باب ۶ از ۶۵صفحات ۵۶–۶۳
حضور بحرالعرفان اپنے مرشد کی نظر میں
مولانا ابوالقیس خیری مجددی
جامع شریعت و طریقت حضور بحرالعرفان علامہ شاہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ نقشبندی مجددی علیہ الرحمۃوالرضوان کا روحانی مقام جس قدر ارفع و اعلیٰ ہے وہ اظہر من الشمس ہے ان کو اپنے علمی اور روحانی مقام کی بنا پر نہ صرف ہندوستان میں شہرت نصیب ہوئی بلکہ بیرون ہند بھی ان کے غلغلے اور شہرت کے ڈنکے بج رہے ہیں ان کے نیک نفس اور نیک دل خلفا ء اور تلامذہ نے باہر ممالک میں بھی جاکر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی تبلیغ کی اور الحمدللہ آج بھی وہ تبلیغ جاری ہے حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کے بعد آج بھی ان کے ہزاروں معتقد ین ان کے مزار پر انوار پہ آکر کسب فیض کرتے ہیں اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا (انشاءاللہ العزیز ) اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃوالرضوان کو کون سی روحانی اور بزرگ ہستی سے نسبت وارادت حاصل تھی جسکی بارگاہ ناز سے اکتساب فیض کر کے وہ روحانیت
کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہوئے اور اس اکیسویں صدی میں امام الہدیٰ اور بحرالعرفان جیسے عظیم اور لا ثانی لقب سے ملقب ہوئے وہ بلند ترین اور بزرگ ہستی حضور شیخ العالم یاد گار مشائخ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں نقشبندی مجددی کمالپوری کی ہے جنکا خود روحانی مقام بہت بلند ہے اورجس خوش نصیب نے بھی ان سے ارادت کے بعد ان کی صحبت فیض اثر سے کسب فیض کیا وہ بھی روحانیت کا تاجدار ہو گیا۔ لیکن حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کو جو روحانی فیض حضور شیخ العالم دام ظلہ ٗ العالی سے نصیب ہوا وہ اپنے درجے اور مقام کے لحاظ سے بالکل منفرد اوربے مثال ہے حضور شیخ العالم ہی کی صحبت با برکت کا فیض تھا جس کے اثرسے حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ اپنے زمانہ ارشاد وھدایت میں آسمان روحانیت پر خورشید بن کے چمکے اور ان کی روحانیت کے نور سے ہزاروں دلوں نے روشنی پائی اور یہی نہیں بلکہ آج بھی ان کے خورشید روحانیت کے نورسے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے منسلک ہونے والوں کے دل روشن ہیں اور یقین کامل ہے کہ آئندہ بھی جو کوئی روحانیت کے اس نیّرتا باں سے کسب نور کا خوا ہاں ہوگااس کا قلب نور بحرالعرفان سے ضرور منور ہو گا ۔
اب میں آپ کو یہ بتاتاہوں کہ حضور شیخ العالم حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں نقشبندی مجددی کمالپوری دام ظلہٗ العالی کون ہیں اور کیا ہیں کہ جن کے فیض عام کے چشمہ شیریں سے ہزاروں تشنہ لبوں نے سیرابی حاصل کی ۔
یہاں مجھے حضور شیخ العالم کی سوانح حیات مطلوب نہیں بلکہ ان کے روحانی مقام کی ہلکی سی جھلک دکھانا مقصود ہے تاکہ آپ مرشد حضور بحرالعرفان کو بھی اجمالی طور پر جان لیں ۔
حضور شیخ العالم بن شیخ المشائخ حضرت مولانا غلام محمد علیہ الرحمہ کمالپوری ۱۹۴۴ء میں موضع کمالپور شریف میں پیداہوئے اورالحمداللہ ابھی بقید حیات ہیں ابتدائی تعلیم گائوں میں ہی حاصل کی کچھ د نوں کے بعد آپ کے والد بزرگ وار حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ نے آپکو گوپال گنج ضلع سیوان (بہار) بھیج دیا جہاں آپ حضرت قبلہ حافظ ہارون صاحب رحمۃاللہ علیہ کی سرپرستی میں اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھاتے رہے اعلیٰ تعلیم کے لیے آ پ ہندوستان کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ ضیاءالعلوم کچی باغ بنارس اور دارالعلوم چشمئہ رحمت غازی پور تشریف لے گئے جہاں آپ نےاپنے دور کے بڑے بڑے علماء اور فقہاء سےاخذ علوم فرمایا علوم ظاھرہ سے فراغت کے بعد آپ نے علوم باطنہ کی طرف رخ فرمایا اٹھارہ سال کی عمر میں
آپ نے بموقع عرس قطب بنارس لاٹ کی مسجد میں حضور شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کے دست حق پر ست پہ بیعت فرمائی ۔
حضور شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کی نگاہ باطن خوب جانتی تھی کہ آپکا معنوی وارث کون ہو سکتا ہے عموما ً سفر میں اپنے ساتھ رکھتے صبح وشام حلقے ہوتے ذکر و مراقبہ اور نعت خوانی کی محفلیں اکثر گرم رہتیں جب حضور شیخ المشائخ علیہ الرحمہ بستر استراحت پہ پہونچتے تو آپ کافی دیر تک پیر دابتے انہیں سلاکر پھر آپ سوتے ایک دو گھنٹے کے بعد تہجد کے لیے اٹھ پڑتے سردی کے موسم میں پانی گرم کرتے جب حضور شیخ المشائخ استنجا اور وضو سے فارغ ہو کر نماز شروع کر دیتے تب آپ نماز کی تیاری کرتے پھر بعد نماز تہجد مراقبے میں بیٹھ جاتے کافی دیر تک مراقبہ رہتا اس طرح سے شب و روز کی خدمات آپ ہی کے ذمے تھیں اور آپ کی روحانیت میں روز افزوں ترقی ہوتی رہی تھوڑے ہی عرصےمیں سلوک نقشبندیہ مجددیہ کی تمام منزلیں طے کرلیں سرکار شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد باضابطہ رشد و ھدایت کا کام شروع کیا بڑے بڑے نامور علما آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہیں انہیں نامور علما میں ایک نام حضور بحرالعرفان علامہ الشاہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ علیہ الرحمۃوالرضوان کا بھی ہے جو آپ کے سچے نائب و جانشین تھے اور سرہندی بزرگوں کی امانتوں کے امین تھے ۔
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میرے مرشد کا علمی مقام بہت بلند ہے شریعت کے ساتھ طریقت میں ایک خاص اور امتیازی مقام رکھتے ہیں فرماتے ہیں مسائل طریقت میں اس قدر استحضار ہے جب بھی کوئی شبہ یامشکل عرض کی میرے مرشد نےبلاتامل مشکل حل فرمادی۔
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ ا پنی کتاب تذکرہ مشائخ مجددیہ میں فرماتے ہیں حضور کا ذکر پہلی مرتبہ میں نے مولانا حنیف خاں صاحب گورکھپوری کی زبانی سنا اس وقت میں جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں مدرس تھا ایک دن مدرسین کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں نےحضرت کے بارے میں لوگوں کو بتایا اس میں ایک مخلص کہنے لگے آج کل پیروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے بات وہیں پہ ختم ہوگئی مگر ان کے کہنے سے تردد ضرور رہا اسی شب میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ ایک عالی شان مسجد ہے مسجد کے باہر لوگوں کا ہجوم ہے صفیں بناکر لوگ کھڑے ہیں اندر جا رہے ہیں اور باہر آرہے ہیں میں نے ایک صاحب سے پوچھا آپ لوگ کیوں جمع ہیں بتایا کہ بنارس کے مولانا احمد رضا صاحب آ ئے ہیں ہم انہیں
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں نے سوچا کہ میں تو بنارس جانے کو تھا بہتر ہے کہ ملاقات یہیں ہو جائے فرماتے ہیں میں بھی لوگوں کی صفوں میں کھڑا ہو گیا جب اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ آپ ایک کونے میں ٹیک لگا ئے بیٹھے ہیں لوگ یکےبعد دیگرے مصافحہ اور دست بوسی کر رہے ہیں میری باری آئی تو میں نے بھی مصافحہ کیا اور ہاتھوں کو بوسہ دے کر جب ہاتھ چھڑانے لگا تو حضرت نے فرمایا کیا تمہیں ہماری ولایت میں شک ہے مانگو کیا چاہتے ہو میں کہنے لگا اب مجھے اطمینان ہو گیا میں کوئی دلیل نہیں چاہتا فرماتے ہیں آنکھ کھلی تو قلب کو آپ کی ولایت پر یقین و اطمینان حاصل تھا۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مرید ہونے کے بعد جب میں پہلی بار حضرت اقدس مرشد گرامی وقار کے دولت کدے پر پہونچا تو صبح کو آپ کے کمرے میں بیٹھا تھا دل میں خیال آیا کہ آپ کی کوئی کرامت دیکھنے کو مل جاتی تو آپ کی ولایت و بزرگی پہ اطمینان ہو جاتا ابھی یہ خیال ذہن میں گردش ہی کر رہا تھا کہ حضرت نے پاس میں الماری سے ایک کتاب اٹھائی اور کھول کر ایک مقام پہ انگلی رکھ کر مجھ سے فرمایا کہ مولانا صاحب یہاں سے پڑھئے جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو اس میں لکھا تھا مرید کو اپنے پیر سے کرامت نہیں طلب کرنا چاہیے سرکار علیہ السلام سے معجزہ کفارطلب کرتے تھے مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ کتناعالی کشف ہے کرامت بھی دکھادی اور خطاپر تنبیہ بھی فرمادی۔
محترم قارئین! اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہیں جو آپ کی کرامات اور مکاشفات سے متعلق ہیں لیکن اس مختصر مضمون میں ہم اسے سمیٹ نہیں سکتے۔
میں یہاں سے شیخ العالم دامت برکاتھم العالیہ کے وہ بیش بہا جملےنذر قارئین کرتا ہوں جو حضور شیخ العالم نے اپنے اس چہیتے اور روحانی فرزند کے تعلق سے ارشاد فرما ئے جسے پڑھ کر آپ خود اندازہ کرلیں گے کہ حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ روحانیت کی کتنی بلند چوٹی پر فائز ہیں اور وہ اپنے مرشد کی نظر میں کتنے محبوب اور منظور ہیں ۔
مندرجہ ذیل جملے سرکار شیخ العالم نے مختلف مقامات اورمختلف محافل میں ارشاد فرمائے ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتے ہیں ’’میرے مریدوں میں مولانا آفاق صاحب کی کو ئی مثال نہیں ‘‘پھر ایک شعر کا یہ مصرع پڑھا : وہ بے مثال ہیں ان کی کوئی مثال نہیں پھر فرمایاوہ جو کہتے اور کرتے ہیں ان کے مرید وہی
کرتے ہیں وہ جبہ پہنتے ہیں تو انکے مریدین جبہ استعمال کرتے ہیں وہ عمامہ شریف باندھتے ہیں تو انکے مریدین عمامہ شریف باندھتے ہیں وہ سنت پر سختی سے عمل کرتے ہیں تو انکے مریدین میں بھی سنت پر عمل پایا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ ہونا بھی یہی چاہیے وہ غلام کیسا جس کے اندر آقا کا رنگ ڈھنگ نہ ہو پھریہ شعر پڑھا؎
دعوائے بندگی ہے غلط بلکہ کذب ہےآقا کا رنگ ڈھنگ نہ ہو گر غلام میں
حضور شیخ العالم دامت برکاتھم العالیہ اپنی قیام گاہ پڈرونہ کے قریب موضع دھرمولی میں فروکش تھے راقم الحروف بھی موجود تھا بات حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کی چل نکلی، فرمانے لگے کہ میری اور مولانا آفاق صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے خواجہ عثمان ہارونی اور خواجہ غریب نواز رحمۃاللہ علیھما غریب نواز کو دنیا جانتی ہے مگر عثمان ہارونی کو بہت کم لوگ جانتےہیں ۔
حضورشیخ العالم کےدادا پیر غوث زماں حضرت مولانا سید ابوالخیرات سیوانی رحمۃاللہ علیہ کے عرس کے موقع پر سیوان جانا ہوا حضور بحرالعرفان کے ساتھ راقم الحروف بھی تھا اور آپ کے چند مریدین بھی آپ کے ساتھ تھے سیوان پہونچ کر سب سے پہلے آپ نے اپنے مرشد کا پتہ لگایا معلوم ہوا کہ آپ حضور خواجہ عبدالحلیم رحمۃاللہ علیہ کے آستانے پر گئے ہیں فورا وہاں کے لیے چل دئے حضرت سے ملاقات ہوئی دست بوسی کے بعد حضور شیخ العالم نے حضور بحر العرفان سے فرمایاذرا پنا چہرہ تو قریب کیجے اور دونوں ہاتھ پکڑ کر بیچ پیشانی میں بوسہ دیا اور مسکراتے ہوئے فرمایاکہ اگر میں محقق ہوتا تو آپ کو مجدد لکھتا آپ کے کام تو سب مجددوں والے ہیں ۔
حضور شیخ العالم دامت برکاتہم العالیہ اپنے خلفاءاور مریدین میں سب سے زیادہ اگر خوش ہوتے تو وہ حضور بحر العرفان کی ذات با برکات تھی جنکے دینی کارناموںاور ملی خدمات، سلسلے کی اشاعت کے مؤثر طریقے پربےپناہ تعریف کرتے اور ایک موقع پر فرمایا کہ میرا سلسلہ تو انہیں سےپھیلے گا یہ جملہ تو کئ بار فرماتے ہوے سنا کہ میرے مریدوں اور خلفاء میں سلسلہ کا کام جتنا مولانا آفاق صاحب نے کیا اتنا کسی نے نہیں کیا اور اب انہیں سے ہوگا ایک موقع پر حضور شیخ العالم نے یہ بات بھی ارشادفرمائی کہ جو کام مجھے کرناتھا وہ کام مولانا آفاق نے اپنے ذمے لے لیا جس سے مجھے بڑی راحت مل گئی حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کو ان کے پیرومرشد اس قدر چاہتے ہیں کہ ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے جب کبھی دنیا کےیہ بے
مثال پیر و مرید ایک محفل میں ہوتے تووہ منظربڑا قابل دید ہوتا کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ حضور شیخ العالم سے حضور بحرالعرفان دور بیٹھے ہوں دونوں حضرات ایک محفل میں ہوتے تو قریب قریب بیٹھے ہوتے کبھی ایسا بھی دیکھاگیا کہ حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ چپکے سے آکے اسٹیج پر بیٹھ جاتے جب پیرومرشد کی نظر پڑتی یا کوئی بتادیتا کہ مفتی صاحب پیچھے بیٹھے ہیں تو فورًا اپنے پاس بلاکے بٹھا تے اور فرماتے کہ آپ کا مقام وہ نہیں یہ ہے۔
ایک بارکمال پور شریف کے منبر پر میں بے خیالی میں حضور مرشدی الکریم دام ظلہٗ العالی کے قریب تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر بیٹھا ہوا تھا حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ اسٹیج کے پیچھے سےآکر چپکے سے پیچھے ہی بیٹھ گئے تھوڑی دیر کے بعد حضور مرشد گرامی باوقار دام ظلہ العالی کی نظر حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ پہ پڑی فورًا مجھ سے ارشاد فرمایا کہ تم وہا ں جا ئو اور مولانا صاحب کو یہاں بھیج دو سبحان اللہ !کیسی محبت تھی پیر کو اپنے اس مرید صادق سے خود اپنے بیٹے کو اپنے پاس سے ہٹا کر حضور بحرالعرفان کو اپنے پاس بیٹھاکر فرماتے ہیں کہ آپ کی جگہ یہاں ہے جب کبھی ایک دسترخوان پہ یہ دونوں حضرات کھانا تناول فرماتے تو حضور شیخ العالم اپنی پلیٹ سے کچھ نہ کچھ حضور بحر العرفان کو ضرور عنایت فرماتے پند ر ہ بیس سال پہلے حقہ بھی استعمال فرماتے تھے اور بارہایہ دیکھا کہ حقہ پینے کے بعد حقے کی نلی آپ کی طرف ضرور بڑھا تے اگر آپ موجود نہ ہوتے لوگوں سے پوچھتے کہ مولانا صاحب کہاں ہیں کوئی عرض کرتا فلاں کمرے میں یا فلاں جگہ بیٹھے ہیں اپنے خادم سے فرماتے کہ یہ حقہ لے جاؤ اور مولانا صاحب کو دے دو ۔
پیر کی طرف سے محبت کی اتنی اعلی مثالیں دور حاضر میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں حضور بحرالعرفان کے جسم پاک پر ان کے مرشد کا رعب اتنا طاری رہتا کہ کبھی اپنی پوری بات مرشد کی بارگاہ میں عرض نہیں کر پاتے ادب تو اس قدر تھا کہ روئے زمین پر میں نے کسی عا لم کو اپنے شیخ کا اتنا ادب کرتے ہوئے نہیں پایا جتنا حضور بحرالعرفان اپنے شیخ کا ادب کرتے تھے جہاں حضور شیخ العالم جلوہ گر ہوتے وہاں ہمیشہ پیچھے دب کر بیٹھنے کی کوشش کرتے مگر پیر و مرشد فرماتے آپ ادھر ادھر کیوں بیٹھتے ہیں میرے قریب بیٹھئے ۔
حضرت قبلہ حاجی علی رضا صاحب جو حضور مرشد گرامی باوقار دام ظلہ العالی کی بارگاہ کے حاضر باش اور مرید خاص ہیں مجھ سے فرمانے لگے قیس بابو! ادب تو میں نے مفتی آفاق صاحب سے سیکھا ہے وہ جب
اپنے مرشد کی بارگاہ میں ٍبیٹھتے تھے تو ایسا لگتا تھاکہ کوئی مجرم بیٹھا ہے ۔ حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کو بھی اپنے پیر و مرشد سے بے پناہ عقیدت تھی ان کے پیرو مرشد جب پان کھاکر زمین پر تھوکنے کو ہوتے تو آپ اس پان کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے بلکہ اپنے ہاتھوں میں لے کر فوراً اپنے منھ میں ڈال لیا کرتے تھے۔
اکثر محفلوں میں اپنے مرشد کے کمالات کا ذکر فرماتے تھے کہ اس دور میں ہمارے پیر اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں آج کے علماء انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہیں محافل نعت و منقبت میں مرشد کا نام آتے ہی انکھوں سےآنسو جاری ہوجاتے فرماتے ہیں میرے حضرت جب کھانا تناول فرماتے تو لوگ ان کے جھوٹے اور برتن کو چاٹنے کےلیے جھپٹ پڑتے تھے میں ایسا نہیں کرتا تھا کہ کہیں بے ادبی نہ ہوجائے آخر میں ان ہڈیوں کو میں چوس لیا کرتا تھا جن ہڈیوں کو میرے مرشد چوس کر دسترخوان پر ر کھ دیا کرتے تھے ا س عمل کا مجھے انعام یہ ملا کہ ایک دن میرے حضرت فرمانے لگے کہ لوگوں نے جتنا ذکر و مراقبہ کرکے حاصل نہیں کر پایا اس سے کہیں زیادہ مولانا آفاق نے میری ہڈیاں چوس چوس کرحاصل کر لیا ۔
دارالعلوم گلشن رضا چھپیا کے زمانہ قیام میں ایک دن اپنے مرشد کے حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے مراقبہ سے فارغ ہونے کے بعد حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ نے اپنے مرشد سے عرض کیا حضور سب کو کچھ نہ کچھ نظر آتا ہے مجھے مراقبہ میں کچھ نہیں دکھتا مرشد نے فرمایا ’’دریا کا دریا پی جاتے ہو اور کہتے ہوکچھ نظرنہیں آتا میں دوسروں کی طرف توجہ کرتا ہوں القائےانوار کی کوشش کرتا ہوں مگر سب کے انوار تمہاری طرف منتقل ہو جاتے ہیں‘‘ سبحان اللہ! کیا شان ہے ۔
اس طرح کے اور بھی دیگر سیکڑوں واقعات ہیں جو حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی بلندی شان اور علو مرتبت کا پتہ دیتے ہیں،طوالت کے خوف سے میں انھیں چند باتوں پر اکتفا کرتا ہوں،اللہ تعالیٰ حضور بحرالعرفان اور مرشد بحرالعرفان کے فیضان سے ہم سب کو ہمیشہ شاد کام فرمائے اور حضور بحرالعرفان کے مشن اور ان کے مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین! بجاہ سید المرسلینﷺ