باب ۵۰ از ۶۵صفحات ۳۳۶–۳۴۰
بحر العرفان ایک انجمن تھے
مولانا محمد مسیح الدین مصباحی٭
منقول ہے کہ منصور ابن عمار رحمہ اللہ بہت ہی بزرگ اور کامل انسان تھے۔ان کے وعظ میں ایسی تاثیر تھی کہ مسلم تو مسلم غیر مسلم بھی ان کا بیان سن کر رو پڑتے تھے اور ان کے لبوں پربے ساختہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ جاری ہوجاتا تھا۔ تقریبا نوے سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔جب دفن کیا گیا تو ایک صاحب مشاہدہ نے دیکھا کہ ان پاس فرشتے آئے اور پوچھا۔من ربک؟(تیرا رب کون ہے)حضرت منصور کو ان کا سوال ناگوار گزرا اور قدرے تلخی سے گویا ہوئے۔
سنومیری عمر جب بیس سال تھی تب سے تو میں نے توحید ورسالت کے بارے میں وعظ و نصیحت کرنا شروع کردیا تھا اور مسلسل ستر سال تک یہی کام کرتا رہا ۔جس کے نتیجے میں ایک دنیا نے ہدایت پائی اور کتنے غیر مسلم دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔اب تم بتائو کہ جس شخص نے پورے ستر سال رب کی طرف دعوت دی ہو اور جو رب کو جانتے ہی نہ تھے ان کو رب کی پہچان کرائی ہو آج تم اسی سے آکر پوچھتے ہو کہ تیرا رب کون ہے؟ملائکہ حیران رہ گئے ۔بارگاہ الٰی کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا گیا۔درست کہتا ہے میرا بندہ منصور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔
میں صاحب مشاہدہ تو نہیں ہوں لیکن بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے اس کے حوالے سے وہ بھی نکیرین سے کہہ سکتے ہیں کہ میری زندگی کا تو ہر لمحہ رب کی عظمتوں کا ڈنکا بجانے کے لئے وقف تھا میں نے تو اپنی حیات مستعار کا ہر لحظہ لوگوں کے دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمعیں فروزاں کرنے میں گزاردیا اور میرا تو پورا جیون ہی اسلام کی آبیاری اور اس کے فروغ و اشاعت میں بیت گیا ،اب تم مجھ ہی سے آکر سوال کرتے ہو کہ تیرا رب کون ہے؟نبی کون ہیں؟اور دین کون سا ہے؟مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اگر بحر العرفان ،داعی برحق،تاجدار رشد وہدایت حضرت مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ نے یہی انداز اختیار کیا تو بارگاہ رب العزت سے ملائکہ کو یہی ندا آئے گی کہ ٹھیک کہتا ہے میرا بندہ آفاق احمداس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔
بحر العرفان علیہ الرحمہ کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ہر پہلو بہت جاندار اور نہاہت شاندار
تھا۔آپ عالم باعمل،متقی و پرہیز گار،تفسیر وحدیث کے ماہر ،علم فقہ کے مدبر،بہترین استاذ،بلند پایہ مفتی اور دین کی تڑپ سے مالامال بہت مخلص مسلمان تھے۔ بحر العرفان علیہ الرحمہ میدان عمل کے بادشاہ تھے ،سستی اور کاہلی کو آپ نے کبھی اپنے قریب نہ آنے دیا ،تھک جانا تو آپنے سیکھا ہی نہیں تھا،انتہائی محرک و متحرک جو ہمہ وقت تیاری کی حالت میں رہتے ،ہر لمحہ کچھ کر دکھانے کی جستجو رہتی ،ایک بجلی سی تھی جوان کی رگ و پے میں دوڑ تی تھی،ساٹھ سال کی عمر ہونے کے باوجود آپ مکمل فٹ انسا ن تھے تقریبا اٹھارہ گھنٹے روزانہ مصروف کار رہنے کے عادی تھے۔بحر العرفان کا مشہور مقولہ تھا کام، کام، کام، مرنے کے بعد آرام، اپنے اس مقولہ پر خود بحر العرفان عمل پیراں رہے اس کو ہر وہ شخص بخوبی جانتا اور پہچانتاہے جسے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی ہو۔
عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ بڑی قدر ومنزلت کے مستحق ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں ان کو وہ حقیقی مقام ومرتبہ نہیں مل پاتا جو انھیں ملنا چاہئیے۔البتہ دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ہر طرف سے ان کے لئے تعریف وتوصیف کی بارش ہونے لگتی ہے ۔بقول شاعر کے
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
لیکن بحر العرفان علیہ الرحمہ ان خوش بختوں میں شامل ہیں جن کی حیات میں ہی بہت پزیرائی ہوئی ،ان کی عزت و توقیر کی گئی ،عوام وخواص کی طرف سے ان کو وہ مقام دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔بلکہ یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ آپ مقام محبوبیت فائز تھے اور محبوب تو پھرمحبوب ہوتا ہے۔
یوں تو راقم الحروف(میں) بحر العرفان علیہ الرحمہ سے الجامعۃ لاشرفیہ مبارکپور کے عہد طالب علمی سے ہی غائبانہ متعارف تھا لیکن جب فراغت کے بعد الجامعۃ الرضویہ مظہر العلوم گرسہائے گنج میں زیر تدریس اور جامع مسجد مرگاواں کے عہدۂ خطابت و امامت پر مامور ہوا تو اتفاقا ایک تعزیتی مجلس میں پہلی باربالمشافہہ شرف ملاقات ہوئی۔محب مکرم مولانا نورالعین آفاقی نے جب میرا تعارف کرایا تو فورا آپ نے مجھے گلے سے لگایا اور خیر و عافیت کے بعد قنوج آنے کی دعوت دی۔
فقیر مصباحی پہلی ہی ملاقات میں آپ کے حسن خلق ،خلق دونوں سے کافی متاثر ہوا۔پھر یہ ملاقات و زیارت کا سلسلہ تا وصال جاری رہا ۔راقم (میں) جب کبھی شرف ملاقات کے لئے آپ کی خدمت اقدس
میں حاضر ہوتا تو بڑے تواضع کے ساتھ مصافحہ و معانقہ کرکے اپنے قریب میں بٹھاتے ،عمدہ ضیافت کا اہتمام کرتے،تعلیم وتعلم اور اصلاح معاشرہ کے عنوان پر کافی نصیحت آمیز گفتگو کرتے ،اور امت مسلمہ کے درپیش مسائل،مشکلات اور اس کے حل کے لئے کچھ راہ عمل اور ترکیب کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے(آپ کی گفتگو میں ایک نمایاں خصوصیت جو محسوس کرتا تھا وہ یہ ہیکہ آپ صرف اپنی بات سناتے نہیں تھے بلکہ اپنے سے چھوٹوں کی باتیں بھی خوب غور سے سنتے تھے۔اور اس کا تشفی بخش جواب دیتے تھے ) واپسی پربھی مجھ سے ایسا ہی محبت بھرا سلوک کرتے تھے۔اور ادھر گزشتہ کئی سالوں سے الجامعۃ لاحمدیہ قنوج کے سالانہ عالمی کانفرس و دستار بندی کے موقع پر شرکت کی دعوت خاص دیتے تھے اور میں تسلسل کے ساتھ حاضر ہو کر مستفید ومستفیض ہوتا تھا۔
بلاشبہہ بحر العرفان علیہ الرحمہ بہت سارے اوصاف حمیدہ سے متصف تھے لیکن حضرت کے اندر راقم (میں) نے چند ایسی نمایاں خصوصیات جو دیکھا ہے اسے سپرد قلم کرکے اپنی بات ختم کررہا ہے
تقوی و پرہیز گاری:
بحر العرفان علیہ الرحمہ جہاں علم کے ایک مینار تھے وہیں عمل کے بھی نہایت حسین شاہکار تھے۔حضر میں نماز تکبیر اولی کے ساتھ باجماعت نماز اداکرتے تھے اور عموماسفر میں بھی اس کا التزام کرتے تھے،نیز دیگر فرائض پر مدامت اور اتباع سنت کے ساتھ ساتھ پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔
حسن خلق :
اخلاق تو ایسا تھا کہ پہلی ہی ملاقات میں ملنے والا آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔آپ ہر آنے والے کی تواضع کرتے تھے۔ہر ملنے والا یہی سمجھتا کہ حضرت کی شفقت امجھ پر سب سے زیادہ ہے۔
چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی ادب وتعظیم موجودہ وقت میں کم ہی افراد دیکھنے کو ملتے ہیں جو چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی ادب و تعظیم کرتے ہیں لیکن یہ وصف بحر العرفان علیہ الرحمہ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھی۔میں نے دیکھا ہے کہ آپ مجھ جیسے چھوٹوں سے جب کبھی ملتے تھے توخوب رفق و نرمی اور شفقت سے نوازتے تھے،کبھی اس کی پرواہ نہیں کی کہ مجلس میں ہیں کانفرنس میں۔راقم نے دیکھا ہے کہ جب استاذ گرامی منبع العلوم والمعارف حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ
مبارکپور(جو بحر العرفان علیہ الرحمہ کے ہمعصر اور عمر میں کچھ بڑے ہیں) قنوج تشریف لاتے تھے تو خوب خوب ادب وتعظیم کرتے تھے اسی طرح اپنے پیر ومرشد سمیت دیگر علماء و مشائخ کے ساتھ بھی رویہ رکھتے ہیں۔
دعوت و ہدایت میں معتدل انداز اختیار کرنا آپ کے اندر یہ خصوصیت تھی کہ بغیر افراد و تفریط کے آپ لوگوں کو رشد وہدایت کی طرف مائل کرتے تھے ،سنجیدہ گفتگو،آسان لب ولہجہ،حکمت سے بھری نصیحت آپ کے خطاب کا طرہ امتیاز تھا یہی وجہ ہے آپ کی باتوں سے عوام تو عوام خواص کا کافی متاثر ہوتے تھے۔
الحب فی اللہ و البغض فی اللہ آپ اس وصف کے کامل مصداق تھے۔کبھی زندگی میں مذبذب وصف قبح کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔جس سے بھی دوستی و تعلق بنایا اللہ اور اس کی شریعت کے واسطے اور جس سے بھی بیر،دشمنی کی اللہ تعالی کے بغض کی وجہ سے
فروغ علم میں حد درجہ لگن اور دلچسپی لینا آپ طلبہ کو خوب علم کی طرف مائل کرتے تھے اور کبھی حالت اقامت میں کبھی اپنی زیر تدریس گھنٹیوں کو نہیں چھوڑتے تھے اور اپنے ادارہ کے اساتذہ کو بھی اس کا عادی بناتے تھے اور کبھی برضرورت سختی بھی کرتے تھے اور ان سے نصیحتافرمایا کرتے تھے یہ طلبہ اسلام کے مستقبل ہیں یہی آئندہ کل اسلامی عظمت و وقار کو بلند کریں گے لہذا ان کو خوب علوم وفنون سے آراستہ وپیراستہ کریں،ان کے وقت کو برباد ہونے سے بچائیں،بحر العرفان علیہ الرحمہ کے معتمد اور چہیتے شاگرد حضرت مولانا محمد آصف مجددی دام ظلہ بتاتے ہیں کہ بعض دفعہ حضرت رات بھر سفر کرکے صبح جب قنوج پہونچتے تھے توگھرجانے کے بجائے سیدھے (الجامعۃ الاحمدیہ) چلے آتے تھے اور آتے ہی پڑھانا شروع کردیتے تھے۔پھر حسب معمول سارا دن علمی و دینی مصروفیات میں گزار کر رات گئے گھر تشریف لے جاتے تھے،طویل سفر سے ہر آدمی تھک تو جاتا ہی ہے مگر شب بھرکے سفر کی تھکاوٹ کے باوجود بحر العرفان علیہ الرحمہ مسند تدریس پر محض اس لئے آبیٹھتے تھے کہ طلباء کا وقت ضائع نہ ہو اور ان کی پڑھائی میں حرج واقع نہ ہو ۔بہت کم ہی ایسا کوئی استاذ ہو جو طلباء پر اس قدر شفیق و مہربان ہو میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ خود اور اپنے برادراصغر مولانا اخلاق احمد مجددی کے ذریعے گاوں،علاقہ کا جائزہ لیتے تھے جہاں کہیں تعلیم و تعلم کا بندوبست نہ رہتا وہاں انتظام کرتے تھے ۔اور اس میں بہت حد تک
وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ہے کمی تو بس اسی چاند کی جو تہہ مزار چلا گیا
خلاصہ حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ ایک فرد واحد کا نام نہیں ہے بلکہ آپ ایک انجمن،ایک درس گاہ، اور ایک تحریک کا نام ہے ۔اسی طرح آپ کی موت بھی فرد واحد کی موت نہیں بلکہ موت العالم موت العالم کے مطابق ایک جہان کی موت ہے۔
مولیٰ تعا لیٰ حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کو اپنے جوار رحمت میں مقام رفیع عطا کرے اور آپ کے جانشین و صاحبزادے مولانا احمد سعید مجددی حفظہ اللہ تعالیٰ کو صبر واستقامت دے آمین بجاہ سید المرسلینﷺ۔
٭استاذ جامعہ صوفیہ کچھوچھہ مقدسہ