باب ۱ از ۶۵صفحات ۳–۲۶
عرض حال
انتساب
حضور عارف باللہ شیخ العالم حضرت مولانا الحاج الشاہ احمد رضا خان النقشبندی المجددی دامت برکاتہم العالیہ، زیب سجادہ خانقاہ خیریہ، کمالپور شریف، ضلع مرزاپور، یو پی
جن کی صحبت بابرکت، توجہات عالیہ اور فیوضات لامتناہیہ
نے
مفتی آفاق احمد کو
بحر العرفان اور مجدد طریقت جیسے بلند و بالا مقامات پر فائز کر دیا۔
اللہ نے عطا کیے روشن دماغ و دل
ہیں فیضیاب حضرت احمد رضا سے ہم
عرض حال
محمد آصف رضا مجددی٭
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روے گل سیر نہ دیدم کہ بہار آخر شد
٩؍ذی قعدہ ١٤٤٠ ھ مطابق ١٣ جولائی ٢٠١٩ ء کی صبح ہم وابستگان دامن بحر العرفان کے لئے خصوصاً اور تمامی اہل سنت کے لئے عموماً صبح قیامت بن کر طلوع ہوئی کہ ہزاروں دلوں کو ذکر خدا سے جاری کرنے اوراپنی نظر کیمیا اثر سے گناہ گاروں کو عابد شب بیدار بنانے والی ذات، ہزاروں علماء کے استاذ و مربی سیکڑوں مساجد و مدارس و خانقاہوں کے بانی و مؤسس مجدد طریقت حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمۃ والرضوان اچانک سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
یقیناً یہ دنیا غم و آلام اور خوشی و مسرت کی آماجگاہ ہے لیکن ہمارے لئے اس سے بڑھکر کوئی اور غم و الم نہیں ہو سکتا ہے کہ ناچیز نے جس استاذ و مربی شیخ و مرشد کی بارگاہ ناز کی جاروب کشی کر کے علم وعمل عقل و شعور ذکر و فکر وغیرہ تمام ظاہری و باطنی نعمتیں حاصل کیں،جس کے روئے تاباں کو دیکھ کر دل کو چین و سکون کی دولت میسر آتی تھی، جن کی صحبت بابرکت دعوت و تصوف کی گتھیاں سلجھانے والی، دلوں کوچمکانے والی، روح کو بالیدگی، فکر و شعور کو بلندی اور قلوب و نفوس کو تصفیہ و تزکیہ کی دولت بے بہا بخشنے والی تھی، جسے دیکھ کر بلا شبہہ امام ربانی مجدد الف ثانی کی صحبت کی یاد تازہ ہو جاتی تھی، وہی ذات اس طرح ہمیں بے سہارا چھوڑ کر چلی گئی۔
آہ !صد آہ !کہ جس کی ایک ایک اداء ہم کم سوادوں کے لیے سنت نبوی کا حسین درس ہوا کرتی تھی اور جسے دیکھ کر ہم اپنے وجود فکر و عمل کی نوک پلک درست کیا کرتے تھے وہی سنتوں کا پیکر ہم سے رخصت ہو گی۔
حضور والا کی جدائی حاضر باشوں اور ریزہ خواروں کے لئے کتنا بڑا کوہ الم بنی اسے الفاظ میں بیان کرنا نہایت مشکل ہے کیونکہ نعمت جتنی عظیم ہوتی ہے اس کے فقدان کا غم بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے یہی وجہ
............................
۔٭خادم التدریس الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ، قنوج
ہے کہ جنہوں نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی اس پیکرِ علم وعمل و اخلاق سے شرف ملاقات حاصل کرکے انکے الطاف خسروانہ کا مزہ اٹھایا تھا وہ آج تک مدح و ستائش میں رطب اللسان ہیں اور سب انہیں ہر خوبی و کمال میں بیک زبان فائق الاقران اور ممتاز دہر کہہ رہے ہیں تو پھر جنکی زندگی کا ہر لمحہ انہیں کا مرہون منت ہو اس طرح اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہونا ان کے لئے کتنا سوہان روح ہوگا۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کے وصال کی خبر آناً فاناً سوشل میڈیا کے ذریعے ملک و بیرون ملک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہمارے کانپور سے قنوج پہنچنے سے پہلے ہی بے یقینی سے لبریز فون کالز اور ایس ایم ایس کا طوفان امڈ پڑا اس کے جواب میں ہم نے کیا کہا کچھ یاد نہیں کیوں کہ لاکھ صبر و تحمل کے با وجود ہم میں سے کسی کے حواس بجا نہیں تھے۔
اس کے بعد کئی دن تک ملک و بیرون ملک سے درد مندان اہل سنت علماء و مشائخ اور دانشوران کے تعزیتی بیانات اور مراسلات آتے رہے نیز بیرون ہند کے متعدد اداروں خانقاہوں اور تنظیموں کے ساتھ ہندوستان کے ہر قابل ذکر سنی ادارہ و خانقاہ اور تنظیم میں تعزیتی مجالس اور ایصال ثواب کی محافل منعقد ہوئیں جیسا کہ واٹساپ فیس بک اور اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا، داعی اتحاد و اتفاق کی اس عالمگیر مقبولیت و محبوبیت اور تمام سنی حلقوں میں بے مثال پذیرائی کے پیش نظر بعض کرم فرماؤں کا حکم ہوا کہ حضرت بحر العرفان سے متعلق ،ان دینی و مذہبی تعلیمی ادار وں اورروحانی مراکز نیز سیاسی و سماجی تنظیموں اور کارکنوں کے تعزیتی بیانات و تاثرات اور کچھ حضرات کے چشم دید واقعات و حالات یکجا کرکے نمبر کی شکل میں شائع کردئے جائیں تاکہ آپ کی تعلیمی و تربیتی تعمیری و تنظیمی دینی و سماجی نیز روحانی اور صوفیانہ خدمات کو نسل نو کے لئے سامان عبرت بنایا جاسکے اور آپ کی حیات و خدمات پر آئندہ لکھنے والوں کے لئے مواد بھی فراہم ہوجائے ،بات اچھی تھی اس لئے قبول کر لی گئی لیکن گھر اور جامعہ میں دکھ درد کے اس ماحول میں نیز احباب کے اصرار پر شہر و اطراف شہر میں ایصال ثواب کی بے شمار محفلوں میں شرکت کیوجہ سے عملاً پیش رفت نہ ہوپائی اس لئے بہت سے تعزیتی بیانات و مراسلات ضائع ہوگئے بہر حال جو کچھ وقت پر میسر آیا اسے نقش اول کے طور پر نشر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، رب تعالیٰ قبول فرمائے۔
واضح رہے کہ ہم نو آموزوں کو نہ تو صحافتی تجربات حاصل ہیں اور نہ ہی تصنیف و تالیف اور تحریر کی
لیاقت و صلاحیت اس لئے جس طرح مناسب لگا اس نمبر کو ترتیب دے دیا گیا ہے یہ بھی دھیان رہے کہ ہمارا مقصد حضور بحر العرفان کے اوصاف و کمالات کے ساتھ آپکی خدمات کے دائرہ اثر کی بھی جھلک دکھانا مقصود تھا اس لئے ہم نے آپکے تلامذہ و مسترشدین اور احباب و متعلقین کی تحریرات کو زبان و بیان میں بغیر کسی خاص اصلاح و تصرف کے شامل کردیا ہے۔
ہم نے اس مجموعے کو درج ذیل گوشوں میں منقسم کیا ہے۔
تعزیت نامے اس میں ہند و بیرون ہند عربی و اردو نیز علما و دانشوران اورمشائخ کے اعتبار سے الگ الگ کردیے ہیں۔
مضامین اس میں حضرت موصوف کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر موصول ہونے والی تحریروں کو جگہ دی گئی ہے۔
اہل خانہ اور قرابت داروں کے قلبی واردات اس میں حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کے شہزادوں اور شہزادیوں اور دیگر قرابت داروں کے مضامین کو من و عن نقل کردیا گیا ہے۔
گوشہ مناقب اس میں حضور قبلہ کی شان میں لکھے گئے مناقب میں سےچنندہ کلاموں کو جگہ ملی۔
اخیر میں اخبارات وغیرہ میں شائع شدہ تعزیتی مجالس کا عکس شائع کردیا گیا ہے۔
اس عظیم نمبر کی اشاعت کا کریڈت حضرت مولانا سید نورعالم مصباحی، مولانا قاری ضیاء القمر مجددی مولانا عبدالعزیز آفاقی، مولانا آفتاب آفاقی اور مولانا ناظم آفاقی کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت اور شب بیداریوں سے ایک مشکل کام کو آسان بنا دیا نیز اس کے تزئین کار مولانا دلشاد مصباحی کے بھی ہم سراپا سپاس گزار ہیں کہ انہوں نے بقر عید کی چھٹیاں ہمیں عنایت فرما دیں۔
رب منعم و قدیر تمام حضرات کو ان کی کاوشوں سے کئی گنا زیادہ اجر عطا فرمائے اور اس عجالہ کو قبول فرماکر ہم سب کے لیے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین بجاہ طہ و یٰس صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ و بارک وسلم
بحر العرفان بقلم خود
مختصر روداد ِزندگی
بہت سے علماء و مشائخ نے خود اپنے حالات زندگی اور خدمات قلمبند کئے ہیں،جواخلاف کے لئے باعث عبرت و نصیحت اور مؤرخین و سوانح نگاروں کے لئے نہایت مفید ہوئے ہیں اور ان شخصیات کے خد و خال کو اقوام کے سامنے پیش کرنے میں وہ سوانح انتہائی درجہ معاون ثابت ہوئے ہیں۔ وہ اس لائق ہوتے تھے کہ قوم انہیں پہچانے۔ عظیم شخصیتوں کے عظیم کارنامے اور انکے جذبات و ارادات اور قوم و ملت کے لئے دن رات کی تگ و دو ،محنتیں، مشقتیں اور جانفشانیاں دوسروں کے لئے یقیناً عبرت کا سبب ہوتی ہیں ۔
دنیا میں جو لوگ بھی قوم و ملت کے لئے کچھ کر کے گئے ہیں اگر انکے جزوی واقعات جو عمل سے تعلق رکھتے ہیں، با لتفصیل لکھے جائیں تو ان سے حوصلے بھی ملتے ہیں،عبرتیں بھی حاصل ہوتی ہیں، تجربات بھی ہوتے ہیں، امنگیں اور جذبات بھی ابھرتے ہیں، دنیا میں ایسے بہت افراد پیدا ہوئے ہیں جن کی ایک ایک ساعت، ان کا ایک ایک لمحہ قوم و ملت کے لئے وقف تھا ۔ مگر قوم کو راہ راست پر لانے اور ملت کی ترویج و اشاعت کے لیے انھیں جن دشواریوں اور کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑا یہ ان کا ہی جگر تھا کہ انھوں نے انھیں جھیلا،اور کسی موڑ پر ہمت نہ ہارے،مگر قوم انکی خدمات کو ضبط تحریر میں نہ لا سکی جس کے نتیجے میں انکی یہ خدمات انکے ساتھ ہی دفن ہو گئیں،کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض افراد نہایت جامع الصفات،بلند فکر و نظر کے مالک، نہایت دور اندیش ہوتے ہیں اور انکے مجاھدات کا سلسلہ نہایت طویل ہوتا ہے،مگر قوم کے افراد اس قدر گہرائی سے انکے صفحاتِ زندگی کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں جس قدر کرنا چاہئے۔ چناں چہ انکے صحیح خد و خال متعین کرنے سے زبان و قلم قاصر رہ جاتے ہیں، اس سے قوموں کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔
پیارے! قال اور حال میں بہت بڑا فرق ہے،گفتار اور کردار میں جو دوری ہے اسے ہر دانشمند جانتا
ہے، کردار اور حال کے مالک دنیا کے لئےکچھ اور ہی چھوڑ کر جاتے ہیں،جن بلند ہمت شخصیتوں نے اپنی صحیح تصویر صفحہ قرطاس پر کھینچ دی وہ نقوش بعد والوں کے لیے عبرت کا سبب بن گئے ۔
للٰہیت اور اخلاص کے حاملین چونکہ سب کچھ خدا کے لئے کرتے تھے اور محبت الٰہی کے غلبات اور فنائیت کےانوکھے جذبات انہیں شکار کر لیتے تھے وہ یہی کہتے اور چاہتے تھےکہ میں کیا میری حقیقت کیا؟ بس اللہ جل وعلا اور اسکے رسول اعظم ﷺ کا نام باقی رہے۔
آپ غائر نظرسے دیکھیں تو پتہ لگے گا کہ دینی و ملی قیادت کےاعلی اوصاف ان بزرگو ں میں پائے جاتے تھے اور مجاھدات و ریاضات کی ان پر خطر وادیوں سے یہ گزرے تھے جن کو عبور کرلینا سب کے بس کی بات نہ تھی مگر اپنے حالات نہ انہوں نے قلمبند کئے نہ انکے عقیدت مندوں نے انہیں جائز مقام دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ خال خال بزرگوں کے خال خال واقعات آج ہمیں معلوم ہو پائے البتہ بعض علماء نے ضرور اپنی آپ بیتی کہہ سنائی ۔
میں تو کسی طرح اس لائق ہی نہیں کہ میں خود یا مجھ سے وابستہ لوگ میرے بارے میں کچھ لکھیں مگر نفس امارہ جس کی جبلت و فطرت میں اپنی مدح کر نا اور دوسروں سے سننا داخل ہے،مجھے بھی اس کام پر آمادہ کرتا رہا کہ کچھ اپنے بارے میں بھی لکھو،کئی سال پہلے کچھ لکھا بھی تھا مگر سوء اتفاق اس مسودے کو چوہوں نے اس طرح برباد کر دیا کہ سب بیکار ہو گئے، حیرت تو اس پر ہوئی کہ کوئی اورکاپی چوہوں کی نذر نہ ہوئی۔ ان کی نگاہ انتخاب پڑی تو اسی پر جس میں کچھ اپنے بارے میں لکھا تھا۔ اس سے بڑی عبرت حاصل ہوئی اور اپنی حیثیت معلوم ہو گئی اس کے بعد یہ ارادہ ہی ترک کردیا۔
آج بتاریخ10؍ ذیقعدہ 1425ھ مطابق 23؍ دسمبر 2004 ء ایک محب مخلص اور جامعہ کے رکن کے فرزند ارجمند کی تقریب شادی میں شرکت کے لئے آنا پڑا، کمرے میں بیکار پڑا تھا وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا پاس میں کچھ ایسی مفید کتابیں نہیں تھیں جن کے مطالعہ سے دل بہلاتا، دو ایک تھیں بھی تو وہ دوران سفر مطالعہ کر ڈالیں۔ اب وقت گزاری کے لئے کچھ اور تو بس کا تھا نہیں توسودا سمایا کہ بچپن سے اب تک کی باتیں جو کچھ ذہن میں محفوظ ہے لکھ لو ہو سکتا ہے تمہیں بھی کچھ لوگ یاد کرلیں اور نصیحت لیں۔
خوب سمجھ رہا تھا کہ وقت گزاری کے لئے رات کی تنہائی میں جو کچھ میں اپنے کمرے میں بیٹھے کر رہا
ہوں اس سے نفس امارہ کی زبر دست خواہش پوری ہو رہی ہے اور نام و نمود کی منزل پر مجھے کھڑا کر کے جو کچھ بچا کھچاتھا سب کو اکارت کے دہانے پر لا کر کھڑا کر رہا ہے مگر پھر بھی کر رہا ہوں اور جان بوجھ کر گڑھے میں گر رہا ہوں ۔
نفس نے مجھے یہ سمجھایا کہ نعمتوں کے اظہار سے مالک نعمت خوش ہوتا ہے،تحدیث نعمت کا حکم خود قرآن نے دیا ہے، بہر حال! جان بوجھ کر میں نے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا اور یہی سوچ کر اپنے کو صفحہ قرطاس پر ثبت کر دیا ۔
میری والدہ محترمہ دام ظلہا العالی کے بقول میری تاریخ پیدائش سنہ عیسوی کے لحاظ سے 1959 ء ہے اور شاید ماہ ستمبر یا اکتوبر ،ہمارے تین گاؤں بھڑونسہ ،جراری ،عیسیٰ پور میں تقریباً تمام لوگ صدیقی کہلاتے ہیں نسب نامہ تو محفوظ نہیں ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ گاؤں میں ایک پرانی درگاہ ہے جس کے آثار و نشانات یہ بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں سے کافی رشد و ہدایت کے کام ہوئے ہیں اور مشائخ کرام کے مزارات کے نشانات وہاں ملتے ہیں یہی لوگ اس علاقے کے معزز ترین اور علم و فضل میں نمایاں ترین حیثیت کے مالک تھے، حضور مرشدی دام ظلہ العالی جن کے کشف پر مجھے بہت اعتماد ہے، ایک بار کا ذکر ہے جب گاؤں میں حضرت نے قیام فرمایا تو بعض احباب کے اصرار پرحضرت وہاں [اس پرانی درگاہ] تشریف لےگیے اورا یک مزار پر مراقب ہوئے، ساتھ میں حضرت کے ایک خلیفہ الٰہی دین صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے جو خود بھی بہت صحیح کشف رکھتے تھے مراقبہ سے اٹھنے کے بعد جب حضرت سے بہ اصرار پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ بہت بڑے عربی النسل بزرگ ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ان مواضعات کے باشند ے انہیں کی نسل سے ہیں اور انکا صدیقی ہونا بھی صحیح ہو اس زمانے سے لوگ اسے یاد رکھتے چلے آئے ہیں۔
میرے پر دادا جن کا نام تراب حسین تھا، بڑے زمیندار آدمی تھے لوگ انہیں ’’تباں‘‘ کہا کرتے تھے، میری پھوپھی صاحبہ (جو کا فی عمر رسیدہ ہیں)نے اپنی آنکھوں سے اپنے دادا مذکورکا کر و فر اور عزت و ثروت نوکر چاکر دیکھے تھے کا فی نوکر چاکر کام کرتے تھے، کئی ہل بیل تھے، کئی بھینسیں تھیں، غرضیکہ گاؤں میں نہایت ممتاز حیثیت کے مالک تھے، ان کی چوپال توان کے زمانہ سے ابھی ماضی قریب تک باقی رہی جو خود عظمت ِ رفتہ کا پتہ دیتی تھی ۔
تراب حسین صاحب کےچار فرزند تھے،(1)شہزادے (2)جلال الدین (3)وجیہ الدین (۴)سراج الدین ۔
اول الذکر تینوں کو میں نے بہت قریب سے دیکھا تھا میرے دادا جلال الدین میرے بچپن میں انتقال کر گئے مگر مجھے تھوڑا تھوڑا یاد ہے، میں اس وقت انکے ساتھ ہی تھا، انھیں بیل گاڑی سے کمال گنج میرے والد لیکر گئے تھے شاید گھٹنے میں تکلیف یا عرق النساء کا درد تھا، واپسی پر گاؤں سے کافی فاصلے پر روح پرواز کر گئ، والد مرحوم نے بتایا کہ 1966 ء میں ان [دادا مرحوم] کی وفات ہوئی اس وقت میں [راقم] سات سال کا تھاآپ بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی کو ان کی روح کے پرواز کے وقت پتہ ہی نہ چلا،نہایت سیدھے اور شریف انسان تھے شاید ان سے گاؤں اور انکے اطراف میں کسی کو کوئی شکایت نہ تھی،اپنے بہن بھائیوں میں اس وقت میں اکیلا تھا ، میرے دادا مجھ سے بڑا پیار کرتے تھے، میری ہر طرح دل جوئی کرتے تھے اور خود گو د میں لے کر بٹھاتے اور کھلاتے تھے ،آج تک انکی شفقتیں مجھے رہ رہ کر یاد آتی ہیں ، انکے پسماندگان میں میرے والد جناب حاجی قیام الدین صاحب اور میرے عم محترم جناب جمال الدین اور میری ایک پھوپھی ہیں۔ پھوپھی صاحبہ کی شادی موضع جراری میں ہوئی جو اپنے دونوں بھائیوں سے بڑی ہیں ، بحمدہٖ تعالیٰ و تقدس بوقت تحریر سب بقید حیات ہیں، (والد بزرگوار عاشوراء محرم 1429 ھ مطابق 20 جنوری 2008ء بروز اتوار داغ مفارقت دے گئے ، پھوپھی بھی والد مرحوم کے وصال کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد رخصت ہو گئیں )۔ پروردگار عالم سب کا سایہ دراز فرمائے!
میرا ننہالی خاندان بھی علم و عمل میں عام لوگوں سے کافی حد تک ممتاز رہا ، میرے ناناجناب صدیق خاں صاحب اپنے دونوں بھائیوں شبیر خاں اور عبد المجید خاں سے بڑے تھے ، ابھی چند سال قبل ان کا انتقال ہوا، وہ فارسی زبان میں نہایت قابل اور نحوی قواعد میں کافی دسترس رکھتے تھے ،فارسی میں تو ایسی قدرت تھی کہ اس طرح بولتے جیسے یہ ان کی مادری زبان ہو ، مؤ خر الذکر جناب عبد المجید خاں صاحب بہت باصلاحیت نہایت ذی علم اور سنجیدہ انسان تھے پاکستان تشریف لے گئے ، کافی اچھی سرکاری ملازمت میں تھے وہیں ان کا فیصل آبا د میں انتقال ہوا ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ان کے پسماندگان میں ہیں ، جناب عبد المجید خاں ہماری والدہ کے سگے چچا ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی خالو بھی تھے، میری نانی موضع مرگاواں کےنہایت متمول اور باعزت گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں ، ان سے کوئی اولاد نرینہ نہ تھی صرف ایک
میری والدہ تھیں ، اس لیے نانا نے دوسری شادی کر لی تھی میری نانی کے غیور بھائیوں نے کچھ حالات کی بنا پر انہیں بجائے ڈنڈوہ بزرگ کے مرگاواں میں ہی رکھ لیا، اس طرح میری والدہ کا قیام بھی زیادہ تر انہیں کے پاس رہا ادھر کے دیہاتوں میں اس وقت عورتوں کی وداع [رخصتی] کافی کافی دنوں کے بعد ہوا کرتی تھی ، کئی کئی ماہ وہ مائیکے میں ہی رہتیں ، میرے ایام طفولیت بھی زیادہ تر مرگاواں میں ہی گزرے ۔
میں ہوش سنبھالنے کے بعد نانی کے لئے کچھ سہارا بھی بن گیا تھا اور انکی بکریاں چراتا تھا، میری نانی نہایت پرہیز گار ، تہجد گزار تھیں آخری عمر میں حج بھی کر لیا تھا، اخراجات پورے کرنے کے لئے بکریاں رکھتی تھیں ، والدہ کے ساتھ مرگاواں رہنے کی وجہ سے بچپن میں بکریاں چرانے کا بھی مجھے بہت شرف ملا، مذکورہ گاؤ ں میں اس وقت لوگ بکرے بکریاں بہت پالتے تھے ، کافی عرصہ بکریاں چرائیں اگر چہ اس وقت دینی شعور نہ ہونے کی وجہ سےیہ کام ادائے سنت کی خاطر نہ تھا ۔
الغرض! میرے ننہالی اور ددہالی دونوں خاندان علم و عمل اور عزت و وجاہت والے تھے ،میں نے جب سے آنکھ کھولی والدہ محترمہ کو بھی تہجد گزار ہی پایا، میری والدہ ناظرہ بہت شوق اور محنت سے پڑھاتی تھیں ، وہ جہاں رہتیں لڑکیاں کثرت سے انکے پاس پڑھنے آتیں، نامعلوم کتنی بچیوں کو قرآن شریف وغیرہ پڑھا یا ۔
میری بسم اللہ خوانی بھی غالبا والدہ ہی نے کرائی ، مکتب بھی جاتا تھا، گھر پر والدہ کے پاس بھی پڑھتا تھا، جب اپنے گائوں آتا تو یہاں بھی جو مکتب مسجد میں چلتا تھا وہاں امام صاحب سے پڑھتا ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کافی دنوں تک قرآن شریف بخش اللہ نامی منشی جی کے پاس جاکرپڑھا ،وہ سلسلہ چشتیہ میں مرید بھی کرتے تھے۔
اس خالق ایں و آں، جل وعلانے مجھے بہتر قوت ِ حافظہ اور ذہانت و فطانت عطا فرمائی تھی طبیعت بہت اخاذ واقع ہوئی تھی ،اسباق بہت جلد سمجھ لیتا تھا اور یاد ہو جاتے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مرگاواں میں جب گھر کے لڑکوں کے ساتھ پڑھتا تھاتو رات میں میری نانی کے بھائی لوگ ہم سب سے سبق کے متعلق نیز خارجی سوال بھی کرتے تھے تو میں اکثر دوسروں کی بنسبت صحیح جواب دیتا تھا، سوالوں کے جواب جس انداز سےمیں دیتا تھا سننے والے تعجب کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے حسن خَلق اور خُلق آغاز ہی سے اچھا بخشا تھا لوگوں کا جھکاؤ اور میلان میری طرف زیادہ ہوتا تھا، زیادہ تر لوگ ہمیشہ مجھ سے بڑے پیار
سے پیش آتے، میری بھی عادت تھی کہ لڑکوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتا اور کھیلتا، بے کار زندگی مجھے اچھی نہیں لگتی تھی بغیر کام کے وحشت لگتی تھی۔
کچھ دنوں ننہال ڈنڈوہ بزرگ میں رہنا ہوا تو وہاں ہم عمر ماموں لوگوں کے ساتھ بھینسیں چرانے کا بھی موقع ملا،کچھ دنوں اپنے گاؤں میں بھی چرائیں، نیز کاشتکاری کا کام بھی کیا مگر میرے گھر والے مجھ سے کام زیادہ لیتے نہیں تھے اپنی مرضی سے کام کرتا اور جتنا کرتا نہایت سلیقہ اور محنت سے کرتا تھا، لڑکپن میں بچوں کے ساتھ کھیلتا بھی تھا، اس وقت گاؤں میں عام طور پر جو بھی کھیل کھیلے جاتے تھے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا اور عجیب اتفاق تھا شکست بہت کم کھاتا تھا، اکثر ہر ایک میں جیت جاتا اور سبقت لے جاتا۔
اس وقت میرے گھر اور خاندان میں اس وقت اتنی دینداری نہیں تھی اس لئے کسی بھی کھیل پر کوئی ٹوکنے والا نہ تھا، جب لڑکے گولیاں کھیلتے تو میں بھی شریک ہوتا اور اس قدر روزانہ جیت لیتا تھا کہ گھر والے خوش ہو جاتے،ہم عمر بچوں اور نوجوانوں کو جو بھی کام کرتےدیکھتا میں بھی کرنے لگتا تھا، کچھ دنوں اسی نتیجہ میں پہلوانی بھی کی تھی، اکھاڑے میں کشتی بھی لڑی،ایک زمانے میں نشانہ بازی کا بھی شوق ہوا تو کافی دنوں تیر کمان بھی چلائی، غلیل سے بھی نشانہ لگایا کاشت کی رکھوالی میں غلیل بھی چلایا اور جس کام میں جٹتا خوب جٹتا تھا، فعال طبیعت کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی ،یہ ہمیشہ اکساتی رہتی تھی کہ کچھ نہ کچھ کرتے رہو، کبھی کبھی گئے رات تک بزرگوں سے قصے کہانیاں سنا کرتا اور جو سنتا یاد کر لیتا اور دوسروں کو سناتا تھا،پرور دگار جل و علاکے کرم سے طبیعت کبھی گستاخی کی طرف مائل نہیں ہوئی، اوراطاعت کا جذ بہ بہت رہا، قلب میں رقت بھی بہت تھی، اکثر لوگوں کے دکھ درد کود یکھ کرقلب بھر آتا تھا،ارد و گرد اور محلے میں اگر کوئی جوان میت ہو جاتی تو میں بہت روتا، بزرگ لوگ جس کام کو کہتے میں انکار نہیں کرتا اس لئے وہ مجھ سے بہت خوش رہتے اور دعائیں دیتے۔
طبیعت کچھ ضدی بھی واقع ہوئی تھی گھر سے کسی چیز کی فرمائش کرتا تو اسے پانے کے لیے کافی ضد پکڑ لیتا، زیادہ سونے کی عادت کبھی نہیں رہی، نہ کاہلی اور سستی کا شکار ہوا ،جس کام کو کرنے کی ٹھان لیتا اسے کر کے ہی دم لیتا،اس طرح میں نے بچپن سے نا معلوم کتنے کام مختلف شعبوں سے متعلق کر ڈالے، میرے گاؤں میں کوئی باضابطہ دینی و دنیوی تعلیم کا انتظام نہ تھا ،ناظرہ کرنے کے بعد کافی دنوں
یہی سب کام کرتا رہا، پھر گاؤں میں اسکول قائم ہوا ،اس میں داخلہ کرا دیا گیا غالباً دوسرے درجہ میں مجھے ماسٹر صاحب نے ٹیسٹ کے بعد لیا، جب امتحان ہوا ماسٹر صاحب پانچویں درجہ کے بچوں سے کچھ سوالات کر رہے تھے، یہ یاد نہ رہا کہ سوال کیا تھے، بس اتنا یاد ہے کہ پانچویں درجہ کے ایک طالبعلم سے کچھ انہوں نے سوال کئے وہ طالب علم جواب نہ دے سکا، میں نے دے دئے، ماسٹر صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھے اوپر اٹھا کر پانچویں درجہ میں کر لیا، پھر مئی جون کی چھٹیاں پڑ گئیں اس کے بعد اسکول نہیں گیااس طرح بس ایک سال ہندی اسکول میں ماسٹر قمر الدین جلال آبادی سے پڑھا ۔
انہیں ایام میں میرے گاؤں میں مولانا حنیف خاں صاحب چترویدی گورکھپوری پڑھانے کے لئے آگئے انہوں نے مکتب کھول دیا، کچھ فارسی وغیرہ کی ابتدائی کتب بھی بچے پڑھنے لگے، طلباء زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈنڈوہ بزرگ کے صوفی مقصود صاحب حشمتی کو بھی پڑھانے کے لئے بلا لیا، اس وقت مدرسہ کے پاس کوئی عمارت نہ تھی، لہٰذا لیاقت حسین صاحب مرحوم کا گھر اور چوپال کافی وسیع و عریض تھی، وہاں تعلیم ہونے لگی، مولانا صاحب و منشی جی جس محلہ میں مقیم تھے، اس سے میرا محلہ کافی دور واقع تھا، اس لئے زیادہ لگاؤ اور رغبت دوسرے ان بعض طلباء کی بنسبت مجھ سے کم تھی جو اس محلہ کے رہنے والے تھے مگر پڑھنے میں میری سبقت سب کو مسلم تھی، کچھ حالات کی بنیاد پر مولانا صاحب گاؤں سے بھرگین چلے گئے جو آج کل ضلع ایٹہ کاٹائون ایریا ہے، اس وقت بھی وہ اس دیار کا سب سے بڑا گاؤں تھا، گاؤں کے میرے کئی ہم سبق ساتھی تھے جو فارسی وغیرہ پڑھتے تھے، انکے چلے جانے سے تعلیم رک گئی، میری دادی صاحبہ مرحومہ کی بڑی دلی تڑپ تھی کہ میں عالم دین بن جاؤں، وہ قبر کے عذاب سے بہت ڈرتی تھیں، انہیں لوگوں نے بتا دیا تھا کہ ایک عالم کی وجہ سے کافی لوگ گھر کے بخشے جائیں گے ،اس وجہ سے مجھے عالم بنانے کی انہیں بہت فکر تھی، رو رو کر نماز میں دعائیں مانگتی تھیں، میری خاطر ان کا تڑپنا مجھے آج تک یاد آتا ہے ۔
الغرض کچھ دنوں کے بعد مولانا صاحب نے ہمیں مع ساتھیوں کے بھرگین بلوا لیا، غالبا آغاز میں تقریبا 8 لوگ تھے،بعدمیں کچھ اور کم ہو گئے،آخر میں میں بالکل تنہا رہ گیا، ہم لوگ گھر سے کچھ دنوں کا آٹا دال اور نقد لے کر وہاں جاتے، کبھی پندرہ دن اور کبھی ایک ماہ رہ کر گھر آ جاتے، سامان خورد و نوش لیکر پھر چلے جاتے،اس وقت سواریوں کی اس قدر سہولت نہ تھی، ہمارے چچا جناب جمال الدین صاحب نے
بہت تکلیفیں اٹھائیں، ہم لوگ کمال گنج ریلوے اسٹیشن سے پسنجر گاڑی پکڑتے اور بلّو پور اسٹیشن پر اترتے، کبھی ایکسپریس پکڑتے تو بلّو پور سے پہلے ردائن اسٹیشن پر اتر کر بھرگین تک پیدل جاتے، ایک بار تو رات کے سناٹے میں یہ سفر ہوا، کافی خوف لگتا تھا ،ردائن سے بھرگین کئی کلو میٹردوری پر واقع ہے، گھر سے کمال گنج کی دوری تقریبا 7-8 کلو میٹر ہے، ہم لوگ پیدل جاتے، میں اپنے ساتھیوں میں سب سے چھوٹا تھا، میرے چچا آٹا وغیرہ سر پر لاد لیتے،اس طرح کافی مشقت خیز سفر ہوتامگر شوق تعلیم کی وجہ سے مشقت کا زیادہ احساس نہ ہوتا ، بھرگین میں غالباً دو سال قیام رہا میزان وغیرہ تک وہاں پڑھی، یہ ایام کس کرب میں گزرے وہ میں ہی جانتا ہوں اور یہ معاملہ صرف بھرگین تک ہی محدود نہ رہا بلکہ آخری دو ر تعلیم تک مختلف قسم کی پریشانیاں اور غم ساتھ لگے رہے۔
مولانا صاحب کے پاس گاؤں کے جتنے ہمارے ساتھی تھےایک ایک کر کے بعض وجوہ سے چلے آئے دوسرے سال میں اکیلا رہ گیا، طبیعت کو بہت وحشت ہوتی تھی بعض امو کو دیکھ کر طبیعت بہت کڑھتی تھی، روتا تھا ، گھبراتا مگر آنے سے مجبور تھا ، پروردگار جل و علا کےبے شمار احسانات میں سے ایک بڑااحسان مجھ گنہگار پر یہ رہا کہ رہنے سہنے اور قیام و طعام کا معقول انتظام ہو گیا نیز گائوں سے دل بستگی کی بنیاد پر خواہ دل کتنا ہی گھبرایا مگر تعلیم چھوڑ کر آیا نہیں ، گھر کی یاد آتی تو کبھی اضطراب غم میں بہت روتا ۔
غرضیکہ ہم جیسے بچوں کا مولانا صاحب کے ساتھ رہنا بڑا جاں گسل معاملہ تھا اور ہر صبح و ہر شام درد و غم کا سبب بھی، نہ دن میں چین تھا نہ رات کو سکون ، مگرمولانا صاحب کے وہاں آخر قیام تک میں ان کے ساتھ رہا ، ان کے بھرگین سے جانے کے بعد میں بھی گائوں واپس آگیا،اب میرے ماں باپ ، چچااور دادی پہلے سے زیادہ تعلیم کے لئے بے چین رہنے لگے ،اسی اثنا میں گھر کتنے دنوں رہا یہ اب یاد نہیں ، ہاں اتنا یاد ہے کہ عید کے بعد تعلیم کی خاطر میری والدہ ڈنڈوہ بزرگ مولانا ادریس رضا خاں صاحب کے پاس لے کر آئیں ، اس وقت اس پورے دیا ر اور ضلع فرخ آباد میں وہ سنی عالم سے مشہور تھے ،والدہ چونکہ وہیں کی تھیں، اور ہمارے ننہال سے مولاناکا رابطہ بہت مضبوط تھا، والدہ نے میرا تعارف کرایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا، پھر میں نے مولانا صاحب سے بتایا بھی کہ میں کون کون سی کتب پڑھ چکا ہوں ، غالباً صرف میزان و منشعب اور گلزار دبستاں اور فارسی کی دوسری تک پڑھا تھا ،مولانا نے میرا امتحان لیا اور پوچھا کہ
حُکِیَ کیا صیغہ ہے ؟ میں نے بتا دیا۔
مولانا اپنے داد ا کا ہر سال 16 شوال المکرم کو عرس کراتے تھے ، آج بھی ہوتا ہے ، فرمایا چلے آنا ، مولوی خلیل احمد صاحب بدایونی آرہے ہیں ان سے ملاقات کرادوں گا ، اور داخلہ ہوجائے گا ، مولانا مذکور بدایونی صاحب کے خلیفہ بھی تھے انہوں نے بہت سے علما سے خلافت لے رکھی تھی، الغرض مولانا بدایونی صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے غالباً کہا کہ میں خط بھیج دوں گا چلے آنا، جب تاخیر ہوئی تو میں نے خط لکھا ، جواب آیا کہ چلے آئو ، اس طرح شاید اسی سال عیداضحٰی کے بعد ہم اورمولانا نایاب صاحب بدایوں پہنچ گئے ، مولانا نایاب ہم سے عمر میں کئی سال بڑے تھے، بدایوں کا یہ پہلا سفر تھا جو گھر سے اتنی دور ہوا ، گھر بہت یاد آتا تھا، میں روتا تھا، وہاں مسجد میں پڑھائی ہوتی تھی دس بارہ طلباء صرف بیرونی تھے جو مختلف درجات میں مختلف کتب پڑھتے تھے، ایک چھوٹا سا حجرہ تھا، کچھ طلباء مساجد میں رہتے تھے،مدرسے کی طرف سے قیام و طعام کا کوئی معقول انتظام نہ تھا، مساجد کے علاوہ جو طلباء رہتے وہ مختلف گھروں سے کھانا لاکر کھاتے تھے،مولانا خلیل صاحب کے تشدد کی وجہ سے عام ساکنان بدایوں انکے خلاف تھے،مختلف محلوں میں انکے اکّادکّا عقیدتمند تھے، وہی ہم کو دو وقت کھانا کھلاتے تھے ۔
اس جاگیری کھانے سے ہمارے ساتھی مولانا [نایاب] بہت وحشت زدہ ہوتے اور رکنے کے لئے تیار نہ تھے، میں اکیلا رہ جانے کے خوف سے بہت گھبرایا ، انکی نظر میں گھر گھر سے کھانامانگ کر لانا ذلت کا کام تھا ، میں نے اپنی خاطر انہیں تسلی دی کہ اس ذلت کو میں برداشت کر لوں گا اور آپ کا بھی کھانا لاتا رہوں گا بہر حال! وہ تھوڑے رضا مند ہوئے، میں یہ خدمت انجام دینے لگا ، پھر کچھ دنوں کے بعد انہیں امامت مل گئی، میں آخری ایام تک یوں ہی کھانا لاکر کھاتا رہا ،میں چونکہ اس وقت نابالغ تھا ، اورمولوی خلیل احمد صاحب کے گھر کوئی بالغ لڑکا جانہیں سکتا تھا اس لئے خوش قسمتی سے گھر کا ساز و سامان سبزی وغیرہ میں ہی لاتا، آٹا پساتا ،سردی کے ایام میں گنے کی کھوئی کا بڑا گٹھر باندھ کر سر پر رکھ کر کافی دور بازار سے لاتا، جوتے وغیرہ موچی سے صحیح کراتا ، اسکے ساتھ مولانا کے جو سفر، مریدین اور عقیدت مندوں میں ہوتے تھے، میری لیاقت و خدمت کی وجہ سے وہ ہر جگہ مجھے ساتھ لے جاتے تھے، میں جانے سے کچھ وجوہ سے بہت گھبراتا تھا، بدایوں میں بھی پروردگار کا کرم یہ رہا کہ میری طرف لوگوں کا کھچائو بہت ہوا، پھر احباب کی بھر پور شفقت و محبت حاصل ہونے کی وجہ سے دل لگ گیا، اسی وجہ سے سفر سے
کتراتا اور حد درجہ کڑھتا، مگر مولانا سے کچھ نہ کہتا ، آئےدن انکے سفر ہوتے ،جس جماعت میں ہوتا اسکی ایک دو کتب ساتھ لے لیتا جب کبھی انہیں موقع ملتا تو وہ پڑھا دیا کرتے ،ان حالات کی وجہ سے بدایوں شریف میں ہماری تسلسل کے ساتھ تعلیم نہ ہوسکی ۔ مگر خدا داد ذہانت کی وجہ سے کتاب کا تھوڑا حصہ پڑھنے کے بعد باقی کتاب خود حل کر لیتا تھا نیز ہر درجہ کی دو ایک کتب ہی ہو پاتیں تھیں کبھی کوئی کبھی کوئی مولانا کی خدمت میں لگا رہتا انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرتا رات اور دن میں جب وہ آرام کرتے بلا ناغہ پیر دابتا اور وہ سو جاتے تب بھی میں دابتا رہتا کبھی آنکھ کھل جاتی کروٹ لے لیتے اور کہتے ادھر دابو تو ادھر دابنے لگتا پھر سو جاتے غرضیکہ جب تک وہ خود منع نہ کرتے میں دابتا رہتا چاہے رات کے ایک یا دو بج جاتے۔
سفر میں اسباق نہ ہونے نیز احباب کے فراق اور کچھ دوسرے اسباب کی بنا پر سفر سے بہت گھبراتا مولانا صاحب چلنے کے لئے کہتے تو ایسا لگتا جیسے کوئی موت کی دعوت دے رہا ہے بعض احباب سے کہلواتابھی کہ مجھے نہ لے جائیں مگر وہ نہ مانتے آخری ایام میں چونکہ رفتہ رفتہ مولانا کے عقائد کافی بگڑ گئے تھے، اس کی تمہید تو وہ بہت پہلے سے باندھ رہے تھے، منقولات میں خاص دسترس رکھتے تھے فقہی جزئیات پر گہری نظر تھی عمل بھی اچھا تھا مگر آغاز ہی سے میں نے دیکھا تھا کہ وہ اپنے ہمعصر علماء و مشائخ پر تنقید بہت کرتے تھے اکابرین کو بھی نہیں چھوڑتے اور سب میں علمی و عملی خامیاں نکالتے رہتے اور احباب و معتقدین کے سامنے اس انداز سے بات کرتے کہ سننے والے یہ سمجھیں کہ گویا اس دور میں علم و عمل میں مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔مولانا صرف علم ظاہر رکھتے تھے اس لئے وہ نہیں جانتے تھے کہ کون کس مقام کا حامل ہے اس طرح وہ غیر شعوری طور پر اولیاء کرام پر بھی تنقید کر جاتے، حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں صاحب اور حضور مجاھد ملت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب علیھما الرحمہ کے بارے میں اہل نظر کااتفاق ہے کہ وہ ولی تھے، مگر مولانا خلیل صاحب انہیں بھی نہ چھوڑتے،ہمیں چونکہ ان بزرگوں اور علماء اہل سنت سے عقیدت تھی لہٰذ ا انکے ساتھ رہنے میں بڑی وحشت ہونےلگی ابتداء ً تو مولانا اپنے ہم عصر علماء کی تنقید تک محدود رہے پھر دبے لفظوں میں دیوبندیوں کی تعریف کرنے لگے اور چند ہی سالوں میں وہ تکفیر سے کف لسان کرنے لگے، اس معاملہ میں انہوں نے اس قدر شدت سے کام لیا کہ جہاں جاتے وہاں پہلی فرصت میں وہ دلائل دینے لگتے جنکی
وجہ سے کف لسان میں ہی احتیاط ہے بدایوں میں بھی احباب کے سامنے اس طرح کی گفتگو کرتے اور باہر بھی ،احباب کو چونکہ ان کے علم و عمل اور مسلک اعلی حضرت پر ابتدائی شدت اور وہابیوں سے مناظرے کی وجہ سے اس قدر اعتماد تھا کہ ایک دم فیصلہ نہ کر سکتے تھے ، البتہ کڑھتے تھے،جب بات زیادہ بڑھی توخاص علماء اہل سنت سے گفتگو کے لئے سوچا گیا مولانا کی سنیت پر خانوادۂ برکاتیہ نیز حضرت مفتی اعظم ہند اور حضور مجاھد ملت وغیرھما سبھی کو اعتماد تھا اور تقریباًسبھی اکابرانھیں جانتے تھے مگر جب اس طرح کی باتیں احباب کے توسط سے ان علماء تک پہنچیں تو سب کے کان کھڑے ہو گئے مولانا میرے استاذ تھے اور مجھے بے حد چاہتے تھے اور ابتداے زمانہ طالب علمی میں احباب اور ساتھیوں کے کہنے سے میں مرید بھی ہو گیا تھا مگر چونکہ یہ دین و ایمان کا مسئلہ تھا اور پروردگار کو بچانا منظورتھا لھذا انکی باتیں ہم پر اثر نہ کرتی تھیں، نیز مولانا میں منافقت کا رویہ بھی بہت عیاں ہو گیا تھا جب کوئی علم و عمل کے مسئلے میں کسی عظیم عالم سے بات ہوتی تو مولانا فوراً سب کو افواہیں اور حاسدین کا حسد کہکر اپنی برائت ظاہر کر دیتے اور برملہ کہتے کہ میں ان کو کافر و مرتد مانتا ہوں جن پر علماء حرمین شریفین نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے چنانچہ ایک دفعہ جب حضرت حسن میاں صاحب مارہروی رحمۃ اللہ علیہ سے احباب نے شکایتیں کیں اور انہیں تصفیہ کے لئے بلوایا تو مولانا نے ہر الزام کا صاف انکار کر دیا اور سب کو بہتان قرار دیا، مولانا کی کیفیت اس وقت دیکھنے کے لائق تھی۔
اسی طرح میرے سامنے کی بات ہے کہ وہ ڈنڈوہ بزرگ جلسے میں آئے تھے میں بھی ساتھ تھا حضرت مولانا محمد حسین سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ نے گرجدار آواز میں ان سے پوچھا تو مولانا نے صاف انکار کر دیا، حضرت سنبھلی کے سامنے مولانا اس انداز سے خاکساری کے ساتھ بات کر رہے تھے جیسے استاذ و شاگرد ہوں، مجھے ان کے س رویے سے بہت کوفت ہوتی تھی کیونکہ خلوتوں، جلوتوں اور رات دن، سفر و حضر میں ساتھ رہنے کی وجہ سے میں سب کچھ جانتا تھا، اس بات سے میں بڑا پریشان ہوتا تھا کہ بہت سے معتقدین ان کے ہمنوا ہوئے جا رہے تھے ہر جگہ سنیت میں دراڑ پڑ رہی تھی، مولانا کی آخر عمر میں دماغی حالت عجب ہو گئی تھی باتوں میں تضاد بہت بڑھ گیا تھا اپنا کہا ہوا انہیں خود یاد نہیں رہتا تھا ایک ہی بات کو کبھی کفر اور کبھی عین اسلام کہہ دیتے تھے، سہسوان ضلع بدایوں میں ایک دن مقیم تھے لاؤڈ اسپیکر پر رکارڈ سے قوالی یا غزلیں آ رہی تھیں، ڈاکٹر اقبال کا شعر ۔
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
سنتے ہی کہنے لگے یہ کفر ہے، اس کے کچھ دنوں بعد ایک جگہ یہی شعر سنا تو بڑی تعریف کرنے لگے، اسی طرح ایک شعر ؎
بدل جائے نظام ہر دو عالم آن واحد میں
اگر آجائے ضد پر کوئی دیوانہ محمد کا
سن کرکہنے لگے کفر ہے ، مولانا کی یہ کیفیتیں جو آج تک یقین کے ساتھ محفوظ تھیں وہی میں نے بیان کیں ورنہ ان کے معاملات تو حد سے زیادہ تجاوز کر گئے تھے اب اتنا عرصہ گزر جانے پر وہ تمام باتیں محفوظ بھی نہیں رہیں، مولانا کی ان منافقانہ باتوں سے سب ہی کبیدہ خاطر تھے خود انکے سگے بھائی بھی جب کبھی ان کے پاس آتے اور ان کی باتیں سنتے تو بڑےدکھی ہوتے ۔
مولانا میں ابتدا ً وہ شدت تھی کہ ان سے زیادہ کوئی سخت سنی نہیں گنا جاتا تھا اور جب بدلے تو ایسے کہ بالکل ہی بدل گئے، اس عجیب انقلاب کے اسباب کیا تھے ؟ یہ آج تک قطعی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، کوئی کہتا ہے کہ مولانا نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے احمد میاں کو ندوہ پڑھنےبھیج دیا جو خود پہلے بدلا پھر اسی کے سمجھانے پر مولانا بدل گئے ،مولانا کا اصل وطن نجیب آباد ضلع بجنور تھا ،جہاں وہابیت غالب تھی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں کے اثرات سے وہ متاثر ہو گئے، میں سمجھتا ہوں کہ در اصل بزرگوں کی توہین و تنقیص کی وجہ سے ان پر یہ عتاب الٰہی تھا جو مولانا پر نازل ہوا دنیوی اسباب اسکے کچھ بھی رہے ہوں ۔
بالآخر جب حالات برداشت سے باہر ہو گئے تو ہم نے بدایوں چھوڑ دیا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص کرم رہا کہ ابتداء ً مجھے بدایوں پہنچا دیا گوکہ وہاں باضابطہ میری تعلیم تو نہ ہو سکی مگر حلقہ احباب ایسا دستیاب ہوا جسکی اس دور میں بہت کم مثالیں ملیں گی، حضور تاج العلماء قدس سرہ مارہروی کا فیضان تھا اکثر احباب ان سے مرید تھے، سرکار مفتی اعظم ہند کا سایہ رحمت تھا احباب اکثر بریلی شریف حضرت کی زیارت کے لئے جاتے رہتے، خود مولانا میں ایک خاص خوبی تھی کہ فقہیات پرعمل بہت مضبوط تھا، مستحبات تک کا ترک نہ ہوتا نیز وہ با ضابطہ فقہی مسائل بیان کرتے خاص کر نماز جمعہ کے بعد مسائل کی ہی مجلس مقرر ہوتی اس طرح بہت سے دقیق مسائل ہم لوگوں کو احباب بدایوں کے عمل، مولانا کی تقریروں اور نجی
مجلسوں سے معلوم ہو گئے تھے، بدایوں جانے پر آغاز ہی سےعمل کی حد درجہ پابندی آ گئی اور یہ ان احباب کی صحبت کا فیضان تھا کہ اس وقت سے قصداً کوئی نماز قضاء نہ ہوئی اور مزید عمل کا احساس ہر موڑ پر ہونے لگا نیز اس پر نور ماحول کی وجہ سے ہم ان تمام گندگیوں سے بچ گئے جو عام طور پر بہت سے مدارس میں پائی جاتی ہیں، نیزاس دوران حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے مواقع بھی خوب ہاتھ آئے ۔
بہر حال ہم شعبان المعظم کی تعطیل میں گھر آگئے اور بعد رمضان پھر بدایوں گئے اور وہاں سے سامان اٹھا کر مراد آباد جامعہ نعیمیہ میں دو ایک دن رہے مگر کچھ وجوہ کی بنا پر اور وہاں کے مہتمم صاحب کے کہنے پر ہم جامع اشرف کچھوچھہ شریف چلے گئے، احباب بدایوں کے ساتھ جو رفاقت و محبت تھی اسکی وجہ سے یہ فراق بہت شاق گزرا، بہت رونا آتا تھا مگر تعلیم کی وجہ سے صبر کے کڑوے گھونٹ پیتا تھا احباب بدایوں کے احسانات میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا خاص کر جناب افتخار الدین وغیرہ جنکی محبت آج تک رگوں میں پیوست ہے۔
اس وقت میری عمر تقریبا ً 19 برس تھی23 ؍مئی 1978 ء کو میری شادی ہو گئی یہ بھی فضل ربی ہی تھا کہ سسرال کے لوگ اعلیٰ حسب و نسب کے مالک، تعلیم یافتہ اور اس علاقہ کے باوقار لوگوں میں تھے میرے خسر جناب شبیر احمد صدیقی صاحب کی نہایت اچھی تحریر ہوتی تھی اور علم و فہم بھی اچھی تھی انکی بڑی دختر ظفر النساء عرف پیاری مجھ سے منسوب ہوئیں، حسن سیرت کے ساتھ ساتھ حسن صورت بھی تھا میرا لڑکپن کا زمانہ تھا عام لڑکوں کی طرح میں بھی اپنی بیوی کو بہت چاہتا تھا مگر یہ احسان تھا اس رب کا کہ بیوی کے ساتھ بہت کچھ لگاؤ کے باوجود کبھی انکی وجہ سے میرا تعلیمی نقصان نہ ہوا اور نہ ان کی محبت کبھی میرے پاوں کی بیڑیاں بنیں۔
کچھوچھہ شریف میں اسی سال جامع اشرف کا قیام ہوا تھا اوردورہ حدیث سے آغاز ہوا تھا، طبیعت اچاٹ تو بہت رہتی تھی مگر پھر یہاں دل لگ گیا ہمارے ساتھی مولانا صاحب چند دن رہ کر واپس چلے آئے، میں اکیلا تھا یہاں مخدومی فیضان کی حسین چھاؤں میں پہلی مرتبہ مجھے با ضابطہ پڑھنے کا موقع ملا، حسن اتفاق سے حضرت علامہ غلام مجتبیٰ صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ استاذ تھے، دورے کی ساری کتب انہیں کے پاس تھیں، نہایت درجہ قابل تھے، ان علوم کے علاوہ جو درس نظامی میں عام طور پر پڑھائے