مواد پر جائیں

باب ۱۹ از ۶۵صفحات ۱۴۲–۱۴۴

گوشۂ مضامین (جاری)

دخل نہیں ہے۔ (ماخوذ) حضور بحر العرفان نے غالی اور گمراہ صوفیوں کی اصلاح کا فریضہ بہت ہی اپنائیت اور عمدہ اسلوب میں فرمایا اور انھیں تزکیہ و احسان و سلوک کا جام پلا کر مقاصد شریعت سے آگاہ بھی فرمایا اور شریعت کو اصل منبع قرار دیکر طریقت و معرفت اور حقیقت کے مقامات اور اس کے مقاصد کی اہمیت پر زور دیا جس کے ادراک کے بغیر تصوف حقیقی کو سمجھنا اور سمجھانا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے ۔

صوفیانہ اعمال و اشغال:

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ تصوف کے رموز و اسرار، اعمال و اشغال سے نہ صرف بالکلیہ واقف تھے بلکہ اس میدان کے شہسوار تھے آپ صرف صوفئ با صفا نہیں تھے بلکہ صوفی ساز و صوفی گر تھے، آپ کی مجلس اور خانقاہ ایسا کارخانہ تھا جہاں قلب و نظر صاف و شفاف سیال سے آئینہ کی صورت میں ڈھالے جاتے تھے۔ آپ کے شب و روز میں ذکر و فکر کے اوقات متعین تھے اور سفر و حضر میں اس کا التزام پابندی سے کرتے اور ان کی روز مرہ زندگی میں کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ رخصت کے بجائے عزیمت پر ہمیشہ عمل پیرا رہے اور فرماتے کہ ہمارے سلسلے کے تمام اکابرین تمام عمر عزیمت پر چلتے رہے اور اسی کو فوقیت دی، آپ نمازوں کی تیاری اذان سے پہلے کرتے اور اول وقت میں ادائیگی نماز کو ترجیح دیتے۔ پنج وقتہ نمازوں کے بعد آپ کا محبوب مشغلہ مراقبہ کرنا تھا آپ مراقب ہوتے اور ساتھ ہی طالبین و مریدین بھی مراقب ہوتے اور اس گھڑی میں ایک عجب سماں ہوتا اور کیفیت بھی روحانی ہوتی جس سے نئے لوگوں کو کافی سکون محسوس ہوتا مراقبہ کے بعدآپ لوگوں کو محاسبہ کی دعوت دیتے جس سے طالبین حق کے قلب کی صفائی، پچھلے گناہوں پر ندامت اور آئندہ نیک اعمال کرنے کا جذبہ وافر مقدار میں پیدا ہوجاتا جس سے ایک قلبی سکون میسر ہوتا جس کی ضرورت معاشرۂ انسانی کے ہر فرد کو ہے۔صوفیا نے اصلاح نفس اور روحانی قوتوں کو ترقی دینے کے لیے مختلف تدبیریں ہر زمانے میں اختیار کی ہیں اور س کی اجازت شریعت نے دی ہے ۔مثلا نفلی روزے رکھنا تسبیح و تہلیل کرنا، نفل نمازیں پڑھنا، احتساب نفس کرنا وغیرہ وغیرہ کا ذکر حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ایک ہی طریقہ نہیں سکھلایا یعنی نوافل کے سلسلے میں کسی کو کچھ اور کسی کو کچھ بتایا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شخص کی صلاحیتیں جدا گانہ تھیں، آج کچھ عرب علماء تسبیح پڑھنے کو بدعت قرار دیتے ہیں جو کہ سراسر احادیث

مبارکہ کی مخالفت ہے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دعا دو ہزار مرتبہ روزانہ سونے سے پہلے پڑھنے کی تاکید فرمائی، دوہزار ایک ایسا ہندسہ ہے جس کا شمار۔ انگلیوں میں کرنا مشکل تھا، حضرت ابوہریرہ کافی ذہین شخصیت کے مالک تھے انھوں نے ایک ڈور لی اور اس میں دوہزار گرہیں ڈال دیں،اور اسی کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتے تھے اب چاہے اس تسبیح میں گرہیں ہوں یا اس کے اندر منکے ہوں یا کوئی اورشے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو جن چیزوں کی تاکید فرماتے ان میں نفل روزے، نفل نمازیں،درود ،وظائف اور مختلف موقعوں پر پڑھنے کی مختلف دعائیں بھی تھیں، ہر صحابی اپنی صلاحیت اورقابلیت کے مطابق مختلف طریقے اختیار کرتا، اسی طرح ہر دور کے صوفیاء بھی مختلف طریقوں اور اشغال کے ذریعہ روحانی ترقی کیلے کوشش کرتے رہے ہیں جو شریعت کے منافی نہیں ہیں بلکہ شریعت کے عین مطابق ہے۔ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی تمام تر کوششیں روحانی ترقیات کے سلسلے میں سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور عمل صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ماخوذ ہو تی تھیں۔

آپ کا مشن تجدید و اصلاح:

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کا شب و روز اصلاح و تجدید میں گزرتا تھا۔ ان علاقوں اور بلاد و امصار کو ترجیح دیتے جہاں موجودہ دور کےعلماء و دعاۃ جانا پسند نہیں کرتے، آپ نے ہمیشہ دیہی علاقوں اور قصبوں کو اپنے کام کے لیے منتخب فرمایادیہی مسلمانوں کو جو بدعات اور دیگر سماجی خرافات میں مبتلا تھے انھیں رسوم بد سے روکا بلکہ ان کے درمیان رہ کر اصلاحی کام کیا، آپ بادیہ نشینوں کے درمیان مسجدوں میں قیام فرماتے اور ان کے کھیتوں کھلیانوں میں جاکر اسلام کی بنیادی باتوں سے روشناس کراتے اور ان کے بچوں کو گود لے کر اپنے اداروں میں دینی و عصری علوم سے آراستہ و پیراستہ فرماکر مثالی عالم و ذمہ دار شہری بناتے اور اس طرح جو علاقہ بدعت زدہ ہوتا اور جہالت کے گھپ اندھیروں میں گم ہوتا وہ علاقہ سنتوں اور علم کی بہاروں سے پر بہار ہوجاتا۔

تجدید دین واصلاح امت کے لیے اللہ نے ہر دور میں اپنے مخصوص بندوں کو مبعوث فرمایا ہے ،یہ اسلام کا نمایاں اور ممتاز وصف ہے، اس کی بنیادی خصوصیت بلکہ اس کی ابدیت و حقانیت کی ایک دلیل ہے کہ اس کا سدا بہار درخت ہمیشہ برگ و بار لاتا رہا ہے۔ ابتدائے آفرینش ہی سے اسلام کے قلب و جگر اور

اس کے اعصاب پر ایسے حملے ہوئے کہ دوسرا مذہب اس کی تاب نہیں لا سکتا، دنیا کے دوسرے مذاہب جنہوں نے اپنے اپنے دور میں دنیا کو اپنی مٹھیوں میں کر لیا تھا اس سے کم درجہ کے حملوں کو برداشت نہ کر سکے اور انھوں نے اپنی تہذیب و تمدن بلکہ ہستی کومٹا دیا، لیکن اسلام کا یہ اعجاز ہیکہ اس نے اپنے تمام حریفوں کو نہ صرف شکست فاش دی بلکہ اپنی اصل شبیہ کے ساتھ قائم رہا اور صبح قیامت تک قائم رہے گا۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں ایسے باکمال افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے تحریفات و تاویلات اور سازشوں کا بر وقت پردہ فاش کیا اور حقیقت اسلام اور دین خالص کو اجاگر کیااللہ نے اس دور میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کو ایسی صفات سے متصف فرمایا جو ماضی میں حق پسندی و حق شناسی، حمیت و خودداری اور عزم و حوصلہ کے پیکر اشخاس کو عطا فرمائی تھیں، جو اپنوں کے درمیاں حریر پرنیاں تھے اور دشمنان رسول کے لیے اشداء علی الکفار کی عملی تفسیر تھے، دنیاوی جاہ حشمت کی پرواہ کیے بغیر آپ نے حق بیانی سے کام لیا، آپ نے حکمرانوں کو ان کا کام اور منصب یاد کرایا ، سماجوادی دور حکومت میں شہر قنوج میں فساد پھوٹ پڑا اور بہت سارے معززین شہر کے نام فرضی مقدمات قائم ہوئے آپ کا دل تڑپ اٹھا اور آپ نے یوپی کے وزیر اعلی کے سامنے مسلمانوں کی حمایت میں مؤثر اور طاقت ور آواز بلند کی، اور بے قصور مسلمانوں کو فرضی مقدمات سے بچایا، آپ کی ذات ہمیشہ مسلمانوں اور امن پسند انسانوں کے لیے ہمدردی و غمگساری کی عملی تصویر تھی اور اس تصویر میں انسانیت سازی کا عکس نمایاں طور پر ابھرتا ہے جو صرف اہل نظرکو نظر آتا ہے۔

٭صدر اسلامک مشن نئی دہلی