باب ۴۹ از ۶۵صفحات ۳۳۲–۳۳۵
مسلک و مذہب کے سچے نقیب
مفتی محمد معین الدین برکاتی٭
میری انتہاے نگارش یہی ہے
تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں
اس خبر سے دل و جان پر بجلی گری
ناگہاں وہ یہاں سے وہاں چل دیے
قاضی و مفتئ شہر قنوج حضرت علامہ مولانا مفتی محمد آفاق صاحب قبلہ مجددی علیہ الرحمہ والرضوان کا سانحہ ارتحال یقیناً اہل سنت و جماعت کے لیے علمی خلا اور عقیدت کیشوں کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔
حضرت مفتی صاحب قبلہ متقی پرہیزگار متدین عالمِ دین صوفی صفت مسلک و مذہب کے سچے نقیب اور داعی تھے قنوج جیسے اونچے نیچے شہر کے ایک محلہ حمالی پورا میں جامعہ احمدیہ قائم فرماکر محلہ کو بھی احمد نگر بنا دیا۔
سن 1990عیسوی میں جبکہ حضرت علامہ مولانا مفتی مناظر حسین صاحب علیہ الرحمہ اپنے علم و فن کے جوہر لوٹا رہے تھے میں بھی ایک طالب علم کی حیثیت اسی وقت حاضر ہوا مشفق و مہرباں استاذ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد آفاق صاحب علیہ الرحمہ سے شرفِ ملاقات نصیب ہوئی ہمارے ہم سبق مولانا محمد مبین جراری مولانا محمد نوشاد عالم جراری مولانا محمد شکیل جراری مولانا محمد آصف عیسیٰ پوری و مولانا مستقیم صاحب مالک ادارہ غوثیہ چھبرا مؤ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
دو سال تک حضرت کے زیرِ سایہ رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی یوں تو سارے اساتذہ مشفق و مہرباں تھے لیکن حضرت مفتی صاحب قبلہ جس قدر مہرو محبت اور لُطف و کرم فرماتے اس کا انداز ہی سب سے الگ ہوتا آج ہمارے لیے یہ بات لائق افتخار اور باعثِ رشک ہے کہ حضرت ہم لوگوں پر اعتماد فرماتے اور مستقبل کے نقوش و خطوط اور اشاریے تعلیم فرماتے مدرس بننے اور مدرسہ چلانے کے اصول بھی بتاتے جامعہ احمدیہ احمد نگر کی سنگِ بنیاد کے بعد کس قدر مشقتیں اور پریشانیاں جھیلنی پڑیں اور کیا کیا دشواریاں پیش آئیں بیان فرماتے
جس مسجد میں آپ نماز پڑھتے اور پڑھاتے تھے کبھی كبھار ہم لوگ ٹہلتے ہوئے مسجد پہنچ جاتے تو گھر میں بلا کر چائے ضرور پلواتے مگر کبھی کبھی ہم لوگ نہیں نہیں کرتے ہوئے چلے جاتے اور کوئی احساس نہیں کرتے مگر آج اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ مہرباں استاذ کس شفقت سے اپنے پالوں کو بلاتا ہے اور وہ بلانا کس قدر اہم ہوتا ہے حضرت میں صبرو توکل اتنا تھا کہ عمر کا معتد بہ حصہ مسجد کے اس چھوٹے سے حجرے میں گزار دیا جس میں ٹین یا کھپریل پڑی ہوئی تھی وجہ یہ تھی کہ انکا مقصد عظیم ہمیشہ مدرسہ کی تعمیری اور تعلیمی ترقی تھی نہ کہ گھر مکان کی یہ انکے خلوص و للّہیت کی روشن دلیل ہے حضرت کو جب مسجد میں پایا تو اورادو وظائف ہی میں مشغول پایا اس لیے اکثر مسجد کے دروازے سے ہی دیکھ کر ہم لوگ آگے بڑھ جاتے ایسا اکثر عصر کے بعد ہوا کرتا تھا آج جبکہ وہ اس دار فانی سے کوچ کر کے ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے اب انکی شفقت بھری باتیں رہ رہ کر ستاتی ہیں وہ لمبی سانس لے کر جب معین کہہ کر بلاتے تھے اب تک انکی وہ آواز کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی ہے ۔
مجھے خوب یاد ہے اور تا دمِ زیست یاد رہے گا جبکہ میں ایک مرتبہ بیمار ہوا کئی دنوں بخار آنے کے بعد میری دونوں بغلوں میں پھوڑے نکل آئیں دو دو تین تین پھوڑے ہر بغل میں جو ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتے ایک پھوٹتا دوسرا نکل آتا پیسے کی قلّت کہاں تک دوا کراتا حضرت کو جب معلوم ہوا تو مجھے خود اپنے ساتھ ڈاکٹر کے پاس دو بار لیکر گئے اور دونوں طرف کے پھوڑوں کا آپریشن کرایا اور پیسے بھی خود ہی دیے مجھے دینے نہ دیے اس طرح اُن پھوڑوں سے نجات ملی۔
بزرگانِ دین اور صناديد اُمّت کا ذکر بہت والہانہ انداز میں فرماتے امام المحدثین فی الہند حضرت شیخ عبد الحق محدث الدہلوی رضى الله تعالى عنه حضرت سرکار مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سر ہندی رضى الله تعالى عنه اور سیّد سرکار مجدد وقت میر عبد الواحد بلگرامی سراپا علم و معرفت سیّدنا سرکار سید میر طیب بلگرامی رضى الله تعالى عنه اور دیگر مشائخ بلگرام کی معرفت حضرت قبلہ ہی سے سن کر ہوی تھی ۔
سن1991 عیسوی میں جب مخدوم گرامی حافظ و قاری سیّد طاہر میاں صاحب قبلہ دام ظلہ اور سیّد میر عارف میاں صاحب سے گفت و شنید کرنے کے بعد خانقاہ واحدیہ کے کتب خانہ جس میں ہزاروں کتابیں تھیں جن میں نایاب بھی تھیں اور مخطوطے بھی تھے ان سادات کرام نے پورا کتب خانہ ہی حضرت کے کہنے پر جامعہ احمدیہ کے لیے بخش دیا یہ حضرت والا پر اعتماد اور کمال مہربانی کی بات تھی پھر دین
متین کی خدمت گزاری کا ان سادات حضرات کو پورا احساس تھا ادھر کتب خانہ کے ضائع ہونے کا بھی شدید اندیشہ تھا کیونکہ بہت سی کتابیں کرم خوردہ ہو چکی تھیں اور اس دور میں اُن دونوں سیّد حضرات کے شہزادوں کی توجہ اور علمی رجحان بھی کم تھا پھر سیدوں کی تو یہ ریت ہی ہے کہ اُن سے کوئی کتنی ہی قیمتی چیز کیوں نہ مانگے وہ نہ نہیں کرتے بلکہ اس کی دل جوئی کرتے ہوئے مانگنے سے سوا ہی دیتے ہیں ۔
فراغت کے بعد حضرت نے کئی مرتبہ مجھ سے کہا کہ معین یہاں آ جاؤ تمہارے سب ساتھی ہیں اچھا رہے گا مگر کسی سبب سے میں وہاں نہ جا سکا ۔
حضرت بریلی شریف جب بھی تشریف لاتے اس نا چیز سے ملاقات ضرور فرماتے اور میرے عرض کرنے پر حضرت دو بار میرے غریب خانہ پر بھی تشریف لائے وہی شفقت و محبت وہی انداز و روش نہ کوئی تکلّف نہ انا کا شائبہ منکسر مزاجی اور فروتنی کی زندہ تصویر تھے ۔
مسلک اعلیٰ حضرت کے وہ سچے نقیب اور داعی تھے جامعہ احمدیہ کی دو سالہ زندگی میں اعلیٰ حضرت رضى الله تعالى عنه سے زیادہ کسی بھی بزرگ کا تذکرہ میں نے اُن کی زبان سے نہ سنا شاید یہی وجہ تھی کہ صبح کے ترانے میں ہمیشہ ۔
کعبہ کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود
ہی پڑھا جاتا تھا متحمل مزاج اتنے تھے کہ حضرت علامہ مفتی مناظر حسین صاحب سنبھلی علیہ الرحمہ ان کو سخت و سست بھی کہہ دیتے تو بھی مسکراتے ہی رہتے کبھی مہتمم ہونے کا زعم وخيال خاطر میں نہ آتا وہ اہل سنت و جماعت کے اتحاد کے بڑے حریص تھے شاید اسی وجہ سےوہ مثبت پہلو میں مخالفین کو بھی مسلک اعلیٰ حضرت کے جھنڈے تلے لانے کی کوشش کرتے اگرچہ مخالف سر جھٹک کر چلے جانے کی کوشش کرتا یا کم از کم اس محفل میں بد گوئی سی باز رہتا
چنانچہ جامعہ احمدیہ کے ہم نو طلبہ کو منتخب کیا گیا اور قنوج سے ٹریکٹر ٹرالی لیکر حضرت نے ہم لوگوں کو کتب خانہ کی کتابیں لانے کا حکم دیا کچھ کتابوں کے علاوہ پورا کتب خانہ ہم لوگ ٹرالی میں بھر کر جامعہ احمدیہ میں لے آئے بعد میں حضرت نے اُن کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تو گاہے گاہے اُن کتابوں کے حوالے سے اہم گفتگو فرماتے اور وعظ و نصیحت کی باتیں بھی بتاتے ۔
ہفتہ میں ایک دو بار ایسا ضرور ہوتا کہ حضرت کوئی نہ کوئی تصوّف کی بات کہتے اور سیّدنا سرکار اعلیٰ
حضرت رضى الله تعالى عنه کے دِیوان حدائقِ بخشش سے اکثر اشعار سناتے اور کبھی کبھی اُن اشعار کی تشریح بھی فرماتے دیتے بے پناہ مشغولیت کے با وجود اسباق کا ناغہ نہیں کرتے طبیعت علیل ہونے کے باوجود سبق ضرور پڑھاتے کبھی کبھی بخار کی حرارت سے چہرہ سرخ ہوتا مگر سبق کا ناغہ نہیں ہوتا طلبہ کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور ملاطفت سے پیش آتے کبھی ڈانٹ پھٹکار تک نہیں لگاتے اگر کبھی کسی پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتے تو سبق کے بعد مسکرا کر کہتے کیوں برا تو نہیں لگا اچھا ٹھیک ہے اب غلطی مت کرنا ۔
وہ جید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقبول پیر بھی تھے آج ہندوستان کے بہت سے صوبوں میں خاص کر یو پی میں اُن کے ہزاروں مریدین اور لاکھوں کی تعداد میں تلامذہ موجود ہیں آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کے لگائے ہوئے شجرِ علمی یعنی سیکڑوں بیگہ میں پھیلا ہوا جامعہ احمدیہ انٹر کالج اور اس کے صحن میں بنی ہوئی عالی شان مسجد اور اس کے علاوہ محلوں اور دیہاتوں میں قائم کیے ہوئے مکاتب و مدارس اور اخلاف میں علماء اور عالمات اور شاگردوں کی ایک لمبی قطار ہے جو انہیں صبح قیامت تک زندہ و جاوید رکھیں گے اور ملک و بیرون ملک میں ان کے نام کے چرچے ہوتے رہیں گے ۔
ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی ناز برداری کرے
خداے غافر وقدیر حضرت مفتی صاحب قبلہ کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے مراتب کو بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگاں ومریدین و معتقدین کو صبر جمیل عطا فرماے آمین بجاہ سید المرسلین علیہ وعلی الہ افضل الصلوات و ازکی التسلیمات۔
٭ استاذ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف