باب ۲۰ از ۶۵صفحات ۱۴۵–۱۴۸
حضور بحر العرفان امامت سے قیادت تک
محمد آصف رضا مجددی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم والحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ اجمعین
عزم و ہمت، صبر و استقلال، سچی لگن، اخلاص و للّٰہیت اور بلند فکر کے حامل افراد ہر مشکل کو پامال کر کے اپنی حیات مستعار میں وہ کارہائے گرانقد ر انجام دیتے ہیں کہ زمانہ حیران و ششدر رہ جاتاہے ،انکے دم قدم سے قوم و ملت ترقی و بہبود کے نئے آ فاق سے آشنائی حاصل کرکے نہایت تیز گامی کے ساتھ منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ فرد واحد ایک جماعت کا روپ دھار لیتا ہے اور اسکے مقاصد کی تکمیل ہزاروں وابستگان و فیض یافتگان کا نصب العین اور مقصد زندگی بن جاتا ہے ۔
حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ و الرضوان انہیں اشخاص میں سے تھے جنکی زندگی اسلام و سنیت ، علم و عرفان، روحانیت و تصو ف کی ترویج و اشاعت، خدمت خلق، اصلاح امت، تہذیب نفوس اور تربیت علما و ائمہ کے لئے جہد مسلسل اور سعئ پیہم سے عبارت تھی ، ان کی نظر ہمیشہ اپنے متعین اور واضح ہدف پر رہتی تھی اس لئے حالات و مسائل اور مشکلات و معضلات کبھی بھی سد راہ نہ بن سکے، بلکہ انہیں کے بقول ع
ہر اک جفا نے مجھے تازہ حوصلہ بخشا
ہمارا عزم سد ا ہم کو تیز گام ملا
وہ ہر مشکل کو روندتے ، ہر پیچیدگی کو حل کرتے اور دشوار گزار گھاٹیوں سے گزر تے چلے گئے اوراس طرح ایک جہان کو اپنی خدمات و اصلاحات سے مستفیض و مستفید فرمادیا ، یوں تو آ پ کی خدمات کا دائرہ نہایت و سیع تھا اور وہ حیات انسانی کے تقریباً تما م شعبوں کو گھیرے ہوئے تھیں۔
لیکن میں اس وقت ورود قنوج کے بعد سب سے پہلی خدمت یعنی امامت و خطابت سے لے کر قیادت امت تک کے سفر اور تربیت علما و ائمہ کے روشن پہلووں کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گا ۔حضرت بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ( ۱۹۵۹۔۲۰۱۹ )،۱۹۸۴ میں قنوج تشریف لائے مختلف محلوں میں کام کی جگہ تلاش کرتےہوئے محلہ حمالی پورہ کی مسجد میں پہونچے، رمضان کا مہینہ تھا ایک صاحب جو
غیر متشرع تھے نماز پڑھا رہے تھے ، آپنے اہل محلہ سے کہاکہ نماز و تراویح میں پڑھا دوں گا اور نذرانہ آپ انہیں دے دینا لوگوں نے تسلیم کرلیا اس طرح آپ امامت بھی کرتے اہل محلہ کے بچوں کو پڑھاتے اور ساتھ میں نماز کی دعوت بھی د یتے رہے چند روز کے بعد امام صاحب نے آنا بند کردیا ، عید کے موقع پر کچھ نذرانہ پیش کیا گیا تو آ پ نے علم دین کی اہمیت و افادیت اور قوم کی زبوں حالی پر فکر انگیز خطاب فرمایا اور ایک مدرسہ قائم کرنے کا عندیہ ظاہر فرمایا اور اسکی ابتدا کرتے ہو ےٗ چند لوگوں کو منتخب کرکے اپنا نذرانہ بھی حوالے کردیا ، اس طرح تین یا چار لوگوں کی کمیٹی تشکیل دے کر گھر گھر چندہ شروع کر دیا ایک صاحب نے رہنے کے لئے ایک کمرہ دے دیا لیکن چندر وز کے بعد آپکے مخصوص شاگردو ں کو قیام قنوج کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ بھی آگئے ، آپنے کمرہ طلبہ کے حوالے کیا اور اپنی چارپائی درخت کے نیچے ڈال کر رات میں وہیں آرام کرنے لگے صبح سے دوپہرتک تعلیم و تدریس ہوتی اس کے بعد ایک دو طلبہ کو لے کر چندے کے لئے نکل جاتے شام کو کسی محلہ یا اطراف کے کسی گائوں میں تبلیغ بھی کرتے اور مدرسے کے تعاون کی اپیل بھی جو حاصل ہو تا اس پر شکر ادا کرتے ، اور ہر ایک معاون کی حوصلہ افزائی بھی، یہاں تک کہ پچیس پچاس پیسے دینے والوں کو بھی محبت سے نوازتے، اور دوسروں کو جوڑنے کی ترغیب دیتے تھوڑے ہی دنوں میں جو کچھ چندہ اکٹھا ہوا اس سے محلہ میں پڑی ہوئی ایک صاحب کی زمین کاسودا کرکے بیعانہ کی رقم ادا کردی، پھر اینٹ بھٹہ کے مالکان سے انیٹیں مانگی، تاکہ تعمیری کام شروع کیا جاسکے ۔ ایک صاحب نے کچھ اینٹیں محلہ کے باہر ڈلوا دیں،مزدوروں سے اٹھوانے کے لئے پیسے نہ تھے اس لئے دوپہر میں شدت دھوپ کے باوجود خود ہی اپنے سر پر اٹھا کر مدرسہ کی زمین تک لانے لگے، اہل محلہ اور طلبہ نے دیکھا تو تڑپ گئے اور آناً فاناً ساری اینٹیں وہاں سے اٹھاکرمیدان میں جمع کردیں ۔میٹیریل بھی مانگ کر حاصل کیا ، اب تعمیر کا مرحلہ تھا تو اسے اس طرح حل کیا کہ مستریوں کو ایک ایک دن مفت میں کام کرنے پر تیار کر لیا چونکہ پاس میں کچھ تھا نہیں اس لئے فجر کے بعد گارا وغیرہ بنا کر تیار کر دیتے پھر دوپہر تک پڑھا ئی ہوتی اس کے بعد مزدوروں کی طرح شام تک لگے رہتے ،اس طرح دو کمرے نئے تیار ہو گئے ۔ شہر کی خالی مساجد میں شاگردوں کو مفت میں مقرر کر دیا جنہیں دعوت و تبلیغ اور پبلک ڈیلنگ کے لئے برابر تاکید فرماتے رہتے ، گاہے بگاہے اہل محلہ سےحالات دریافت کرکے مناسب تنبیہ کرتے نیز اچھی کار کردگی پر حوصلہ افزائی بھی فرماتے،
بیان و خطابت کے لئےمفید موضوعات کی نشاندہی بھی کرتے اور انداز خطابت سے بھی آگاہ فرماتے، اس طرح بہت ہی جلد شہر اور اطراف میں مدرسے کی شہرت ہو گئی اور یہ کاروان شوق حیرت انگیز تیزی کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہوگیا ۔
تعلیم و تدریس، تصنیف و تالیف اور ذکر و فکر کے بعد جو بھی وقت بچتا اس میں لوگوں سے تعلقات استوار کرنے، ان کے دکھ درد میں شامل ہونے اور مثبت انداز میں عقائد اہل سنت میں پختگی پیدا کرنے میں مصروف رہتے، تضییع اوقات، تساہلی اور لیت ولعل کےابتدا ہی سے سخت مخالف رہے اور ہمیشہ دوسروں کو بھی وقت کی حفاظت اور اسکے صحیح استعمال پر ابھارتے رہتے، ہر دینی و سماجی کام میں بلا معاوضہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اعراس کی محفلوں میں پابندی کے ساتھ شریک ہوتے بالخصوص ربیع النور شریف کی محافل کا ہر محلے میں اہتمام فرماتے اور انہیں جلوس محمدیﷺ میں شرکت کے دینی اور دنیوی فوائدسے آگاہ کرتے ہر ایک سے اس طرح خندہ پیشانی سے ملتےکہ وہ سمجھتا کہ مجھ کو سب سے زیادہ چاہتے ہیں، لہٰذا جو ایک بار ملتا وہ انہیں کا ہو کر رہ جاتا، خصوصیت کے ساتھ کمزور اعتقا د و ایمان کے حامل بیچ کے طبقہ کے ساتھ تو لطف و کرم کا انداز دیدنی ہوتا، ہر طرح ان کی دل جوئی کرتے،مثبت انداز میں سنیت کی حقانیت و صداقت دلوں میں بٹھاتے، ملاقاتیوں اور دعا تعویذ کرانے والوں کی جیب خاص سے ضیافت کرتے، اگر کوئی قرآن خوانی اور میلاد کی محفل کرتا تو اسے تکلفات سے بچنے کی تاکید کرتے اور طلبہ کے ساتھ خود بھی تشریف لے جاتے،لوگوں کو جمع کرتے اور میلاد پاک کی اہمیت و افادیت کے ساتھ آقا علیہ السلام کے فضائل و مناقب بڑے حسین پیرائے میں بیان فرماتے جبکہ ان محفلوں میں نذرانہ تو در کنار کھانا بھی نہ ملتا لیکن کبھی کوئی شکوہ و شکایت نہ کرتے، حتی الامکان ہر سنی کے جنازےاور تدفین میں شرکت کرتے، فاتحہ اور ایصال ثواب کی محفلوں میں ضرور جاتے،اپنی ذات کے لئے کبھی اشارہ کنایہ میں بھی کسی سے کچھ نہ طلب کرتے ، ہمیشہ وضعداری کا خود بھی خیال رکھتے اور اپنے تلامذہ و مریدین کو بھی اس کی تاکید فرماتے یہاں تک کہ طلبہ کو جرم کی سزا بھی تنہائی میں دیتے، علما و طلبہ اور مدرسے کے دیگر داخلی معاملات کبھی عوام کے سامنے نہ آنے دیتے، طلبہ کی ناشائستہ حرکتوں بلکہ ان کی چال ڈھال پر ہر وقت تنبیہ کرتے، اتباع سنت پر بہت زور دیتے، حتیٰ کہ ننگے سر استنجا کرنے پر بھی سرزنش کرتے، ترک نماز وغیرہ کبھی برداشت نہ کرتے، کھانے پینےمیں رعایت سنت کا حکم دیتے
اس طرح آپ نے دس سال سے کم عرصہ میں قنوج کی اسی فی صد مساجد میں اہل سنت ائمہ متعین کردئے، جب کہ آپ کی آمد کے وقت ایک بھی مسجد میں کوئی سنی صحیح العقیدہ امام نہ تھا۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی اخلاص پر مبنی عوام و خواص کے تئیں ان خدمات؛ اخلاق و محبت؛ حکمت و موعظت؛ انکے دکھ درد اور خوشی و مسرت کے مواقع پر بلا غرض شرکت وغیرہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل قنوج نے بالاتفاق آپ کی سیادت و قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے مفتی و قاضی شرع بنا دیا ۔
اس طرح چشم فلک نے یہ حیرتناک منظر دیکھا کہ وہ مرد قلندر جس نے اپنا دعوتی و اصلاحی سفر ایک چھوٹی سی مسجد کی امامت سے شروع کیا تھا کس طرح چند سالوں کے مختصر ترین عرصے میں مرجع خلائق اور مرکز عقیدت بن گیا اور نہایت بے سرو سامانی کے باوجود امام ربانی اور مرشد لا ثانی کے فیض و کرم سے اسی شہر میں ایک عظیم دانشگاہ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کو پروان چڑھا دیا، واقعی سچ ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں