مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتمفکر قوم وملت بحر العرفان علیہ الرحمہ

باب ۳۳ از ۶۵صفحات ۲۳۲–۲۳۵

مفکر قوم وملت بحر العرفان علیہ الرحمہ

مفتی محمد ذاکر حسین اشرفی جامعی٭

حضر ت بحر العرفان علیہ الرحمہ علم وفضل کے تاجدار ،زہد وتقوی کے پیکر، تواضع وانکسار کے خوگر، بہترین اخلاق و عمدہ اوصاف کے مالک اور دنیاے اسلام کے عظیم مبلغ و مفکر تھے۔ ان کی ذہانت وفقاہت اور علمی جاہ وجلا کا چرچا دور دور تک پہنچا ہواتھا اور تصنیفات و تالیفات کو مقبول عام شہرت حاصل تھی ۔

حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ نے قنوج کی تاریخی سر زمین پر۱۴۰۵ھ مطابق ۱۹۸۵ء میں الجامعۃ الاحمدیہ کی شکل میں علم و دانش کا ایک شہر بسایا، اس کی علمی ،ادبی وتہذیبی تاریخ کو زندہ کیا اور اس مقدس سرزمین پر آرام فرما بزرگان دین کی روحانی وعرفانی تعلیمات کی نشاۃ ثانیہ فرمائی ۔ان کی زندگی کی عکاسی شاعر نے اپنے الفاظ میں یوں کی ہے:

زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر

خواب میں دیکھتاہے عالم نو کی تصویر

اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے

کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعبیر

حضرت مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ درسگاہی بھی تھے اور خابقاہی بھی ، لیکن خانقاہیت ان پر غالب تھی ۔ان کے صوفیانہ اعمال وکردار، اخلاق وعادات اور معمولات سے تصوف کارنگ جھلکتا تھا ۔ذیل میں ان کے کچھ صوفیانہ کردار کوپیش کیا جاتا ہے:

حضرت حقوق العباد کا پوراپورا خیال رکھتے تھے یہاں تک کہ جلسہ گاہوں میں اگر اسٹیج تک پہنچنے میں راستے میں لوگوں کی چپل پڑی ہوتی تو آپ ان پر پیرنہیں رکھتے اورفرماتے کہ یہ غیر کی ملکیت ہے اور اس میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا حرام ہے۔دعوت وغیرہ میں کھانا تناول کرنے کے بعد اگر دال اور شوربا وغیرہ بچ جاتا تواس کو پینے یا اس میں روٹی وغیرہ توڑ کر استعمال کرنے کے لیے صاحب خانہ سے اجازت طلب کرتے ، اجازت ملنے کے بعد ہی اس استعمال کرتے اور یہ فرماتے مجھے صرف اتنی

دا ل اور شوربا استعمال کرنے کی صاحب خانہ کی طرف سے اجازت تھی جتنی چاول میں صرف ہوئی اورباقی کا مالک صاحب خانہ ہے، جس کو اس کی اجازت کے بغیر ہم استعمال نہیں کرسکتے ۔سفر کرنے میں جمعہ کے دن کا پور اخیال رکھتے اگر کسی مرتبہ ان کے خادم یا دعوت کرنے والے نے جمعہ کے دن کا ٹکٹ بنا لیتا توآپ اس دن سفر رد فرمادیتے ،یا ایسی ٹرین سے سفر کرتے ، جس سے سفر کرنے میں نماز جمعہ فوت نہ ہوتی۔آپ نے انتقال سے پہلے اپنے وصیت نامہ میں یہ تحریر فرمایا کہ مدرسہ احمدیہ اوراس کی تمام جائداد قوم کی امانت ہے اس کو میر ی اولاد اور اقربا کو اپنے مصرف میں صرف کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور میری اولاد کو وراثت میں صرف ہمارا رہائشی مکان ہے ۔ اس طرح آپ کی تصوفانہ زندگی کی بہت ساری مثالیں ہیں ، جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آپ ایک عظیم صوفی اور خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔

حضرت بحر العرفا ن علیہ الرحمہ کو علم و حکمت اور بے پناہ شہرت وعظمت کے باوجود عاجزی و انکساری کرتے ہوئے دیکھا ، چھوٹوں کو نوازتے اور بڑوں کی قدر کرتے ہوئے مشاہدہ کیا ، کا م کے افراد کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی فرماتے ہوئے دیکھا،بلاتفریق مشرب،ہرمشرب کے علما و مشائخ کو گلے لگاتے ہوئے اور احترام کرتے ہوئے پایا،یہ سب ان کے نمایاں اوصاف تھے، جو ایک شیخ طریقت کے لیے ضروری ہواکرتے ہیں۔جب کوئی ان سے ملتا تو یہی کہتا کہ حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ کے اخلاق بہت بلند اور زندگی بالکل سادہ اور صاف ستھری ہے۔ ان کے اندر علم و عظمت کا ذرہ برابربھی زعم نہیں ہے۔

حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے اندر ٹھاٹھیں مارتاہوا دل تھا جوہمیشہ قوم وملت کی اصلاح ، فلاح وبہبودی ، عظمت ورفعت اور بہترین سوچ وفکرمیں مستغرق رہتا تھا۔جب بھی فون پر حضرت سے میری گفتگو ہوتی تو آپ مسائل قوم وملت کی بات کرتے ، مذہب کے فروغ وارتقا کی بات کرتے، یہودیت و نصرانیت کی روک تھا م کی بات کرتے ،کبھی تو یہ فرماتے کہ اہل سنت کا ایک قائد ہونا چاہیے جو دینی و مذہبی مسائل میں ہماری قیادت کرے ۔ اس تعلق سے آپ نے اسی سال(۲۰۱۹)میں فروری کے مہینہ میں حضور قائد ملت حضرت سید شاہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلا نی صاحب سجادہ خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں کے دولت خانہ لکھنؤمیں کافی دیر تک گفتگو کی تھی اور مذہبی قیادت پر اپنے دل کی بات سنائی تھی۔ کبھی تو یہ فرماتے کہ ہمارا ایک سیاسی رہنما ہونا چاہیے ،جو بلا تفریق مذہب وملت ہمار ی

سربراہی کرے اور تما م بندگان خدا ایک سیاسی بینر تلے جمع ہوں اور مضبوط و مستحکم طور پر ہم حکومت کے سامنے اپنی بات رکھ سکیں۔کبھی تو یہودیت و نصرانیت کے دفاع کی بات کرتے اور اسلام کے خلاف ان کی تحریک کو روکنے کے لیے بہترین تدابیر تلاش کرتے ، کبھی تو قادیانیت کو موثر طریقے پر روکنے کے لیے غور وفکر کرنے کا مشورہ دیتے، کبھی تو دانشوران قوم و ملت کی ایک مضبوط ٹیم تیا رکرنے کی بات کرتے ، جو صوبائی اور ضلعی سطح پر دین وملت کی خدمت کا فریضہ انجام دے، اس کے لیے آپ نے سن ۲۰۰۱ء سے عملی اقدا م شروع کردیا، اور قوم و ملت کے سلگتے ہوئے مسائل پر سیمینار اور عظیم الشان اجلاس کا انعقاد کیا ، ان مسائل پر غور و فکر نے اور ان کے حل کے لیے ہند و بیرون ہند کے دانشوران اور اہل قلم کو مدعو کرکے قوم وملت کا ایک عظیم فریضہ انجام دیا، اس وقت سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔ان سیمیناروں میں سیکڑوں اہل علم ودانش اور اصحاب فکر وقلم تشریف لاتے ، ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر یہی محسوس ہوتاتھا کہ حضرت بحرالعرفان علیہ الرحمہ کی نیک نیتی اور خلوص و للہیت کار فرماہے، ورنہ اس دور قحط الرجال میں انتے دانشوران کو تسلسل کے ساتھ جمع کرنا بہت دشوار امر ہے ۔

حضرت بحر العرفا ن علیہ الرحمہ تبلیغی دورے فرماتے ، الجامعۃ الاحمدیہ قنوج میں طالبان علوم نبویہ کو درس دیتے اور ہر سال بخاری شریف ازابتدا تا انتہا پڑھانے کے بعد ہی ختم کراتے ، ائمہ مساجد کی تربیت فرماتے، ایک درجن سے زائد اداروں کی سرپرستی اور نظامت کرتے ، خانقاہوں کی تعمیر کرتے اوراس میں گاہے بگاہے اخلاق و تصوف کادرس دیتے اور سب سے قابل فخر بات یہ ہے کہ کتب و رسائل تصنیف فرماتے ، جن کے رشحات قلم سے چالیس سے زائد کتب ورسائل وجو د میں آئے جن کے اسما کچھ اس طرح ہیں:

(۱)آداب طریقت (۲)سلسلہ نقشبندیہ اور سلوک(۳) حضرت مجدد الف ثانی اپنے کمالات اور دینی خدمات کے آئینے میں (۴) تذکرہ مشائخ مجددیہ (۵) ذکر وفکر (۶) تذکرہ مشایخ سہروردیہ (۷) نغمات بحرالعرفان (۸)الصلاح والفلاح (۹) علماے آخرت (۱۰) تربیت اہل سلوک (۱۱) تصوف اور اس کے فوائد (۱۲) تجدید الف ثانی (تین جلدیں)

یہ تمام کتب ورسائل زیور طباعت سے آراستہ ہوچکے ہیں اور بندگان خدا حضرت کی ان تحریری

کاوشوں سے خوب استفادہ کرتے ہیں ۔

غیرمطبوعہ کتابوں کی فہرست یہ ہے:

(۱۳) شرح ملاحسن (۱۴) شرح اصول الشاشی (۱۵) شرح میزان الصرف (۱۶) کشف و الہام کی شرعی حیثیت (۱۷) شطحیات اور ان کے اسباب (۱۸) معارف مجدد (۱۹) اصطلاحات تصوف (۲۰) صغروی سادات اور ان کی خدمات (۲۱) غوثیت و مداریت (۲۲) حدیث تجدید (۲۳) داغہاے دل (۲۴) خصائص نقشبندیہ (۲۵) سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف (۲۶) شرح اصطلاحات تصوف (۲۷) نبوت و ولایت(۲۸) ترجمہ مبدا ومعاد(۲۹) ترجمہ مقامات احمدیہ سعیدیہ (۳۰) مشایخ نقشبندیہ اور تحفظ سنیت (۳۱) تحدیث نعمت (۳۲) ترجمہ ہمعات(۳۳) روائح سکینہ ترجمہ لطائف مدینہ (۳۴) رسالہ فوائد کشف (۳۵) مہتمم و معلم کے آداب (۳۶) ارشادات مشائخ(۳۷) حضرت مجدد کی بعض کرامتیں (۳۸) نجدیت اپنے افکار و اعمال کے آئینے میں (۳۹) عظمت صحابہ (۴۰) دعوت الی اللہ، وغیرہ۔

حضرت مفکر قوم وملت کے مذکورہ بالا قابل رشک اور باعث تقلید کارنامے ہیں ، جو تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ اگرچہ اب حضرت مفکر ملت ہمارے درمیان نہ رہے ،لیکن ان تاریخی کارناموں کی بدولت ہمیشہ یاد کیے جائیں گے اور قیامت تک زندہ و جاوید رہیں گے ۔ ان کی صوفیانہ زندگی اورتاریخی کارنامے آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔

٭استاذ و مفتی مخدوم اشرف مشن، پنڈوہ شریف ، مالدہ ، بنگال