باب ۵۲ از ۶۵صفحات ۳۴۵–۳۶۰
مختلف الجہات شخصیت
پروفیسر سید سراج الدین اجملی٭
مفتی محمد آفاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ملت اسلامیہ ہند کا اتنا عظیم خسارہ ہے کہ جس کی تلافی آسانی سے ممکن نہیں ہے۔
مجھے حضرت کی خدمت میں حاضری اور حضرت کی دعوت پر قنوج کے سفر اور ان کے ادارے میں ایک جلسے اور قل کی مجلس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
اس جلسے اور اس مجلس کی برکتوں کی یادیں آج بھی میرے حافظے کا حصہ ہیں، جلسہ تو حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق تھا جسے حضرت مولانا آفاق احمد مجددی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سمینار کا عنوان دیا تھا اور اس میں باقاعدہ مقالہ خوانی بھی ہوئی اور تقاریر بھی ۔ مجھے سب سے زیادہ مولانا کی جس چیز نے متاثر کیا وہ ان کا اخلاق ،اخلاص، انکسار اور اور ان کا وہ سادہ انداز تھا جس سے ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ اس شیخ احمد مجدد الف ثانی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے سیمینار میں ہندوستان بھر سے علماء اور مفکرین تشریف لائے تھے۔ اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں سلسلہ نقشبندیہ کے متوسلین اور مولانا کے مسترشدین بھی آئے تھے ۔
نماز ظہر سے قبل تک سیمینار کا سلسلہ رہا جس میں مولانا رونق ا فروز بھی رہے اور اپنے حسن انتظام کا مظاہرہ بھی کرتے رہے۔سلسلہ نقشبندیہ کی خدمات، حضرت شیخ احمد سرہندی کے فضائل و مناقب اور خود مولانا کے ادارے کی خدمات پر گفتگو ہوتی رہی۔ظہر کے بعد مولانا کی مہمان نوازی اور دسترخوان کی
فیاضی کا مظاہرہ ہوتا رہا اور ہم ہی نہیں ایک خلق خدا لذت کام و دہن کے حصول میں مصروف رہی۔ بعد نماز عصر سمینار کا ڈائس قل کی مجلس میں تبدیل ہوگیا۔
قل کی مجلس کا سب سے امتیازی پہلو مولانا کی قیادت میں حلقۂ ذکر تھا۔ ہمارے سلسلہ جنیدیہ قادریہ میں اور دائرہ شاہ اجمل میں جتنے سلاسل طریقت کی اجازت ہے ان سب میں جلی اذکار کے مقابلے خفی اذکار کو رواج حاصل ہے۔ ہمارے اسلاف اور خصوصا ہمارے پیر و مرشد حضرت مولانا حافظ قاری شاہ سید احمد اجملی علیہ الرحمة سجادہ نشین دائرہ شاہ اجمل الٰہ آباد اپنی سادگی اور خفی اذکار و اعمال کی کثرت کے سبب صوفیائے ماضی قریب میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔
اس در کا گدا ہونے کی باعث یہ خاکسار ذکر جلی کے طریقے سے قطعا نا بلد تھا ۔ زندگی میں پہلی مرتبہ ذکر جلی کی کسی مجلس میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ میں حضرت مولانا آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ اور انکے احباب اور ان کی مجلس کے شرکاء کے انداز ذکر جلی کو دیکھ کر مبہوت ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ مولانا آفاق احمد مجددی اور انکے رفقا کی گردن کی رگیں اس طرح ذکر جلی میں تعاون کر رہی ہیں کہ ان کے حصارِ جسم سے آزاد ہو جانے کا امکان روشن ہوتا جا رہا ہے۔ حق حق کی آواز گلے سے نہیں رگ گلو سے اور شانے کے آس پاس کی شریانوں سے نکلتی محسوس ہورہی ہے عجیب سماں تھا عجیب عالم کیف و مستی تھا اور مجھ جیسا دنیادار جب یہ منظر دیکھ کر ششدر تھا تو وہ لوگ کہ جو اس ذکر میں ہمہ تن مصروف تھے ان کی سرشاری کا عالم کیا ہوگا اور پھر ان کے قائد حضرت مولانا آفاق مجددی کی محویت اور مشغولیت کس درجے کی ہوگی۔
غرض میں نے وہ سماں آج تک نہیں بھولا ہے نہ مولانا کا وہ انداز ابھی تک میرے ذہن سے محو ہوا ہے۔ جیسے ہی میں نے مولانا کی رحلت اور وفات حسرت آیات کی خبر سنی اسی محویت ذکر کے واسطے سے اور ذکر میں ان کے اعضا اور ان کے اندرون کے تعاون کے واسطے سے بارگاہ احدیت و صمدیت میں بطفیل جناب رسول کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اور بطفیل حضرات پیران سلسلہ نقشبندیہ مولانا مرحوم کی مغفرت کی دعا کی۔
ادھر مولانا کے نعتیہ کلام کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ان کے نعتیہ اور تقدیسی کلام کا ایک مختصر سا مجموعہ عزیز گرامی قدر ڈاکٹر عبد السلام جیلانی صاحب کی وساطت سے مجھ تک پہنچا۔ اس مجموعہ شاعری میں جو
کلام ہے اس کی ادبی حیثیت کیا ہے اس میں فنی کمالات کہاں کہاں دکھائے گئے ہیں ان موضوعات پر گفتگو تو ان شاءاللہ ہوتی رہے گی سر دست اتنا عرض کرتا ہوں کہ جو کیف اور جو سرشاری اور جو والہانہ انداز اور جو سرمستی میں نے مولانا کی عملی زندگی میں اس مجلس قل میں دیکھی تھی اسی کا تحریری اظہار میں نے بشکل شاعری اور تقدیسی شاعری اس چھوٹے سے مجموعہ نعت ومنقبت میں دیکھا۔
رب تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مولانا نے عشق و محبت رسول و آل رسول اور تعلق خاطر ارباب شریعت و طریقت کی جو تخم ریزی اپنے چاہنے والوں اور ماننے والوں کے دلوں میں کی ہے مولا تعالی انہیں ان سب کا اجر، بلندی درجات، مغفرت اور قرب پائے ناز سرور کائنات علیہ الصلوۃ والتسلیم وآلہٖ وصحبہٖ کی شکل میں اس دنیا میں عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ طٰہٰ و یٰس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
٭شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
سو جا شریف اور بحر العرفان
مولانا عبد الرحیم نقشبندی ٭
حضرت علامہ الحاج بحر العرفان مفتی شاہ محمد آفاق احمد صاحب مجددی نقشبندی بانی جامعہ احمدیہ قنوج کی ذات با برکات دنیاے اہل سنت کے لیے عظیم سرمایۂ افتخار تھی، جا معہ صدیقیہ سوجا شریف (باڑمیر، را جستھان ) سے اور اس کے بانی حضرت علامہ الحاج پیر سید غلام حسین شاہ جیلانی مدظلہ سے آپ کا تعارف وملاقات حضرت علامہ مولانا فیض الحق صاحب اعظمی کے ذریعے بموقع عرس جیلانی و جشن دستار فضیلت کے ہوئی،صبح چادر پوشی کے وقت حضور بانی جامعہ صدیقیہ یا ان کے شاگرد رشید حضرت علامہ مفتی سید احمد شاہ صاحب مٹاری دھورا جوی عام طور سے رقت انگیز دعائیں مانگتے اور کثیرعوام و خواص کو بافیض کیا کرتے ہیں مگر اس سال حضور پیر صاحب قبلہ نے حضرت بحر العرفان سے دعا منگوائی، اس علاقہ کے لوگوں نے پہلی مرتبہ اس موقع سے حضرت بحرالعرفان کو جانا، پہچانا۔
حضورپیر صاحب قبلہ کے پیر خانہ ملا کاتیار شریف سندھ کا پیر خانہ یعنی حضرت شاہ احمد سعید مجددی کا
گھرانہ، حضرت بحرالعرفان کا بھی با لواسطہ پیر خانہ ہے اس خصوصی نسبت نے دونوں بزرگوں کو بالکل ایک دوسرے کےقریب کردیا، یہی وجہ ہے کہ حضور بحرالعرفان قبلہ نے سوجا شریف ہر سال آنا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ چناں چہ ابتدائے سال یعنی 3 ذی القعدہ کوافتتاح بخاری شریف و عرس صدیقی کے جلسہ میں ہر سال آناجوپیر صاحب قبلہ نے آپ پر لازم و عائد کردیاتھا اسے بحرالعرفان صاحب نے تادم حیات نبھایا، اس سال بھی 3 ذی القعدہ 1440ھ کو تشریف لا ئےتھےوہ، یوم یکشنبہ تھا، ساتویں روز 9 ذی القعدہ شنبہ کو صبح 4 بجے انتقال فرمایا۔
قنوج و بدایوں کا سفر :
جہاں ہر سال حضور بحرالعرفان 3 ذی القعدہ کو خود سوجا شریف بلا ناغہ تشریف لا تے رہے وہیں اپنے جامعہ احمدیہ قنوج کے سالانہ جلسہ و عالمی کانفرنس میں شرکت کےلیے بار بارحضرت پیر صاحب قبلہ سے تازندگی اصرار کرتے رہے کہ آپ ایک مرتبہ ضرور قنوج تشریف لائیں مگر کثرت کار اور ضعف و نقاہت کی بنا پر لمبی مسافری پیر صاحب قبلہ کے لیے مشکل تھی لیکن جامعہ صدیقیہ سے قنوج کے لیے ہر سال آپ وفد بھیجتے رہے اس سال کے جامعہ احمدیہ قنوج کے پروگرام میں تو حضور بحرالعرفان نےشرکت کے لیے بہت زیا دہ اصرارکرلیا تو حضور پیر صاحب قبلہ نے دعوت کو قبول فرمایا اور بائی کار دو گاڑیوں سے 10 نفری وفد کے ساتھ تشریف لے گئے، پہلے بدایوں شریف اپنے جد امجد حضرت سید تاج محمود سرخ پوش سرخ شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر ’’سوتھا محلہ‘‘ حاضر ہوئے وہاں خانقاہ قادریہ میں حضور سالم میاں مدظلہ العالی نے قیام کا انتظام کرایا, جامعہ قادریہ کے اسٹاف نے حق ضیا فت ادا کیا۔ حضرت علامہ مولانا مفتی فہیم احمد ثقلینی ازہری ککرالوی نے بدایوں کی حاضری کے انتظامات کا بیڑا اٹھایا تھا جس کو احسن طور پرسر انجام دیا، رات کے دس بجے وہ مع قافلہ کے بڑی سرکار تک استقبال کو تشریف لا ئے، خا نقاہ قادریہ لے گئے، حضور سالم میاں مدظلہ العالی کاخاص حجرہ شریف جو مسجد سے متصل ہے جہاں اہل سنت کی مقتدر ہستیاں اعلی حضرترحمۃ اللہ علیہ جیسی قیام کر چکی تھیں، وہاں حضرت کا قیام تھا، دیگر ہمراہیوں کے لیے مدرسہ کے روم طے تھے، رات کا کھانا اور آرام یہیں رہا، صبح ناشتہ کے بعد حضور سرخ شہیدرحمۃ اللہ علیہ پہ حا ضری ہوئی، وہاں جناب محمد سلیم و غیرہ نے خیمہ لگاکر قا لینوں سے فرش کو سجادیا تھا، اہل محلہ نے شاندار استقبال کیا، جناب مولانا منا ظر حسین بدایونی بھی
تشریف لائے ان کی نعت خوانی سے مجمع محظوظ ہوا، نصف گھنٹہ مراقب رہے بعدہ دعا فرمائی اور شیرینی تقسیم ہوئی پھر سلیم صاحب کے گھر چائے پانی کے لیے تشریف لے گئے، انھوں نے اپنے گھر بہت سارے لوگوں کو بلا رکھا تھا، حضرت کو کچھ کتابیں پیش کیں۔ ڈاکٹر غلام یحیٰ انجم کی کتاب ,,مشائخ قادریہ،، کی جلد دوم سلیم صاحب کے والد مولانا افتخار احمد نے چھپوایا تھا، جس میں یوپی کے مشائخ کا ذکر ہے جو حضرت سرخ شہیدرحمۃ اللہ علیہ کے ذکر پر بھی مشتمل ہے۔ یہ حصہ حضرت کے تمام رفقا کو سلیم صاحب نے تحفہ میں دیا، پھر جناب مفتی فہیم احمد صاحب ازہری حضرت کو ککرالہ اپنے دولت خانہ پہ لے کر گئے ان کے گھر عظیم لائبریری ہے، جہاں وہ مقالہ جات اور تصنیفات و تالیفات کا کام کیا کرتے ہیں، بلکہ ثقلینی علما کا یہ میٹنگ ہال ہے جس میں امت مصطفویہ کی صلاح و فلاح کی تر کیبیں بنایا کرتے ہیں۔ یہاں ازہری صاحب کے رفقائے کار علمائے عظام اور اساتذہ موجود تھے، سب نے پُرتپاک استقبال کیا۔ چائے پانی کے بعد مختصر نصیحت اور سوجا شریف کی دعوت پیش کر کے رخصت ہوئے، یہ ثقلینی قافلہ کچھ دور تک ساتھ چلا، ایک گاؤں میں دوسرا جم غفیر روڈ پر استقبال کو کھڑا نظر آیا، وہاں گاڑیوں کو روکا گیا، سب نے مصافحہ کیا، دعائیں لیں اورحضرت کو قنوج کے لیے رخصت کیا، قنوج سے پانچ کلومیٹر قبل ایک چھوٹی مسجد میں نمازعصراداکی پھرحضرت بحر العرفان صاحب کے چہیتے عقیدت مند جناب ببلو بھا ئی کے گھرپہنچے، وہاں حضرت مولانا آفتاب عالم آفاقی مجددی خادم حضرت بحر العرفان مع کثیر حضرات کے استقبال کے لیے کھڑے تھے نعرہائے تکبیر و رسالت سے شاندار استقبال ہوا، رات کو یہاں قیام تھا رفقا پہلے اسٹیج پہ گئے رات کے 2 بجے قبلہ پیر صاحب اسٹیج پہ تشریف لائے اور دستار بندی تک رونق اسٹیج رہے حضور بحرالعرفان قبلہ کی دیرینہ تمنا پوری ہو ئی، یوپی کے اکثر خانوادوں، مراکز اور سجادہ نشینان و مفتیان کرام سے اسٹیج کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی سامنے سامعین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا تھا، دور دور تک سر ہی سر نظر آرہے تھے ۔ اچھے اچھے نعت خواں اور عا لمی شہرت رکھنے والے خطبا اپنی سحرانگیزیوں سے ناظرین و سامعین کو مسحور کر رہے تھے، فیض مجددی جھما جھم برس رہا تھا ۔ حضور بحر العرفان کے پیر و مرشد حضرت علامہ مولانا احمد رضا صاحب مجددی کمالپوری، بنارسی اور حضور پیر صاحب قبلہ دونوں کے جلوہ بار ہونے نے نورا نیت کو دوبالا کردیا تھا یہ جلسہ نماز فجر کے وقت حضرت پیر طریقت شاہ عبد الرشید فاروقی معصومی مجددی سجادہ نشین خانقاہ معصومی رامپور کی دعا پر اختتام پذیر ہوا
جبکہ اثنا ئے جلسہ، جامعہ احمدیہ سے شائع ہونے والی تازہ ترین تصنیفات کی رسم اجرا حضرت پیر صاحب قبلہ اور حضرت علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ کے ہاتھوں سے کروا ئی گئی تھی بعد اجرا بوجہ مسلسل سفر کی تھکاوٹ کے حضرت پیر صاحب کو قیام گاہ پہ پہنچا دیا گیا ۔
علی الصبح بعد نماز اشراق حضرت بحر العرفان، حضرت کی قیام گاہ پہ تشریف لائے اپنے جلسہ کی تیاریوں والی مکمل جدو جہد، محنت و مشقت بیان فرمائی کہ ہم نے جا جا کر ہر ایک کو دعوت دی سب نے حا می بھری فون پہ برابر رابطہ میں رہے یقین دہا نی بھی بر قرار تھی کہ ضرور آئیں گے مگر کچھ حضرات نہیں پہنچے کچھ عوارض اور موا نع رہے ہوں گے مگر کاش سب آئے ہوتے تو اہل سنت کا مستقبل اچھا، عمدہ اور بہتر و مضبوط بنا نے کے لیے اس سال ہمارے یہاں مشورہ ہوناتھا ۔ پھر حضرت پیر صاحب قبلہ کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے وعدہ کو نبھایا دور سے سفر کی صعوبتیں بردا شت فرماکر تشریف لائے ہماری خوشیوں کو دوبالا کیا ہماری ہمتوں کو توا نا ئی بخشی جس کے ہم شکر گزار ہیں، اس پُراصرار دعوت نے شرمندۂ تعبیر ہو کر بہت سے لوگوں کو بافیض کیا، یوپی کے کتنے خا نوادوں اور مراکز کے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔
خدمات:
حضور بحر العرفان کی ذات مسعود سے اہل سنت کو جو نفع پہنچا اس کی تفصیل ان کے مریدین و متوسلین اور قریب میں گزارنے والوں سے حاصل کر پائیں گے یہ امید ہے کہ ضرور وہ خدمات منظر عام پر آئیں گی، اس مختصر بیان میں وہ خدمات درج کر نی ہیں جو اہل راجستھان خصوصاً جامعہ صدیقیہ سوجا شریف باڑمیر راجستھان اور جامعہ اکبریہ لونی شریف کچھ، گجرات کے فارغین صدیقی واکبری علماکی نظر میں آئیں دونوں ادارے آج تک اہل سنت کی کس قدر خدمات انجام دے پائے ہیں اس کا فیصلہ بآسانی اہل راجستھان و گجرات کر سکتے ہیں بلکہ یوپی بہار و دیگر ریاستوں کے اہل علم حضرات سے ان دو مراکز کی خدمات کم ہی مخفی ہوں گی۔ حضرت خواجہ محمد مظہر مدنی بن حضرت شاہ احمد سعید مجددی نقشبندی کے فیض یافتہ بزرگ حضرت شاہ صدیق اللہ نقشبندی ملا کاتیاریرحمۃ اللہ علیہ کے فیض کے یہ دو دریا ہیں جو گجرات و راجستھان کی دور دور تک کی خشک زمینوں کو سنیت کے پانی سے آج تک خوب خوب سیراب کر چکے ہیں اور سینچائی کا سلسلہ مزید ترقی پر ہے سچ یہ ہے کہ راجستھان و گجرات کے مغربی حصوں تک یوپی و بہار کے مشائخ و علما کو لانے میں ان دو اداروں اور ان کی شاخوں کا اہم رول ہے بلکہ تحقیق یہ ہے کہ ڈھائی سو
سال سے مغربی راجستھان یعنی تھریاتھار کی یہ خاندان خدمت انجام دے رہا ہے، ڈھائی سو سال قبل جب یہ علاقہ آباد ہو نا شروع ہوا تھا، ان دو سمندروں یعنی جامعہ صدیقیہ و جامعہ اکبریہ کے بانی مبانی خانوادۂ لونویہ جیلانیہ عین اس دور میں پکلانہ پنجاب اور بہاول پور سے آکر باڑمیر کے گاؤں نگر میں آباد ہوا اور اس علاقہ کی سنیت بچا نے اور آبیاری کرنے میں جد جہد شروع کردی تھی ۔غوث زماں حضرت علامہ پیر سید حاجی احمد شاہ جیلانی قادری (1299ھ) کا شہر باڑمیر میں آستانہ شریف اور ان کی وہاں رحلت اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ان کے برادرزادہ حضرت قطب دوراں پیر سید حاجی علی اکبر شاہ جیلانی کے اس علاقہ میں تعلیمی، تربیتی اور تبلیغی دورے ان میں عوام و خواص کو تربیت کے لیے مراقبے، مجاہدے اور ذکر کے حلقے کروان اان حلقوں میں لوگوں کا بیساختہ چیخنا پکارنا، گریہ و زاری، بیہوشی و رقت کے عالم میں منازل سلوک سے آشنا ہونا، سلوک نقشبندی کی تکمیل پر ان کو خلا فت سے نوازنا، کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اس نعمت عظمیٰ سے جس قدر یہ مغربی راجستھان صدیوں سے مستفیض ہو تا رہا شاید دوسرا علا قہ اتنے طویل عرصے تک آشنا ہوا ہوگا ۔ پھر یہ سلسلہ ان کے دور سے آج کے دن تک بحمدہ تعالی جوں کا توں جاری و ساری ہے اس میں کبھی انقطاع نہ پایا گیا آج ان یادوں کو تازہ کر نے اور اپنے ما تھے کی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے حضرت محبوب مرشد کریم علا مہ الحاج پیر سید غلام حسین شاہ جیلا نی کی ذات بابرکات کافی و وافی ہے۔ نعمتوں کی کثرت نے جس طرح حضرت صاحب روضہ پیر حا جی علی اکبر شاہ کو محسود بنایا تھا آج اس کثرت فضل نے حضرت کو بھی دوچار کر رکھا ہے ۔ ان نعمتوں کے پروردہ صدیقی علما حضرات کی نگاہوں کو کوئی علامہ و فہا مہ یاشیخ وقت و پیر مغان متاثرو خیرہ نہیں کر سکتا تھا ۔
حضرت محبوب مرشد کریم مد ظلہ العالی نے اپنی نما ئندگی میں موقع بموقع یوپی کے مختلف عظیم خا نقاہوں اور دانش گاہوں میں وفد بنا کران کےساتھ راقم الحروف کو بھیجاما شاء اللہ علم کے پہا ڑ بھی نظر آئے، عا مل شریعت مشائخ نظر آئے ،لاکھوں مریدین رکھنے والے پیران عظام سے شرف زیارت ملا ۔لیکن جو اخلا ق و اطوار دل کو دیوانہ بنا دیں ،جو گفتا ر و کردار حواس کو با ختہ کردیں،جو دعا ئیں دلوں کو تڑپنا آنکھوں کو رونا نصیب کردیں اس کا شمہ خا نوادہ عا لیہ لو نویہ کے بزرگوں یا ان کے پیر خا نہ خانوادۂ ملاکا تیار شریف کے علا وہ آج کے دور میں دیکھا تو حضرت مفتی آفاق احمد صاحب مجددی میں دیکھا اور بہت بہتر دیکھا ۔حضرت مفتی صاحب کو بقول حضرت مرشد کریم مدظلہ العالی کے سلسلہ پاک سےبے پناہ محبت
تھی وہ اپنی جان سلسلہ پاک پر نثار کرنے کو تیار تھے ،شاید یہی محبت ان کو تا زندگی پروا نہ وار سرگرداں بنائے رہی ۔دور دور کے سفر ،علما و مشائخ اور دینی مرا کز سے رابطے ،وہاں کے ذمہ داروں سے ملا قاتیں، نیک مشورے ،اتفا ق و اتحا د کی دعوت ،نیکیوں کی طرف توجہ ، مرا قبوں و مجا ہدوں کی جانب الفت ، یہ سب سوا ئے محبت کے کو ئی چیز نہیں کروا سکتی ،اس درد کا لطف اور مزہ ان سے پو چھیے جو ان کے مریض ہیں :
شاد باش اے عشق خوش سودا ئے ما
اے طبیب جملہ علتہا ئے ما
بحر العلوم حضرت علا مہ مفتی عبد المنان اعظمی نے سو جا شریف میں ان نعمتہائے عظمی کوآنکھوں سے دیکھا اور ان کے دل نے اس خو شبو کوپایا تو حضرت پیر صاحب قبلہ سے کہنے لگے حضرت ہمارے یو پی میں علم خوب ہے لیکن روحانی با لید گی کے لیے آپ کی وہاں از حد ضرورت ہے خدا را اپنے دوروں میں یوپی کو شامل کیجئے اور ہمارے وہاں کے علما کی تر بیت کیجئے ،بحرالعلوم کی تمناکو حضرت بحر العرفان ہی نے پوراکیا، جا معہ احمدیہ قائم فر ماکر تصوف کو خوب اوج دیا، شریعت و طریقت کے سنگم علما پیدا کیے ، آفاقی علما جہاں ملے بحمدہ تعا لی شریعت و سنت میں اور طریقت و تصوف میں ڈھلے ہو ئے دکھا ئی دیے، ان کی عا جزی اور انکساری ضرب المثل ہے یہ عمدہ تربیت پیر صاحب قبلہ میں دیکھی جا سکتی ہے یا پھر حضرت بحر العرفان میں پا سکتے ہیں ۔بحر العلوم صاحب قبلہ کی تمنا تھی کہ حضرت مرشد کریم دورہ کریں اور ان کے فیضان سے علما بافیض ہوں ۔لیکن اللہ رب العلمین اپنے بندوں کی تر بیت کے لیے قریب سے سامان پیدا فر مایا کرتا ہے حضرت بحر العرفان کو سر زمین یو پی کے لیے پیدا فر مایا ،ان کے ذریعےیہ اہم اور ضروری انتظام ہوا، بحر العرفان نے اپنے شاگردوں کے لیے جس طرز تربیت کو اپنایاوہ چاہتے تھے کہ تمام اہل علم اس اسلوب پر کام کریں اور کام کے علما پیدا کریں ۔قنوج کے اسٹیج پر ہر قسم کے علما و مشائخ کو بڑی قدر کی نگا ہ سے دیکھا جاتا تھا ان قدر دانیوں نے سب کو ایک سلک میں کا فی حد تک پرو دیا تھا کتنے مخلصین آپ کے کام سے متاثر ہو کر دلوں میں ہر طرح کے ولولے اور جذبے لے کر جایا کرتے تھے۔ رہا دورہ تو اسے بھی حضرت بحر العرفان نےپورا کر کے دکھایا، چناں چہ اس شان و شو کت سے حضرت پیر صاحب قبلہ کو قنوج و بدایوں کا دورہ حضرت بحر العرفان ہی نے کروایا ۔ویسے حضور پیر صاحب قبلہ مفتی جہا نگیر صاحب کو منظر اسلام بریلی شریف سے لینے کے لیے ریحان ملت کے حکم پر1402ھ
میں یو پی تشریف لے گئے تھے ،اس دورہ میں استاذ محترم حضرت علا مہ مفتی سید احمد شاہ دھورا جی اور ان کے رفیق حضرت استاذ محترم مرحوم مولانا شیر محمد جا لیکھڑا کو تخصص میں داخلہ کے لیے جامعہ نعیمیہ میں داخل کیا، وہاں آپ کی علا مہ حاجی مبین الدین سے ملاقات ہو ئی فر ما تے ہیں: ان کوکشف عیاں حاصل تھا، نیز شیخ طریق اللہ ،مفتی محمد ایوب صاحب علامہ محمد ہاشم صاحب اور مہتمم صاحب سے ملاقاتیں فرمائیں، پھر بریلی شریف جا کر حضرت سبحا نی میاں سے ملے، والد محترم حضرت ریحان ملت کا پیغام سنایا کہ وہ اس سال لو نی شریف تشریف لا ئے تھے ہم نے شیخ الحدیث کا مطالبہ کیا فرمایا کہ ہمارے یہاں مفتی جہانگیر صاحب ہیں ان کو لے آ ئیں، سبحا نی میاں نے فر مایا: اگر ابو کا حکم ہے، اور آپ سید صاحب آئے ہیں تو ہم کون ہیں رو کنے والے، چناں چہ حضرت پیرصاحب قبلہ کی دعوت پر مفتی صاحب قبلہ د و سال کے لیے لو نی شریف آئے بعدہ ’’اودیپور‘‘ رہنے لگے یہ دورہ حضرت پیر صاحب قبلہ کا الگ نوعیت کا تھا اور گذشتہ سال کا بدایوں و قنوج کا دورہ مختلف حیثیت رکھتا ہے ۔
قنوج کا سمینار :
بحر العرفان و پیر صاحب قبلہ کے مابین آپسی محبت کے کچھ مختلف جلو ے قارئین کرام کی ضیافت طبع کےلیے پیش ہیں :
اس فقیر راقم الحروف نے بار بار قنوج کی عا لمی کا نفرس میں ان کی محبت کے پیش نظر حضرت محسن ملت کے حکم سے حاضری دی جس سال جشن چہار صد سالہ مجددی تھا۔ باسنی سے حضرت علامہ حافظ سعید صاحب اور نعت خوان جا وید اور ایک دوسرے بھی تھے ککرا لہ سے علامہ فہیم احمد صاحب بھی تشریف لا ئے ہم سب کو ایک جگہ ٹھہرا یا گیاتھا ،امام ربا نی کی خد مات پر مفتی فہیم صاحب سے گفتگو ہو ئی جس سے ان کی سلسلہ پاک سے اور علم اور معلومات سے وا بستگی کے علاوہ علمی پختگی سے وا قفیت ہو ئی ،پھر ان کی انکساری اور ہر دلعزیزی نے مزید قریب کیا پھر یہ باہم رابطہ ان کوسو جا شریف لایا اور راقم کو بلکہ خود حضرت محسن ملت شمس المشا ئخ ،بانی جامعہ صدیقیہ کو بدایوں اور ککرا لہ لے گیا ،علمی مشورے ،مقالہ نویسی اور تصنیف و تالیف کے اہم امور میں ان کی مدد رہی،موجودہ دور کی مفاد پرست دنیا میں ایسے مخلص، دوسروں کے کام آنے والے اور خود کو دوسروں کے لیے ہر وقت تیار رکھنے والے ،کم ہی علما ملیں گے،سچ یہ ہے کہ علا مہ فیض الحق صاحب کے بعد جا معہ احمدیہ اور اس کے بانی علا مہ بحرالعرفان صاحب
یا ان کے پروردہ آفاقی علما سے مراسم مضبوط بنا نے میں مفتی فہیم کا ہاتھ زیا دہ ہے ۔
خا ندان لو نی شریف پر لکھی جا نے وا لی پہلی اور تاریخی کتاب ,,تذکرۂ سادات لو نی شریف و سو جا شریف ،، کی تر تیب میں پھر اس پر تبصرہ لکھنے میں۔مصبا حی صاحب و علا مہ مفتی محمد حنیف صاحب کے بعد تیسرے درجے پہ مفتی فہیم صاحب ہیں اللہ تعا لی ان کے اس اخلاص اور خد متوں کو اور اس جذبہ و ولولہ کو سلا مت رکھے اور شرف قبول عطا فر ما ئے۔ ثقلینی خا نقاہ کے علا وہ روہیل کھنڈ کی 11 مجدد ی خانقاہوں میں سے عظیم بڑی بڑی خانقاہوں سے رابطہ ان کے سجادہ نشینان و ذمہ داران سے رابطہ میں مفتی فہیم صاحب کا ہی رول ہے لیکن گہری نظر سے دیکھا جا ئے تو خو د مفتی فہیم جیسوں سے ملا قات اور ان اہم امور کے ظہور پذیر ہو نے کا سہرا خا نقاہ احمدیہ اور جامعہ احمد یہ قنوج کے سر سجتا ہے جس نے ان منتشر دانوں کو پرونے کا اہم کام کیا ہے اور یہی بحر العرفان کا خواب تھا ۔
قنوج کی پہلی حا ضری میں مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر المدرسین جا معہ اشرفیہ مبا رکپور اور علامہ یٰس اختر مصبا حی صاحب سے بھی ملا قات ہو ئی ان کے روبرو خا نقاہ دہلی کے سجا دہ نشین حضرت قبلہ انس میاں صاحب فاروقی مجددی کی بات چلی مفتی فہیم صاحب کے پو چھنے پر علا مہ یٰس اختر مصبا حی نے ان کی شان میں عمدہ اور اچھے کلمات ارشاد فر ما ئے جس سے مفتی صاحب کا ذہن صاف ہوا۔ راقم الحروف تو اس گفتگو سے محظوظ اس لیے ہواکہ حضور انس میاں اولاد شاہ احمد سعید مجددی ہیں حضرت شاہ احمد سعید ہمارے بزرگوں کے سلسلہ طریقت کے بہت بڑے بزرگ اور اہم کڑی ہیں بلکہ بقول شاہ غلام علی دہلوی کے حضرت شاہ احمد سعید کی اولاد سے امام مہدی فیض پا ئیں گے ان کے فرزند اوسط حضرت شاہ محمد عمر کی اولاد سے حضرت انس میاں ہیں جب کہ بڑے صاحبزادے شاہ عبد الرشید سے خا نقاہ معصو می را مپور وا لے شاہ عبد الرشید ہیں اور چھو ٹے صاحبزادے حضرت شاہ محمد مظہر کی اولا د مدینہ منورہ میں سکونت پذیر رہی لیکن ان کا مکمل فیض سندھ میں حید ر آبا د کے گاؤں ملا کاتیار شریف کے بزرگ حضرت شاہ صدیق اللہ کو اویسی طور پر پہنچا ،جس سے خا ندان لو نی شریف نے پہلی بار نقشبندی فیض حاصل کیا ،ملا کاتیار کے اس بزرگ کو شاہ اعظم ان کے خلیفے اور فر زند شاہ عبد الرحیم کو صاحب قبہ پھر ان کے فر زند شاہ محمد اسحا ق کو پاگارا بادشاہ کہتے ہیں یہی پاگارا بادشاہ حضرت محسن ملت شیخ المشا ئخ بانی جا معہ صدیقیہ کے پیر و مرشد ہیں یوں خا نقاہ مظہری دہلی سے خا نواۂ لو نویہ کو خاص نسبت حاصل ہے نیزیہ خانقاہ، شاہ مظہر کی
ولا دت گاہ بھی ہے اور وہیں شاہ مظہر کے جد امجد شاہ ابو سعید آرام فر ما ہیں اس لیے چا ہت تھی کہ اس خانقاہ سے رابطہ ہو جا ئے ۔علامہ یٰس اختر صاحب کے بیان نے راستہ ہموار کیا وہاں جانا ہوا نسبت کا خیال کرتے ہو ئے حضرت انس میاں سو جا شریف تشریف لا ئے دوسرے سال لو نی شریف بھی ان کاجا نا ہوا یہ روا بط بھی جلسۂ جامعہ احمدیہ کے ذریعے ہوئے حضرت بحر العرفان اس کا واسطہ اور سبب ہیں ۔
قنوج کی اسی پہلی حا ضری میں بریلی شریف سے علا مہ مفتی محمد حنیف صاحب تشریف لا ئے ان سے ملاقات اگر چہ پہلے سے تھی مگر اس ملاقات نے مزید قریب کیا جس کی بنا پر سو جا شریف و امام احمد رضا اکیڈ می کے تعلقات زیادہ مستحکم ہو ئے ۔جامعہ صدیقیہ(قائم کردہ1986ء)میں نشر و اشاعت کا منصوبہ شروع سے تھا حضور پیر صاحب قبلہ کا ارادہ تھا کہ سب سے پہلے خا ندان لو نی شریف اور خا ندان ملا کاتیا ر شریف پر نیز علا قہ تھا ر کے فقرا اور علما پر لکھا جا ئے ،اس مقصد سے قنوج کی پہلی حا ضری میں علا مہ یٰس اختر مصبا حی صاحب سے عرض کیا تو فر مایا مولانا ! یہ کام آپ مریدین و متوسلین علما ہی سر انجام دو گے دوسرا اس قدر محنت آپ کے لیے کون کر نے والا ہے اس گفتگو سے ارادہ مستحکم ہوا کہ کام ہمیں ہی کر نا ہے جبکہ حضور پیر صاحب قبلہ چند سال قبل بار بار فر ما چکے تھے کہ بزرگوں پر لکھو! فقرا کے احوال لکھو پس واپس آکر کتاب ،،تذکرۂ سادات ،،کا مواد مرتب کیا اور یہ کتاب منظر عام پر آگئی ،یہ خصوصی میٹنگ اور اس اہم کام کے لیے دل میں ارادہ کی پختگی سر زمین قنوج سے ہو نا بھی حضور بحر العرفان کی سچائی کا ثمرہ ہے جس کا ان کو اجر ملنا ہے الغرض حضور بحر العرفان ان کی تحریک اور ادارہ اہم اور ضروری کاموں کی کنجی ہیں جن سے ایسے کئی اہم امور سر انجام پا ئے ہوں گے اور ’’الدال علی الخیر کفاعلہ،، کے پیش نظر وہ ان کے اجر کے مستحق قرار پا تے ہیں۔ ؏
خدا رحمت کند ایں پاک طینت را
اخلا ق و عادات:
دنیا میں مولیٰ تعا لی کے ان گنت اور بیشمار ایسے بندے ہو ئے اور ہوں گے جو نگاہ قدرت میں خیر کی کنجی ہیں اور مخلوق خدا کو بھی ان کے اس وصف سے انکار نہیں ،حضرت علا مہ مفتی بحر العرفان ایسے ہی عظیم القدر نفوس قدسیہ میں سے تھے جن کے دل کی صفا ئی اخلا ق کی پا کیزگی اور فرا خ دلی نے اہل سنت کی خوب تر شیرازہ بندی کی علما ئے کرام اور مشا ئخ ،متمول طبقہ و غربا ،اپنے پرا ئے ،قریب کے دور کے
سب لوگ ستا ئش و تعریف میں رطب اللسان ہیں جس نے ان کو جتنا جانا اتنا ہی قریب ہو تا چلا گیا ،اللہ تعا لیٰ کے نیک بندے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں راقم الحروف کو اپنے بزرگوں کے اخلا ق کریمانہ کی جھلک حضرت موصوف میں بدرجہ اتم نظر آیا کرتی تھی جامعہ احمد یہ کے جلسہ میں جب جب حا ضری ہو ئی خوب پیا ر سے ملاقات کا شرف بخشتے حضور محسن ملت سے نسبت کی بنا پر امتیاز بخشتے یہ شفقت اور مہربا نیاں مقربان بارگاہ الہ کی طرف سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں ہو تیں وہ ’’الاستقا مہ علی امر اللہ والشفقۃ علی خلق اللہ،، پہ پو رے اترتے ہیں۔ مخلوق خدا کی خد مت کو ہی وہ رضا ئے الہی کا ذریعہ سمجھتے اور اس کو دا رین کی کا میا بی سمجھتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان کو چا ہنے والوں میں مسلم و غیر مسلم کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے، نماز جنازہ میں شرکت کے لیے حضور مرشد کریم نے وفد بھیجا تو دیکھا کہ قنوج کا ہر باشندہ آنے والے مہمانوں کے لئے آنکھیں بچھا ئے تھا جس میں اپنوں پرایوں کا امتیاز نہ تھا ،شہر قنوج پورا سو گوار نظر آرہا تھا گویا ان سب کے والد دنیا سے چلے گئے ہیں اور وہ سا رے ایک ہی دن میں یتیم سے ہو گئے ہیں، نماز جنازہ والے دن قنوج میں شاید کو ئی آدمی اپنے گھر بیٹھا تھاورنہ مرد و زن باہر نکل آئے تھے، یہاں کےایک سیمینار میں علا مہ انوار احمد بغدادی سے ملاقات ہو ئی جو علیمیہ جمدا شاہی کے صدر المدرسین ہیں دیگر کئی علما بھی تھے سمینار سے قبل صبح 8 بجے ملاقات اور تعا رف کا وقت مقرر تھا، حضرت بحر العرفان نے سب کو ملاقات کا شرف بخشا اور فر مایا آپ لوگوں سے ہمیں بے حد محبت ہے، آپ جتنا قریب ہوں گے ان شا ء اللہ ہم کو اتنا مخلص پا ؤ گے اس لفظ نے جملہ حا ضرین علماپر گہرا اثر چھوڑا۔
ایک مرتبہ بیرونی علما قنوج میں مدعو تھے جن سے ملاقات کے لیے صبح 8 بجےکا ٹا ئم مقرر تھا سو جا شریف کا وفد رونا ہی سے آرہا تھا مولانا آفتاب صاحب کو رابطہ کرتے رہنے کا حکم تھا وہ برابر رابطہ میں رہے حتی کہ عین ساڑھے آٹھ بجے پہنچے ان مخصوص بیرونی علما سے ملاقات کے دوران باقاعدہ اس وفد کاا ستقبال کیا اور مخصوص نشست پر بٹھا یا گیا ۔
ایک مرتبہ بریلی شریف سے علا مہ انوا ر احمد اور حضرت پیر وجا ہت میاں اور مفتی فہیم صاحب و راقم و مولانا ہاشم صاحب قنوج رات کو 11 بجے پہنچے اس وقت بھی علما کو ٹائٹ کر رکھا تھا جنھوں نے خور دو نوش اور قیام گاہ کامکمل انتظام کیاقنوج میں ہرسال دو روزہ پروگرام میں پورا ہندوستان مدعو ہو تا ہے تر کی و امریکہ اور
چین و بنگلہ دیش سے علما مدعو ہو تے ہیں، عوام کا ٹھا ٹھیں مارتا ہوا سمندر ہو تا ہے عورتوں کا مجمع مردوں سے کچھ کم نہیں ہو تا، اوقات اس طرح منظم طور سے طے کیے ہو تے ہیں کہ سر مو فرق نہیں آتا، حضرت بحر العرفا ن ہر جگہ نظر آتے ہیں ،صبح اشراق تک مرا قبہ اہل ادار ہ پہ عام دنوں میں تو لازم ہےہی مگر اثنا ئے جلسہ بھی اس عمل میں ناغہ نہ ہو نے دیتے ،تہجد ،شجرہ خو انی سے اسٹا ف میں غفلت نہ دیکھی، چلتے ہو ئے جلسہ گا ہ میں کام کرتےہوئے اکثر طلبہ و اسٹا ف، شجرہ شریف پڑھتے ذکر و اذکار کرتے ہو ئے نظر آئے۔ جلسہ عام طور سے فجر تک چلتا ہے نماز فجر اسی جلسہ کےمیدان میں ہوا کرتی ہے مفتی بحر العرفان صاحب اس میں شا مل رہتے ،دیکھا کہ نماز کے بعد سلوک کا سبق پڑھنے والے حضرات ہالہ بنا کر وہیں بیٹھ جا تے تاکہ حضرت سے توجہ لے سکیں ،کام کے ہجوم میں اس چیز کی فکر اہل ادارہ کے نیک اور صالح ہو نے کی عظیم دلیل ہے ،ورنہ اکثر اداروں کا حال نا گفتہ بہ ہے کسی کو باجماعت نماز پڑھتا یا تسبیح ہاتھ میں لیے دیکھ کر وہ صو فی کا اطلاق کیا جا نے لگتا ہے جس سے متنفر ہو کر اس نیک عمل کو چھوڑنے کی سو چنے کی لگتا ہے ایسے میں ایک ادارہ کی یہ پابندی یقیناً لائق صد تحسین ہے۔
عرب ممالک سے یا امریکہ سے آئے علما سے علما ئے قنوج کا عربی اور انگریزی زبان میں گفتگو کر نا یہاں کے فارغ التحصیل علماکی صلاحیت پر دال ہے ، آپ کے ایک شاگردبنگلہ دیشی سیدارشاد صاحب کا بیرو نی علما کو لانا ان کی تقا ریر کی اردو میں ترجمانی کرنا ،جامعہ احمدیہ کی بڑی علمی خدمت کہی جا ئے گی، اس سید صاحب پر حضرت بحر العرفان صاحب کا فیضان بہت زیا دہ ہے ،وہ بیان کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ ہر سال نئے نئے علما کو لاؤں اور جا معہ احمدیہ دکھا ؤں اور وہ صرف با تیں نہیں بلکہ وہ آج تک ایسا کرتے آئے، خدا کرے وہ اور دوسرے یہ عمل ہمیشہ جاری رکھیں ۔ایک مرتبہ بڑے بڑوں کو بلایا گیا، مگر حضرت مفتی صاحب کو لوگوں نے بھروسہ میں رکھا سرکاری کاغذی کاروا ئی عین وقت پہ ان سید صاحب کو آکر کرنی پڑی اس پہ وہ فر ما رہے تھے ہمارے حضرت جلد بھروسہ کر لیتے ہیں لوگ کذب بیانی سے مطمئن کر دیتے ہیں اتنا بڑا کام سر پر لے کر بہت چست رہنا پڑتا ہے پھر بو لے مجھے سارا کام آکر کرنا پڑتا ہے ایسے مخلصین کاحضوربحرالعرفان کو ملنا یقیناً خدا وند کریم کی تا ئید ہے ۔
اسٹاف و مدرسین میں جن سے ہماری ملاقات ہو تی رہتی ہے ان کے اخلا ق و عادات اور لباس کو دیکھیے تو گویا مفتی صاحب کا نمو نہ ہیں ،حضرت کے صاحبزادوں ،بھا ئیوں ،دامادوں و دگر معلمین و
شاگردوں کو بالکل اخلا ق میں نیکی میں آپ سا پایا جس سے بیسا ختہ الحمد للہ زبان پر آتا ہے ایسا بہت کم اداروں میں پایا جاتا ہے ۔
قنوج ایک تاریخی شہر ہے دہلی سے قبل ہندوستان کا دارالسلطنت رہا یہاں کا عطر بہت مشہور ہے غیر مقلدین اہل حدیث کے اکا بر قنوج سے تعلق رکھنے والے تھے۔ روہیل کھنڈ اَودھ اور آگرہ دہلی کے وسط میں واقع قنوج سے اٹھنے والا فتنہ غیر مقلدیت بہت جلد پورے بر صغیر میں پھیل گیا ہمارے اہل سنت کے مراکز یا روہیل کھنڈ میں یا اَودھ یاپھر مشرقی یو پی میں ہیں ۔اس صورت حال میں حضرت بحرالعرفان کااپنی تحریک کا مرکز قنوج کو منتخب کرنا کتنی دور اندیشی کی بات ہو گی یہی وجہ ہے کہ قنوج کی یہ آفاقی آواز بہت جلد پورے ہندوستان بلکہ بیرون ممالک تک پہنچ گئی اور سالا نہ جلسہ میں یہاں کی بھیڑ دیکھ کر بریلی شریف یا ما رہرہ شریف اور سو جا شریف کی یاد آنے لگتی ہے ۔ایک مرد قلندر کے دل کی محبت اور لگن ،صفا ئی و ستھرا ئی اور خیر خواہی نے بہت جلد کتنا بڑا کام کیا ہے عقل انسانی اس مقبو لیت عامہ کو سمجھنے سے قاصر ہو جا تی ہے ۔
ہم ناقصوں میں وہ ظرف نہیں کہ کسی کی دلربا ئیاں بھا نپ سکیں جو کچھ مرشدان کرام کی عنایات سے حاصل ہوا اس میں یہ مہربا نیاں بھی شامل ہیں کہ دلربا کی رعنا ئیاں سمیٹنے کو ظرف عطا فرمایااس میں بسیرافر مایا جو دل کسی ایک جامع الکمالات کو بوجہ عشق و محبت جگہ دے دیتا ہے اس دل کو اس دلربا کی نسبت وا لی چیز کے علاوہ چیز نہیں بھا تی وہ انسا ن دوسرے کی تعریف سے کتراتا ہے اسے دوسرے کے گیت گا نے بہت مشکل ہو تے ہیں ،اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسی وجہ سے فر مایا :
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں
مگر مجنوں کو لیلیٰ کے درو دیوار بلکہ اس گلی میں گھو منے والے کتوں سے بھی پیار تھا جو چیز محبوب کی یاد دلا دے اس کی یاد بھی محبوب ہی کی یاد ہوا کرتی ہے ۔حضرت بحر العرفان صاحب کو الحمد للہ بہت سی جہتوں میں ہر جہت سے حضرت محبوب مرشد کریم سے میل کھاتا پایا اس لیے ان کی ذات مختلف جہتوں میں لائق تعریف نظر آتی ہے ۔
چاروں سلاسل کے مریدین کی بلا تفریق تربیت و تعلیم میں، حضرت مرشد کریم محسن ملت اور
بحرالعرفان ایک سے نظر آتے ہیں ،سو جا شریف اور قنوج کے دواسٹیج نظر آئے جنھیں ہر سچا دین کا مخلص خادم سراہتاا اور وہاں بار بار آنا چا ہتاہے علما کی قدر ، مشا ئخ کی تعظیم ان دونوں خا نقاہوںمیں ایک سی پا ئی ۔صوفی با صفا اور عالم دین، مصلح قوم اور شب وروز سنیت کی شیرازہ بندی میں لگا ہوا ایک قنوج کے دولہا تو دوسرے سو جا شریف کے دلربا کو پایا ۔وہ آفاق تھے تو یہ آفتا ب ہیں ۔مریدین کو سلوک کی منازل طے کرانے ان کو توجہات عطا کرنے ،علما کو صوفی با صفا بنا نے میں دونوں مشترک ہیں قدر مشترک چیزیں دونوں میں اور بھی بہت ساری ہیں جنھیں شمار کر نے کی گنجا ئش نہیں ۔
حضرت بحر العرفان صاحب کی ایک خا صیت اور بہت بڑی خا صیت یہ تھی کہ وہ جہاں جا تے وہاں کے دینی خدام میں نئی روح پھونک دیا کرتے تھے ،ان کی خد مات کو بے لوث سرا ہا کرتے تھے ۔جا معہ صدیقیہ میں اس سال کے عرس صدیقی میں انھوں نے وہ حقا ئق بیان کیے تھے جو شاید کو ئی دوسرا کر سکتا ہے ،سلسلہ پاک کی شان و عظمت اور اس کی ضرورت پہ بہت بو لے ،دارالعلوم اور بانی دارالعلوم کی عظمت کو اجاگر کر نے کے لیے خوب لوگوں کو توجہ دلا ئی ۔
عام طور سے علما اپنے موضوع بیان کیا کرتے ہیں، مفتی صاحب میں یہ چیز با لکل نہیں تھی بلکہ اکثر جگہ ان سے سنا ،فر ما تے تھے: علما سے میری شکا یت ہے کہ موقع ایک ہو تا ہے اور بیان دوسرا کیا کرتے ہیں ،آج یہ افتتاح بخا ری شریف اور عرس صدیقی ہے چا ہیے کہ امام بخا ری اور ان کی صحیح بخا ری پہ بولا جا ئےاور صاحب عرس حضرت شاہ صدیق اللہ علیہ الرحمہ پہ دل کھول کر بیان کیا جا ئے ،پھر فر مایا: مجھے اس بزرگ کے متعلق زیادہ معلوم نہیں ،مگر ان کے مرشد کریم حضرت خوا جہ محمد مظہر مدنی اور ان کے والد حضرت شاہ احمد سعید مجددی کا پتا ہے ،پھر ان دو بزرگوں نیز خوا جہ بہا ؤالدین مشکل کشا کے حوالے سے سلسلہ پا ک کی خوب فضیلتیں بیان فرمائیں۔یو نہی جشن چہار صد سالہ مجددیہ میں علما کے بعض وسوسوں کا علا ج کرتے ہو ئے اس قدر اما م صاحب یہ بو لے کہ سب کے ایمان ہرے بھرے اور تازہ ہو گئے ، مجددی فیضان سے پورا مجمع تر بتر ہو گیا ۔ان کی گفتگو سنجیدہ ،عام فہم اور با اثر ہوا کرتی تھی ،ہر کس و ناکس ،عام و خاص برا بر مستفیض ہو ا کرتا تھا کئی کتابوں کے مصنف ،متعدد علوم کے ماہر اور دنیا ئے سنیت کے اس مرد قلندر کی تربت پر خدا وند کریم موسلا دھار بارش رحمت برسا ئے اور انھیں غریق جنت کرے ،ان کی خد مات مخلصا نہ کو اپنی بارگاہ میں قبو ل کا شرف بخشے ،ان کے پس ماندگان کو صبر کے
ساتھ نعم البدل نصیب کرے ۔لکھنے کو تو اور بہت کچھ ہے جسے دوسرے وقت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔آگے وہ معا ئنہ جات و تقا ریظ لکھی جا تی ہیں جو انھوں نے مختلف اوقات میں سو جا شریف کے تعلق سے تحریر فر ما ئی تھیں ۔۔۔
عبدالرحیم اکبری
جامعہ صدیقیہ سوجا شریف ضلع باڑمیر راجستھان
5 ذی الحجہ 1440 ھ
7اگست 2019ء چہارشنبہ
معائنہ ڈائری
از:بحر العرفان حضرت علا مہ الحاج مفتی محمد آفاق احمد نقش بندی
بانی وسربراہ اعلی جا معہ احمدیہ قنوج یو پی
۱۹شعبان ۱۴۳۲ ھ؍۲۲ جو لا ئی ۱۱ ۲۰ء کو حضرت سید پیر غلام حسین صاحب نقش بندی مجددی دام ظلّہ العالی کی خوا ہش کا احترام کرتے ہو ئے دار العلوم فیض صدیقیہ کے سا لا نہ جلسہ کے مو قع پر حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔پر شکوہ عما رت ، طلبہ کی کثرت ، شرکاےاجلاس کی کثرت اور عقیدت و محبت اور پروگرام کی ترتیب ، مہمان خصوصی و علما و مشا ئخ کی کثرت آمد اور خود حضرت قبلہ پیر صاحب کے حسن انتظام وغیرہا کودیکھ کر از حد خو شی ہو ئی ۔ اسلام و سنیت کی ترویج و اشا عت کے تعلق سے جو آپ کی محنتیں اور خد متیں ہیں وہ نہایت لا ئق ستا ئش ہیں ۔پھر بیعت و ارادت کے ذریعہ اصلاح و ارشاد کی جو کوششیں دیکھنے میں آئیں وہ عام طو ر پر بہت کم نظر آ تی ہیں ۔آنے وا لوں کا ہجوم اور ان کی کثرت اور والہا نہ عقیدت حضرت قبلہ سید صاحب مدظلہ العا لی کے اخلا ق و کر دار کی روشن دلیل ہے۔با رگا ہ رب العلمین میں عرض ہے کہ اس پر فتن دور میں ایسے لا ئق افراد ہمیں کثرت سے عطا فر ما ئے اور سید صاحب قبلہ کا سایہ دراز فر ما ئے تا کہ اسلام و سنیت اور تصوف و طریقت کاکام ہو تا رہے اور لو گ فیض یاب ہوتے رہیں ۔ یہ قلبی تا ثرات ہیں جو سب کچھ دیکھ کر صفحہ قرطاس پر ثبت ہو ئے ورنہ عام طو رپر فقیر مجددی معائنہ وغیرہ بہت کم لکھتا ہے ۔
نیز ۳ ذی القعدہ ۱۴۳۷ ھ کو لکھتے ہیں: