مواد پر جائیں

باب ۳ از ۶۵صفحات ۴۲–۴۶

عرض حال (جاری)

ہیں اتنی رقم کی زمین قنوج میں جامعہ کے واسطے خرید دیں، اور وہیں اپنی قبر بنوا لیں گے ، چنانچہ وہ تشریف لائے اور اپنے فرزند ہلا ل کو بھی بغرض حفظ قرآن داخلہ کے لئے لائے ، ہم لوگ مسرت سے جھوم اٹھے، مشکور خاں چالیس ہزار وپئے مانگ رہے تھے، حاجی صاحب نے کہا اتنی رقم ہم ادا کردیں گے مگر ہمارے دل میں خیال آیا کہ چونکہ اس زمین میں کہیں کسی طرف سے اضافہ کی گنجائش نہیں ، جانب مشرق قبرستان ہے، اس لئے جناب حاجی یٰس صاحب سےگفتگو کی ، قبرستان کے بعد جانب مشرق انکے کھیت تھے، وہ اور انکے برادران تیار نہ ہوئے تو ہم لوگوں نے جناب حاجی عبد اللطیف صاحب ساکن محلہ شیخ پورہ سے رجوع کیا ، انکے مزاج میں آغاز ہی سے ہمدردی تھی، ہماری بات پر بخوشی تیار ہو گئے ، ہم نے کہا ہم آپ کو صرف پچاس ہزار روپئے وہ بھی مختلف قسطوں میں دے سکیں گے ، انہوں نے اف نہ کیا ، اور پوری زمین دے دی ، انکی قربانی دیکھ کر ہم نے ہی دکھن جانب پور ب سے پچھم تک کچھ آراضی چھوڑ دی، آج وہ آراضی کئی لاکھ روپئے کی ہے ،اس آراضی کے اتر جانب کافی کھیت تھے ، بڑھنے کی گنجائش تھی، چنانچہ ایسا ہی ہوا اس کےبعد جناب عبد المجید خاں صاحب کا چھیالس ڈسمل کا کھیت تھا وہ لے لیا ،ہم لوگوں نے کہا کہ ہم صرف بیس ہزار روپئے دے سکیں گے ، انہوں نے کہا کہ آپ صرف اٹھارہ ہزار روپئے دینا ، یہ ساری آراضی جہاں آج وارثی پبلک اسکول قائم ہے انہیں کے کھیت تھے،مگر وہ ہماری آمد سے قبل کچھ حاجی یامین صاحب اور کچھ غیر مسلموں کے ہاتھ بیچ چکے تھے ، وہ خود پچھتاتے تھےکہ اگرپہلے آپ سے رابطہ ہوا ہوتا تو یہ سب کھیت جامعہ کو دے دیتے، پھر اس سے متصل جانب مشرق تقریباً ایک ایکڑ آراضی محلہ شیخانہ کے عاشق صاحب سے خریدی ، ا س کے انتظام میں بڑی دشواری پیش آئی ، چونکہ ایک لاکھ چالس ہزار کھیت کی رقم دینا تھی پھر رجسٹری فیس، اس میں جناب اشرف صاحب و جناب اخترعلی صاحب وارثی وغیرہ نے بڑ ی مدد کی ، کچھ احباب پانچ پانچ ہزار روپئے دینے کو تیار ہوگئے ،اس طرح اسکی رجسٹری ہوئی ، پھر جمال ماسٹر نے اور ایک غیر مسلم سے انکے کھیت خریدے، جناب حاجی یامین صاحب کی اس سے متصل ایک ۱۵؍ ڈسمل کی پٹی تھی ، انہوں نے اس شرط پر ہبہ کردی کہ اس میں مسجد بنے ،چنانچہ مسجد طیبہ آج وہیں تعمیر ہے ، کچھ حصہ دوسری زمین کا بھی مسجد میں شامل ہے ، پھر جناب حاجی غلام صابر صاحب ساکن دلیل پوروہ کانپور جنہوں نے کئی اعتبار سے ہمارے جامعہ کے لیے بہت قربانیاں دیں،(مولائے کریم انہیں غریق رحمت کرے )کے توسط سے مشکور خاں صاحب والی۲۵؍ ڈسمل زمین خریدی ، اسکے بعد پھر دو ٹکڑے ایک بارہ ڈسمل ، ایک چار ڈ

ڈسمل خریدی جس میں آج مطبخ ہے ۔

آغاز سے اب تک ہمارے ساتھ عجب معاملہ یہ رہا کہ بظاہر ہمیشہ ہاتھ خالی رہے تنخواہوں اور مطبخ کی کافی پریشانیاں رہیں مگر غیب سے ایسا انتظام ہوتا رہا کہ زمینیں بھی خریدتے رہے اور عمارتیں بھی بنتی رہیں ، اور طلباء و مدرسین کا اضافہ بھی ہوتا رہا ، تنخواہیں اور طلباء کے اخراجات بھی پورے ہوتے رہے آغاز میں چند ڈسمل کے لئے پریشان تھے اب رفتہ رفتہ کافی وسیع کئی ایکڑ زمین ہو گئی ، مگر دل کو صبر پھر بھی نہیں تھا ، احباب باربار ٹوکتے کیوں اپنے کو مصیبت میں مبتلا کرتے ہو، اب زمین کی خریداری کا ارادہ ترک کردیا تھا اور سمجھتے تھے کہ بہت ہو گئی ہے اتنے میں بہت بڑا جامعہ بن جائے گا ، مگر قدر ت کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔ جناب الیاس خاں صاحب ساکن شیخانہ اور انکے بھائیوں وغیرہ کی تقریبا ً آٹھ بیگھہ آراضی نئی سڑک پر تھی وہ بار بار کہتے تھے کہ لے لو، ہم انکار نہ کر پاتے تھے ، مگر زمین انکی سڑک سے کافی دور جانب جنوب تھی سوچتے تھے کہ ہم اسکو کیا کریں گے اور ہمارے کس مصرف کی ہے ، مگر وہ لے لی ۔عالی جناب فاروق صاحب کی دور اندیشی کہ آگے چل کر بہت کام آئے گی ، اب فکر پیدا ہوئی کہ سڑک تک کر لی جائے چنانچہ رفتہ رفتہ ایسے اسباب بنے ،تقریباًپچاس بیگھہ (دس ایکڑ) زمین ہوگئی ،اس میں کچھ زمین جناب شکیل احمد صاحب و سجاد صاحب وغیرہ نے مفت میں بطور چندہ دے دی اور کچھ سستی خرید لی، جناب محمد فاروق صاحب کا خاص تعاون رہا آج وہ زمین اس قدر قیمتی ہو گئی ہے ، کہ جامعہ کا عظیم سرمایہ ہے ، اس وقت تقریبا ً ۱۳۔ ۱۴ ایکڑ زمین جامعہ کے پاس بہت قیمتی ہے ، جو بہت کم اداروں کے پاس ہو گی۔ فالحمد للہ رب العلمین ۔

مختصر یہ کہ پروردگار جل و علا کا جو کرم و احسان ہمارے شامل رہا اور جو غایت رحمت ہماری دستگیری کرتی رہی ، ہماری زبان اسکے بیان سے قاصر اور اسکے شکر سے عاجز ہے ۔ ہم کیسا جامعہ چاہتے تھے ، اور چاہتے ہیں اس کو ہم مختلف تحریروں میں بیان کر چکے ۔ آغاز میں ہمارے ذہن میں بھی یہ وسعت نہ تھی اور نہ اس قدر کام کی ضرورتیں ، اور نہ تجربات ،چونکہ گورکھپور کی زندگی ایک محدود زندگی تھی ، تدریس کا شوق تھا اور تصنیف و تالیف کا، وہابیت و تبلیغیت کے مقابلے میں کا م کا احساس بہت پہلے سے تھا ، تدریس و مطالعہ سے جو وقت بچتا تھا وہ تصنیف و تالیف میں صرف ہوتا تھا ، زمانہ طالب علمی میں درس نظامی میں رائج کتب کی اردو شروحات دیوبندیوں کی دیکھتے تھے تو دل کڑھتا تھا ،اسی وقت سے عزم تھا کہ مالک حقیقی جل وعلا توفیق دیگا تو تمام کتب کی شروح اردو زبان میں تحریر کردوں گا، چنانچہ فراغت کے بعد کچھوچھہ شریف برائے تدریس

پہنچا تو پہلے ہی سال میزان و منشعب کی اردو شرح لکھ ڈالی ، پھر علم الصیغہ کی شروع کی ، مگر کچھ لکھ پائےکہ کام بند ہوگیا پھر اصول الشاشی کی لکھی ، پھر گورکھپور آکرملاحسن کی لکھی۔

یہ بھی اس رب تعالیٰ کا خاص احسان رہا کہ وقت کی اضاعت سے ہمیشہ پرہیز کیا، زمانہ تحصیل میں چھٹیوں میں گھر آتا تب بھی اکثر وقت مطالعہ کتب میں ہی بسر ہوتا اور جب تصنیف کا کام شروع کیا تو گھر آکر بھی اسی کام میں لگارہتا تھا ،تدریس کے ابتدائی سالوں میں ہر کتاب کا مطالعہ کرتاتب پڑھاتا اور اردو شروحات دیکھنے سے پرہیز کرتا تھا کافی محنت کرتا تھا مگر عنایت الٰہی سے کتاب بہت جلد حل ہو جاتی، طلبا بہت مطمئن رہتے، خارجی کتب کابھی بہت مطالعہ کرتا یہ بھی اسکا کرم تھا اس وقت کی محنت بعد میں بہت کام آئی کیونکہ جب جامعہ کی بنا ڈالی تو اب چندہ کی فراہمی اور مسلک کا تحفظ اور اسکی نشر و اشاعت کی خاطر ہر دم بھاگ دوڑ نے ہمیں اس قدر مصروف کر دیا کہ اب مطالعہ کا وقت بہت کم ملتا، مگر تدریس کا کام نہایت ذمہ داری سے کرتا رہا،جو غربت میں بہت کام آئی ورنہ اپنی جگہ مدرس رکھنے کے اخراجات پورا کرنا مشکل ہو جاتا، نیز ان کے ناز نخرے جھیلنا بھی کیا کم دشوار کام تھا،جن لوگوں نے بھی غربت اور بے سرو سامانی کی حالت میں کوئی ادارہ قائم کیا اور اسے کامیاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کی وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس قدر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بہر حال یہ رب تعالیٰ کا خاص کرم اور ہمارے مرشدوں کا فیضان تھا کہ ہر مشکل آسان ہوتی چلی گئی اور دن بدن کاموں میں اضافہ اور وسعت ہوتی رہی آج بحمدہ تعالیٰ جامعہ کو ایک مقام حاصل ہو چکا ہے ۔

مختصر یہ کہ مجھ جیسے ناکارہ اور خطا کار انسان کورب جل وعلا نے مسلسل مخصوص انعامات سے نوازا انہیں زبان اور قلم بیان نہیں کر سکتے ہیں، اچھے حسب و نسب میں پیدا فرمایا، سنی مسلمان بنایا علم و عمل، عقل و فھم، ذکاوت و فطانت وغیرہ اوصاف عالیہ سے ایک خاص حصہ عطا فرمایا، اچھے اہل و عیال عطا فرمائے جو ہمارے دینی کاموں میں بہت مددگار ثابت ہوئے، میرے اہل و عیال کو سیرت و صورت دونوں میں اچھا بنایا میری بچیاں خدمت دین کے لئے جس قدر کار آمد ہوئیں، پروردگار جل و علا ہر مؤمن کو عطا فرمائے ،میرے برادر عزیز مولانا اخلاق احمد بھی میرے بہت کام آئے ۔

پھر کرم بالائے کرم یہ ہوا کہ اس پر فتن دور میں ایک ولی کامل کی خدمت و فیض رساصحبت عطا فرمائی، اور میں سمجھتا ہوں کہ جنکے دامن سے وابستہ ہونے کے بعد ہی میری اصل زندگی شروع ہوئی، آپ

نے مختلف مواقع پر اس علم و عمل کے مفلس کومختلف بشارتوں سے نوازا ، آغاز حال میں ہی بعض احباب سے فرمایا کہ مولانا کی طر ح میرے مریدوں میں کوئی نہیں ۔

میں جب چھپیابازار میں تھا غالباً وہ پہلا ہی سال تھا تو میں نے حضرت سے اپنی بعض کوتاہیاں بیان کیں، مجھے اپنی کیفیات دیکھ کر احساس ہوتا تھا ، کہ اکتساب فیض میں ، میں سب سے پیچھے ہوں کیوں کہ میرے بعض پیر بھائی مراقبات وغیرہ میں جو دیکھ لیتے ہیں وہ میں نہیں دیکھ پاتا ہوں، فرمایا: تمہاری مثل اس شخص کی طرح ہے جو ایکس پریس گاڑی میں بیٹھا ہے، کھڑکیاں بند ہیں ، نہایت تیز رفتار گاڑی جو ہر اسٹیشن پر رکتی بھی نہیں ہے، منزل کی طرف رواں دوا ں ہے ، اور دوسروں کی مثل اس سواری گاڑی کی طرح ہے جس کی رفتار بھی سست ہے، وہ ہر اسٹیشن پر رکتی ہوئی جاتی ہے ، لوگ اترتے ہیں، اسٹیشن کا منظر دیکھتے ہوئے دھیرےدھیرےجارہے ہیں۔

ایک بار بمقام سویاضلع چمپارن میں حسن امام بھائی کے یہاں غالباً الٰہی دین بھائی رحمۃ اللہ علیہ بھی ساتھ تھے اور منصور بھائی بھی، بعد نمازمغرب مراقبے سے فراغت کے بعد میں نے عرض کیا، کہ حضور فیضان کا زیادہ احساس نہیں ہوتا ہے ، فرمایا دریا پی جاتے ہو، پھر بھی پتہ نہیں چلتا ہےنیز اسی موقع پر فرمایا: مجھ میں اور تم میں وہی نسبت ہے جو خواجہ باقی باللہ اورمجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہما میں تھی۔اسی طرح ایک بار فرمایا کہ تمہیں مجددی لکھنے کا حق ہے ،ایک بار بمقام پڈرونہ ایک چلے [جلسے] میں یاد فرمایا تو ایک پوری منقبت ہمارے لیے لکھ دی ، کئی منقبتوں میں مجھ گنہ گار سے متعلق ایسے اشعار قلمبند فرمائےکہ مجھے سن کر شرم آرہی تھی، ایک بار بغرض ملاقات پڈرونہ حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ آپ ایک گائوں میں تشریف رکھتے ہیں ،میں مغرب کے بعد پہنچ گیا، میلاد شریف کا پروگرام تھا، معین بھائی بیان کر رہے تھے میں تنہا خدمت میں حاضر تھا’’ آپ رونے لگے اور سلسلہ کے کام کے تعلق سے بشارتیں دینے لگے اور فرمانے لگے کہ قیامت میں خدا وند قدوس کی بارگاہ میں عرض کروں گا کہ میں تو کوئی عمل کی پونجی لے کر نہیں آیاہوں، مگر سلسلہ کے ذریعہ دین کا کام کر کے آیا ہوں ‘‘ میں اس وقت کی کیفیت اور انداز بیان نہیں کر سکتاکہ وہ سماں کیسا تھا۔

ایک بار کٹیسر در دولت پر حاضر ہوا، معین بھائی ساتھ تھے [سلسلہ کی اشاعت کی بات چل رہی تھی] تو آپ نے میری طرف مخاطب ہو کر بڑے جوش میں فرمایا ’’اگر تم نے سلسلہ کی اشاعت کا اچھا کام کر لیا تو قیامت کے دن حضرت مجدد کے بعد تمہارا ہی سر اونچا ہوگا ‘‘ اس سال ۱۴۲۶ھ بموقع عرس سیوان ۲۷ صفر کو

حضرت قطب الاقطاب مولانا سید ابو الخیرات صاحب قدس سرہ کے قل کے بعد مزار پر ہی لوگ مصافحہ کر رہے تھے، میں پنکھا جھلنے کی خدمت انجام دے رہا تھا، اس کے بعد آپ مولانا محمد نایاب صاحب کے سر پر عمامہ شریف باندھنے لگے اور میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ مولانا کہہ رہے ہیں کہ ایک بار آپ باندھ دیں تو پھر میں برابر باندھتا رہوں گا حضور مرشدی دام ظلہ العالی خود اپنے سر پر اور دوسروں کے سر پر بہت خوبصورت عمامہ باندھتے ہیں میں نے آہستہ سے کہا اب تو مٹھائی کھلائیے گا، بعض احباب و مریدین بھی میرے بغل میں کھڑے تھے، حضرت کے کانوں میں میری آواز ہلکی سی پڑ گئی، فرمایا کیا ہے؟ بعض احباب نے عرض کیا کہ مولانا سے مٹھائی کھانے کے لئے کہہ رہے ہیں ’’فرمایا کہ مولانا آفاق خود مٹھائی ہیں بلکہ مٹھائی ترسے گی کہ یہ منہ لگا لیں ‘‘پھر فرمایا کہ ’’میں اگر مفتی اور محقق ہوتا تو فتویٰ دیتا کہ یہ مجدد ہیں، بس سمجھ لو ‘‘احباب دنگ رہ گئے، اس کے علاوہ مختلف مواقع پر بہت کچھ تعریفی کلمات ارشاد فرماتے رہتے ہیں یہ سب انکا کرم خاص اور نوازش ہے ورنہ میں ایک جاہل دیہاتی انسان کس کام کا؟ بہر حال میرے پاس زبان نہیں کہ میں اس مالک حقیقی کے بے شمار احسانات میں سے کسی ایک احسان کا بھی شکریہ ادا کر سکوںاور نہ اپنے مرشد کریم کی نوازشات کے لئے شکر کی طاقت ہے، حضور مرشدی دام ظلہ العالی کے علاوہ بھی بعض بزرگوں نے بڑی بڑی بشارتیں فرمائیں خاص کر سرکار مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ نے خوابوں میں متعدد بار زیارت سے مشرف فرمایا ور بشارتوں سے نوازا ۔

یہ بھی اس پرورگار جل و علا کا خاص کرم رہا کہ زمانہ طالبعلمی سے مجاذیب سے تعلق رہا اور بعض مجاذیب نے میرے لیے بڑے تحسینی کلمات فرمائے، بعض علم رمل جاننے والوں سے ملاقات کا اتفاق ہوا انہوں نے جب ہمارا زائچہ بنایا تو حیرت میں ڈوب گئے، یہ سب کچھ اس رب کائنات کا خاص فضل ہے ورنہ مجھ میں کوئی ہنر نہیں، مجھے ہر وقت یہ خوف دامنگیر رہتا ہے کہ اس قدر احسانات کے مقابل میری طرف سے ناشکری اور غفلت اور نافرمانی اور خطاکاری کہیں ہمارے لئے بڑا وبال ثابت نہ ہو، بس اسی ستار و غفار جل و علا سے عرض ہے کہ میری خطاؤں کو معاف کر دے اور میری پردہ پوشی فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

آفاق احمد مجددی

۱۰؍ذیقعدہ ۱۴۲۵ھ ۲۳؍دسمبر۲۰۰۴ء