عطا فرمائے، اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اللہ تعالی ان کو غریق رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آپ کو اور تمام اہل خانہ ومتعلقین ومریدین و تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور اس پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبه سید المرسلین، علیه الصلوة والتسليم
آہ! حضرت بحرالعرفان نہ رہے
مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا
بریلی شریف یوپی الھند
انا للہ و انا الیہ راجعون
حضرت بحر العرفان، قاضیِ قنوج، متعدد تعلیم گاہوں کےبانی و سرپرست، درجنوں کتابوں کےمصنف، لاکھوں مریدین کےشیخِ طریقت حضرت مفتی آفاق احمد نقش بندی مجددی (1959ء/ 2019ء) اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ۔ اللہ کریم آپ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل ، آمین۔ بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک و سلم
ماہر علوم و فنون استاذ
افضال محمد فاروقی صفوی
صفی پور شریف ضلع انائو
اسلاف کی حیات و خدمات کردار و عمل اور انکی یادوں کے بجھتے ہوئے چراغوں کی لو کو تیز کرنے والے اور سلسلہء مجددیہ نقشبندیہ کی ایک عظیم المرتبت شخصیت اور ایک عظیم عالم دین حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب اب ہمارے درمیان نہ رہے، انا للہ و انا الیہ راجعون
علامہ موصوف کی حیات و خدمات کا ایک بڑا حصہ مذہب و ملت کی سر بلندی و سرفرازی کی کوششوں میں گزرا جس کا بین ثبوت ،،الجامعۃ الاحمدیہ ،،قنوج اور متعدد مدارس و اسکول ہیں ۔
آپ ایک تجربہ کار با صلاحیت تقویٰ شعار محنتی اور سادہ لوح اور ماہر علوم و فنون استاذ تھے پوری زندگی درس و تدریس ، دعوت و تبلیغ میں گزاری ۔آپ کا مذہبی اور سیاسی دونوں مقام دونوں بہت بلند تھے آپ کی رحلت سے قوم و ملت کا بہت بڑا نقصان ہوا ۔
اللہ رب العزت علامہ موصوف کا نعم البدل عطا فرمائے اور انکے تمام محبین و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور علامہ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور کروٹ کروٹ رحمت کی بارش برسائے آمین۔
موت العالم موت العالم
جملہ اساتذہ و طلبہ مرکز اہل سنت دار العلوم محمدیہ
لال مسجد حسن پور ضلع امروہہ یو پی
ایک عظیم عالم دین اور شیخ طریقت بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون
آج مورخہ ۱۳جولائی بروز ہفتہ ۲۰۱۹ صبح کے وقت دل کا دورہ پڑنے سے اچانک حضرت کا وصال ہو گیا۔ جیسے ہی یہ خبر مرکز اہل سنت دار العلوم لال مسجد حسنپور ضلع امروہہ پہونچی تو ایک غم کا ماحول چھا گیا دار العلوم کے طلبہ اور عربی گرلس کالج کی طالبات کلمہ خوانی اور قرآن خوانی میں مشغول ہو گئے کلمہ اور قرآن خوانی کے بعد دار العلوم محمدیہ اور برکاتی عربی گرلس کالج کے سر براہ نثار ملت حضرت علامہ مفتی نثار احمد نوری صاحب نے حضرت مفتی صاحب کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی اور ترقی درجات کی دعا فرمائی۔
ابر رحمت انکی قبر پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
مشفق و مہربان سرپرست
مولانامحمد عبید اللہ حیدری آفاقی -و احمد بخاری آفاقی
گرامی قدر اخلاق احمد صاحب واحمد سعید صاحب وعزیزم برکات احمد سلّمہ سلام مسنون
کیا خبر تھی موت کا یہ حادثہ ہو جاےگا
یعنی آغوش زمیں آسماں ہو جاےگا
حضور بحرالعرفان شیخ الاسلام حضرت مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ مجددی نوّر اللہ مرقدہ کا انتقال پرملال صرف اہل خانہ یا مریدین وتلامذہ کےلئے ہی صدمہ نہیں بلکہ پوری ملت اور جماعت کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے پوری ملت ایک اچھے ہمدرد مصلح و مشفق و مہربان سرپرست سے محروم ہو گئ آپ کی وفات سے ملک اور بیرون ملک میں ارباب علم و دانش اصحاب شریعت و طریقت کی مجلسوں میں رنج و غم کا سماں ہے آپ ہر گھڑی اصلاح امت و اتحاد امت کے لئے کوشاں و فکرمند رہتے آپ پوری ملت کا بے پایاں درد رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ہر خاص و عام کی توجہ کا آپ مرکز بن گئے تھے آپ نے
اپنی صبح و شام رات و دن اسی خدمت دین کے لئے وقف کر دیے تھے سفر میں ہوں یا حضر میں ہمہ وقت آپکو دینی کاموں میں ہی مصروف دیکھا زندگی کے قیمتی لمحات سچی لگن کے ساتھ مسلک حقہ کی ترویج و اشاعت میں صرف فرمائے آپنے اسی جہد مسلسل و سعی پیہم کے ذریعہ جو اہل سنّت کو جلا بخشی ہے اسکی تابانی قیامت تک باقی رہےگی آپ نے دینی خدمات اور نمایا کارناموں کے وہ انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر آفتاب نیم روز کی طرح تابندہ و درخشاں رہیں گے کوئی بھی بڑے سے بڑا یا مشکل سے مشکل کام بھی کر گزرنے میں کبھی آپ نے ہمت نہیں ہاری گویا آپ عزم و استقلال اور ہمت و استقامت کے ایک عظیم ترین کوہ گراں تھے بلکہ کوہ ہمالہ کی مضبوطی و بلندی بھی آپکے آگے شرمسار و شرمندہ تھی۔
ایک سینے میں ہزاروں ولولوں کی کائنات
ایک انساں میں ہزاروں اہل ہمت کا ثبات
بلا شبہ آپ مجمع البحرین شریعت و طریقت کے عظیم سنگم ایک عظیم مصلح ایک عظیم صوفی عظیم مصنّف عظیم مدرّس عظیم مدبّر عظیم مرشد عظیم مفتی تھے آپ مفتیِ قنوج نہیں بلکہ مفتیِ آفاق تھے مجددی فیض کے دریائے نا پیدا کنار تھے مولیٰ تعالیٰ فیض مجددی جاری و ساری رکھے ہم سب کو صبر جمیل کی توفیق عطا کرے، آمین۔
آفاق کی رحلت پَر غم ناک زمانہ ہے
خواجہ سید عظیم الدین ھادی الجیلانی البغدادی
نزیل درگاہ حاجی علی ممبئ
جانشینِ بحرالعرفان حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
آپ کے والد محترم کے بارے میں یہ جان کر بڑا غم ہوا کہ وہ دارِ فانی سے عالمِ جاویدانی کا سفر کرچکے ہیں۔
جانا تو سبھی کو ہے جائیں گے سبھی لیکن
آفاق کی رحلت پَر غم ناک زمانہ ہے
جانشینِ مجددِ الفِ ثانی وارثِ سیّاحِ لامکانی یادگارِ سلف صالحین ماہرِ علم و فن معمارِ اھلِ سنت خلیفۂ
رفیقِ ملت مارہرویِ عطائے عارفِ باللہ بنارسی آبروئے قنوج حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ ایک عہد ساز مفکر و دانا اور ولیِ کامل ہیں۔
قنوج میں حضرت بحرالعرفان کی زندگی ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد کے لئے چراغِ ھدایت ہے۔
حضرت بحرالعرفان مزاراتِ قنوج سے لیکر مدینۃالاشرف دیارِ کچھوچھہ مقدسہ تک ہر بارگاہ سے باریاب و سرفراز ہوئے۔ اورپھر مخلوقِ خدا میں انہیں عنایات کو تقسیم فرمایا
اس کا مشاہدہ قنوج، بنارس ،ویشاخاپٹنم،دھلی ،چنڈی گڑھ،مدھیہ پردیس کی خانقاہوں سے کیا جا سکتا ہے۔الجامعۃالاحمدیہ قنوج بحرالعرفان کا ایک عظیم الشان شاہکار اور تاریخی کارنامہ ہے جس سے ہمارے اسلاف کے کردار کی خوشبو آتی ہےجلسوں ،جلوسوں ،کانفرنسوں ، اور سمیناروں میں انفرادیت اور عیدین میں رقت انگیز مقبول دعائیں اس بات کی دلیل ہیں کہ بحرالعرفان خلقِ خدا میں ایک مردِ قلندر ہی نہیں بلکے آسمانی انتخاب بھی ہیں نمبر میں حضرت بحرالعرفان کی حیات و خدمات پر ایک مضمون لکھنے کا ارادہ تھا مگر بغداد شریف ، دوبئی اور لندن کے سفر اور تبلیغی مصروفیات کی وجہ سے رقم کرنے سے قاصر رہاان شاءاللہ پھر کبھی ۔حضرت بحرالعرفان کے اہلِ خانہ کے ساتھ فقیرقادری گدائے جیلانی بھی شریکِ غم ہے۔