مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتجہالت کے طوفان سے ٹکرانے والا

باب ۹ از ۶۵صفحات ۷۲–۷۶

جہالت کے طوفان سے ٹکرانے والا

مولانا سید محمد اسلم میاں وامقی جیلانی نائب سجادہ نشین

خانقاہ وامقیہ اشرفیہ شہامت گنج بریلی شریف

صاحبزادگان بحر العرفان حضرت مولانا احمد سعید و مولانا برکات احمد نقشبندی صاحبان و جملہ لواحقین و متعلقین، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

۹؍ذیقعدہ 1440ھ /13 جولائی 2019ء کی نماز فجر ، اورادو ظائف اور صبح کے معمولات خانقاہ سے جب فقیر اشرفی فارغ ہوا ، تو متعدد ذرائع سے انتہائی افسوسناک خبر گوش گزار ہوئی،جسے سن کر دل بیتاب ہو گیا ، آنکھیں اشکبار ہو گئیں ۔لیکن پھر بھی دل و دماغ کو یقین نہیں آیا ۔اس خبر نے ہر فرد بشر کو سکتے میں ڈال دیا ۔لوگوں کے حواس گم ہو گئے ،کوئی اس خبر پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ اچانک امت مسلمہ کا ایک دردمند مسیحا ، فعال مبلغ ،متحرک عالم دین ، ذکر و فکر ، مراقبہ و مکاشفہ ،سلوک و تصوف اور علم و روحانیت کے ذریعہ متوسلین کی تربیت کرنے والا شیخ اور بحر العرفان دنیا سے رخصت ہو جائے گا ۔

انسانیت کو فقر وضلالت سے نکال کر شاہراہ ہدایت پر لانے والا ،ضلالت و گمراہی اور جہالت کے طوفان سے ٹکرانے والا اتنی جلدی اس دار فانی سے رحلت کرے گا کہ جسے آنکھیں ٹک ٹکی باندھے دیکھتی رہ جائیں گی کبھی سوچا بھی نہ تھا اور واقعی دل کے اندر یہ خیال ہو گیا کہ علم اور تصوف و روحانیت کا آفتاب عالم تاب غروب ہو گیا اور اندھیرا چھا گیا ،

، انا للہ و انا الیہ راجعون ، ان للہ ما اخذ ، و لہ ما اعطیٰ، وکل شی عند اللہ باجل مسمیٰ، فلتصبر و لتحتسب۔

خانقاہ کی ہفتہ وار محفل میں ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا جس میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمود حسین وامقی اشرفی صدر شعبہ عربی بریلی کالج نے حضرت مفتی صا حب علیہ الرحمہ کی تعلیمی و تعمیری اور روحانی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی خانقاہ وامقیہ اشرفیہ کے صاحب سجادہ حضرت الحاج سید محمد میاں وامقی جیلانی اشرفی دام ظلہ نے بلندی درجات کی دعا فرمائی ۔

حضرت بحرالعرفان شیخ طریقت و شیخ الحدیث مفتی آفاق احمد نقشبندی علیہ الرحمہ نے تعمیری تعلیمی روحانی سماجی دعوتی تبلیغی اور اصلاحی کار نا مے انجام دئے ہیں جس کی بنیا د پر آپ کا نام اور کام تا دیر زندہ و تابندہ رہے گا سر زمین قنوج پر آپ کی خدمات آپ کے خلوص ایثار قربانی عمل پیہم یقین محکم آہ سحر گاہی کا منھ بولتی ثبوت ہیں آپ کی رحلت سے یقینا ایک عظیم خلاء پیدا ہو گیا ہے بڑا نقصان ہوا ہے مگر ہمیں حضرت کی تربیت کی وجہ سے آپ کے اخلاف و اولاد اور تلامذہ و خلفاء سے بڑی امید ہے کہ آپ کا مشن شب و روز ترقی کی منازل طے کرےگا حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں سب سے بہتر یہی حراج عقیدت ہوگافقیر اشرفی دعا گو ہے کہ مولیٰ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے آپ کی خدمات کا بہتر صلہ عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین علیہ التحیۃ والتسلیم ۔

روحانی و علمی شخصیت

ابراہیمی جماعت پاکستان

اتر پردیش ہندوستان میں روحانی و علمی شخصیت محترم حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی کے انتقال پر ملال کے موقع پر ان کے تمام لواحقین اور جملہ خلفاء و مریدین سے تعزیت و افسوس کا بر ملا اظہار کرتے ہیں اور انکی اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ لواحقین و دیگر کو صبر جمیل عطا کرے اور مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔

نادر روزگار ہستی

علامہ محمد احمد مصباحی

ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ

باسمہ وحمدہ تعالیٰ وتقدس

بملاحظہ اولاد ومتعلقین بحرالعرفان مفتی آفاق احمدمجددی رحمہ اللہ رحمۃ

سلام مسنون،

قلم تو آپ لوگوں کی تعزیت کے لیے اٹھایا ہے مگر خود اپنے احساسات پہلے بیان کرنا چاہتا ہوں۔

٭بحرالعلوم اس دور قحط الرجال میں ایک نادر روزگار ہستی تھے۔ بڑے محاسن وکمالات کے حامل اور عوام وخواص کے لیے قابل تقلید نمونہ تھے۔ ان کی متعدد خصوصیات اور خوبیوں سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں:

۱۔دین کا درد اور عوام کی فلاح و بہبود کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

۲۔اخلاق حسنہ کے پیکر، متواضع، منکسرالمزاج اور بہت ملنسار تھے۔

۳۔لوگوں کے دکھ درد اور خوشی وغمی میں شرکت ان کی فطرت تھی۔

۴۔قنوّج میں انھوں نے قدم رکھا تو دینی وتعلیمی چہل پہل سے وہ بڑی حدتک خالی تھا، انھوں نے اپنی ثابت قدمی اور جہد مسلسل سے اسے علم وعمل کا گہوارہ بنادیا۔

۵۔شہر میں الجامعۃ الاحمدیہ قائم کیا جس میں ابتدا سے فضیلت تک تعلیم ہونے لگی اور وہ دور و نزدیک کے کثیر طلبہ کا مرجع و ما ویٰ بن گیا۔

۶۔بَنات کے لیے بھی ادارہ بنایا جہاں وہ زیور علم سے آراستہ ہونے لگیں۔

۷۔کئی اسکول قائم کیے جن میں دینی ماحول میں عصری تعلیم کے شائقین کی تعلیم وتربیت جاری ہوئی۔

وہ دینی وعصری دونوں طرح کی تعلیم کے لیے ہمیشہ فکرمند رہتے۔ اور مسلم نسل کی ہر میدان میں ترقی کے لیے کوشاں رہتے۔

۸۔عوام وخواص عموماً علم تو حاصل کرلیتے ہیں مگر باطنی تربیت، ذکروفکر اور مراقبہ وغیرہ سے غافل رہتے ہیں۔ مفتی صاحب نے خانقاہ مجددیہ قائم کرکے تزکیۂ قلب اور معمولاتِ صوفیہ کی عملی تربیت کے لیے اپنی مساعی جمیلہ صرف کیں۔

۹۔قرب وجوار کے علما اور عوام سے رابطہ رکھتے ہوئے مشکلات میں ان کی رہ نمائی و دست گیری کے لیے سر گرم رہے۔

۱۰۔حکّام اور سماج کے سربرآوردہ افراد سے بھی کسی قدر رابطہ رکھ کر لوگوں کے مسائل اور پیچیدہ معاملات میں مناسب امداد بہم پہنچانے کی سعی جمیل فرمائی۔

۱۱۔اتنے سارے مشاغل کے ساتھ تعلیم وتدریس سے بھی رابطہ استوار رکھا اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھار نے کے لیے توجہ صرف کرتے رہے۔

صحیح بخاری شریف کا درس پابندی سے دیتے اور اس شان سے کہ دونوں جلدیں مکمل ختم کراتے۔ اَسفار اور تبلیغی دوروں کے باعث تکمیل بخاری کے لیے اوقات نکالنے میں بڑی مشقت بھی پیش آتی مگر کتاب کا درس ناتمام نہ چھوڑتے۔ ان کی یہ خصوصیت انھیں اس زمانے کے شیوخِ حدیث سے ممتاز کرتی ہے۔

استاذ گرامی حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز مراد آبادی علیہ الرحمہ جب تک دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں شیخ الحدیث وصدرالمدسین رہے، ہرسال حرفاً حرفاً تکمیل بخاری کا اہتمام کیا۔ اب تو مدارس میں اس اہم کتاب کی تدریس بھی دوسری بہت سی کتابوں کی طرح صرف بطور تبرک یا بطور نمونہ رہ گئی ہے۔

۱۲۔حیرت یہ ہے کہ مذکورہ جملہ مصروفیات کے باوجود مفتی صاحب نے قرطاس وقلم سے بھی رشتہ مضبوط رکھا۔ تقریباً پچاس کتابیں لکھیں، جو تصوف و طریقت سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ دیگر موضوعات و علوم پر تو بہت سے لوگ لکھ رہے ہیں لیکن آداب ِذکر ومراقبہ اور اسرار ِتصوف کی طرف توجہ بہت کم ہے، اس لیے اپنے قلم کا محور اسی کو بنایا۔

۱۳۔ہر سال وہ شہر قنوّج میں ایک عظیم الشان کانفرنس بھی منعقد کرتے جس میں علما وخطبا کے ذریعہ عوام کے لیے ہدایت و موعظت کا سامان فراہم کیا جاتا آخری دو برس میں بیرونی ممالک کے بھی متعدد مندوبین کی شرکت رہی۔

۱۴۔چند سالوں سے انھوں نے دن میں سیمینار منعقد کرنے کا بھی سلسلہ جاری کیا جس میں منتخب اہل قلم اور دانشوروں کے ذریعہ مسلمانوں کے دینی قومی تعلیمی سماجی مسائل ومشکلات پر تبادلۂ خیالات ہوتا، قیمتی مقالات پیش ہوتے اور ان کی فلاح وترقی کے لیے مناسب رائیں سامنےآتیں تاکہ لوگوں کی زندگی صحیح سمت میں سرگرم سفر ہو۔

۱۵۔وہ مسلمانوں کے معاملات ومسائل کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے اور بغیر کانفرنس اور سیمینار کے بھی ارباب علم ودانش سے تبادلۂ خیالات اور مناسب تجاویز جاننے اور عمل میں لانے کی کوشش کرتے

٭میری نظر میں ایسا درد مند، ایسا مخلص، ایسا منکسر، بےتصنّع اور اتنی خوبیوں کا جامع انسان ملنا بہت مشکل ہے۔ خدا کا فضل شامل حال ہو تو کچھ افراد مل کر ان کے کاموں کا تسلسل باقی رکھ سکتے ہیں۔ ربّ کریم توفیق خیر سے نوازے۔

٭مولا تعالیٰ موصوف کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، پس ماندگان کو صبر جمیل و اجرجزیل سے نوازے، ان کے نقوش قدم پر گام زن رکھے اور ان کے قائم کردہ تمام اداروں بلکہ ان کے سارے مشن کو قوت و توانائی کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق جمیل مرحمت فرمائے۔ وھو المستعان، وعلیہ التکلان۔