باب ۴۳ از ۶۵صفحات ۳۰۶–۳۰۸
حیات بحر العرفان :ایک اجمالی جائزہ
مولانا محمد ناظم آفاقی مجددی سنبھلی٭
عالم ربانی محبوب سبحانی قطب الارشاد امام الھدیٰ بحرالعرفان حضور سیدی مرشدی الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی برکاتی علیہ الرحمۃ و الرضوان کی ذات مبارکہ محتاج تعارف نہیں، ظاہر ہےجس کی عظمتیں بیان کرنے کے لئے سیکڑوں دانشوران قوم و ملت اپنی قلمی توانائیاں صرف کرنے میں مصروف عمل ہیں ، میں اس ذات والاصفات کی شان میں کچھ کہہ سکوں یہ میری مجال کہاں یہ تو بقول قائل ’’چھوٹا منھ بڑی بات ‘‘ہوگی مگر صرف اس لئے کہ میرا شمار بھی اس محبوب خدا کے ثنا خوانوں اور مدحت سرائوں میں ہوجائے قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
چونکہ مجھے اس مختصر تحریر میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کی حیات طیبہ کا اجمالی ذکر کرنا ہے اس لئے مختصرخاکہ پیش خدمت ہے قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں ۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان ضلع فرخ آباد کے ایک مشہور موضع بھڑونسہ میں ۱۹۵۹ء ماہ ستمبر یا اکتوبر مطابق۱۳۷۹ھ ماہ ربیع الاول یا ربیع الثانی میں تولد ہوئے اور بڑے ہی ناز و نعم میں آپ علیہ الرحمہ کی نشو و نما ہوئی اور نہایت ہی باعزت اور متمول گھرانے سے آ پ کا تعلق تھا ، آپ کے والد محترم عالی مرتبت حاجی قیام الدین صدیقی صاحب علیہ الرحمہ اور والدہ محترمہ حسب النساء صاحبہ دام ظلہا اپنے ایام طفلی سے ہی بہت نیک اور باعمل رہے ہیں یہ سب نتیجہ تھا حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی ددہال اور ننہال کے دینی ماحول کا ، والد محترم کے بارے میں لوگ ذکر کرتے ہیں کہ وہ آخر عمرمیں تو ایک سو سے زیادہ نفل نمازیں روزانہ اور نماز تہجد بلاناغہ ادا فرمایا کرتے تھے ۔
یہ بھی منجانب اللہ ہی انتظام تھا کہ خاندان کے تمام بڑے لوگ بالخصوص دادی صاحبہ علیہا الرحمہ اور والد و والدہ کی پوری توجہ حضور بحر العرفان کی تعلیمی ترقی پر مرکوز تھی، حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ خود بیان فرمایا کرتے تھے کہ ہماری دادی صاحبہ بہت نیک تھیں اور دعائیں کیا کرتی تھیں کہ ’’یا اللہ ہمارےآفاق کو عالم بنا دے‘‘ اسی لئے کم عمری ہی میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی تعلیم کا آغاز گائوں کے مکتب میں کرادیا گیا ، پھر مزید علم حاصل کرنے کے لیے قصبہ جراری میں کچھ وقت تک پڑھائی کی
،پھرتقریباً دو سال ضلع ایٹہ کے مضافات میں ایک گائوں بھرگین میں بھی تحصیل علم فرمائی جہاں آپ علیہ الرحمہ کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، مگر کبھی ہمت نہ ہارے اور مصیبتوں میں بھی کبھی پڑھائی سے منھ نہیں موڑا۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی مزید علمی ترقی کے لیے آپ کی والدہ محترمہ علاقہ کے مشہور منفرد عالم دین مولانا ادریس صاحب کے پس لائیں جو اس وقت موضع ڈنڈوہ بزرگ (جو اس وقت ضلع قنوج میں ہے ) میں رہتے تھے انکے ہی ذریعہ مولانا خلیل احمد بدایونی سےملاقات ہوئی اور کچھ دنوں کے بعد حضرت قبلہ علیہ الرحمہ بدایوں شریف حصول علم دین کے لیے تشریف لے گئے ۔
چند سال مسلسل مشقتوں اور مختلف النوع صعوبتوں بھری زندگی گزار کر اپنی علمی ترقی کی راہ پر گامزن رہے اور اپنے استاذ مولانا خلیل احمد صاحب ( جو بعد میں بد عقیدہ ہو گئے تھے ) کی جان توڑ خدمات انجام دیتے رہے۔
بہر حال بدایوں سے جب گھر واپس آئے تو۲۳؍ مئی ۱۹۷۸ءمیں آپ علیہ الرحمہ کی شادی کرادی گئی ، اس کے بعد ابھی آگے اور بھی پڑھنا تھا مگراستاذ مذکور کے عقائد میں فتور کی بنا پربدایوں چھوڑ کر کہیں اور پڑھنے کا ارادہ لے کر جامعہ نعیمیہ مراد آباد چلے گئے ، مگر وہاں بھی نہیں رکے اور صرف دو ایک دن رہ کر ہی جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ کی طرف رخ کیا اور آخری سال دورہ حدیث کی تعلیم وہاں جا کر مکمل فرمائی یہ بات ہے ۱۳۹۷ھ مطابق ۱۹۷۸ء کی (جیسا کہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ نے ’’تحدیث نعمت‘‘ نامی خود نوشت میں تحریر فرمایا ہے)۔
۱۳۹۷ھ سے ۱۳۹۸ ھ تک تحصیل علم کرنے اور سند حدیث و دستار فضیلت حاصل کرنےکے بعد ۱۳۹۹ھ سے ۱۴۰۱ھ تک وہیں کچھوچھہ مقدسہ میں جامع اشرف کے ناظم حضور سید اظہار اشرف صاحب علیہ الرحمہ کے حکم پر دوسال مسلسل تدریسی خدمات بھی انجام دیں ۔
۱۴۰۱ ھ ۱۴؍محرم شریف میں حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کا وصال پر ملال ہوا اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے فاتحہ چہلم شریف کے موقع پر ہی بریلی شریف میں حضور عارف باللہ مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ نقشبندی مجددی کمالپوری دام ظلہ کے بارے میں معلوم ہوا ،پھر حضور عارف باللہ کچھ ہی وقت کے بعد ماہ ربیع النور شریف میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ کے گائوں (بھڑونسہ)میں
تشریف لائے اور آپ رضی اللہ عنہ ۲۰؍سے ۲۵؍ربیع النور کوحضور عارف باللہ مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
پھر ۱۴۰۲ھ میں اپنے مرشد گرامی وقار کے ارشاد کے مطابق تحصیل روحانیت کی خاطر مدرسہ گلشن رضا چھپیہ بازا ر ضلع گورکھپور میں بحیثیت مدرس رہے جہاں آپ نے تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مدرسہ کی ترقی کے لیے بے انتہا جد جہد فرمائی اور مدرسہ کو آپ کی برکت سے کافی عروج نصیب ہوا ۔
شعبان ۱۴۰۵ھ میں وہاں سے مستعفی ہو کر شہر قنوج تشریف لائے، اور ۴؍رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ مطابق ۱۹۸۴ءمیں الجامعۃ الاحمدیہ کی بنیاد رکھی اور مسلسل ۳۵؍ سال علم ظاہر وباطن کے بیش بہا گوہر لٹانے ،ہزاروں طالبین علم شریعت و طریقت اور تشنگان معرفت کو سیراب کرنے ، ملک و بیرون ملک میں ہمہ جہت دینی خدمات انجام دینے ، سیکڑوں مساجد و مدار س اور خانقاہیں قائم کرنے کے بعد نیز پانچ درجن سے زائد عدیم المثال کتب کی صورت میں قوم و ملت کوارشاد و ہدایت کا عظیم سرمایہ سونپ کر ، ہزاروں مردہ دلوں کو اپنے نور باطن سےجلابخشنے والا ، اوربے شمار تاریک سینوں کوعرفان حق سے منور کرنے والا یہ آفتاب علم و فضل ۹؍ ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۳؍ جولائی ۲۰۱۹ءبروز ہفتہ بوقت اشراق تجلیات حق کی آغوش میں روپوش ہوگیا ، اور اپنے پیچھے لاکھوں عاشقوں کو روتا، بلکتا اور تڑپتا چھوڑ کر اور ہم سب کو داغ یتیمی دے کررخصت ہوگیا ۔
آہ رحمت کےساماں کو نیند آگئی
حاصل دین و ایماں کو نیند آگئی
آئنہ دار عرفاں کو نیند آگئی
کاشف سر قرآں کو نیند آگئی
حضوربحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی آخری آرام گاہ خانقاہ مجددیہ آفاقیہ محلہ شیخ پورہ ، متصل الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج ہے ، جو صوبہ اتر پردیش، ہندوستان کا ایک عظیم تاریخی شہر ہے ۔
٭متعلم الجامعہ الاحمدیہ السنیہ قنوج