باب ۴۵ از ۶۵صفحات ۳۱۲–۳۱۸
حضرت مفتی آفاق احمد مجددی: کچھ یادیں کچھ باتیں
مولانا نعمان احمد ازہری٭
میری عمر کے تناسب سے میری آشنائی حضرت والا صفات سے گو کہ بہت زیادہ دنوں سے نہیں تاہم تقریباً دودہائی پر پھیلی ہے نوے کی دہائی میں جب میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء ذاکر نگر دھلی میں زیر تعلیم تھا تو جناب عبدالستار صاحب کے یہاں حضرت کا اکثر دورہ ہوتا، عبدالستار صاحب کے صاحبزادے عبدل جامعہ نظام الدین میں شعبہ حفظ میں تھے، ان کی زبانی حضرت کی خوبیوں کا تذکرہ سنا کرتاتھا، زمانہ طالب علمی اتنی پختگی کا نہ تھا کہ ایسی عظیم ہستی سے اکتساب فیض پر ابھارتا، مگر اتنا ضرور ہے کہ بار بار ذکر جمیل سن کر دل میں شوق لقاء کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، اس طرح بہت کچھ تعارف تو غائبانہ حاصل ہوا، پھر عرصہ دراز تک ملک سے باہر رہا، پھر واپسی کے بعد ملک کے مختلف صوبوں کی گرد راہ چھانتا جب مستقل سکونت کے طور پر ٢٠٠٧ء میں علی گڑھ میں قیام ہوا اور جامعۃالبرکات جیسے عظیم الشان ادارے میں خدمت کا حسین موقع میسر آیا، تب سے حضرت والا صفات سے ملاقات کا سلسلہ دراز ہوا۔
مختلف دینی جلسوں میں حضرت کی موجودگی میں مجھ جیسے کم علم کو لب کشائی کا موقع ملتا بجائے خود میرے لئے حوصلہ افزائی اور خود اعتمادی کا باعث ہوا کرنا۔ جناب سید مصطفی علی قادری صاحب کی زبانی جتنا میں نے حضرت کی شخصیت، ذات و صفات اور اخلاق وکردار کے متعلق سنا کرتا تھا جب جب ملاقات کا شرف حاصل ہوا میں کہیں زیادہ پایا، اصاغر نوازی کا مظاہرہ جس خوبصورت انداز میں حضرت فرمایا کرتے تھے کم از کم میں نے تو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔
غالباً ٢٠٠٧ء یا ٢٠٠٨ء کی بات ہے جب آپ کے یہاں انٹرنیشنل کانفرنس حضرت وارث پاک کی حیات و خدمات پر منعقد ہوئی تھی اس میں ناچیز کو بھی بزبان ولی مقالہ پڑھنے کا موقع ملا تھا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مؤقر استاد جناب ڈاکٹر عبدالسلام جیلانی صاحب اور جناب مصطفٰی علی قادری صاحب کے ہمراہ ٹیکسی میں سخت سردی اور کہرے بھرے صبح میں ہم قنوج روانہ ہوئے، شہر عزیز میں یہ میری پہلی حاضری تھی، بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام اور اس کا انتظام وانصرام کوئی معمولی بات نہیں، مگر قیام
گاہ پر پہنچتے ہی حضرت کا بذات خود استقبال کے لئے آنا ہماری مشام جاں کو معطر کرگیا، یقین نہیں آتا تھا مگر ہم نے اپنے دل آشفتہ کو سمجھایا کہ محمد عربی کا شیدائی اپنے مہمان کی مہمان نوازی کچھ اسی نرالے انداز سے کیا کرتا ہے ۔
شہر علی گڑھ کی مرکزی جامع مسجد (اوپرکوٹ) میں حضرت کے ساتھ ناچیز کا بیان تھا، سید مصطفی صاحب کے توسط سے حضرت کا یہ پروگرام طے ہوا تھا میں نے مصطفٰی بھائی سے بہت التجا کی اور ہر چند یہ کوشش کی کہ پہلے میری تقریر ہوجائے پھر حضرت رونق اسٹیج ہوں، کیونکہ میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ حضرت کی موجودگی میں میری کم مائیگی کا احساس میری زبانی کو تنگ نہ کردے، اس وقت سید مصطفی علی بھائی نے میری ہمت بندھانے کے لئے جو حوصلہ افزا جملہ فرمائے وہ آج تک میرے لئے حوصلہ افزائی کا آئینہ دار ہے، فرما ان (حضرت )کی موجودگی آپ کے زبان ودہان میں اور ہمت برپا کرے گی، آپ نے ابھی ان کو پرکھا نہیں، علی گڑھ پروگرام کے حسب نوعیت سارے مدعو شرکاے بزم حاضر ہوکر ایک ساتھ ممبر پر تشریف لاتے ہیں یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میری تقریر ہوئی بیچ بیچ میں جو کلمات دادوتحسین حضرت کی زنان سے ادا ہوئے ان کی آہٹ تو محسوس ہوتی مگر تقریر کے جوش میں ان کا ہوش نہیں آیا ۔
البتہ جب آپ نے اپنی نورانی وعرفانی بیان شروع فرمایا، تو خدا گواہ یاد داشت کے مظبوطی کے باوجود مجھے یاد نہیں کہ کتنی بار نام لے کر تذکرہ کیا، جب کہ آپ کا مستقبل ایک دیگر موضوع تھا، میں نے افزائی اور جود ونوازی کا اتنا شاندار اور فراخ دلانہ مظاہرہ پہلے کہیں نہیں دیکھا، اور وثوق کے کہتا ہوں کہ ان کے بعد بھی شاید میں اب یہ نہ دیکھ سکوں۔
اصاغر کے ساتھ اس حسن سلوک کا مظاہرہ وہی کرتا سکتا ہے جو بڑا عالی ظرف ہو، بڑا منکسرالمزاج ہو، بڑا خاکسار ہو، بڑا تواضع اور بڑا سخی ہو ۔
میرے دوست جناب سید نور عالم صاحب کا رشتہ آپ کی صاحبزادی سے ہواتو اس توسط سے بھی حضرت کے روحانی فیض کا ایک اور باب ہم بے عملوں کی طرف واضح ہوا ۔
مگر آہ صد افسوس فیض رسانی کا یہ سلسلہ ٢١/جولائی ٢٠١٩ء کو البركات کیمپس میں منعقد ہونے والی علی گڑھ ائمہ ورک شاپ جس میں حضرت کی شرکت بطور خصوصی نمائندہ تھی حضرت سید محمد سید امان
قادری صاحب ائمہ علی گڑھ کو یہ نمونہ دکھانا چاہتے تھے کہ خشک پتھریلی اور تبرہ دنا ایک شہر کو حضرت مفتی صاحب نے اپنے عزم و حوصلہ اور خدائی توکل کے سہارے کیسے چند سالوں میں علم وعرفان کا آفاق بنادیا ۔
مگر افسوس اس پروگرام کی تاریخ سے پہلے ہی آپ کو اس حتمی تاریخ پر لبیک کہنا پڑا جس پر ہر جاندار کو لبیک کہنا ہے ۔
اس صبح میں ڈیپارٹمنٹ پہونچا تو عجیب سی اداسی تھی، اسٹاف خاموش پتھرائی نگاہ سے مجھے دیکھ رہا تھا، میں سمجھ گیا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے، تب تک ایک صاحب علم نے بتایا کہ حضرت مفتی آفاق صاحب کا وصال ہوگیا (انا لله وانا اليه راجعون )
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق
٭استاذ البركات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ
مکشوفات و تصرفات بحر العرفان
مولانا مشاہد رضا آفاقی مجددی
ان الصفاء والمروة من شعائر الله
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ذکر کرنا چاہتاہوں رزاق عالم کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کا چرچا کرنا چاہتا ہوں رحمت عالم کی رحمتوں میں سے ایک رحمت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، اس کے ایک محبوب کا ذکر کرنے کو دل بے قرار ہے ایک ایسے نائب رسول اعظم صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کرنا ہے کہ جب گفتگو فرماتے ہیں تو نبی اعظم کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جب تبسم فرماتے ہیں تو محبوب مطلق کی تصویر آنکھوں میں جھلکتی ہے جب سوتے ہیں تو مصطفٰی جان رحمت کا سونا یاد آتا ہے، جب چلتے ہیں تو مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کا چلنا یاد آتا ہے بہرحال آپ کی ہر ہر ادا سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کی ادا جھلکتی ہے، حضور بحرالعرفان میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حلم وتحمل بھی پایا جاتا ہے فاروقی بے خطر وبے باکی بھی ملے گی عثمانی ایثار وسخاوت بھی نظر آئے گی مولائے کائنات کی شجاعت وبہادری بھی
دیکھی جا سکتی ہے آپ میں تقوی غوث پاک بھی موجود ہوگا اگر آپ، آپ کی تصنیفات دیکھیں تو تحریر میں رفتار قلم غزالی بھی ملے گی اور کیا کیا لکھوں میرے مرشد، میرے محبوب، میرے مشفق ومحسن اور میرے آقائے نعمت میں ہزارہا خوبیاں ہیں جو مجھ جیسا کم علم قلم کی باریک نوک سے نکالنے کی طاقت وقوت نہیں رکھتا مگر کچھ مختصر المختصر آپ کا تصرف، کثرت عبادت، مکشوف ادائے سنت نبوی صل اللہ علیہ و سلم پر استقامت اور کچھ مناصب تحریر کرنے کی کوشش وہمت اور جرات کر رہا ہوں لہذا اس ناچیز نے جو بھی حضور بحرالعرفان کی سولہ سالہ صحبت سفرو حضر میں دیکھا ہے وہی تحریر کرے گا مولائے کریم قبول فرمائے۔
آپ کا مقام ومنصب روحانی:
ایک مرتبہ آپ کے ساتھ سفر میں تھا غالباً دُھْمری جارہے تھے آپ اس وقت خوش طبعی کا مظاہرہ فرما رہے تھے جس کی وجہ سے کچھ عرض کرنے کی ہمت وجرات کی ارادہ تھا کہ آج حضور قطب مدار، قطب ارشاد، اور قیوم عالم میں فرق اور علامات معلوم کروں گا لیکن آپ کے جلال روحانی کی وجہ سے سب کچھ معلوم نہیں کرسکا، عرض کیا حضور قطب مدار کسے کہتے ہیں اور اس کی ظاہری علامت کیا ہوتی ہے؟ آپ نےصرف اتنا ارشاد فرمایا کہ اس تعلق نظام ملک سے ہوتا ہے، اتنا سننے کے بعد اس کے متعلق آگے کچھ عرض کرنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر کچھ وقفہ کے بعد ہمت کرکے عرض کیا حضور قطب ارشاد کی ظاہری نشانی کیا ہوتی ہے؟ آپ نے ایک طویل خاموشی کے بعد بڑے بارعب انداز میں ارشاد فرمایا قطب ارشاد کو ہر انسان نہیں پہچان سکتا، سن کر اس ناچیز کا دل ضعیف لرز کر رہ گیا گویا آپ فرما رہےہوں کہ قطب ارشاد سے قطب ارشاد کی نشانی پوچھتے ہو نظر نہیں آتا کہ سامنے قطب ارشاد جلوہ گر ہے پھر تو کچھ بھی پوچھنے کی ہمت وجرات نہیں ہوئی، سبحان اللہ کتنا بلند منصب روحانی ہے وگرنہ اس ماڈرن دور میں اتنے ارفع واعلی منصب کے بزرگ اگر نایاب نہیں ہیں تو کم یاب ضرور ہیں۔
اداے سنت پر استقامت:
ایک مرتبہ دھلی میں آپ کے ساتھ تھے رمضان المبارک کا مہینہ تھا کسی کے یہاں غالباً افطاری یا کھانے کی دعوت تھی دسترخوان پر شیشے اور مٹی دونوں طرح کے گلاس موجود تھے ہم نے یہ سمجھتے ہوئے کہ مٹی کے گلاس میں پانی پینا سنت ہے مٹی کے گلاس میں پانی بھر دیا آپ نے ارشاد فرمایا
ہمارے لئے شیشے کے گلاس میں پانی دیا کرو کیونکہ شیشے کے گلاس سے پینا حدیث شریف سے ثابت ہے،
ہم کوبھی درد آقا سنت کا آپ دے دیں
رگ رگ میں مری جذبہ خدمت کا آپ دے دیں
آپ کا کشف:
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں حضور بحرالعرفان سے تعلیم حاصل کرتا تھا اور آپ سے نیا نیا تعلق ہوا تھا کہ کچھ عرصے بعد عرس رضوی اور عرس سیوان آگیا، میں تو عرس رضوی میں حاضری کے لئے بریلی شریف چلا گیا اور حضور بحرالعرفان سیوان کے لئے روانہ ہوگئے، میں چلا تو گیا لیکن حضور کی جدائی میں دل بہت بے چین وبے قرار تھا، جب کچھ نہ بن پڑا تو حضرت کو یاد کرتے اور دعا کرتے یہاں تک کہ آنکھیں اشکبار ہوجاتی تھیں اس سے دل مظترب کو قرار آجاتا، بہر حال مشکل لمحات تھے جو رخصت ہوگئے، ایک مشکل گھڑی تھی جو گزرگئی، کچھ عرصے بعد قنوج واپسی ہوئی، حضور بحرالعرفان سیوان سے تشریف لائے آپ کی زیارت کیاہوئی گویا دل افگار تھا جو زیارت سے بھر گیا، دل مرحوم تھا جو قرار پاگیا،ایک نار ہجر تھی جو سرد پڑ گئی، کچھ دنوں بعد حضور کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی اتفاق سے یہ ناچیز آپ کے سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا کہ دل میں یہ خیال گزرا کہ بریلی شریف میں آپ کو بہت یاد کیا، معلوم نہیں حضور نے بھی یاد کیا یا نہیں، توآپ نے برجستہ مخاطب ہو کر فرمایا صوفی جی ہم نے بھی تمہارے لئے دعا کی ہے( سبحان اللہ المنان) کیا کشف ہے کیا روشن ضمیری ہے شیخ ہو تو ایسا ہو مرشد ہوتو ایسا ہو کہ اپنے مرید کے خطرات قلب سے واقف ہو۔
اسی طرح ایک مرتبہ اپنی مسجد میں صلاۃ اوّابین ادا فرما رہے تھے حاجی عبد الکلام آپ کے پیچھے صف میں بیٹھے تھے ایک طرف یہ ناچیز بھی بیٹھا ہوا تھا کہ حاجی عبد الکلام کے ذہن میں کاروبار میں ہونے والے نقصانات کروٹیں لے رہے تھے حضور بحر العرفان رضی المولی عنہ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاجی عبد الکلام صاحب کی طرف رخ انور کرتے ہوئے فرمایا کلام کیا سوچ رہے ہو مال کے متعلق اتنا فکر مند نہیں ہونا چاہیے یہ تو ہاتھ کا میل اور آنے جانے والی چیز ہے اللہ تعالیٰ اور دےگا ہوا یوں کہ حاجی عبد الکلام صاحب کا کارچوپ کا کارخانہ تھا جس میں کافی گھاٹا ہو چکا تھا اسی خسارے کے متعلق ذہن میں خیالات گردش کر رہے تھے جس کا آپ نے اظہار فرمایا یہ ہے میرے مرشد کا کشف یہ ہے مرشد کی روشن ضمیری
اللہ رب العزت میدان محشر میں آپ کا ساتھ فرمائے روشن ضمیری کے اور بھی واقعات ذہن میں ہیں لیکن قلت وقت دامن گیر ہے۔
آپ کی کثرت عبادت:
١٤ یا ٢٢ مئی ٢٠١٩ کے رمضان المبارک کے درمیان کا واقعہ ہے جس وقت حضور بحر العرفان کے ساتھ میں تھے اور مشتاق بھائی کے یہاں قیام تھا کہ اکثر معتقدین محبین مریدین سے ملاقاتوں میں رات کے ١١ یا ١٢ بج جاتے اور اور قیام گاہ تک پہونچتے پہونچتے ایک یا دو بج جاتا تھا اس وقت آپ فرماتے صوفی جی (اس ناچیز و حقیر میں صوفیت والی کوئی خصلت نہیں پائی جاتی نا ہی کوئی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے صوفی کہا جائے اور آپ فرمایا بھی کرتے تھے کہ انہیں تو ہم ہی صوفی کہتے ہیں مدرسے میں کوئی اور صوفی نہیں کہتا اور مولانا آفتاب صاحب کو سب صوفی کہتے ہیں لہذا یہ ناچیز صوفی کہنے کے لائق نہیں مگر یہ حضور کی ذرہ نوازی تھی) سونے کے بعد ہو سکتا ہے آنکھ نہ کھلے اس لیے تہجد ابھی پڑھ لیتے ہیں اور آپ نماز تہجد ادا فرما کر سوے لیکن جب سحری کے لیے اٹھتا تو آپ کو دوبارہ تہجد ادا فرماتے پاتا دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتا ایسا لگتا تھا جیسے آپ رات میں سوتے ہی نہیں لگتا بھی کیسے نہیں کیوں کہ یہی تو (يُبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًاوَّقِياَماً) کے مصداق ہیں یہی تو ہے جن کے متعلق رب کائنات ارشاد فرماتا ہے(فاذكرواالله قياماوقعودا وعلى جنوبكم ) غفار جن کے متعلق ارشاد فرماتا ہے (والذاكرين الله كثيراً و الذاكرات اعدالله لهم مغفرة واجرا عظيما) یہی تو ہیں جن کا قلب آپ مولائے کریم کی یاد میں ہر کروٹ پر تڑپتا ہے یہی تو ہے جو رات کی تنہائیوں میں آہ و بکا کرتے بلکتے ہیں یہی تو ہے جو عشق رسول اعظم صلی اللہ علیہ و سلم میں جن کا قلب بے چین و بے قرار رہتا ہے یہی عشق تھا جس کی وجہ سے دنیاو ما فیھا سے بےرخی اختیار فرمائی اور اتنی جلدی دنیا والوں کو اپنی محبت میں تڑپتا اور بلکتا چھوڑ کر رخصت ہو گئے، مولا ان کی یاد میں ہمیشہ تڑپتے اور بلکتے رہنےکی توفیق دے۔
ایسا گما دیں ان کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آپ کا تصرف:
ایک مرتبہ آپ جمعہ کے دن ٹرین میں سہاور سے قنوج تشریف لا رہے تھے کچھ مریدین حضرات ساتھ تھے اور یہ ناچیز بھی آپ کی سنگل سیٹ کے قریب تھا آپ کا رخ انجن کے سمت تھا ڈرائیور گاڑی بہت
سست رفتار سے چلا رہا تھا اور ہر اسٹیشن پر کئ کئ منٹ روکتا تھا کافی دور تک تو آپ یہ رفتار بےڈھنگی برداشت کرتے رہیں تو آپ نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا اس طرح تو نماز جمعہ قنوج میں کیسے مل پائیں گی یہ کہ کر آپ نے خاموشی اختیار فرما لی اور اس انداز سے اکثر آپ تصرف فی القلب فرمایا کرتے تھے پھر جس وقت ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار تیز کی ہے تو ایسا لگتا تھا جیسے یہ ڈرائیور ٹرین کو اڑا کر قنوج پہونچا دےگا آپ کا تصرف صرف ڈرائیور پر ہی نہیں بلکہ ہر اترنے چڑھنے والی سواری پر کام کر رہا تھا اور ہر آنے والے اسٹیشن کے کرم چاری پر ورنہ ہر اسٹیشن پر سواریوں کے چڑھنے اور اترنے ڈرائیور کے چھلّا لینے اور دینے میں کافی وقت لگتا جس انداز سے پہلے لگ رہا تھا سواریاں جتنی تیزی سے چڑھ اور اتر رہی تھی اور ڈرائیور کو وقت پر سگنل مل رہا تھا ان سب کی تیزی بتا رہی تھی کہ کسی کا تصرف ان کے قلوب پر چل رہا تھا اس طرح بہت جلد اور بہت ہی کم ٹائم میں قنوج پہونچ کر سراےمیرا والی مسجد میں وقت پر جماعت کے ساتھ ہم سب نے آپ کے ساتھ آپ کے طفیل نماز جمعہ ادا کی اور بخیر و عافیت اپنے اپنے گھروں کو پہنچے اس طرح کے واقعات تصرف اور بھی ذہن میں ہیں انشاءاللہ تعالیٰ پھر موقع ملا تو تحریر کروں گا یہ تو ایک میرے مرشد میرے مشفق و محسن میرے آقا و مولی اور ملجاؤ ماوا کے ہجر کی خلش تھی جو نکالنے کی کوشش کی لیکن نکال نہ پایا یہ ایک صداے قلب مضطرب تھی جو دبا نہ سکا یہ ایک دل افگار کی سسکیاں تھی جو برداشت نہ کر پایا یہ تو ایک دل مرحوم کی بھٹکتی ہوئی پیاس تھی جو زیارت محبوب سے بجھ نہ سکی۔