مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتکیا بھروسہ ہے زندگانی کا

باب ۳۵ از ۶۵صفحات ۲۴۳–۲۴۹

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا

مولانا توصیف رضا مصباحی سنبھلی

اسی ماہ جولائی کی 9 تاریخ کو عالم ربانی حضرت مفتی آفاق صاحب قبلہ مجددی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔ حضرت سنبھل سے متصل ایک بستی مدالہ حافظ احسان صاحب کے یہاں تشریف لائے تھے فقیر بھی وہاں پہنچا تھا حضرت نے بڑی دعاؤں سے نوازا تھا اب یہ خبر نظروں سے گذری کہ آسمان علم و فضل کا یہ ستارہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا آہ زندگی کس قدر بے وفا ہے جو شخصیت محض چار روز پہلے ہمارے درمیان بزم ہستی کو اپنے علم و عمل سے فیضیاب کر رہی تھی آج وہ شہر خموشاں کی مسافر بن چکی ہے ۔ حضرت سے جب بھی ملاقات ہوتی بڑی شفقت فرماتے ان کی گفتگو سے اہل اسلام کے لیے درد صاف جھلکتا وہ امت مسلمہ کے نونہالوں کو علم و ادب کی صلاحیتوں سے لیس دیکھنا چاہتے قنوج میں آپ نے تشنگان علوم کے لیے ایسا آب شیریں مہیا کیا کہ ملک کے طول و عرض سے اپنی پیاس بجھانے والوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ہنوز جاری ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا۔ جامعہ احمدیہ قنوج، ہندوستان کا ایک عظیم ادارہ ہے جس میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خاصا توجہ دی جاتی ہے طلبہ کو مجاہدہ و ریاضت کی بھی خصوصی تربیت دی جاتی ہے حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اور صاحب دل شخصیت تھے وہ واقعتا ایک عظیم انسان اور عالم ربانی تھے ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے اس کے لیے ایک مستقل نمبر نکلنا چاہیے 13 شوال 2019 کو کاس گنج کے پاس ایک کانفرنس میں ملاقات کا شرف ملا تھا کیا ہی عمدہ اور سوز و گداز سے لبریز گفتگو فرماتے سبحان اللہ۔ در اصل حضرت مفتی آفاق صاحب قبلہ اخلاق کا پیکر اور خلوص کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔

آپ نے جہاں ملک پھر حتی المقدور مساجد و مدارس کے قیام کا خوبصورت سلسلہ جاری و ساری رکھا وہیں آپ نے تصنیفی میدان میں بھی قابل تحسین و تکریم کارنامہ انجام دیا چونکہ آپ کا خصوصی شغف تصوف کے ساتھ تھا اس لیے آپ نے اس عنوان پر گرانقدر کتابیں تحریر فرمائیں چند کتب کے نام اس طرح ہیں ‘‘تصوف اور اس کے فوائد’’ ‘‘اشغال طریقت’’ ‘‘علماے آخرت’’ وغیرہ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کی ہر کتاب قاری کے ذہن پر اپنا عکس جمیل چھوڑتی ہے اور دل و دماغ کو خوف خدا کی طرف پوری قوت کے ساتھ ایڈرس کرتی ہے سوز و گداز عطا کرتی ہے در اصل مفتی صاحب کے قلم سے خشیت خداوندی کا چشمہ

پھوٹتا جو تشنگان راہ کو بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ سیراب کرتا ہے۔ یہاں یہ بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ ملی مسائل کے حوالے سے بھی بہت سنجیدہ و فکر مند رہتے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ مسلمانان ہند کے مستقبل کی تابناکی کے لیے اہل سنت و جماعت کا کوئی مضبوط پلیٹ فارم ہونا از حد ضروری ہے اس کے لیے وہ گذشتہ چند سالوں سے زمینی کام کر رہے تھے اور اس طرف قیادتوں کو بار بار متوجہ کر رہے تھے وہ چاہتے تھے کہ اہل سنت منظم و مربوط ہوجائیں اور پھر مکمل حکمت عملی کے ساتھ ملت اسلامیہ کی خوش حالی کے لیے مضبوط و دیرپا اقدامات کیے جائیں۔

آہ اب یہ ہستی ہم سے دور اوربہت دور جا چکی مگر ان کی کاوشیں اور خدمات حضرت مفتی صاحب کو ہمارے دلوں میں زندہ رکھیں گی۔

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

مجھے معلوم ہے آخر کسی دن تیری دنیا سے

چلا جاؤں گا پر اپنی کہانی چھوڑ جاؤں گا

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

حضور بحر العرفان کی اصلاحی خدمات

(علی گڑھ کے حوالے سے(

سیدمصطفیٰ علی قادری

موت نے چپکے سے نہ جانے کیاکہا زندگی خاموش ہو کر رہ گئی۔ آج اس شخصیت کے لمحات قلمبند کر رہا ہوں جومحتاج تعارف نہیں!میری مراد پیر طریقت رہبر شریعت بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ (بانی الجامعۃ الاحمدیہ قنوج ) ہیں ،میری ملاقات حضرت سے ۱۹۹۴ء میں ہوئی ،پہلی بار میں ہی حضرت سے متاثر ہو گیا تھا ، علی گڑھ میں وہابیت بہت عروج پر تھی جس کی وجہ تھی علی گڑھ میں کسی سنی عالم کی نہ ہونا، جس کی وجہ سے وہابیت پروان چڑھ رہی تھی ، لیکن جب میری ملاقات مفتی صاحب سے ہوئی اور انھوں نے مجھ سے کہا کہ علی گڑھ کے لئے جب ضرورت ہوگی میں حاضر ہوں گا ۔

۱۹۹۳ء مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے حضرت کا پروگرام علی گڑھ میں کرایا تھا اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ جس دن پروگرام ہے اسی دن کی ہولی ہے ، غرض کہ حضرت ہولی والے دن ٹرک سے

معین بھائی کے ساتھ علی گڑھ تشریف لائے اس وقت موبائل کا بھی دور نہیں تھا ، میرے پتہ پر حضرت جمال پور تشریف لے آئے ، راستہ میں نہ جانے کتنی پریشانی ہوئی ہوگی ، یہ تو صرف حضرت کو ہی معلوم ہوگا، پروگرام ختم ہونے کے بعد حضرت نے میرے گھر قیام نہ کرکے وہیں مدرسہ کے کمرے میں آرام کرنے کے لیے کہا، اور صرف ایک دری اور ایک چادر کے لئے کہا اور وہیں آرام کرنے کے لئے رک گئے ، جب حضرت رخصت ہوئے تو میں نے ان کو بطور نذرانہ ۲۵۰؍ روپیہ دئے جس کی رسید بناکر مجھے دے دی اور وعدہ کیا کہ اسی طرح میں ان شاء اللہ آپ کے پروگرام میں شامل ہوتا رہوں گا، حضرت کو سنیت کی بڑی فکر رہتی تھی اس کے لیے بہت فکر مند رہتے تھے مجھ سے اکثر فرمایا کرتے تھے ’’آپ سے بہت بڑا کام لینا ہے‘‘ اس وقت یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی مگر جب سمجھا تو سمجھانے والا میرے سامنے نہیں ہے۔اکثر سفر میں بھی میرا ساتھ رہا ہے ،بازار کی چیزوں سے بہت پرہیز کرتے تھے،بغیر کھائے رہنا منظور تھا مگر کفار و مشرکین کے ہاتھوں کا کوئی کھانا پسند نہیں تھا۔حضرت میں تقویٰ و پرہیزگاری بہت تھی رات کو عبادت میں بہت مشغول رہتے تھے، سوتے بہت کم تھے ، مختصر سی زندگی میں بہت کام جو کرناتھا۔

مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور میرے بچوں سے بھی بہت پیار فرماتے تھے،جب بھی قنوج جاتا کھانا اپنے ساتھ کھلاتے تھے، بچوں کو رخصت کے وقت روپیہ ضرور دیتے تھے ، مولانا احمد سعیداور مولانا برکات احمدسے ریلوےاسٹیشن پہنچواتے تھے ، مہمان نوازی میں بہت ہی خلوص تھا، ہر وقت چہرے پر ایک مسکراہٹ رہتی تھی، نماز کبھی قضا نہیں ہونے دیتے تھے ، اکثر جب علی گڑھ سے قنوج جانا ہوتا تو فرماتے سید صاحب عصر ان شااللہ ایٹہ میں پڑھ لیں گے ، سفر میں بھی نماز باجماعت کا بہت خیا ل رکھتے تھے ،میں نے حضرت سے جب سے ملاقات کی ہے کبھی مارہرہ شریف میں اسٹیج پر نہیں دیکھا وہ اکثر اپنا سارا وقت درگاہ شریف میں گزارتے تھے، حضرت اکثر فون پر مجھ سے مشورہ لیتے تو میں سوچتا کہ خود خانقاہ برکاتیہ کے لوگ مسائل کے لئے مفتی صاحب سے رجوع کرتے ہیں جب جامعہ احسن البرکات کا قیام عمل میں آیا تو امان میاں صاحب نے مفتی صاحب کو بلایا جب کہ مفتی صاحب اس وقت دلی کے لئے روانہ ہو چکے تھے مگر جب امان بھائی کی کال پہنچی تو راستہ سے ہی علی گڑھ آگئے اور اپنے مشوروں سے نوازا اس وقت مولانا عبد العزیز مجددی صاحب حضرت کے رفیق سفر تھے اور یہ خادم بھی موجود تھا ، علی گڑ

گڑھ کے پروگرام کے لئے کبھی بھی منع نہیں کیا طبیعت خراب ہو تب بھی تشریف لائے ایک دفع تو حضرت کو دست ہو رہے تھے اور اسی دن حضرت کو علی گڑھ آنا تھا منع بھی کیا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے رہنے دیں مگر حضرت کے الفاظ یہ تھے کہ سید صاحب آپ سے منع نہیں کر سکتے اور تشریف لائے راستے میں کتنی تکلیف ہوئی ہو گی یہ حضرت ہی جا نتے ہیں ۔

علی گڑھ میں دعوت و تبلیغ کا کام بہت کیا حضرت کی سر پرستی میں ایک مدرسے کا قیام عمل میں آیا جو عالی جناب رفعت بصیر صاحب نے بنوایا تھا،بلکہ ایک مکان خرید کر مدرسہ شروع کیا جس کا نام حضرت نے جامعہ ابراہیم رکھا اور حضرت نے اسی مدرسے کے لیے پانچ سو روپے کی پہلی رسید اپنی طرف سے کٹوائی، وہ ہمارے پاس آج تک موجود ہے لیکن وقت نے ساتھ نہیں دیا اور کچھ لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں تھی غرضیکہ وہ بند ہو گیا۔

جامعہ رقیہ کے نام سے آٹھ سینٹر قائم کیے مگر کچھ دن کے بعد وہ کامیاب نہ ہو سکے یہ علی گڑھ والوں کی بد نیتی کی وجہ سے ہوا تب حضرت نے مجھ سے کہا : سید صاحب! آپکے گھر کا خرچ کتنا ہے؟ آپ علی گڑھ میں رہیے اور صرف دعوت و تبلیغ کا کام کیجیے آپ کے گھر کا خرچ ہم دیں گے مگر میں نے ان سے صرف دعاؤں کی درخواست کی کہ صر ف آپ دعا دیں ان شا ء اللہ آنےوالے وقت میں ضرور یہ خواب پورا ہوگا ۔

میں اور میرے بچے حضرت سے متاثر تھے ، میرا بیٹا اوصاف علی اس وقت البرکات میں دوسری کلاس میں پڑھتا تھا ، مگر مفتی صاحب سے اتنا متاثر ہوا کہ وہ کہنے لگا میں قنوج مفتی صاحب کے پاس پڑھوں گا ، اور اس طرح سے اس نے البرکات کی پڑھا ئی چھوڑ کر قنوج میں داخلہ لے لیا ، حضرت نے اپنے بچوں سے زیادہ پیار کیا ۔میری بیٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ، یونیورسٹی غیر معینہ مدت تک کے لئے بند ہوئی تو حضرت نے فرمایا کچھ دنوں کے لیے اپنی بیٹی کو قنوج چھوڑ دو یہاں کی بچیاں انگلش پڑھ لیں گی، مگر حضرت کی محبت و شفقت نے اتنا متاثر کیا بیٹی نے کہا کہ ابو میں عالمہ بننا چاہتی ہوں غرض کہ حضرت کی شفقت اور محبت کا نتیجہ ہے کہ میرے دونوں بچے فاضل ہوگئے بلکہ پورا گھر علم سے منور ہو گیا،یہ سب حضرت کی نظر کا کمال ہے ۔

حضرت نے علی گڑھ میں تبلیغ کا کام ایسا کیا کہ شاید کوئی بھی مفتی نہیں کر سکتا ، جھگی جھوپڑ والوں کو کلمہ پڑھانا اور انہیں بتا نا کہ مسلمان کے کیا فرائض ہیں ، شادی کے معاملات الگ ہوتےان کو صحیح کرایا ،

غرض حضرت ایسی جگہ گئے جہاں کوئی عام انسان نہیں جاسکتا مگر مفتی صاحب نے وہاں جاکر کام کیا ۔

آج علی گڑھ میں پروگراموں کی جو بھرمار ہے یہ سب مفتی صاحب کا ہی نتیجہ ہے جب بھی عالموں، مقرروں کی ضرورت پڑی حضرت فوراً مہیا فرمادیتے:عظمت قرآن کانفرنس،عظمت رسول کانفرنس،تعلیم اسلام کانفرنس،یہ سب مفتی صاحب کی دین ہے۔حضور امین ملت سے جب گفتگو ہوتی تو حضرت مفتی صاحب کے لئے ایک ہی جملہ استعمال کرتے کہ مصطفی! مفتی صاحب ایک قلندر ہیں۔کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی اتنا بڑا ایمپائر بنادیا،مفتی صاحب کی خدمات کی سراہنا کرتے اور فرماتے کہ آج کے علما کے لئے مفتی صاحب مشعل راہ ہیں۔

مفتی صاحب میں ایک عادت بہت اچھی تھی وہ ہمیشہ سب کو جوڑ کر رکھتے تھے۔ قنوج میں سمینار کا سلسلہ جو جاری فرمایا اس کا مقصد صرف پروفیسروں کو احساس دلانا تھا کہ دیکھو مولوی کو کتنی محنت کرنے کے بعد کیا ملتا ہے۔ مفتی صاحب کی ملاقات ڈاکٹر مشتاق صاحب سے ہوئی جو ایک عالم بھی تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی یو ایم ایس کررہے تھے حضرت نے ذکر فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ میں سمینار ہو جائے اس میں کتنا خرچ ہو سکتا ہے مفتی صاحب نے کچھ روپیہ دے دیا تھا وقت بہت کم رہ گیا مگر ڈاکٹر صاحب کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے حضرت کی پریشانی بڑھ گئی ۔

حضرت مجھے عر س قاسمی کے موقع پرمارہرہ شریف میں ملے اور بتایا کہ سید صاحب مولانا مشتاق صاحب کے ذریعے ایک سمینار کرانا چاہتے تھے مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا، آج انھیں آنا تھا تاکہ سمینار کی تیاری کرتے، لوگوں کو پتہ ہوچکا ہے اشتہار چھپنے کے لئے رکا ہوا ہے ابھی کوئی کام نہیں بتائے ہیں کہ کیا کریں میں نے حضرت کو مشورہ دیا کہ اس سال نہ کرا کے اگلے سال کی تیاری کرتے ہیں مگر حضرت نے بتایا کہ یہ ہماری عزت کا سوال ہے آپ علی گڑھ جا کے سب سے پہلے مشتاق صاحب سے ملیں اور بتائیں کہ کیا تیاری ہے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ سمینار کی تیاری خود کی اور میں سب سے پہلے ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی صاحب سے ملا پھر عبدالسلام جیلانی اور دیگر پروفیسروں سے ملاقات کی اور موضوع دیا اور سمینار کس موضوع پر ہونا ہے وہ نام لیا اس کے بعد مولانا مشتاق صاحب سے ملاقات کی جب انھیں یہ بات معلوم ہوئی کہ میں نے سمینار کی ساری تیاریاں کر دی ہے تو اپنی تیاری بتانے لگے تقریباً پچاس ساٹھ لوگ ان کی فہرست میں تھے۔ حضرت کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو، آپ کہنے لگے کہ

سید صاحب اتنا انتظام کیسے ہوگا میں نے مفتی صاحب سے کہا کہ یہ بےوقوف بنا رہے ہیں آپ گھبرائیے نہیں ان کو بول دیجئے کہ بلا لیں غرض کہ پہلا سمینار بہت کامیاب ہوا، علی گڑھ، دہلی سے جوبھی لیکچرار آئے کافی متاثر ہوئے اور یہ سلسلہ جاری ہوگیا اور پروفیسر اس طرح مدرسے سے جڑ گئے علی گڑھ کی سرزمین پر ایک تنظیم کا قیام عمل میں آیا تب حضرت بہت خوش ہوئے اور آفس میں بیٹھ کر بہت گفتگو ہوئی اور اس تنظیم کے ذریعے علی گڑھ میں بہت کام ہورہا ہے۔ حضور امان اہل سنت جب اشرفیہ پڑھ رہے تھے اور جب علی گڑھ واپس آتے اور سنیت کا کام دیکھتے تو فرماتے مصطفٰی بھائی یہ تو اصلاح معاشرہ کا کام ہورہا ہے آپ اپنی تنظیم کا نام اصلاح معاشرہ رکھ دو غرض کہ حضور امین ملت سے رابطہ قائم کیا اور تنظیم کے تمام اغراض ومقاصد ان کے سامنے رکھے حضرت نے اجازت دے دی اور کہا کہ مفتی صاحب کو بہت تجربہ ہے ان کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا،١/اپریل ٢٠٠٩ء میں کل ہند انجمن اصلاح معاشرہ اہل سنت وجماعت کا قیام عمل میں آیا اب جگہ جگہ پروگرام ہونا شروع ہوگیا مفتی صاحب نے کبھی بھی نذرانہ نہیں لیا اپنی گاڑی سے آتے اپنا وقت خرچ کرتے اور علماے کرام کی علی گڑھ میں بھرمار کردی۔

اسی طرح جب گنج ڈنڈوارہ میں دیوبندیوں کا بہت بڑا اجتماع ہوا حضرت کافی فکرمند ہوگئے اور کہنے لگے سید صاحب ان کو روکنا بہت ضروری ہے اور اس کے یہاں مدارس کا قیام بہت ضروری ہے ہم نے وہاں کے مقامی لوگوں سے گفتگو کی اور دوروزہ سنیت کا اجتماع کرایا دن میں خواتین کا اور رات میں مردوں کا اس پروگرام میں حضرت کی بہت زیادہ محنت تھی، ایک ماہ کے اندر تیار کرنی تھی گاؤں دیہات وغیرہ میں جاکر لوگوں کو سمجھانا پتا کرنا غرض کہ اتنا بڑا اجتماع آج تک نہیں ہوا سہاوت، کنوئی گنج ڈنڈوارہ اور قائم گنج میں مدارس کا قیام عمل میں آیا۔

حضرت سے میری ملاقات ١٧جون ٢٠١٩ء کو گنج ڈنڈوارہ پروگرام میں ہوئی مفتی صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھ سے کہا کہ سید صاحب آپ سے بہت گفتگو کرنی ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا ہے میں نے حضرت سے کہا کہ حضرت دل بہت چاہتا ہے مگر وقت نے مجھے آپ سے دور کردیا ہے آج میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں حضرت کو قائم گنج سے ٹرین پکڑنی تھی اور مجھے علی گڑھ آنا تھا میں حضرت کے ساتھ علی گنج تک گیا راستے بھر گفتگو ہوتی رہی اور ساری فکر کاس گنج کو لے کر تھی کہ امان میاں سے بات کریں کہ کوئی مدرسہ کاس گنج میں قائم ہوجائے وہابیت بہت بڑھ رہی ہے غرض کہ سنیت کی فکر بہت تھی حضرت

کے اسی انداز کو دیکھ کر حضور امان اہل سنت نے مفتی صاحب کو آئیڈیل مانتے ہوئے تمام ائمہ مساجد کے سامنے مفتی صاحب کو پیش کرنا ہے کہ ایک امام کیسا ہوتا ہے اور ایک عالم کیسا ہوتا ہے اور ایک مفتی کیسا ہوتا ہے تمام خوبیاں جو مفتی صاحب کے اندر تھیں وہ علی گڑھ کے امام حضرات کے سامنے رکھیں اور مضامین وغیرہ لکھے گئے مگر وقت نے اجازت نہیں دی ١٣جولائی کو ہم سے سنیت کا وہ علمبردار دنیاے حقیقی کی طرف چلا گیا ٢١جولائی کو پروگرام میں آنے کا ارادہ کیا تھا جب قنوج سے واپس آئے تو حضرت سے اجازت لی مگر آج نگاہیں تلاش رہی تھیں جن کے چہرے کو دیکھ کر سکون ملتا تھا جو شخص سنتا اس کو یقین نہیں تھا خانقاہ برکاتیہ کے تمام افراد غمزدہ ہوگئے علی گڑھ میں ایک قیامت سی چھاگئی ایک عظیم شخصیت اس دنیا سے کوچ کرگیایقین نہیں آتا تھا مگر مختصر سی زندگی میں بہت کام انجام دیے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیشہ مفتی صاحب کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مسلم تو سمجھ لے کچھ وقت ہے باقی

سر پر ترے ہر وقت قضا گھوم رہی ہے