مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتصحبت بحر العرفان کی برکات

باب ۵۱ از ۶۵صفحات ۳۴۰–۳۴۵

صحبت بحر العرفان کی برکات

مولانا نورالدین آفاقی مجددی

سیدی ومرشدی آقائی ومولائی حضور بحرالعرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی کی صحبت میں رہ کر جو واقعہ رونما ہوا وہ آج بھی ہمارے ذہن ودماغ میں گردش کررہا ہے۔

جب مجھے قنوج کی سرزمین میں مولانا آفتاب عالم صاحب کی کرم نوازی سے مرشد برحق کی صحبت ملی اور حضور کے دست برحق پر میں طالب ہو ا تو مرشد برحق نے اپنی زبان مبارک سے ذکر الہی بتایا اور مزید حوصلہ افزائی کی تو دوماہ تک میں حضرت کے ساتھ مراقبہ کرتا رہا لیکن اس درمیان دل ہی نہیں لگتا اورطبیعت اکتانے لگتی، بیٹھنے کی وجہ سے میرے پیر میں درد ہوتا تو میں نے مراقبہ چھوڑنے کا ارادہ کیا اورشیطانی وسوسہ کی وجہ سے اٹھ کر مسجد سے باہر نکلنا چاہا توحضرت نے مجھے دیکھ لیا اور شرم کی وجہ سےمیں وہیں پر بیٹھ گیا، بعد نماز مغرب حضرت نے ارشاد فرمایا کہ نورالدین گھبراؤ نہیں میں ان شا ءاللہ انگلی رکھ کر تمہارا قلب ذاکر کردوں گا ۔

اسی رات میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ چھوٹی والی مسجد ہے اور فجر کی نماز کی تیاری ہوری ہے اور حضرت تشریف لارہےہیں اور فرمارہے ہیں کہ نورالدین جاکر کے اعلان کردو کہ جو شخص بھی میرے پیچھے نماز پڑھے گا جنتی ہوگا۔ جماعت کا وقت قریب تھا میں نے حضرت کے حکم کی تعمیل میں مسجد کے دروازے پر باآواز بلند کہا کہ جسے جنتی بننا ہے وہ حضرت کے پیچھے نماز پڑھے۔پھر میں آکر نماز میں شامل ہوگیا ابھی ایک رکعت مکمل ہوئی تھی اور دوسری رکعت شروع ہونے والی تھی جب تک کسی نے آواز دی کہ فجر کی آذان ہوگئی ہے نماز کے لیے چلیے۔اور میری آنکھ کھل گئی۔

یہ خواب جب میں نے حضرت کو دوسرے یا تیسرے دن بتایا تو حضرت نے فرمایا محنت کرو اللہ بہت نوازے گا۔ پھر آپ حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے حج سے واپسی کے بعد حضرت نے میرے لطائف پر انگلی رکھ کر توجہ فرمائی تو واللہ اسی وقت میرے تمام لطائف ذاکر ہوگئے جس کا مجھے بخوبی احساس ہوا۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ غالبا جشن صدیق اکبر کے موقعہ پر حضرت آرام کے لیے نماز ظہر سے پہلے خانقاہ مجددیہ میں تشریف لائے میں بھی حضرت کے پیچھےگیا، حضرت نے مجھ سے ناشتہ وغیرہ کا پوچھا جبکہ حضرت کافی تھک چکے تھے اور آرام کی غرض سے لیٹ گئے میں حضرت کے قدموں میں بیٹھ کر حضرت کے پائے مبارک دبانے لگا اور موقعہ غنیمت جان کر حضرت سے کہا کہ حضور ہمارے یہاں ایک پیر ہیں جو اپنے مریدوں کو بتا دیتے ہیں کہ تمہارے یہاں کیا پکا ہے، تم کیا کھا کر کے آئے ہو، اور ٹرین میں میرے متعلق کیا بات کر رہے تھے؟ وغیرہ وغیرہ

حضرت نے فرمایا کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں ہے یہ علم رمل ہے جو ہمارے بزرگ بھی جانتے ہیں مگر اس کا استعمال نہیں کرتے کیوں کہ اس کےاستعمال کی وجہ سے مخلوق ان کے پاس کثرت سے جمع ہوجائے گی جس کی وجہ سے عبادت ومعمولات اور ذکر واذکار میں فرق پڑنے لگتا ہے اسی لیے ہمارے بزرگوں نے اس سے اعراض کیا ہے۔

پھر آگے ارشاد فرمانے لگے کہ دوران طالب علمی میں ایک استاذ کے ساتھ میں غلے کی وصولی کے لیے ایک گاؤں میں پہنچے تو ایک سادہ لباس پہنے ہوئے شخص ملا جو ہمیں پکڑ کر ہماری پیشانی کو قریب دس منٹ تک دیکھتا رہا پھر بولا کہ تم سر زمین قنوج میں جاؤگے تمہارے بڑے مرید ہوں گے حضرت فرمانے لگے کہ میرے ذہن ودماغ میں یہ بات نہیں تھی کہ میں قنوج جاؤں گا پھر فرمایا کہ مولانا نورالدین جو کچھ آج ہورہا ہے سب

اس نے اسی وقت خبر دے دی تھی۔

اسی ضمن میں حضور بحرالعرفان کا ایک واقعہ بیان کروں کہ ہمارےایک دوست نے بتایا کہ دوسال پہلے وہ بیمار ہوگئے تھے انھوں نےایک عامل کو دیکھا یا تو انھوں نے کہا کہ تمہارے اوپر جناتی اثرات ہیں اور یہ تیل پورے بدن پر لگا کر کے ایک گھنٹہ تک بیٹھے رہنا ہے ایک کمرے میں جب کہ کپڑا نہ ہو ۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور صرف چھپانے کی جگہ پر ایک ہلکا سا کپڑا رکھ کر بیٹھ گئے اور کچھ سوچ کرکے حضرت کو اسی دوران فون کیاسلام کلام کے بعد حضرت ڈانٹنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ ذکر ومراقبہ کرو اور مرشد سے حد درجہ محبت کروجس کی وجہ سے بزرگان دین مدد کرتے ہیں اور وہ سب کچھ دیکھتے ہیں یہ جملہ دوران گفتگو آپ نے تین چار مرتبہ کہا کہ بزرگان دین سب کچھ دیکھتے ہیں۔

ان دونوں واقعات سے آپ نے بخوبی اندازہ لگایا ہوگا کہ حضرت اپنے علم کو اور کشف کو کتنا چھپارہےتھےکہ بزرگان دین سب دیکھ رہے ہیں گویا یہ بتا رہے تھے کہ آپ کو بھی علم رمل بخوبی معلوم ہے مگر اس کا اظہار اپنے آپ کو نہ کرکے بزرگان دین کی طرف منسوب کررہے تھےہمیشہ آپ اپنے کشف وخواب کو اپنی طرف نہ منسوب کرکے بزرگوں کی طرف کردیتے تھے یہ آپ کی خاکساری وانکساری تھی۔

آپ کی خصوصیات:

حضرت جب کسی بیمار کو تسلی دیتے اور شفا کی امید ہوتی تو فرماتے کہ امید ہے کہ آپ صحت یاب ہوجائیں گے،یا یوں کہتے ان شاء اللہ آپ بہت جلد شفا پا جائیں گے ہم اللہ سے دعا کریں گے۔ اور اگر مریض کو شفا کی امید نہ ہوتی تو فرماتےہم آپ کے لیے دعا کریں گے یہاں آ کرکے خاموش رہ جاتے۔ جس سے آپ کی صحبت میں رہنے والا شخص آپ کے انداز گفتگو سے سمجھ جاتا۔

اسی طرح کوئی غم کا مارا اپنا دکھڑا بیان کرتا تو آپ فرماتے کہ غم نہ کرو اللہ ضرور تمہیں کامیاب کرے گا اور مدد کے لائق ہوتا تو آپ اسی کی ضرور مدد فرماتے اور دلجوئی فرماتے۔ یہ نہیں فرماتے کہ جاؤمیں نے کہہ دیا تو کہہ دیاتمہارا کا م ضرور ہوگا۔بلکہ آپ ہمیشہ اللہ کی طرف لو لگانے اور اسی کی طرف توجہ کرنے کی اور اللہ سے مدد کرنے والے جملے ارشاد فرماتے تاکہ بندہ کو تسلی بھی ہوجائے اور اس پر توکل کرے۔

مریدین اور متوسلین کو ذکر وفکر کی طرف ہمیشہ راغب کرتے اور اس کے لیے آپ روزانہ بعد نماز فجر، بعد نماز ظہر، بعد نماز عصر تا مغرب اور بعد نماز عشاروزانہ اپنے مریدین ومتوسلین کے ساتھ حلقہ ذکرکرتے

تاکہ جو فیضان نبوی صحابہ کو منور کرتے ہوئے سلسلہ بسلسلہ آپ تک پہنچا ہے اس کو پھر سے عام کیا جاسکے اس لیے اس زمانے میں خال خال ہی لوگوں کے پاس ہیں۔

آپ فرماتے کہ جب تک بزرگوں کے فیضان کو عام نہیں کیا جائے گا تب تک دیوبندیت ختم نہیں ہوگی۔کیوں جب سے بزرگوں کا فیضان لوگوں کے دلوں سے اور ہماری خانقاہوں سے خالی ہوا تب سے دیوبندیت اور وہابیت آگے بڑھی ہے۔

آپ صرف اپنے مریدین ومتوسلین کو ذکر وفکر کی طرف راغب نہیں کرتے بلکہ ان کو ہر فیلڈ میں خدمت دین ودعوت وتبلیغ کی طرف راغب کرتے اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ جہاں تک ہوسکتا ان کی مدد بھی فرماتے۔ اسی وجہ سے آج آپ کے مریدین کی بھاری اکثریت ہند وبیرون ہند مدرسوں، خانقاہوں، اور مسجدوں کی تعمیر کرنے میں مصروف عمل ہے۔

آپ مزاج شناس تھے کسی سے تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد آپ اس کے مزاج سے واقف ہوجاتے اور اسی کے مزاج کے مطابق آپ اس کو خدمت دین وخدمت خلق کی طرف ابھارتے۔

آپ اپنی بات سامنے والے کے دل میں اتار دیتے تھے ایک مرتبہ ایک جلسہ میں ایک مقرر نے دلائل وبراہین قرآن وحدیث سے مزین کرکے خوب شاندار تقریر کی۔ بعد میں ناچیز سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ بزرگان دین دلائل وبراہین سے گفتگو نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ اپنی بات لوگوں کے دلوں میں اتار دیتے تھے۔

آپ دیکھنے میں نحیف وناتوان تھے مگر اللہ نے آپ کے اندر شجاعت وبہادری کوٹ کوٹ کر بھری تھی بنارس کے ایک جلسے میں ایک اناؤنسر صاحب نے کچھ تلخ بات کہہ دی تو آپ نے دوران تقریر ان کی خوب گرفت فرمائی ۔ اور ایسے جملے ارشاد فرماتے تھے کہ سامعین کو محسوس نہیں ہوتا تھا کہ آپ کا مخاطب کون ہے؟ایسا بارہا جلسوں میں دیکھا گیا۔ بلکہ کبھی کبھی حکومت وقت کی بھی آپ خبر لے لیتے۔

آپ ہر چھوٹے بڑے سے سلام میں پہل کرتے اور بڑی محبت وشفقت سے پیش آتے اور ہر ملنے والا یہ گمان کرتا کہ آپ اس سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔

اپ اپنے مریدین ومتوسلین کی غلطیوں اور خطاؤں کو چشم پوشی فرماتے۔اور دوران گفتگو مجلس میں ایسے انداز سے اصلاح فرماتے کہ صرف وہی شخص سمجھتا، تاکہ اسے دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اپنے آپ سے زیادہ ہمیشہ اہل سنت وجماعت کی فکرکرتے کہ کیسے اس قوم کو زبوحالی سے خوشحالی کی

طرف لے جایا جائےاسی وجہ سے آپ نے جابجا اسکول وکالج کھولے۔خود آپ نے قنوج میں جہاں شاندار مدرسہ قائم فرمایا وہیں آپ نے دیدہ زیب اسکول بھی کھولے اورقنوج میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کی کوشش کی ۔اگر یہ یونیورسٹی کھل جاتی تو ہند میں اہل سنت وجماعت کی پہلی یونیورسٹی ہوتی ۔امید ہے کہ چند سالوں میں یہ یونیورسٹی قائم ہوجائےگی۔

آپ فیضان نبوی اور روحانی ذکروفکر کو عام کرنے کی غرض سے ہند وبیرون ہند جیسے پاکستان، بنگلہ دیش، چین، امریکہ، شام، ملیشیا وغیرہ میں اپنے خلفا کی ایک فوج تیار کررکھی ہے۔ فرماتے کہ میرا ایک خلیفہ سینکڑوں پیروں پر بھاری ہے۔

آپ اپنے اوقات کو ضائع نہیں فرماتے بلکہ ہر سیکنڈ کو کام میں لاتے۔ ایک مرتبہ ناچیز اپنے دوستوں کے ساتھ حضرت کے پاس قنوج گیا۔حضرت ہم لوگوں کا انتظار فرمارہے تھے کیوں کہ حضرت کو وہاں سے ساٹھ کلو میٹر دور ایک پروگرام میں جانا تھا اس وقت حضرت داد رسوں کی فریاد رسی دعا وتعویذ کے ذریعہ فرمارہے تھے ۔ کام ختم ہونے کے بعد حضرت کے ساتھ ہم بھی ہولئے پروگرام میں حضرت نے تقریر کی اور عصر کی نماز کے بعد ہم روانہ ہوئے اور گاڑی میں ہی ہم لوگوں نے حضرت کے ساتھ مراقبہ کیا مغرب کی نماز قنوج کی ایک مسجد میں اداکی۔ پھر حضرت قریب ہی میں ایک پروگرام میں چلے گئےاور عشا کی نماز اپنے مدرسے کی مسجد میں ادا کی پھر مسجد میں ہی بچوں کو نصیحت کی جیسا کہ آپ کا معمول تھا کہ ہر جمعرات کو بعد نماز عشا کچھ دیر وعظ ونصیحت فرماتے تھےاسی میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ صبح اٹھ کر فجر کی نماز، ذکر ومراقبہ کے بعد مدرسہ میں پڑھایا اورفلاں فلاں جگہ پروگرام سے ہوکر کے آرہا ہوں اور ابھی تک میں نے آرام بھی نہیں کیاپھر ارشاد فرمایا کہ میں نے آج تک طبیعت کے مطابق آرام کرنا جانا ہی نہیں۔ جبکہ ہم دوستوں کا حال یہ تھا کہ بدن درد سے چور تھا اور آرام کے لیے خانقاہ کی اے سی میں چلے گئےتھے۔

آپ ایک زبردست عالم کے ساتھ باعمل بھی تھے اور سنتوں پر سختی کے ساتھ عمل کرتے۔ آپ فرماتے کہ مراقبہ کرو انشا ء اللہ تم دھیرے دھیرے گناہوں سے دور ہوگے اور نیک کام کرنے لگوگےغالبا ناچیز نے مکتوبات ربانی میں پڑھا ہے کہ مرشد کے توجہ ڈالنے کی وجہ سے مرید پر پیر کا وصف یعنی نیکی کا اثر اس میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔ ایسا میں نے اپنے اندر بھی محسوس کیا اور بہت سے پیر بھائیوں کے اندر بھی دیکھا۔اسے کہتے ہیں مرشد کامل۔

بہت بار ایسا ہوا کہ آپ کا نام سن کر امتحان کی غرض سے صرف یہ دیکھنے کے لیے آتا کہ کیا جیسا بیان کیا گیا ہےکیاویسا ہی ہے حضرت کا فیضان جاری وساری ہے مگرحضرت کے ساتھ ایک ہی مراقبے میں نقشبندی، مجددی کا ایسا جام پی لیتا کہ وہ آپ کا دیوانہ ہوجاتا۔ شایدحضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ مرشد کہلانے کا حق وہی رکھتا ہے جو ایک ہی نظر میں مرید کے دل کی کایا پلٹ دے۔ اور آپ نے نہ جانے کتنوں کو ایک ہی نظر میں گناہوں کے دل دل سے نکال کر روحانیت کی ضیا بخشی۔