مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتاب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

باب ۵۸ از ۶۵صفحات ۳۹۰–۳۹۴

اب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

عالمہ فاطمہ ربیعہ دختر حضور بحر العرفان٭

نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہٖ الکریم

میرے مرشد ومربی پیارے ابا حضورکی رحلت کی خبر ہمارے سروں پر بجلی بن کر گری،میرے ابا جان کی ہم بہنوں سے محبت ایک ماں سے کہیں بڑھ کر تھی،ہر باپ مشقتیں برداشت کرکے اپنے بچوں کی دنیا بناتا ہےلیکن ہمارے ابا حضور نے جانے کتنوں کی دنیا اور آخرت کو سنوار دیا،انھوں نے دین کی راہ میں جانے کتنی تکلیفیں اوراذیتیں برداشت کیں مگر کبھی کسی پر اپنی تکلیف کو ظاہر نہ ہونے دیا۔

آخری ایام میں جب آپ پر مرض کی شدت تھی اور آخرت کی تیاری زورں پر تھی اس وقت ہم سبھی بہنیں آپ کو دیکھ دیکھ کر روتے رہے مگر آپ نے اس وجہ سے ہم سے آنکھیں نہیں ملائیں کہ کہیں صبر و شکیبائی کا دامن ہا تھوں سے چھوٹ نہ جائے۔

آج ہم میں جو بھی دینی شعور ہے اورہمارا گھر جو ایک مثالی اسلامی گھر ہے یہ سب میرے ابا حضورکا صدقہ ہے،ہمارے ابا حضور ہم لوگوں سے ہمیشہ دین کی باتیں کرتے اور فرماتے کہ ہمیشہ دین کا کام کرنااسی میں ہم سب کی نجات ہے۔

جب میری عزیزہ اور ہم سبق ساتھی مرحومہ غوثیہ کا انتقال ہوا اس وقت خوف آخرت سے رو رو کر میرا برا حال ہو رہا تھا،کسی کے بھی الفاظ سے مجھے تسلی نہیں ہو پا رہی تھی،اس وقت میرے ابا جان جو قنوج سے باہر تھے کا فون آیا اور آپ مجھے سمجھانے لگے کہ بٹیا اتنا پریشان کیوں ہوتی ہو؟ جواباً بس میں یہی عرض کرتی رہی کہ ابا! میں اتنی اندھیری قبر میں بھلا اکیلی کیسے رہ پاؤں گی؟آپ فرمانے لگے بٹیا! فکر نہ کرو سب کی قبر میں اندھیرا نہیں ہوتا ہے اورساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں تمہاری ذمہ داری لیتا ہوں کہ تمھیں دنیا میں کو ئی تکلیف ہوگی اور نہ ہی آخرت میں۔

اکثر میں خواب دیکھ کر ڈر جایا کرتھی تو مجھے اتنی تسلی دیتے کہ دل کو سکون مل جاتا تھا،مگر آہ!کم نصیبی سے مجھے تسلی دینے والا میرا وہ مونس و غمخوار مجھ سے جدا ہو گیا۔

میرے ابا جان جب فجر میں مجھے آواز دیتے تھے میں ان کی ایک آواز پر اٹھ جاتی اور کیوں نہ اٹھتی کہ

میں تو سوتی ہی اس امید پر تھی کہ پیارے ابا جان کی شیریں صداؤں سے میری آنکھیں کھلیں گی،بیدار ہو کر ان کو دوا دینے جاتی اس وقت مجھے اتنی دعاؤں سے نوازتے کہ ساری قبو ل ہو جائیں تو زندگی میں مجھے کسی سے دعا لینے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

ابا جان فجر میں اٹھتے تو اپنی والدہ ماجدہ یعنی میری دادی جان کو سب سے پہلے سلام کرتے اور مجھ سے فرماتے کہ بیٹی صبح سویرے ماں کو سلام کرنے سے بہت زیادہ ثواب ملتا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ والدین کو محبت سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب ملتا ہے۔

الغرض یہ کہ ابا جان آپ کی کون کون سی بات یاد کروں جب آپ وضو فرماتے تو آپ کا چمکتا دمکتا بدر کامل سے چہرے کی ایک جھلک لینے کے لیے ہم بہنیں کمرے کے دروازوں پر کھڑ ی ہو جایا کرتیں اور پھر جب آپ تبسم ریز رخساروں کو ہماری طرف پھیر کر ہماری طرف محبت بھری نظر ڈالتے تو ایسا لگتا جیسے کہ ہم اس وقت دنیا کی سب سےامیر ترین بہنیں ہیں جن کے پاس دارین کی ساری خوشیاں جمع کر دی گئی ہیں۔

لیکن آج ہمارے سینے سے غموں کا وہ طوفان ابل رہا ہے کہ آپ کا چہرۂ انور ہماری ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ہے،آپ کے فراق کا صدمہ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہیں جو ہمیں اندر سے مثل نمک کے گھلا رہا ہے،آپ کے جانے سے ہماری انجمن سونی اور ہماری کائنات لٹ چکی ہے،ہماری ساری خوشیاں برباد اور ہماری ساری امنگیں اندرون سینہ راکھ کا ڈھیر بن گئ ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ آپ کی روح مقدس ہمیں دیکھ رہی ہوگی اور ہم سے زیادہ خود آپ کو ہمارے درد و کرب کا احساس ہو گا مگر آج ہمیں آپ ہی کا پڑھایا ہو ا سبق زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے کہ مومن کو ہر حال میں خدا کی ذات پر صابر و شاکر رہنا چاہیے،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ابا جان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے فیضان سے مالامال فرمائے آمین! بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین علیہ وعلیٰ آلہٖ الصلاۃ و التسلیم

ابا جان! آپ کو کہاں سے ڈھونڈ کرلائیں

عالمہ عاتکہ ربیعہ دختربحرالعرفان٭

نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ حبیبہ الکریم

ایک باپ کی اپنی بیٹی سے جو محبت ہوتی ہے اسے دنیا کا ہر انسان جانتا ہے،لیکن میرے پیارے ابا جان حضور بحر العرفان اپنے دیگر اوصاف کی طرح بیٹیوں سے شفقت محبت میں بھی دوسروں سے ممتاز تھے،ہم بہنیں یہ کہا کرتے تھے کہ سب کے والد تو والد ہونے کی حیثیت سے پیار کرتے ہیں لیکن ہمارے ابا جان تو ایک ماں سے بھی بڑھ کر پیا ر کرتے ہیں، ہم بہنیں امی جان سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے ابا جان تو امی سے بھی زہادہ خیال و محبت کرتے ہیں جب کہ ہماری امی جان کی شفقت و محبت اپنے تو اپنے غیروں کے لیے بھی پورے شہر قنوج میں ضرب المثل ہے،کوئی بھی اچھی بھلی چیز گھر میں آئے تو اس وقت تک خود نہیں کھاتی ہیں جب تک اس کا معتد بہ حصہ ہماری بہنوں کے گھر نہ بھجوا دیں۔

لیکن ہمارے پیارے ابا جان کی محبت کا کیا کہنا کبھی ابا جان نے کسی بہن کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیا کہ وہ کس کو زیادہ چاہتےہیں،ابا جان گھر میں آ تے تو ہم لوگ کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو جایا کرتے ابا جان جو ں ہی دیکھتے خیریت پوچھنے کے بعد حوصلہ افزائی کے ایسے ایسے کلمات کہتے کہ ہمارے دونوں بھائی ہم بہنوں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ کر ہنستے اور کہتے: ‘‘ بیٹیوں کے تو ہمیشہ دماغ چڑھائے جاتے ہیں،تم لوگ بس چڑھتی رہو بس دیکھنا کسی دن گروگی۔’’ اور آخر کار کچھ ایساہی ہوا ابا جان کا جنازہ اٹھنے کے ساتھ ساتھ ساری محبتیں شفقتیں اور ساری خوشیاں بھی اٹھ گئیں۔

ہم بہنوں کو جتنا فخر اپنے ابا جان پر تھا اتنا دنیا کی کسی بھی چیز پر نہ تھا،دنیا میں محبتیں،شفقتیں اورعزتیں سب کچھ ملیں گی لیکن میرے ابا جان جیسی محبت اور شفقت کہیں نہیں ملے گی،ہم بڑے فخر سے کہتے تھے کہ ہمارے ابا جان ہیں ہمیں کسی چیز کی فکر نہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ محبتیں شفقتیں عنایتیں اور حوصلہ افزائیاں اورساری خوشیاں بس چند دنوں کی مہمان ہیں،یہ نہیں سوچا تھا کہ چند دنوں ہی میں ابا جان کی محبتوں اور شفقتوں سے محروم ہو جائیں گے۔

اب تو صبح سے شام اورشام سے صبح ہو جاتی ہے،سارے چہرے نظر آتے ہیں مگر وہ مسکراتا ہو ا چہرا

نظر نہیں آتا،وہ محبت بھری آواز سننے کو نہیں ملتی،اب تو ایسا لگتا ہے کہ قیامت سی برپا ہو گئی ہے،ابا جان نے کبھی کسی کی غلطی کو غلطی نہیں کہا بلکہ در گزر سے کام لیا ۔

ابا جان! آپکو کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں،پیارے ابا جان!اب دماغ چڑھانے والی وہ پیاری باتیں کس سے سنیں، میرے انوکھے ابا جان! آپ سے تو کسی کے یتیم بچے نہیں دیکھے جاتے تھے توپھر آپ نے ہم کو کیوں یتیم چھوڑا،آپ کو تو ہم میں کسی کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ ہم میں سے کسی کے بھی کراہنے سے تڑپ جاتے تھے تو پھر آپ ہمیں روتا بلکتا کیوں چھوڑ گئے،میرے اچھے ابا جان! آپ سے تو اپنے بیٹے اور بیٹیوں کا رونا نہیں دیکھا جاتا تھا آج ہم سب تڑپ رہے ہیں بلک رہے ہیں اور ہر طرف ہماری پتھرائی ہوئی نگاہیں آپ کو تلاشتی ہیں مگر آپ نظر کیوں نہیں آتے؟میرے انوکھے ابا جان ! آپ کو تو اللہ نے وہ قدرت عطا کی ہے کہ آپ ہمیں ایسی آنکھیں عطا کر سکتے ہیں جس سے ہم آپ کے دیدار سے فیضیاب ہوتے رہیں تو پھر آپ عطا کیوں نہیں کر دیتے۔

ابا جان! ہم لوگوں کو بس آپ کے دیدار کی تڑپ ہے،ابا جان! میں بیمار تھی تو آپ نے جانے کتنے بزرگان دین کے مزارات پر جا کر میرے لیے دعا کی،آپ جس جس بھی سفر پر گئے ہر سفر سے میرے لیے نئی نئی دوا لے کر آئے،آپ جب جب گھر میں داخل ہو تے تو میری بیماری کے بارے میں پوچھتے،ابا جان! جب آپ پوچھتے تھے تو ایسا لگتا کہ ساری بیماری ختم ہو گئی،ابا جان! آپ نے ہم لوگوں کی خوشی کے لیے کتنی تکلیفیں اٹھائیں،آپ کبھی اچھی چیز اس لیے نہیں کھاتے تھے کہ ہماری بیٹیاں کھا لیں گی،آپ نے ہم لوگوں کی خوشی کے لیے کبھی بھی اپنی تکلیف کو تکلیف اور بیماری کو بیماری نہیں سمجھا،ابا جان!آپ اپنا کوئی کام نہیں کرواتے تھے کہ ہماری بیٹیاں تھک جائیں گی،ابا جان! اتنے ناز وپیار سے پال کر آپ ہم لوگوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر کیسے چلے گئے؟

لیکن میرے غمگسارابا جان! یہ ہم لوگوں کا یقین کہتا ہے کہ آپ سے ہم لوگوں کا رونا آج بھی نہیں دیکھا جاتا ہوگا،آپ نے مشیت الٰہی کو پورا کیا جیسا کہ آپ کہا کرتے تھے کہ ہر بزرگ نے پیغام الٰہی پر لبیک کہا ،اسی لیے آپ نے پیغمبر خدا ﷺ اور بزرگان دین کی سنت پر عمل کیا،ویسے بھی آپ نے ہر چھوٹی سی چھوٹی سنت پر ایسے عمل کیا اور ایسے سنتوں کی پابندی کی جیسے کوئی فرض کام کو انجام دیتا ہے لیکن ہمارا یقین ہے کہ آپ کا ظاہری سایہ نہ سہی آپ کا باطنی سایہ ہر وقت ہمارے سروں پر ہے اورانشاء

اللہ دونوں جہان میں یہ سایہ رہے گا،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ابا جان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور جس طرح ہمارے والد نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں وقف کی اسی طرح ہم سب کو بھی اخلاص کے ساتھ اپنی زندگیاں اپنے دین مبین کی خدمت کے لیے صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین! بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین علیہ وعلیٰ آلہٖ الصلاۃ و التسلیم

٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ