باب ۳۷ از ۶۵صفحات ۲۵۸–۲۶۳
خدماتِ حضور بحرالعرفان قد س سرہٗ
مولانا محمد قیام الدین مجددیؔ، آفاقی٭
جان کر منجملۂ خاصان میخانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
اگرکچھ کہوں تو تیر احسن ہوجائے محدود
اگر خاموش رہوں تو تو سب کچھ ہے
۹؍ذیقعدہ۱۴۴۰ھ بمطابق ۱۲؍جولائی ۲۰۱۹ ء بروز ہفتہ آفتاب عالم اپنی سابقہ روایتوں کے مطابق طلوع ہوا اور آفتاب شریعت وطریقت اپنے پیچھے لاکھوں تڑپتے اور دھڑکتے دلوں کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملا۔
حضور پیرِ طریقت، رہبر راہِ شریعت ،نائب مجدد الف ثانی ،مجدد طریقت ،حضور بحر العرفان الحاج مفتی آفاق احمدم مجددیؔ نقشبندی رضی اللہ عنہ وہ عظیم ترین شخصیت تھے جن کی علمی ادبی روحانی تحقیقی تصنیفی خدمات کا اعتراف صرف ہند و پاک میں ہی نہیں بلکہ بلادِ عرب میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔
اللہ رب العزت نے حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ کو بے شمار خوبیوں اور صفات کا جامع بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔ آپ محدث ومفسر، محقق، مدقق، مفتی ومناظر کے علاوہ راہ تصوف کے عظیم مسافربھی تھے۔ اللہ رب العزت نے جس خوبی کو آپ کے اندر بکمالِ اتم ودیعت فرمائی تھی وہ ہے آپ کا تصوف زہد و ورع تقویٰ و خشیت الٰہی عشق مصطفےٰ اور صبر وتحمل و توکل تواضع و انکساری ۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ جدید کے اس پرآشوب و پُرفتن دور میں تصوف اور عظمت اسلاف کے انمٹ نقوش پر چھائے ہوئے گرد کو صاف کرنے اور تعلیمات صوفیا کی ترویج و اشاعت کا جو عملی کارنامہ ہے وہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔
آپ کی وہ خدمات جو ہم عصر علما و صوفیا میں آپ کو ممتاز کرتی ہیں کچھ درج ذیل ہیں:
آپ کی بافیض صحبت سے ہزاروں افراد اپنی روحانی و علمی پیاس بجھاتے رہے اور آپ کے ملفوظات و ارشادات کی برکتوں سے ہزاروں کو قرب خداوندی و معرفت الٰہی و عشق مصطفےٰ کو دولت میسر آئی۔
آپ نے شہر قنوج کی سنگلاخ و بنجر زمین پر ۵؍رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ بمطابق ۲۵؍ مئی ۱۹۸۵ء بروز شنبہ’’ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ ‘‘کا قیام کیا جو آپ کی انتھک جدو جہد اور مساعی جمیلہ کی بنیاد پر آج ہندو بیرون ہند اہل علم کے نزدیک بلند مقام رکھتا ہے۔ یہ آپ کی خلوص کی برکت ہے کہ قلیل عرصے میں یہ جامعہ عظیم راہ پر گامزن ہے۔
آپ نے تصوف و صوفیا کے کارنامے ان کی روش کی اشاعت طریقت کے اصول و ضوابط اورآداب نیز ذکر وفکر اور مراقبہ وغیرہ کا عامل بنانے کے لئے قنوج و ہند کے متعدد صوبوں میں خانقاہ آفاقیہ مجددیہ کا قیام فرما کر دورِ جدید کے عظیم خلا کو پُرفرمایا۔ نیز ملک کے متعدد بڑے خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کے قلوب و اذہان کو اس کی طرف توجہ مبذول فرمائی۔
آپ نے عصری علوم وفنون میں مسلمانوں کی برتری ایمان و عمل کی حفاظت و صیانت کے لئے اسکول و کالج قائم کئے اور دوسرے اکابرین و رؤساقوم و ملت کو اس کی طرف توجہ مبذول کرائے۔
آپ کے قائم شدہ اسکول و کالج کا نصاب تعلیم جدید و قدیم اور عصری و اسلامی تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔ آپ جس جگہ بھی تبلیغی دورے پر ہوتے اس علاقے کے مسلم اسکول و کالج کے مہتممین و منتظمین حضرات کو اپنےترتیب شدہ نصاب سے آگاہ فرماتے اور اپنے اپنے اسکول و کالج میں نافذ کرنے پر زور دیاکرتے تھے۔
آپ نے اتنی مصروفیات کے باجود سیکڑوں کتابیں تصنیف فرمائیں جن میں اکثر اپنی ضخامت معنویت اور افادیت میں اپنی آپ مثال ہیں۔
آپ نے عصرجدید میں مسلمانوں کی علمی، عملی، سماجی، سیاسی، معاشرتی تنزلی کے اسباب اور اس کے حل کے لئے عالمی سطح پر مسلسل سات سالوں سے کانفرنس س سیمینار منعقد کرائے جس میں روس ، لبنان ، امریکہ، لندن ، چائنہ اور بنگلہ دیش کے علاوہ متعدد ممالک کے ممتاز اور پُر اثر شخصیات علماء مشائخ و مفکرین شرکت فرماتے۔ ۹؍۱۰؍مارچ ۲۰۱۹ء میں عالمی کانفرنس بنام چودہ سوسالہ ’’جشن مولیٰ علی کانفرنس ‘‘میں وطن عزیز کے مختلف صوبوں سے ملکی حالات پر دسترس رکھنے والے حضرات کو مدعو کیا اورI.S, I.P.S حضرات پر مبنی ایک ٹیم تشکیل دی۔ جنہوں نے حضور بحرالعرفان رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ملک کے مسلمان بالخصوص اہل سنت کو دور حاضرمیں تنزلی سے نکال کر کامیابی کی دہلیزتک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔
حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ علم و عمل کے کوہِ گراں تے ، جملہ علوم وفنون پر کامل دسترس رکھتے تھے، سفر و حضر میں نماز باجماعت کا اہتمام فرماتے تھے، فرض تو فرض سنن و مستحبات پر مداومت فرماتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی پَل بھر کی صحبت ہزاروں سال بے ریا عبادت سے افضل و بہتر تھی۔ آپ کے دیدار سے عشق مصطفےٰ اور عبادت الٰہی کا ذوق پیدا ہوتا تھا ، نیزآپ کا دیدار خدا کی یاد تازہ کرتی تھی۔
خلاصہ کلام آپ کے تمام مناقب و کمالات کا راز آقائے نامدار سرکار ابد قرار رحمۃ العالمینﷺ کی کامل اتباع و پیروی میں مضمر ہے۔ آپ نہ صرف اقوال و اعمال و ارشادات میں اتباع نبویﷺ کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے بلکہ فنا فی الرسول کے اس اعلیٰ مقام پر فائز تھے کہ آپ کے اقوال و افعال واحوال میں بھی سیرت مصطفےٰﷺ کی کامل جھلک نظر آتی تھی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مستفیض فرمائے۔
٭پرنسپل: دارالعلوم اسلامیہ غریب نواز سریا اختیار گوپال گنج (بہار)
مفتی آفاق احمد مجددی: ایک باعمل عالم اور حقیقی صوفی
مولانا جاوید احمد عنبرمصباحی٭
جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
مخلوق خدا اور امت مسلمہ کے استفادے کے نظریے سے عالم کے اندر علم کا ہونا جس قدر ضروری ہے اتنا ہی ان کے اندر عمل، عوامی حمیت، ملی درد اور تواضع و انکساری بھی ضروری ہیں۔ موجودہ زمانے کی جن شخصیتوں نے اپنے علم و عمل میں توافق کی جہت سے ہمیں متاثر کیا ہے ان میں ایک نام مفتی آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت۱۹۵۹-وصال۲۰۱۹) کا بھی ہے۔ حضرت سے ہماری دو مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ پہلی بار مارچ 2018 میں اور دوسری بار مارچ 2019 میں۔ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں اور یہ رواج ہے کہ جلسوں میں جلسے کے مہتمم اور منتظمین حضرات بہترین عمدہ لباس میں ملبوس اسٹیج پر نمایاں مقامات پر جلوہ بار نظر آتے ہیں (جو بوجوہ درست بھی ہے) لیکن ان میں مفتی آفاق احمد مجددی کی شخصیت سب سے الگ اور سب سے منفرد ہے۔ کسی جلسے یا سیمینار میں نہیں دیکھا کہ ان کی شخصیت ان کے لباس، کپڑے سے یا ان کو دی گئی کرسی سے جانی پہچانی جا سکے۔ حضرت نہایت حلیم، متواضع اور منکسرالمزاج شخص تھے۔ جلسے اور سیمینار وغیرہ کے موقع پر ہم نے اکثر دیکھا کہ مہمانوں کے لیے اسٹیج پر بیٹھنے کی جگہ رکھی گئی ہے اورحضرت سامعین کی پہلی صف میں بہت ہی عام فرد کی طرح عام اور سادہ لباس میں یا عمامہ شریف باندھ کر شریک جلسہ وسیمینار نظر آرہے ہیں۔
اللہ رب العزت نے انہیں علم، عمل اور تصوف کی خاصی شناسائی عطا فرمائی تھی اور ہم اگر یہ کہیں کہ اس زمانے میں خال خال نظر آنے والی شخصیتوں میں یہ بھی شامل ہیں تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ نام و نمود، شہرت اور بے جا تو بے جا، بجا تعریف کے بھی خواہاں نہیں ہوتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت کے معتقدین میں ایک سے ایک ماہر انٹرنیٹ ہونے کے باوجود آپ نے ہمیشہ اپنے آپ کو فیس بک یا واٹس ایپ شخصیت بننے سے بچا کر رکھا تھا۔
حضرت اپنے وطن مالوف فرخ آباد سے جوانی میں قنوج آئے تو پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ انھوں نے قنوج اور اہل قنوج کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپےکے قیمتی
اور بیش بہا اوقات ان کے لیے وقف کردیے۔ آپ نے انھیں سیاسی، معاشی، علمی اور فکری ہر سطح پر اوپر اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔ حضرت کا نظریہ ہمارے اس نظریے سے بھرپور طور پر ہم آہنگ نظر آیا کہ قوم کے قائد کے لیے ضروری ہے کہ نہ وہ صرف قوم کی علمی ترقی کے بارے میں سوچے بلکہ اس کے کم علم اور بے علم نوجوانوں کے معاشی اور سیاسی استحکام کے متعلق بھی غور و فکر کرتا رہے۔ قنوج اور آس پاس کے مسلمانوں کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی ترقی کے لیے بھی حضرت کافی متفکر نظر آتے تھے۔ قنوج شہر اور اطراف کے علاقوں میں جو لوگ بے روزگار نظر آتے تھے حضرت اس سے اس کا مشغلہ پوچھتے، اس کے ہنر کے متعلق سوال کرتے، تعلیمی لیاقت کے بارے میں پوچھتے اور اس بات کی پوری کوشش کرتے کہ ممبئی، دلی اور کانپور وغیرہ شہروں میں یا جن بڑے شہروں میں یہاں کے لوگ آباد ہیں ایسے لوگوں کو بلاتے، ان سے ملتے اور ان سے گزارش کرتے کہ برائے کرم آپ اپنے محلے میں سے اپنے گاؤں میں سے اپنے علاقوں میں سے بے روزگار لوگوں کو لے جائیں اور جو جس لائق نظر آئے اس کو اس کام میں لگا کر روزگار سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کریں۔
حضرت مفکر پیدا کرنے کی فیکٹری لگانے کے لیے بھی بے قرار تھے۔ حضرت کی خواہش تھی کہ ہندوستانی مسلمانوں کو کثیر تعداد میں جوش سے بھرے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ملی جذبے سے لب ریز ہوں اور قانونی دائرے میں رہ کر ہمہ دم امت مسلمہ کی بھلائی کے لیے غور و فکر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ہماری نظر میں حضرت ایک ہمہ جہت قائد کی حیثیت رکھتے تھے۔ حضرت کا انتقال نہ صرف ان کے بچوں کے لیے یتیمی کا درد ہے بلکہ پورے کان پور کمشنری کے مسلمانوں کے لیے یہاں تک کہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک صدمہ ثابت ہوا۔ قنوج کے سیمینار اور کانفرنس میں ہماری دو مرتبہ شرکت ہوئی۔ہم نے جب بھی شرکت کی دیکھا کہ حضرت کے پروگرام میں آنے والے لوگوں میں جہاں بہت سے مسلمان شامل ہیں وہیں ایسے موقعے پر حضرت سے آشرواد لینے والوں اور ان سے دعا کی درخواست کرنے والوں میں بہت سے غیرمسلم بھی نظر آتے تھے۔
پچھلے چند سالوں سے حضرت نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا کہ ہر سال مختلف عناوین پر سمینار کرواتے اور کانفرنس کو کسی بھی صحابی رسول کے نام سے منسوب کرتے تھے۔ ابھی یہ سلسلہ حضرت عثمان ذوالنورین کی شخصیت تک ہی پہنچاتھا کہ حضرت پر دہ فرماگئے۔ حضرت کی خواہش تھی کہ تمام
شخصیات اسلام کے حوالے سے لوگوں کو متحد رکھا جائے، کسی بھی طریقہ سے امت مسلمہ میں انتشار نہ ہونے دیا جائے۔ اس سلسلے میں حضرت کچھ تک نہیں بلکہ پورے طور پر کسی فرد کی ملامت و لعنت اور کسی کے لعن طعن سے بالکل بے پرواہ تھے۔ حضرت کو جو سچ اور حق کا نظر آتا تھا وہی کر گزرنے کا حوصلہ خود بھی رکھتے تھے اور نوجوانوں کو بھی دیتے تھے۔ نوجوان علما، اسکالرز، دانشور، ڈاکٹر اور انجینئربڑے شوق سے حضرت کی شخصیت اور حضرت کی آواز پر بلاکسی نذر ونیاز کے، محض اخلاص کے جذبے کے ساتھ حاضر ہو جایا کرتے تھے۔ ایسا لگنے لگا تھا کہ حضرت کی شخصیت کے حوالے سے قنوج میں کوئی انقلابی کام ان شاءاللہ ضرور شروع ہوگا اور آس پاس کی تقدیر بدل جائے گی۔حضرت نے کافی کچھ منصوبے بنائے اور اللہ نے ان کی آواز پر لوگوں کو لبیک کہنے کے لیے جذبہ بھی عطا فرمایا کہ بغیر کسی مطالبے کے، عام لوگ حضرت کی شخصیت سے متاثر ہو کر اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار کھڑے تھے، اپنی زمین اپنی پراپرٹی یہاں تک کہ اپنا گھربار تک دینے کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے۔
مفتی آفاق صاحب نے نوجوان علما، اہل قلم، دانش ور اور ڈاکٹر و انجنیئر کی اچھی ٹیم بنالی تھی اور ابھی مشن کی شروعات ہی ہوئی تھی، منصوبے بنائے جارہے تھے، خاکے تیار ہورہے تھے، لیکن افسوس سب کچھ راہ میں ہی رہ گیا اور حضرت کی شخصیت اس دنیا سے پردہ کر گئی۔ کاش دس پندرہ سال حضرت کی شخصیت اور اس دنیا میں جلوہ باررہ جاتی تو ان شاءاللہ ضرور اس خطے میں ایک انقلابی کام ہوجاتا۔ اللہ حضرت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ الامین ﷺ۔ اب یہ ذمہ داری حضرت کے متعلقین بالخصوص حقیقی اور نسبتی صاحب زادوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ برزخ میں حضرت کی روح کو اپنا خراج عقیدت ان کے مشن کی تکمیل کے ذریعے پہنچائے۔ اللہ انھیں خوب سے خوب تر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
٭ambermisbahi@gmail.com