باب ۴۶ از ۶۵صفحات ۳۱۸–۳۲۲
آہ! بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ
مولانا توحید احمد برکاتی٭
مورخہ۹؍ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ کی صبح کو بذریعہ واٹس ایپ یہ جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ عالم سنیت کی ایک عبقری شخصیت بحر العرفان حضرت علامہ مفتی محمد آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ کا مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ یہ خبر پڑھ کر اول نظر میں یقین ہی نہیں ہوا، اس لئے کہ ابھی چند ماہ قبل حضرت کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے ‘‘جشن مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عالمی کانفرنس و سیمینار’’ میں حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا،اس وقت حضرت بظاہر بالکل صحت مند لگ رہے تھے،چہرے پر وہی
نورانی چمک دمک تھی،اس لئے اس بات کی تصدیق کے لئے اپنے عزیز دوست اور حضرت کے چہیتے داماد حضرت علامہ سید نور عالم مصباحی صاحب قبلہ سے بذریعہ فون رابطہ کیا،انھوں نے فرمایا: ’’ یقین تو مجھے بھی نہیں ہو رہا ہے مگر خبر درست ہے’’ ۔
حضرت بحر العرفان صاحب قبلہ سے میری واقفیت حضرت علامہ سید نور عالم مصباحی صاحب کے توسط ہوئی ،حضرت سید صاحب قبلہ داماد ہونے کی وجہ سے حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ سے زیادہ واقف تھے، اس لیے ان کے اخلاق و کردار،عادات و اطوار اور دینی و ملی کارناموں کے بارے میں مجھے اکثر بتایا کرتے تھے، انھیں کی کرم فرمائی سے حضرت کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے، الجامعۃ الاحمدیہ، جامعۃ المحصنات، سرہند پبلک اسکول،وارثی پبلک اسکول وغیرہ کی زیارت ہوئی اور ان کی تصنیف کردہ متعدد کتابوں کے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا۔حضرت سید صاحب کی زبانی حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے کارناموں کو سن اور دیکھ کر میں نے محسوس کیا کہ اگر آپ دس سال بھی بقید حیات رہے تو جماعت اہل سنت میں ایک انقلاب بپا ہو جائے گا۔
حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ باصلاحیت مدرس اور مشاق قلم کار بھی تھے۔یوں تو آپ کو تحریری کام کرنے کا مستقل وقت نہیں ملا ،مگر جب بھی وقت ملا اور جس موضوع پر قلم اٹھایا حق ادا کر دیا۔ آپ کی تصنیف کردہ کتابوں کی تخریج و تحقیق،تسہیل و ترتیب اور ترجمہ و تحشیہ کا کا زیادہ تر کام حضرت سید صاحب قبلہ ہی کرتے ہیں، ایک بار انھوں نے آپ کی تصنیف کردہ ایک کتاب ’’ الصلاح و الفلاح‘‘ کے چند اوراق کی پروف ریڈنگ کی ذمہ داری مجھے سونپ دی۔پروف ریڈنگ کے دوران میں نے کتاب کے چند مباحث کو پڑھا، حسن ترتیب اور انداز تحریر کو دیکھ کر عش عش کر اٹھا،آپ نے تصوفانہ مباحث کو قرآنی آیات،احادیث کریمہ اور اقوال مشائخ بالخصوص حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے اقوال سے مزین کر کے اس قدر دل نشین پیرایہ میں پیش فرمایا ہے کہ ایک ایک بات دل و دماغ پر نقش ہوجاتی ہے۔
حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے بارے میں مجھے ایک اور شخصیت جناب سید مصطفی علی صاحب علی گڑھ سے بہت کچھ جاننے کو ملا۔سید صاحب حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کو بڑے قریب سے جانتے ہیں ۔ انھوں نے حضرت اخلاق و کردار، رحم دلی وغربا پروری، اور تقویٰ و پرہیزگاری کے کئیی واقعات مجھ سے
بیان فرمایء، ایک بار فرمایا:’’میں نے حضرت کے ساتھ متعدد بار دور دراز کا سفر کیا ہے اور کئیی پروگراموں میں شرکت کی سعادت حاصل کی ہے۔دوران سفر میں نے ایک خاص بات یہ دیکھی کہ سفر چاہے دور کا ہو یا قریب کا ،آپ کبھی بازار کی کوئی چیز نہیں کھاتے تھے،اگر سفر دور کا ہوتا تو زاد راہ ساتھ میں لے لیتے تھے اور زاد راہ نہیں ہوتا تو بھوکے رہ جاتے تھے مگر بازار کی کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔‘‘یہ آپ کے کمال تقویٰ اور رزق کے معاملے میں حد درجہ احتیاط کی دلیل ہے۔
حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ نے ہمارے ضلع( مہراج گنج،یوپی) کے ایک معروف ادارہ دارلعلوم اہل سنت گلشن رضا چھپیابازار، میں چند سالوں تک درس تدریس کے فرائض انجام دئے تھے۔ان دنوں ہمارے ادارے کے صدرالمدرسین حافظ احادیث کثیرہ حضرت علامہ شیر محمد صاحب قبلہ صدر المدرسین دارالعلوم اہل سنت قادری سراج العلوم برگدہی ،مہراج گنج بھی،وہاں تدریسی خدمات انجام دیتے تھے۔وہ بھی حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے وصال کی خبر سے کافی آزردہ تھے۔ انھوں مجھ سے فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب قبلہ بڑے خلیق،مخلص، محنتی، اور زبر دست صلاحیت کے مالک تھے۔وہاں کے اساتذہ،طلبہ اور عوام کے تئیں آپ کا اس قدر شریفانہ اور مشفقانہ تھا کہ سب لوگ آپ کو ٹوٹ کر چاہتے تھے۔ان کا مادہ تفہیم اتنا زبر دست تھا کہ دقیق سے دقیق بحثوں کو منٹوں میں طلبہ کے ذہن میں اتار دیا کرتے تھے۔انھوں نے فرمایا کہ حضرت کا روز آنہ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد اپنی درسگاہ لگوا کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرماتے دیتے تھے اور اس وقت تک یہ سلسلہ چلتا جب تک ساری کتابیں پڑھا نہیں دیا کرتے تھے۔بسا اوقات پڑھاتے پڑھاتے ایک بج جاتا تھا ۔اس کے بعد ہی کچھ کھایا کرتے تھے۔انھیں دنوں حضرت نے ’’ملا حسن ‘‘ اور ’’اصو ل الشاشی‘‘ کی شرحیں بھی تحریر فرمائی تھیں۔
انھوں نے فرمایا کہ ابھی ماہ رمضان سے قبل کشی نگر کے ایک جلسے میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا، کافی دیر تک باتیں ہوئیں، انھوں مجھے قنوج آنے کی دعوت بھی دی، افسوس کہ آج ان کا نتقال ہو گیا۔
حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کی ذات اہل سنت کے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی ،ان کے وصال سے جماعت میں جو عظیم خلا ہوا ہے شاید برسوں تک اس کی بھرپائی نہ ہوسکے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کا فیضان کرم مسلمانان عالم کے لیے عام و تام فرمائے اور پسماندگان کے لئے ان کی زندگی کو مشعل راہ بنائے۔ ( آمین یا رب العٰلمین)
٭استاذ دار العلو م اہل سنت قادریہ سراج العلوم برگدہی،مہراج گنج،یوپی
عدیم النظیر دستگیر بحرالعرفان
حاجی محمد خلیل وارثی تروا گنج قنوج
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
دنیا میں ایسی نادر الوجود ہستیوں کا ظہور شاذ اور عرصہ دراز کے بعد ہوتا ہے ان کے چشمہ فیوض و برکات سے ہزاروں مردہ دل افراد روحانی آب حیات سے سیراب ہوتے ہیں جیسا کہ ہمارے عدیم النظیر دستگیر نے بہزار جاہ و جلال ظہور اجلال فرماکر شہر قنوج کو رونق بخشی تمام عمر خاص و عام کو محبت شاہد حقیقی کی ہدایت فرمائی ۔
دام گیسو میں گرفتار بے شمار عالم با عمل کو دستار فضیلت سے سرفراز فرمایا؎
ہر کہ آمد عمارت نو ساخترفت منزل و دیگر پرداخت
مختصر مگر تھوڑی وضاحت کے ساتھ ہستی عظیم نے مشعل راہ بن کر قابل تحسین و حسین کار نامے کو دار العلوم الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کو عالمی سطح پرنشان دہی سے سرفرازی عطا فرمائی۔
درہ بحر اسرارِ خدا نقش پائے سجدہ گاہ مصطفیٰ نے باندازہ مشاہدہ بیشمار مخلوق کو سنیت پر قائم و دائم رہنے کی تعلیم و تربیت انکے قلب و روح میں موجزن فرمائی سنیت کا مبلغِ کمال کمال ِمحبت ہے۔ فرمان عالیشان آقا علیہ السلام:
لا تکون مؤمنا حتیٰ اکون احب الیک من نفسك
ایمان کی تصدیق آقائے دوجہاں کی اشیائے کن سے زیادہ محبت کی دلیل ہے۔
اس حدیث مقدسہ پر کلی صادق العقیدت راسخ الارادت نے لباس توکل زیب تن فرماکر اتنی وسیع عمارت تعمیر فرمائی جو آج کانپور منڈل میں اپنی مثال ہے آفتاب دلیل آفتاب ہےجسمیں ہندوستان اور بیرون ہندوستان طالب علم آکر مختلف شعبوں میں بقدر استعداد علم حاصل کرتے ہی۔
جنکی تعداد شمار کم و بیش ٨٠٠ آٹھ سو ہے ۔جن کےخوردو نوش کا انتظام منجانب دارالعلوم انجام پاتا ہے۔
مفتی اعظم آنجناب کا خواب یونیورسٹی تعمیر کا تھا جسکو اکمل ومکمل رفت منزل و دیگر پر داخت پر منحصر ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیر یں
حکومت پاد شاہی علم اشیاء کی جہانگیری
یہ سب کیاہیں فقط اک نقطہ ایماں کی تفسیریں
جملہ معتقدین و مسترشدین و اراکین ووابستگان سلسلہ مجددیہ سے پر زور درخواست و اپیل ہے کہ یونیورسٹی کے انعقاد کو عزم واثق و صادق کے ساتھ جد و جہد کا مظاہرہ کر کے کار انجام دیں نیک نیتی جا نفشانی میں امداد خدا وندی ہوتی ہے یہ خراج عقیدت کا تحفہ لطیف ہے جسے پیش کرنا سعادت مندی کا ثبوت ہے اور راسخ و صادق ہونیکی دلیل ہے۔
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
تو ہستی دانا ہے بینا ہے توانا ہے
وان المتقین فی جنت و عیون
حیات و موت کے جلوے ہیں مری ہستی میں
تغیرات دو عالم کا آئینہ ہوں میں
حیات بعد الممات کے لطف اندوز نیستاں سنیت را شیر ببر صوفی بر حق مفتی اعظم مجددی کے وصال سرمدی پر خراج عقیدت کے چند اشعار بلند پائگاہ ناظرین۔
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا
یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبےمیں دعاؤں سے فضا معمور ہے
اور اب چرچے ہیں جسکی شوخی گفتار کے
بے بہا موتی ہیں جسکی چشم گوہر بار کے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
بارگاہت مرجع خلق خدا
لطف احسانت ندارد انتہا
پیش کردہ: ذرہ بے مقدار خاکپائے غبار شہنشاہ محبت وارث پاک نور اللہ ضریحہ