باب ۳۲ از ۶۵صفحات ۲۲۹–۲۳۱
بحر العرفان کی اصلاحی خدمات
مولانا سفیر مصباحی٭
بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی ،اکیسویں صدی عیسوی کی اس انقلاب آفریں شخصیت کا نام ہے جنھوں نے ہندوستان میں اصلاح امت اور احیاے شریعت کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔عقائد واعمال کی اصلاح،فرق باطلہ کے خلاف جہاد،وعظ وخطابت کے ذریعے عوام وخواص کی پابندی صوم وصلات کی تاکید اورخصوصا علماے دنیا کی اصلاح کرکے ایک جہان کو آپ نے مستفید اور باریاب فرمایا۔اگر بحرالعرفان کی اصلاحی خدمات کے تمام تر گوشوں کا جائزہ لیا جائے تو کئی دفاتر بھی نہ کافی ثابت ہوں گے۔
ذیل میں صرف کچھ اہم خدمات کے مختصر خاکے پیش کیے جار ہے ہیں:
تعلیمی میدان میں اصلاحات:
حضور بحر العرفان نے عارفان حق کی آماج گاہ شہرقنوج میں ایک مسجد کی امامت وخطابت سے اپنے ہمہ گیر دعوتی و اصلاحی مشن کا آغاز فرمایا اور بہت ہی قلیل عرصہ میں دین و دانش اور دعوت و ارشاد کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔جس وقت بحر العرفان نے شہر کنوج کو اپنی ہمہ گیر خدمات کا محور بنایا اس وقت اس کی تعلیمی صورت حال یہ تھی کہ پورے شہر قنوج میں اہل سنت وجماعت کا کوئی معتبر تعلیمی ادارہ نہیں تھا۔ کچھ ہی دنو ں میں آپ نے الجامعۃ الاحمدیہ کے نام سے ایک مدرسہ کی بنا ڈالی، جس کے سنگ بنیاد کی رسم آپ کے پیر مرشد حضور عارف باللہ شیخ احمد رضا خان مجددی کے ہاتھوں بتاریخ ۱۴؍رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ مطابق ۱۹۸۵ء عمل میں آئی ۔بفضلہ تعالیٰ آپ کے مساعی جمیلہ سے آج یہ ادارہ ۱۳؍ایکڑ سے زائد خطۂ اراضی میں واقع ہے، جہاں ۳۰۰؍ سے زائد طالبان علوم نبویہ علمی سیرابی حاصل کر رہے ہیں۔
آپ نے قوم کی بیٹیوں کو زیر تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے سن ۲۰۰۰ء میں جامعۃ المحصنات للبنات قائم فرمایا ،جہاں تقریبا ۶۰۰؍طالبہ زیر تعلیم ہیں۔ان کے علاوہ وارثی پبلک اسکول اور سر ہند پبلک نامی دو عظیم عصری ادارے بھی قائم کیے، آج جو بحر العرفان کی کوششوں سے شہر قنوج دینی و
عصری تعلیم کاحسین مرقع بنا ہوا ہے۔
وعظ و خطابت کے ذریعہ اصلاح عقائد واعمال:
خداے ذوالجلال نے آپ کو وعظ وخطابت کے ملکہ فرواں سے نوازا تھا۔آپ کے وعظوں میں تصوف و روحانیت غالب تھی۔آپ کی خطابت کا محور زیادہ تراصلاح اعمال ہی ہوا کرتا تھا۔آپ اپنی تقریروں کے ذریعہ لوگوں کو ان کی دینی و معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ۔جاہلانہ رسم ورواج کے سخت خلاف تھے۔تقریر میں آپ حور و قصور کے قصے بیان کر نے کی بجائے دعوت عمل دیتے تھے۔آپ صاف گو اور نرم گفتار ہونے کے ساتھ ساتھ شیریں زباں بھی تھے۔آپ کی زبان میں بلا کی تاثیر تھی۔جب آپ حاضرین کو وعظ فرماتے تو ایک ایک کلمہ سامعین کے دلوں میں آب حیات کا کام کرتا تھا۔آپ مختلف مذہبی جلسوں،کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت فرماتے تھے۔جن کا ریکارڈ آج بھی یوٹیوب پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
ان کے علاوہ آپ وعظ و نصیحت ،ذکر واذکار اور کشف ومراقبہ کی محفلیں بھی منعقد کرتے تھے۔یہ چھوٹی چھوٹی محفلیں بہت ہی تاثیر کن ہو اکرتی تھیں۔جہاں آپ کی توجہات سے نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو زندگی ملی ،کتنے ذاکرین سے واصلین کی منزل پر فائز ہوئے اور کتنے ہی تہی دامن دولت عرفان سے با مراد ہوئے۔
علماے دنیا کی اصلاح:
آپ کی نظر میں معاشرے کی بگاڑ کے ذمہ دار علما اور قائدین ہیں؛ اس لیے جہاں آپ نے عوام کی اصلاح کی کوششیں کیں، وہیں علما کو بھی ان کی کوتاہیوں اور خرابیوں پر تنبیہ کی ہے۔خاص طور سے ڈھونگی پیروں کو ان کے غلط انداز دعوت و تبلیغ سے سختی سے روکا ۔آپ لوگو ں کو محض بشارتیں سنا کر خوش کرنے کے قائل نہیں تھے بلکہ آپ کا نظریہ یہ تھا کہ محض بشارتوں پر تکیہ اور بھروسہ نہیں رکھنا چاہیے۔یہ فضل و رحمت ہے جس کو بھی نصیب ہوجائے۔قانون جدا چیز ہے اور شریعت کا مزاج جدا ہے۔اطاعت پر ثواب اور معاصی پر عقاب جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔شریعت نے ترغیب و ترہیب اور تبشیر و تنذیر دونوں سے کام لیا ہے اور ترغیب کی بنیاد بھی اعمال پر رکھی ہے کہ یہ عمل کروگے تو یہ ثواب ہے ۔مفت کی بشارتیں نہیں دی ہیں کہ تم کچھ بھی نہ کرو اور تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔
آپ غریبوں ،یتیموں ،مسکینوں اور پریشان حال لوگوں کے درد کا مداوا بھی کرتے تھے۔غربا پروری کا وصف آپ کی شخصیت میں نمایاں طور پر محسوس ہوتا تھا۔آپ سماج میں پھیلے ہوئے غیر اسلامی رسم و رواج کے سخت خلاف تھے۔آپ نے اپنی مخلص کوششوں سے اس پر بند باندھنے کی مکمل جد جہد کی اور اس میں کامیا ب بھی ہوئے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ نے شادیوںمیں بیجا اسراف کو روکنے کے لیے ۲۰۱۰ء سے اجتماعی شادی کا سلسلہ جاری کیا ،جو آج بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ بخوبی انجام دیا جاتاہے۔
تحریر و تصنیف کے ذریعے اصلاحات:
حضور بحر العرفان قدس سرہ نے بے پناہ مصروفیات اور مشاغل کے با وجود مخلتف موضوعات پر تصنیف و تالیف کا ایک گراں قدر ذخیرہ ورثہ میں چھوڑا ہے ۔جو قوم مسلم کی اصلاح اعمال اور تربیت نفس کے لیے بے حد مفید ہے اور جس کا فیضان قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
آپ کی تمام تصنیفات میں ایک عنصر مشترک ہے اور وہ ہے اصلاح وتربیت نفس۔اگر کوئی شخص نفسانی امراض سے پاک و صاف ہونا اور اخلاقی اقدار سے آراستہ ہونا چاہے تو بحرالعرفان کی کتابوں کا ضرور مطالعہ کرے ۔ خاص طور سے تصوف اور اس کے فوائد جس میں آپ نے ایمان توکل ،خوف خشیت،تضرع و زاری اور اخلاص کے اسرار ورموز وا کیے ہیں۔ہوائے نفس اور مکائد شیطان سے بچنے کے نسخے بتائے ہیں، بغض، حسد، کینہ، تکبر و خود پسندی اور ریاکاری جیسے اوصاف رذیلہ سے دور رہنے کی سخت تاکید کی ہے اورمجاہدۂ نفس اور اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کے طریقے بیان کیے ہیں۔
ان کے علاوہ آپ کی تصنیفات میں کمالات نماز،اصلاح والفلاح ،اشغال طریقت،سلسلہ نقشبندیہ اوراس کا سلوک بھی شامل ہیں۔
آپ نے اپنی کتاب کمالات نماز کے مقدمے میں یہ پرزور نصیحت کی ہے: میں اپنے احباب ومتعلقین اور مریدین منتسبین کو سخت وصیت کرتا ہوں کے جب تک ہوش ہے اور حیات ہے کسی بھی حال میں نماز نہ چھوڑیں۔‘‘
ہم سب کو حضور بحر العرفان کا احسان مند اور منت کش رہنا چاہیے کہ انہوں نے امت مسلمہ کی اصلاح کے لیے غیر معمولی جد جہد کی اور احیاے دین و سنیت کا عظیم فریضہ انجام دیا۔
٭مخدوم اشرف مشن ،پنڈوہ شریف ، مالدہ (بنگال)