مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتآہ ! بحر العرفان نہ رہے

باب ۴۴ از ۶۵صفحات ۳۰۹–۳۱۱

آہ ! بحر العرفان نہ رہے

ملک محمد نازش المدنی مراد آبادی

علم و علماء کے فضائل و کمالات میں متعدد آیات قرآنیہ اور احادیث طیبہ وارد ہیں چنانچہ اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (پ 22ع72)

ترجمہ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔’’

یعنی خشیت الہٰی علماء ہی کا حصہ ہے کیونکہ خشیت الٰہی کا ذریعہ معرفت الٰہی ہے اور معرفت الٰہی بندے کو علم ہی سے حاصل ہوتی ہے لھٰذا ثابت ہوا کہ اللہ سے ڈرنے والے علماء ہی ہیں۔

دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون (پ 23ع 9)

ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے اور انجان۔’’

اس آیت مبارکہ سے بھی علماء کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے کیوں کہ اہل علم اور بے علم میں فرق کرنے والی شیء وہ علم ہے اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی متعدد مقامات پر علماء کے فضائل مروی ہیں۔

چنانچہ سرکار علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ان العلماء ورثۃ الانبیاء (ابن ماجہ ص 20)

بیشک علماءانبیاء کے وارث ہیں اسی طرح دوسری احادیث میں آتا ہے: علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں ان آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ سے علماء کے فضائل و مناقب روز روشن کی طرح واضح ہیں واقعی علماء ہمارے لئے درخشندہ تاروں کی مثل ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو ہمیں علم کی روشنی دینے والا کوئی نہ ہوتا ان علماء ربانیین کی ذوات بابرکات کا صدقہ ہے کی آج دنیا میں بندگان خدا نظام شریعت پر گامزن ہیں اگر انکا وجود مسعود نہ ہو تو جہالت عام ہو جائگی جو قرب قیامت کی نشانی ہے جیسا کی حدیث میں ہے: لایقبض العلم بقبض العلماء (بخاری ج اول ص 20 )

علم کو علماء کے اٹھانے سے اٹھا لیا جائے گا۔ ابھی جب ہم ماضی قریب میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کتنی عظیم شخصیات دار فانی دار بقاء کی طرف کونچ کر گیئں جن کی رحلت سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کا پر

ہونا یقینا اس دور میں بہت مشکل نظر آتا ہے ابھی چند روز قبل خلیفہ مفتی اعظم ھند مفتی اعظم اندور حضرت علامہ حبیب یار خاں رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ابھی انکے وصال کا غم کم نہ ہوا تھا کہ 12 جولائی 2019 ہفتہ کی صبح بذریعہ شوسل میڈیا یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ حضور بحر العرفان آفاق ملت مفتی اعظم قنوج مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ وصال فرما گئے پڑھ کر با لکل یقین نہیں ہوا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے پھر خبر کی سچائی جاننے کے لئے دھڑکتے دل کے ساتھ حضرت کے ایک شاگرد سے رابطہ کیا انہوں نے کہا یہ خبر سچی ہے کہ واقعی حضور بحر العرفان وصال فرما گئے یہ سنتے ہی ایسا لگا کہ زمین قدموں تلے سے کھسک گئی اور کچھ دیر کے لئے سکتہ کی کیفیت طاری ہو گئی۔

مقدور ہو تو خاک سے پونچھو اے لئیم

تونے وہ گنج پائے گرا ں مایہ کہا گئے

(غالب)

سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا

جسے آشنا ؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا

(پیر نصیر الدین نصیر)

یقیناً حضور بح ر العرفا ن دنیا سنیت کی عبقری شخصیت تھی ایک بلند پایہ عالم دین ہونے کے ساتھ تصوف و روحانیت کے عظیم پیشوا بھی تھے آپ نے اپنی پوری زندگی اشاعت علم دین اور تصوف و روحانیت میں گزار دی یوں تو سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت و فروغ کے لیے بڑے بڑے اکا بر علماء و صوفیاء نے خوب جد و جہد کی ماضی قریب میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کو فروغ دینے اور اسکی ترویج و اشاعت میں جو اہم کردار حضور آفاق ملت کا رہا وہ اپنی مثال خود ہیں آپ علیہ الرحمہ کچھوچھہ مقدسہ میں مخدوم اشرف جہا نگیر سمنا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جام علوم و معارف سے اپنی علمی پیاس بجھا ئی اور ایک بلند پایہ عالم دین بن کر فارغ التحصیل پوئے علوم ظاہرئ سے فراغت کے بعد آپ نے تصوف و روحانیت کی طرف رخ کیا اور بنارس میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے ایک بزرگ عارف با للہ شیخ احمد رضا خان مد ظلہ النورانی کے دست با برکت پر داخل سلسلہ ہوئے اور با قاعدہ سلوک کی منزلیں طے کرکے چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازے گئے آپ ع؛یہ الرحمہ یوں تو متعدد اوصاف حمیدہ کے حامل تھے مگر خاص طور پر جس وصف

سے آپ علیہ الرحمہ مشہور ہوئے وہ آپ کی تقویٰ شعاری عوام و خواص میں آپ کی تقویٰ شعارتی مسلم تھی کھانے پینے میں انتہائی سادگی اختیار فرماتے اور لباس انتہائی سادہ ہوتا تھا اگر آپ چاہتے تو آپ کے عقیدت مند آپ کے ایک اشارے پر کیا سے کیا نہ کر دیتے مگر آپ اکثر فرما یا کرتے تھے یہ دنیا ہے لھٰذا اس سے کم سے کم استعمال کرو اپ علیہ الرحمہ سنت رسول پر بھی سختی سے عمل پیرا تھے۔

یوں تو راقم الحروف 2014 میں پہلی مرتبہ حضرت کی ذات با برکت سے متعارف ہوا لیکن ملاقات کا شرف حاصل نہ کر سکا سال گزشتہ 2018 جب کہ میں جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف میں زیر تعلیم تھا اس وقت مطالعہ کی غرض سے استاذ گرامی ماہر رضویا ت امام علم و فن شیخ الحدیث علامہ حنیف خان رضوی زید مجدہ کے قائم کردہ امام احمد رضا اکیڈمی میں مطالعہ کے لئے جا یا کرتا تھا ایک دن جب میں اکیڈمی کی کائبریری میں داخل ہوا تو دیکھا کہ استاز گرامی کے ساتھ ایک نورانی و عرانی شخصیت جلوہ افروز ہے احباب سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ روحانی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ بحر العرفان آفاق ملت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی مد ظلہ العالی ہیں پھر کیا تھا راقم نے آگے بڑھ کر حضرت کی بارگاہ میں سلام عرض کیا اور دست بوسی کی سعادت حاصل ہوئی یہ میری حضرت سے سب سے پہلی ملاقات تھی مگر افسوس اس کے بعد دوبارہ ملاقات سے شرفیاب نہ ہو سکا ، ملاقات کرتے وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا کہ حضرت سے میری اس سے قبل بھی کبھی ملاقات ہوئی ہو اور یہ بھی محسوس ہوا کہ حضرت سب سے زیدہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو کہ یہ نبی علیہ السلام کی سنت مبارکہ ہے جو بھی نبی کریمﷺ سے ملاقات کرتا وہ یہ کہتا کہ سرکار سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں آخر میں راقم حضرت کے دونوں شہزادوں اور جملہ لواحقین سے تعزیت کرتا ہے اور اللہ جل مجدہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ کریم حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور حضرت کی تربت پر رحمت و نور کی بارشیں نازل فرمائے اور دعا گو ہوں کہ اللہ جل مجدہ حضرت کے صاحبزادہ مولانا برکات احمد مجددی کو الابن سر لابیہ کا مصداق بنائے اور اپنے والد علیہ الرحمہ کا سچا جا نشین بنائے اور اللہ کریم بحر العرفان کے مشن کو مزید فروغ عطا فرمائے اور انکے صدقہ ہماری بے حساب مغفرت فرمائے۔