مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتحضرت بحر العرفان ایک جامع اوصاف شخصیت

باب ۲۴ از ۶۵صفحات ۱۷۲–۱۸۱

حضرت بحر العرفان ایک جامع اوصاف شخصیت

مولانا تنظیف احمد رضوی مصباحی٭

ایک بار ایک خدا رسیدہ مرشد نے اپنے ہونہار و باکمال مرید کے تعلق سے کہا تھا۔

میری نگاہ محبت کا انتخاب ہو تم

چمن میں پھول بہت ہیں مگر گلاب ہو تم

یہ خدا رسیدہ مرشد عارف باللہ حضرت مولانا شاہ احمد رضا نقشبندی اور باکمال مرید بحرالعرفان حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت بحر العرفان گلستان مرشد کے بے شمار پھولوں میں گل سرسبز کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ بیک وقت ایک عظیم عالم ایک مشاق مفتی ایک باکمال صوفی ایک شفیق استاذ ایک پر اثر خطیب ایک خدا رسیدہ مرشد ایک عظیم جامعہ کے بانی ایک باوقار شیخ الحدیث اور نہ جانے کتنی خوبیوں کے جامع تھے۔ فقیر راقم الحروف سن 1993 میں الجامعۃ احمدیہ قنوج میں تدریس کے لیے حاضر ہوا۔اس وقت میری عمر 21 سال اور حضرت کی عمر شریف 34 سال تھی۔ یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ حسن صورت اور حسن اخلاق کے پیکر پر وقار چہرہ سنجیدہ عالمانہ گفتگو یوں کہ بات کریں تو پھول جھڑیں خوف خدا اور عشق رسول سے لبریز سینہ ذکر اللہ میں مصروف زبان۔میں پہلی ہی ملاقات سے ایسا متاثر ہوا کہ کھنچتا چلا گیا۔ میں نے 13 سال حضرت کی ماتحتی میں مدرس کے فرائض کو انجام دیا۔ حضرت کے شب و روز دیکھے ان کی خلوت و جلوت ملاحظہ کی اسفار میں رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔ میری نظر میں باالیقیں وہ ان شخصیتوں میں سے ایک تھے جو زمین پر اللہ کی رحمت بنکر نازل ہوئیں اور ان شاء اللہ ان کا فیضان تا قیامت جاری رہے گا۔ حضرت بحر العرفان کے تمام اوصاف حمیدہ کا احاطہ کرنا میری وسعت میں نہیں البتہ ان کی چند خوبیاں جو میرے گوشئہ ذہن میں گردش کر رہی ہیں سپرد قرطاس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں وما توفیقی الا با اللہ۔

درسیات میں مہارت:

درس نظامی میں رائج تقریبا ہر فن کی ہر کتاب پڑھانے پر عبور حاصل تھا۔ مختصر اور سادہ لب و لہجہ

میں سبق کے تمام گوشوں کو ذہن نشین کردینا حضرت کی تدریس کا طرہ امتیاز تھا۔ بخاری شریف کا درس تقریبا 30 سال سے آخری دم تک جاری رہا اور سال میں اسکی دونوں جلدیں پوری کردیتے ۔ بخاری شریف کا خاص اہتمام فرماتے ہمیشہ باوضو رہکر اپنے اور طلبہ کے خوشبو لگاکر نہایت ادب و احترام سے حدیث رسول کا درس دیا کرتے تھے۔

زور خطابت:

ملک کے طول و عرض میں ہزاروں چھوٹے بڑے جلسوں میں تقریریں فرمائیں۔ فرزندانِ توحید کے عقیدہ و عمل کی اصلاح کرنا آپ کی گفتگو کا خاص عنصر ہوتاانداز بیان سادہ اور دلنشیں تھا۔تصوف کے رموز و اسرار اور احوال صوفیاء کے تعلق سے مخصوص محفلیں ہوتیں۔ کبھی کبھی فرقہائے باطلہ کا رد کرتے ہوئے آپکا جوش و جذبہ قابل دیدنی ہوتا اور کبھی بڑی قیمتی باتیں لطیف نکات سادہ لب و لہجہ میں کہ جاتے جس سے سامعین بہت محظوظ ہوتے ۔

تصنیف و تالیف:

بےشمار مصروفیات کے باوجود مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تقریباً 60 کتابیں حضرت علیہ الرحمہ کی قلمی یادگار ہیں جن میں اکثر تصوف اور صوفیاء کرام کے احوال مشتمل ہیں۔

عبادت و ریاضت:

پنج وقتہ نماز با جماعت تکبیر اولی کے ساتھ مسجد میں ادا فرماتے اکثر و بیشتر حالت سفر میں بھی جماعت کا اہتمام کرتے۔ میں نے کبھی آپ کو عصر اور عشاء کی سنت قبلیہ ترک کرتے نہیں دیکھا۔ علاوہ ازیں نماز تہجد کی مداومت فرماتے۔ بعد مغرب اوابین کی چھ رکعات اور کبھی بیس رکعات پڑھتے۔ بعد فجر مراقبہ اور دیگر ذکر و اوراد سے فارغ ہو کر چاشت اور اشراق کے نوافل بھی پابندی سے پڑھتے۔ حیرت تو یہ ہے کہ حالت سفر میں بھی اکثر و بیشتر معمولات میں کوئی فرق نہیں آتا۔

تحفظ اوقات:

وقت کو ضائع کرنا ہمارے حضرت بہت بڑا جرم جانتے ۔فرماتے کہ وقت بھی اللہ کی نعمت ہے۔ اس کا حساب دینا ہے لہذا اس کی قدر کرو۔جن لوگوں نے آپ کے شب و روز دیکھے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں

کہ آپکا کوئی لمحہ بھی مشغولیت سے خالی نہ ہوتا بلکہ حالت سفر میں کبھی کتب بینی تصنیف و تالیف اور اوراد و وظائف کا شغل جاری رہتا۔ جب علماء و ائمہ سے ملاقات ہوتی تو اسلام و سنیت کی ترویج اور باطل کی سرکوبی کے تعلق سے مشاورت یا تلقین فرماتے اور جب عوام سے ملتے تو ان میں دینی رنگ پیدا کرنے والی گفتگو فرماتے اور لغو و لایعنی باتوں سے اجتناب فرماتے۔

خوش اخلاقی اور ملنساری:

اخلاق حسنہ سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سب سے اہم حصہ اور ایمان کامل کا جزو لاینفک ہے۔ بد اخلاق انسان بزرگ تو کجا صحیح مسلمان بھی نہیں ہو سکتا۔ مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔

طریقت بجز خدمت خلق نیست

بتسبیح و سجادہ دلق نیست

جن لوگوں کو حضرت بحر العرفان سے شرف ملاقات حاصل ہے وہ بخوبی جانتے اور کہتے ہیں کہ حضرت جیسا خلیق انسان نہیں دیکھا۔ حتی المقدور سلام کرنے میں سبقت کرتے۔ مسکراکر سلام کا جواب دیتے۔ پرتپاک طریقے سے ملنے والے کا خیر مقدم کرتے۔بالخصوص علماء کو ہجوم کار کے باوجود بھرپور وقت دیتے۔ باہر سے آنے والے حضرات کی خیر و عافیت پوچھنے کے بعد چائے ناشتے سے ضیافت ضرور فرماتے۔ مقتدر علماء و مشائخ سے کھڑے ہوکر مصافحہ و معانقہ کرتے میں نے خود دیکھا کہ اپنے مرشد گرامی اور سجادگان مارہرہ مطہرہ اور اپنے سے بڑے علماء کے سامنے دو زانو ہاتھ باندھ کر بیٹھتے کئی مرتبہ یہ بھی ہوا کہ میں حضرت کی تقریر کے درمیان اسٹیج پر حاضر ہوا تو خود نعرہ لگانے لگتے اور میں شرم سے پانی پانی ہوجاتا۔ طلبہ کو کڑی سزا دینا یا ان پر بہت سختی کرنا بالکل گوارہ نہ کرتے۔ خارجہ کا تو نام ہی حضرت کو پسند نہیں تھا۔ کبھی کبھی اساتذہ و طلبہ سے خوش طبعی کی باتیں کرلیا کرتے۔ جاذبیت و مقبولیت۔ ہمارے حضرت بڑی جاذب اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے اور واہب حقیقی نے باطن کی تطہیر و تحسین کرنے کے ساتھ حسن ظاہر سے بھی نوازا تھا۔ مزید برآں چہرہ پر تقوی و طہارت کا نورنور علی نور کا منظر پیش کرتا جو ان سے ایک بار ملاقات کرلیتا متأثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ جہاں قدم رنجہ فرماتے لوگوں کا ہجوم لگ جاتا بہت سے لوگ تو چہرہ دیکھتے ہی مرید ہونے کی خواہش کردیتے۔ روڈویزوں اسٹیشنوں اور راستوں میں ناآشنا لوگ بھی حضرت کو مڑ مڑ کر دیکھتے اور بہت سے لوگ آشنائی کے بغیر ہی

ملاقات کے لیے حاضر ہوجاتے حدیث پاک میں اللہ کا پیارا بندہ ہونے کی ایک پہچان قبول فی الارض بھی بتائی گئی ہے اور یہ حضرت میں بدرجہ اتم موجود تھی نیز نماز جنازہ میں لاکھوں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کے مقبول فی الارض اور اللہ کا پیارا بندہ ہونے کا بین ثبوت ہے۔

اعلی حضرت سے عقیدت:

سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان اپنے تجدیدی کارناموں دین مصطفی اور ناموس رسالت کی صیانت و حفاظت کے تعلق سے عالم اسلام اور امت محمدیہ کی وہ عبقری شخصیت ہیں کہ جن سے تعلق خاطر اور حسن عقیدت دور حاضر میں ایک اچھا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے حضرت بحرالعرفان اگر چہ سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخ طریقت تھے مگر اعلیٰ حضرت سے عقیدت و محبت ایسی تھی جیسے ان کی گھٹی میں شامل تھی۔ اپنی تدریس اور تقریر میں جگہ جگہ اعلیٰ حضرت کے احوال پیش کرتے۔ اکثر تقریر کی ابتداء اعلی حضرت کے اشعار سے ہوتی مدرسے کے افتتاحی ترانے میں امام اہل سنت کا منظوم درود و سلام کعبہ کے بدر الدجی تم پہ کروڑوں درود پڑھا جاتا ہے۔ جب بھی بریلی شریف سے گزر ہوتا تو اعلی حضرت کے مزار پر انوار پر حاضری ضرور دیتے ایک بار فاتحہ خوانی اور مراقبہ سے فارغ ہوکر فرمانے لگے کہ قبر مبارک کے اندر سے ایک مخصوص قسم کی خوشبو آتی ہے جو سرکار اعلیٰ حضرت کی ولایت کی علامت ہے۔ ایک بار دوران سفر بیان فرمایا کہ میں نے تین حضرات ایسے دیکھے جن کی ولایت میں یقین سے جانتا ہوں، ایک شہزادہ اعلی حضرت سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ دوسرے مجاہد ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب اڑیسوی علیہ الرحمہ اور تیسرے ہمارے مرشد گرامی دام ظلہ۔ ایک مرتبہ کئ حضرات کی موجودگی میں فرما رہے تھے کہ بدایوں کے دور طالب علمی میں میں اکثر جمعرات کو بریلی شریف سرکار اعلی حضرت کے مزار پر حاضری دینے جاتاحضور مفتئ اعظم ہند سے شرف ملاقات حاصل کرکے محفل میلاد شریف میں حاضر ہوتا اور فیوض و برکات سے مستفیض ہوتا اور حضرت دعاؤں سے نوازتے حضرت بحر العرفان کی باتیں اور یادیں بہت ساری ذہن میں آرہی ہیں بلکہ بسا اوقات دل و دماغ میں بسی رہتی ہیں مگر مضمون کی طوالت کے خوف سے انھیں باتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہرباری کرے

حشر تک شان کریمی نازبرداری کرے

٭ناظم تعلیمات الجامعۃ الرضویہ برکات العلوم سہسوان

حضور بحرالعرفان کا سراپائےاقدس

مولانا محمد بلال آفاقی

مرکز تجلیات الہیہ منبع فیوضات لامتناہیہ حضور نور مجسم صلی اللہ علیہ و سلم کا حلیہ بیان کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبوب سنت ہے اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے میں بھی اپنےمرشد کا حلیہ مبارکہ بیان کرتا ہوں۔

حضور بحرالعرفان کا قد میانہ تھا لیکن اللہ رب العزت نے انہیں وہ سروری اور بلندی عطا کی کہ کوئی ان سے بلند قامت نظر نہیں آتا تھا نماز عیدین ہو یا جمعہ کا اجتماع راستہ چل رہے ہوں یا کسی تقریب میں تشریف لے جائیں مصافحہ کرنے والوں اور قریب سے دیدار کرنے والوں کا سیلاب امڈ پڑتا تھا ان میں کم سن جوان پست قد ضعیف نحیف دیوپیکر سبھی ہوتے تھے جو بھی انکے قریب آتا سب آپ سے چھوٹے ہی نظر آتے حضور مرشد گرامی علیہ الرحمہ کے قدِ رعنا کے سامنے کوئی نہیں جچتا تھا آپ ہی نمایاں نظر آتے تھے۔

حضور مرشد گرامی میں تمانت و استقامت نمایاں تھی ہمیشہ نگاہ نیچی رہتی راستے میں چلتے وقت لوگ مصافحہ و دست بوسی سے شرفیاب ہوتے ترسٹھ سال کی عمر ہونے کے بعد بھی چلنے میں یہ کرامت سبک اندازی اور سبک رفتاری دیدنی تھی فوجی تربیت یافتہ عمر بھر ورزش کرنے والے بھی اس عمر میں اس سبک خرامی سے نہیں چل سکتے اچھے اچھے پہلوان جھول جاتے ہیں مگر حضور مرشدِ گرامی علیہ الرحمہ کا جسم ادھر ادھر نہیں ڈھلکتا تھا مختصر یہ ہے کہ آپ کا چلنا ،پھرنا، اٹھنا بیٹھنا کچھ اس انداز کا ہوتا تھا کہ ہر آدمی کاراستے میں آنکھیں بچھانے کو جی چاہتا تھا آپ کی پیشانی کی چمک سے ظلمتیں دور ہوتی تھیں جس طرح طلوع آفتاب سے اندھیریاں چھٹ جاتی ہیں۔

آپ کا سر اقدس بڑا موزوں تھا پیشانی مبارک روشن اور کشادہ تھی چہرہ کتابی رنگ گندم گوں، گلابی رخسار نور کے چھلکتے پیمانے، بھنویں ہلالی، آنکھیں روشن اور بڑی ،ہونٹ باریک جیسے گلاب کی پنکھڑی،گردن نہایت خوبصورت ،سر اور داڑھی کے بال سفید ہو چکے تھے شانہ مبارک سیدھے رہتے نہ غرور سے تنے نہ پاس سے جھکے بازو مضبوط کلائی کی ہڈی چوڑی، ہتھیلی ملائم، انگلیاں پتلی پتلی نوکدار،

نفاست کا معیار سر کے بال گھنگھریالے، سینہ علوم و معارف کا خزینہ عشقِ رسول کا گنجینہ روئے انور پہ ایسی جاذبیت کہ جو دیکھتا گرویدہ ہو جاتا اور عقیدت مندوں کو بغیر دیکھے چین نہ ملتا تھا ان کو سب دیکھتے تھے دزدیدہ دزدیدہ کیوں کہ نگاہ ٹھہرتی ہی نہیں تھی سچ تو یہ ہے کہ ایسا حسین و خوبرو، بلال کی آنکھوں نے دیکھا ہی نہیں وہ تو یوسف ثانی تھے حسن خاص عطائے ربانی ہے جو اپنے یوسف کو حسن بے مثال دے سکتا ہے وہی اپنے آفاق کو بھی یوسف دوراں بنا سکتا ہے ہمارے پیرو مرشد اکثر و بیشتر سفید لباس استعمال فرماتے اور کبھی کبھی رنگین بھی سر انور پر مداومت کے ساتھ عمامہ شریف باندھتے آپ ہمیشہ سادہ وضع قطع میں رہتے جیسے گھر میں رہتے ویسے ہی باہر ایسا نہیں کہ اسٹیج وغیرہ پہ جاتے وقت لباس تبدیل کریں جیسا کہ آج کل کے بہت سے علماء اور مشائخ کرتے ہیں ہر وقت خدمت دین کی لگن اور اللہ کی رضا میں مگن رہتے آپ کے انگ انگ سے نور کے سوتے پھوٹ رہے تھے اور آپکا ہر لمحہ عشقِ الہی سے سر شار تھا اور آپکے جسم کا ہرحصہ ہر وقت اللہ کی یاد میں مگن رہتا تھا۔ ذکر و مراقبے کے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپکے جسم کا انگ انگ اللہ اللہ کہہ رہا ہے۔مراقبے کے وقت آپکے چہرے کا رنگ و نور الگ ہی ہوتا تھا۔

صاحب کشف وکرامت حضرت علامہ مولانا نایاب حسین صاحب صدیقی جو حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے خاص خلفاء میں ہیں فرماتے ہیں حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کا چہرہ نور ہو بہو سرکار غوث اعظم کی طرح تھا۔

اللہ رب العزت نے حضور بحرالعرفان کے چہرے میں ایسی کشش اور جاذبیت رکھی تھی کہ جو دیکھتا وہ دیوانہ وار فدا ہو جاتا میرے مرشد جب مسکراتے تھے تو حاضرین کی دل کی کلی کھل جاتی تھی لبہائے مبارک سے کچھ فرماتے تو ایسا لگتا تھا کہ لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں لوگوں سے ملنے جلنے کا انداز اتنا انوکھا اور نرالا تھا کہ ہر شخص یہ سمجھتا کہ حضرت مجھے زیادہ چاہتے ہیں مختصر یہ ہے کہ حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ سر سے پا تک سنت مصطفیٰﷺکے آئینہ دار تھے ۔ جو بھی دیکھتا وہ یہی کہتا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں اللہ کے ولی ہیں اللہ تعالیٰ اس ولی کامل کی برکتوں سے ہمیں خوب نوازے اور تا حیات اس مرد قلندر کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین علیہ افضل الصلوۃ واکمل التسلیم۔

آنکھ والے تری جوبن کا تماشہ دیکھے

دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ کے معمولات

مولانا گل بیز آفاقی

حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کے شعور میں بچپن ہی سے پختگی کے آثار نمایاں تھے مزاج میں متانت و سنجیدگی اور طبیعت میں شرافت و نفاست پیدائشی طور پر نظر آتی تھی اللہ کے فضل سے قوت مشاہدہ بھی قوی پائی تھی چھوٹی سی عمر میں غور و فکر سے یہ راز پالیا یا یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلب میں الہام فرما دیا کہ کاروبار زندگی احسن طریقے پر چلانے کے لئے افراد سازی انتہائی ضروری ہے بہترین فوج بہترین ڈسپلن سے بنتی ہے اور بہترین حکومت عدل سے چلتی ہے حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کی زندگی میں نظم و ضبط حیرت انگیز طریقے پر غالب نظر آ تا ہے نجی معاملات میں پنج وقتہ نمازوں کی طرح اوقات منضبط تھے۔

حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ فجر کی نماز با جماعت ادا فرماتے سنتیں گھر پر ادا فرماتے اسکے بعد مسجد تشریف لاتے سنت اور فرض کے درمیان سبحان اللہ ،الحمد اللہ سبحان اللہ العظیم پڑھتے پھر جماعت سے فارغ ہوکر حلقہ ذکر فرماتے اور خلفاء و مریدین پر توجہ ڈالتے فجر کے بعد تقریباً پچاس منٹ تک حلقہ ذکر جاری رہتا اس کے بعد تلاوتِ قرآن و شجرہ طیبہ سماعت فرماتے پھر دعا کے بعد نماز اشراق و چاشت پڑھتے اس کے بعد دلائل الخیرات پڑھتے دلائل الخیرات سےفارغ ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے یہ معمول صرف قنوج ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے کسی کونے میں ہوتے وقت پر حلقہ ذکر شجرہ خوانی تلاوت قرآن مجید و اشراق و چاشت وغیرہ چھوٹتا نہیں تھا وقت کی قدر تو کوئی ان اللہ والوں سے سیکھے یہ سب چیزیں حلقہ ذکر دلائل الخیرات وغیرہ مسجد ہی میں ادا فرماتے۔

اس کے بعد مدرسے تشریف لے آتے اب درس چالو ہوتا بخاری شریف مشکوٰۃ شریف شرح جامی المعتقد المنتقد کا درس دیتے اسکے بعد تھوڑا بہت ناشتہ کرتے لیکن کبھی بھی درس کے اوقات میں ناشتہ نہیں فرماتے نا ہی موبائل پر بات کرتے درس کے بعد ہی موبائل کھلتا تھا اب تعویذات وغیرہ کا وقت ہو جاتا تعویذ کرتے اکثر ایسا ہوتا کی ناشتہ ہوہی نہیں پاتا تھا کہ مریض کمرے میں داخل ہو جاتے تھے

سارے لوگ اپنی اپنی فریاد لے آتے اور حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ کو سناتے حضور سب کی سنتےحسب ضرورت سب کی مدد فرماتے صرف فریاد تعویذ ہی کی نہیں ہوتی بلکہ مختلف النوع پریشانیاں اور دینی و دنیوی حاجتیں لوگ لیکے آتے آپ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ہر ایک کی بات سنتے اور اس کاحل بتاتے ساتھ میں تعویذات بھی مرحمت فرماتے اسطرح سارے لوگوں کی حاجتیں پوری فرماتے۔

پھر نماز ظہر کے لئے اٹھ جاتے ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعات نماز فئے زوال ادا کرتے اس نماز کے متعلق فرماتے اس نماز کی تاکید حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ نے بہت فرمائی ہے اور اسے سنت بتایا ہے پھر چار رکعات سنت کے ساتھ ظہر کی نماز با جماعت ادا فرماتے ظہر کی نماز کے بعد حلقہ ذکر فرماتے تقریباً 30 منٹ تک حلقہ ذکر فرماتے اس کے بعدتھوڑی دیر مدرسین سےمشورہ کرتے اگر مریض زیادہ ہوتے تو ظہر بعد بھی مریض دیکھتے اور اس کے بعد اکثر یہ ہوتا تھا کہ کسی کی نماز جنازہ فاتحہ یا نکاح وغیرہ میں جانا پڑتا جس کی وجہ سے کھانے میں بہت تاخیر ہو جاتی لیکن خدمت خلق اور فروغ دین کی خاطر برداشت فرماتے جنازے ،فاتحہ ،نکاح وغیرہ سے فارغ ہوکر گھر پہنچتے اور تھوڑی دیر قیلولہ فرماتے ناشتہ و کھانا کبھی بھی ٹائم سے ہو ہی نہیں پاتا تھا ۔

پھر عصر کی نماز با جماعت ادا فرماتےاور سو مرتبہ استغفار پڑھتے اور درود شریف کی کثرت فرماتے اور ہر نماز کے بعد دعائے حزب البحر کی تلاوت فرماتے اور عصر سے مغرب تک حلقہ ذکر فرماتے مغرب کی نماز کےفورًا بعد سات مرتبہ یہ دعا پڑھتے اللھم اجرنا من النار اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتے ،اور یہ بھی فرماتے کی جس نماز کے بعد سنت مئوکدہ ہیں اس نماز میں لمبی دعا نہیں کرنی چاہئے اور فرماتے کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے لمبی دعا کرنے سے منا فرمایا ہے اس کے بعد 6 رکعات نماز اوابین ادا فرماتے اس کے بعد اگر شہر میں کسی کے گھر نہ جانا ہوتا تو مسجد سے گھر کی طرف تشریف لاتے مسجد سے جب نکلتے تو محلے کے کافی بچے انتظار کرتے ہوتے حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ کو بچے مسجد سے نکلتا دیکھتے بچے خوش ہوتے اور کہتے بابو السلام علیکم ایک ساتھ بہت سارے سلام کی آواز آتی واضح رہے کہ آپکی عادت تھی ہمیشہ بعد مغرب مسجد سے نکل کر محلے کے بچوں کو دکان سے کچھ نہ کچھ ضرور دلواتے حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ گھر پہونچ کر تصنیف و تالیف میں لگ جاتے اور کوئی آتا تو اس کی بات بھی سنتے اور اپنا کام بھی کرتے رہتے ایسے ہی مغرب کا وقت گزر جاتا عشاء کی اذان ہوتے ہی

وضو فرماتے اور مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے عشاء کی نماز ادا فرمانے کے بعد حلقہ ذکر میں مشغول ہو جاتے طالبین و سالکین پر حسب مقام و لیاقت توجہ فرماتے آپکی صحبت با برکت میں انوار وتجلیات کی ایسی ہما ہمی ہوتی کہ بیان سے باہر ہے جس اندازہ وہی کر سکتے ہیں جنہیں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی بعد مراقبہ طلباء کو کھانے اور درس مطالعہ کے لئے روانہ کر دیتے پھر اس کے بعد خلفاء و مدرسین سے مشورہ فرماتے اور اپنے تاثرات بیان فرمایا کرتے تھے خلفاء و مدرسین و مریدین کے سامنے ساری باتیں بیان فرماتے اور کہا کرتے تھے کی میں یہ باتیں آپ لوگوں کے سامنے اس لئے کرتا ہوں تاکہ تم لوگوں کے ذہنوں میں رہے کہ اس کا حل کیسے نکالنا ہے مشوروں کے بعد اگر کوئی پروگرام نکاح یا دعوت وغیرہ نہیں ہوتی تو گھر تشریف لے جاتے اور کافی رات تک تصنیف وتالیف میں مصروف رہتے ساتھ میں اپنے گھر بالوں سے بات چیت کرتے رہتے اگر کھانے کی حاجت ہوتی تو تناول فرماتے اس کے بعد آرام فرماتے جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی تو بیدار اور بیداری کے بعد کی دعائیں بڑھتے بیداری کے بعد فوراً اپنے قلب کو پروردگار جل شانہ کی طرف متوجہ ہوتے اور منجن وغیرہ کرتےاور وضوء فرماتے حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ نے دقائق سنت کی بہت رعایت کی ہے وہ بڑے اہتمام سے سنت پر عمل کرتے تھے مثلاً وضو میں دائیں ہاتھ پہلے دھوتے پھر چہرے پر پانی ڈالتے تو سب سے پہلے دائیں رخسار پر ڈالتے احادیث میں مختلف روایات کے پیش نظر ایسا عمل کرتے کہ سب پر عمل ہو جائے مثلاً بسم اللہ شریف پڑھتے، نیت طہارت کرتے، اعضاء کا دلق یعنی ملنا جو بعض ائمہ کے نزدیک فرض ہے بجالاتے، پے در پے دھوتے، ہر عضو کے ہر جگہ سے دو دو قطرے پانی بہاتے، پانی کم سے کم بہاتے اسی طرح دیگر امور میں بھی رعایت سنت بہت فرماتے اس دوران نہایت درد انگیز اشعار پڑھتے جیسے؂

اے خدا اے مہرباں مولائے من

اے انیس خلوت شبہائے من

اور فرماتے بیداری کے بعد دھیان اللہ جل شانہ کی طرف رہے اگر اللہ اور اللہ والوں کے غیر کی آپ فکر کریں گے تو قلب پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور نماز تہجد میں زیادہ لطف نہیں آئے گا حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ تہجد کی نمازبہت خشوع و خضوع کے ساتھ تہجد کی 12 رکعتیں اداء فرماتے اور 8 رکعات میں پوری سورہ یاسین شریف پڑھتے ایک رکعات میں سورہ یاسین کی دس آیتیں پڑھتے باقی 4 رکعات میں دیگر آیات و سورت پڑھتے اگر وقت تنگ ہوتا تو جتنی میسرہوتیں اتنی پڑھتے اور تہجد کے

بعد تقریباً قرآن مجید کی دوسوآیات تلاوت فرماتےفرض تو فرض تہجد تک کی نماز سفر میں بھی قضا نہیں ہوتی تھی اسکے بعد اداء سنت کی غرض سے تھوڑی دیر داہنی کروٹ لیٹتے نماز فجر اجالا کرکے پڑھتے جو کہ احناف کے نزدیک فجر کا وقت مستحب ہے یہ وہ معمولات ہیں جو حضر میں یعنی قنوج میں ہوتے ورنہ سفر کی حالت میں آپ کی تگ و دو اور دین کے لئے جانفشانیاں ایسی تھیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ ہوجاتے اب آپ خود سوچیے کہ آرام کے لیے کتنا وقت ملتا تھا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا کتنا موقعہ ہاتھ آتا لیکن یہ اللہ والے ہیں جن کی ہر ادا بے نظیر ہوتی ہے

یہ چند معمولات میں نے اپنی معلومات کے مطابق ذکر کر دیے ہیں تاکہ لوگوں عبرت بھی حاصل ہو اور اپنے آپ کو ان پر کاربند کرنے کی کوشش کریں تاکہ نعمت قرب و عرفان سے مالا مال ہوں۔ نیز مریدین و معتقدین، متعلمین اور تمام محبین بحر العرفان نشان عمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور بحر العرفان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلینﷺ