باب ۲۶ از ۶۵صفحات ۱۸۵–۱۹۴
متاع کارواں جاتا رہا
ڈاکٹر عبدالسلام جیلانی، شعبہ تاریخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
نومبر ٢٠٠٠ء مہینے کی کوئی ۲۰-۲۲تاریخ تھی عصرومغرب کے درمیان کا وقت تھا ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احاطے پرانی چنگی پر سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی چائے کی دکان پر دوستوں کے ساتھ چائے پی رہا تھا اور محو گفتگو تھا کہ اچانک میری نگاہ ایک میانہ قد پرنور چہرا سفید داڑھی اور سر پر ہرے
رنگ کے عمامہ والی ذات پر پڑی جو اپنے رفیق سفر کے ساتھ جمال پور علی گڑھ کی طرف سے مسلم یونیورسٹی کے درودیوار پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے آہستہ آہستہ جانب اسٹیشن گامزن تھی، دیکھتے ہی لگا کہ یہ ضرور کوئی عالم باعمل اور صوفئ باصفا ذات ہے، میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا، جناب والا نے آشنا لہجے میں سلام کا جواب دیا، میں نے چائے پینے کی درخواست ک،ی بلا تامل وتکلف ہمارے ساتھ میں بیٹھ گئے، چائے پینے لگے اور باتیں کرنے لگے اس دوران چائے بھی ختم ہو چکی تھی اور سورج کی روشنی بھی دھیمی پڑنے لگی تھی اس لئے ہم لوگ اپنی اپنی منزل کی طرف چلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چلنے لگے تو مہمان ذی وقار نے عطر خس کی ایک شیشی ناچیز کو عنایت کی، اور رسمی جملے’’ ان شاءاللہ پھر ملاقات ہوگی‘‘کہہ کر ہم لوگ ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے لیکن ان کی سادگی اور نرم نرم بولی میرے دل ودماغ پر نقش کر گئی اس وقت نہ تو میرے پاس موبائل فون تھا اور نہ شاید ان کے پاس کہ جس کے ذریعے ملاقات وگفتگو کا سلسلہ جاری رہتا اس لئے ذہن سے اس ملاقات کے نقوش مٹنے لگے تھے کہ اچانک ایک دن میرے پاس سید مصطفی علی صاحب (جمال پوری علی گڑھ ) دارالعلوم احمدیہ السنیہ قنوج کے سیمینار کا دعوت نامہ لے کر( شعبہ تاریخ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) آئے اور بضد ہوئے کہ آپ کو اس سیمینار میں شریک ہونا ہے میں نے ان کے اصرار پر دعوت قبول کر لی۔
حسب پروگرام جناب سید مصطفی علی صاحب کے ہمراہ بذریعہ کار علی گڑھ سے قنوج پہونچے، ساتھ میں کچھ اور بھی حضرات تھے جو اسی سیمینار میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے، جب دارالعلوم احمدیہ السنیہ پہونچے تو نگاہ ایک نورانی چہرے اور روشن پیشانی والی ذات پر پڑی ذہن نے رہنمائی کی اور علی گڑھ میں ہونے والی ملاقات کی یادیں تازہ ہوگئیں، یہ وہ ذات تھی بحر العرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندي علیہ الرحمۃ والرضوان کی جن سے یہ میری دوسری ملاقات تھی۔
بہرحال! ضروریات سے فارغ ہو کر اور ناشتہ وغیرہ کھا کر ہم لوگ سیمینار میں شریک ہوئے، سیمینار ١٠بجے دن میں شروع ہو کر شام کے ٥بجے ختم ہوا درمیان میں نماز ظہر اور ظہرانہ کا وقفہ رہا ،پروگرام ختم ہونے کے بعد ہم لوگ علی گڑھ کے لئے روانہ ہونے لگے تو مفتی صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنے دست مبارک سے ہم لوگوں کو عطر کا تحفہ دیا ،اس وقت میں نے انھیں علی گڑھ میں ہونے والی ملاقات اور عطر کا تحفہ دینے والی بات یاد دلائی گلے سے لگا کر کہنے لگے ڈاکر صاحب! اب ملاقات ہوتی رہے گی ۔
تب سے لے کر آپ کے وصال تک قنوج میرا آنا جانا رہا، سالانہ سیمینار میں شریک تو ہوتا ہی تھا اس کے علاوہ بھی جب وہ کوئی پروگرام کرتے یا کسی کام کا منصوبہ بناتے یا طلبہ ومدرسین کے لئے تربیتی پروگرام کرتے تو ناچیز کو بھی بلاتے ،جہاں پر ہم لوگ ٹھہرے ہوئے ہوتے تشریف لاتے ،دیر تک باتیں کرتے، بہت سی باتوں اور منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتے جب کہ وہ خود صاحب بصیرت اور واضح منصوبہ بنائے ہوئے ہوتے، یہی ان کی عجز وانکساری دلوں کو جیتنے والی پیاری پیاری بولی لوگوں کو گرویدہ کرلیتی ، ان کی انھیں باتوں نے مجھے بھی ان سے قریب کیا اور قریب ہوتا گیا۔
٢٠٠٠ء میں پہلی ملاقات ہوئی اور ٢٠١٩ء تک ہوتی رہی، اس دوران میں نے ان کی بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے صحت میں تو تبدیلی دیکھی مگر ان کے بول چال حسن اخلاق اور معاملات ومعمولات میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، وہ حد درجہ منکسرالمزاج تھے معمولات کے سخت پابند اور طریقت کے بلند مرتبہ پر فائز تھے ان کی ستودہ صفات میں ایک صفت یہ بھی تھی کہ آپ جس شخص سے پہلی ملاقات میں جس حسن اخلاق سے پیش آتے ویسے ہی ہر ملاقات میں اس سے پیش آتے حتی کہ لمبے وقفے کے بعد بھی کسی سے ملاقات ہوتی تو سامنے والے کو اجنبیت کا احساس تک نہیں ہونے دیتے ۔
مفتی صاحب علیہ الرحمۃ جب بھی علی گڑھ آنے والے ہوتے تو ٹیلیفون کرتے اور فرماتے کہ ڈاکٹر صاحب میں فلاں جگہ پر آنے والا ہوں آپ سے ملاقات کی کیا صورت ہوگی ؟کبھی تو میں خود حاضر خدمت ہوجاتا اور کبھی اپنے غریب خانہ پر آنے کے لئے انھیں زحمت دیتا ،ملاقات کے بعد گھنٹوں مذہب،ی علمی اور مسلمانوں کے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ،مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور تہذیبی بگاڑ کا ذکر کرتے اور انھیں دور کرنے کے لئے مشورہ کرتے اور لائحہ عمل تیار کرتے، وہ مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی بے وقعتی اور مفلوک الحالی سے بہت دکھی رہتے اور انھیں دور کرنے کے لئے حیران و پریشان رہتے ۔
آج قنوج اور اس کے اطراف میں لوگوں کے عقیدے میں جو پختگی، مذہبی اور تعلیمی بیداری نظر آرہی ہے وہ آپ کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے، آپ نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور تہذیبی خرابی کو دور کرنے کے لئے اس علاقے میں مدرسے اور اسکول قائم کیے ،دینی تعلیم کے لئے قنوج میں الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ (برائے طلبہ )اور جامعۃ المحصنات (برائے طالبات )اور عصری تعلیم کے لئے سرہند پبلک
اسکول آٹھویں درجہ تک اور وارثی پبلک اسکول بارہویں درجہ تک قائم ک،یے جن میں قوم کے بچے اور بچیاں تعلیم پارہے ہیں اور خاطر خواہ فائدہ اٹھا رہے ہیں ،اس کے علاوہ دور دراز علاقوں میں بھی کئی ادارے قائم کیے اور بہتوں کی سرپرستی فرمائی۔
آپ کے اگلے منصوبے میں یونیورسٹی قائم کرنا تھا جس میں مسلم نوجوانوں کو ایمان وعقیدہ پر مضبوطی سے قائم رکھ کر عصری علوم سے آراستہ کرنا تھا اس کے لئے آپ نے اچھی خاصی زمین بھی خرید لی تھی ،اللہ تعالیٰ ان کے وارثین کو اس منصوبہ کو پورا کرنے اور اس مشن کو آگے بڑھانے کی فکر وہمت عطاکرے اور کام میں ان کی مدد فرمائے۔(آمین)
ہندوستان کی خانقاہوں کےموجودہ حالات کو دیکھ کر عجیب سی مایوسی ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر خانقاہیں خوانگاہ بن کر رہ گئی ہیں ،کیا یہ وہی خانقاہی نظام ہے جس کو حضرت خواجہ غریب نواز، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت خواجہ شیخ فرید الدین گنج شکر،حضرت شیخ بہاوالدین زکریا ملتانی، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ابو البرکات شیخ علاء الحق پنڈوی، حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمہم اللہ اجمعین نے قائم کیا تھا ؟تو اس کے جواب میں ہر شخص یہی کہہ سکتا ہے، نہیں ہرگز نہیں،وہ نظام موجودہ خانقاہی نظام سے مختلف تھا۔
حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ بھی موجودہ خانقاہی نظام ، بے عمل پیران اور ان کے طریقہ کار سے کبیدہ خاطر تھے اور اس کا اظہار وہ اپنی تقریروں ،تحریروں اور مجلسی واعظوں میں کیا کرتے تھے،چنانچہ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں ’’اب خانقاہی نظام قریب قریب ختم ہوگیا ہے اگرچہ نام کی خانقاہیں باقی ہیں اور خانقاہوں کے نام پر مشائخ زمانہ کے یہاں عمارتیں بھی تعمیر ہورہی ہیں، مگر نہ سلوک ہیں اور نہ ذکروفکر کے ذریعہ منازل و مراحل طے کرانا ہے، اسی لیے معروف خلوتیں ختم ہوگئیں‘‘(تصوف اور اس کے فوائد صفحہ 537)
اسی طرح بے عمل پیروں کے بارے میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:’’ ان فتنوں سے کچھ کم آج کی پیری ومریدی کا فتنہ نہیں ہے، پیری اور مریدی یا بیعت و ارشاد کا خاص مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو احکام شرعیہ و عقائد حقہ سے آراستہ کیا جائے اور تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کر کے باطن کو تجلیات و انوار اور معرفت و عرفان کا مسکن بنایا جائے اسی لیے ضروری تھا کہ پیر حضرات علوم ظاہری سے آراستہ اور ان پر
عمل پیرا ہوتے لیکن اب بالکل اس کے برعکس ہے اکثر پیر تو علم سے کورے ہیں وہ دوسروں کو کیا سکھائیں گے، اور جن کے پاس تھوڑا یا زیادہ علم ہے ان میں سے اکثر عمل سے خالی ہیں اور جو تھوڑا بہت عمل بھی کرتے ہیں ان کے اکثر میں دوسروں کی اصلاح کی تربیت کا نہ جذبہ ہے اور نہ فرصت ۔(تصوف اور اس کے فوائد صفحہ نمبر 639)
مگر حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان کو دیکھنے اور ان کی خانقاہ میں جانے کے بعد اندازہ ہوتا کہ قدیم خانقاہی نظام اور مزاج کا جو ذکر کتابوں میں ملتا ہے وہ باتیں ان کی خانقاہ اور ان کے مزاج میں ملتی ہیں۔ یقیناً وہ فی زماننا اس کے علمبردار تھے اور اسلاف کی یادگار، یہی وجہ ہے کہ وہ قدیم خانقاہی نظام اور مزاج کو بحال کرنا چاہتے تھے ،جس کے لیے انہوں نے ذکرومراقبہ کی مجلسیں قائم کیں جس میں سلوک و معرفت سے وابستہ افراد شریک ہوتے، ذکرواذکار کرتے اور اپنے اپنے قلب کو مصفی اور مزکی کرتے اور خود حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ شریک محفل ہو کر ان کی تربیت و اصلاح فرماتے۔
ممکن ہے اذکارو اشغال کی محفلیں ہندوستان کی دوسری خانقاہوں میں بھی سجتی ہوں مگر فی الوقت شیخ طریقت کا شریک محفل ہوکر ذکر و مراقبے کی تعلیم و تربیت دینا شاید ہی کسی اور خانقاہ میں ہو اس صورت میں فرد واحد تو حامل اذکارواشغال ہوجاتا ہے مگر افراد تیار نہیں ہوپاتے ہیں، اللہ تعالی حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کی روح پاک کو مقدس روحوں کے ہمراہ اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آپ کے مرقد پر انوارو رحمت کی بارشیں برسائے اور آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ان کے وارثین کو ہمت و حوصلہ اور اپنی خاص توجہ و اعانت فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کی تدریسی خدمات
مولانا عبد العزیز آفاقی مجددی
خا دم التدریس الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج
قارئین کرام !عنایت الٰہی جب کسی بندے کی یاوری کرتی ہے تو اس کو ہر فضل وکمال میں اس کے اقران و احباب پر فوقیت عطا فرماتی ہے اور اسے ہر وصف میں قابل رشک اور بے مثال بنا دیتی ہے ،
اس کے ہر قول و فعل اور حال میں تائید غیبی شامل ہوجاتی ہے ۔
حضور بحر العرفان علامہ مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ کی مبارک زندگی کا ہر پہلو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ان پر مولائے کریم کا فضل خاص تھا،اسی وجہ سے وہ اپنے ہر وصف میں انوکھے نظر آتے ہیں،میں اس وقت ان کی تدریسی خدمات کے تعلق سےچند باتیں سپرد قرطاس کررہا ہوں جس سے قارئین یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ واقعی مبدأ فیاض نے انہیں بڑی فراخی سے نوازا تھا اور ان پر رب ذو الجلال کا فضل خاص تھا ۔
ماہ محرم الحرام ۱۳۹۸ ھ،میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان نےجامع اشر ف کچھوچھہ مقدسہ سے سند حدیث اور دستار فضیلت حاصل کرنے کے بعد تدریس کی طرف رخ کیا توکسی ذریعہ سے جامعہ عربیہ ناگپور میں تقرری کی مکمل بات ہوگئی ،اور حضرت قبلہ کا بعد رمضان ناگپور جانے کا پورا ارادہ بن چکا تھا، مگر اسی دوران جامع اشرف سے ایک خط موصول ہو ا جو حضرت قبلہ کے دورہ حدیث کے ساتھی مولانا کمیل احمد اشرفی صاحب کا ارسال کردہ تھا ،خط میں ایک جگہ کچھ اس طرح سے عبارت تحریر تھی کہ’’ حضرت اظہار اشرف صاحب نے فرمایا ہے کہ تم آئندہ سال جامع اشرف پڑھانے کے لئے آجائو‘‘ اسی وقت حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان نےاحترام سادات کرام ،احسان شناسی اور مادر علمی کے ساتھ وفاداری کی وجہ سے یہاں کی تنخواہ ناگپورکی تنخواہ کے چوتھائی سے بھی کم ہونے کے باوجود بہ سر و چشم قبول کرلیا،اورناگپور والوں سے معذرت کرکے جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کا عزم مصمم کر لیا ۔
اس طرح ماہ شوال ۱۳۹۹ھ، سے شعبان ۱۴۰۱ھ تک مکمل دو سال ہمارے سرکار حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ نے جامع اشرف میں علمی و تدریسی خدمات انجام دیں ۔
تدریسی دور کا آغاز ہوا، چونکہ ہمارے حضرت قبلہ علیہ الرحمہ کی تدریس کا پہلا سال تھا اسی لئے ابتدائی کتب آپ کو پڑھا نے کے لئے دے دی گئیں، لیکن (سبحان اللہ ) آپ کی خدا داد صلاحیت، افہام و تفہیم میں خاص مہارت اور عدیم المثال تدریسی لیاقت دیکھ کر چند ہی ماہ میں حضرت مہتمم صاحب قبلہ اس قدر مانوس و متأثر ہوئے کہ مزید اوپر درجات کی کچھ کتب بھی پڑھانے کو دے دیں۔اور اسی سال اتفاق سے جامعہ کے ایک استاذ کسی وجہ سے اچانک درسگاہ چھوڑ کر چلے گئے اور ان کی جگہ پر کسی دوسرے
مدرس کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے حضور بحر العرفان قبلہ علیہ الرحمہ نے خود ہی ہمت باندھ لی اور وہ ساری کتابیں جو مولانا موصوف پڑھاتے تھے خود ہی پڑھانے لگے، اب کتابوں کی کثرت کی وجہ سے عالم یہ تھا کہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ و الرضوان دونوں وقت بڑی محنت سےپڑھاتے تب جاکر ساری کتب کا درس ہوپا تا ۔
بفضلہٖ تعالیٰ ایک طرف تدریس و تفہیم کے حسن انداز سے طلبہ حد درجہ مطمئن رہتے، تو دوسری طرف حضرت قبلہ کی رات دن کی محنت اور خدمت دین میں ایسی لگن دیکھ کر حضرت مہتمم صاحب قبلہ کی خوشیوں کی کوئی حد نہ رہی، پھر مدرسہ کی وفاداری، سادات کرام کےادب و احترام، اور مدرسہ یا مدرسہ کے متعلقین پر کبھی تنقید نہ کرنے کی وجہ سے حضرت مہتمم صاحب قبلہ ہر موقع پر حضور بحر العرفان کو ترجیح دینے لگے ۔
رب کریم کے فضل و کرم سے جامع اشرف میں تدریس کے دوران خانوادے کے نوجوان سادات کی تعلیمی خدمت کا موقع بھی حضور بحر العرفان صاحب علیہ الرحمہ کوخوب ہاتھ آیا، جن میں خصوصیت کے ساتھ حضرت سید نظام میاں صاحب، و سید حسنین میاں صاحب، و سید اخترمیاں صاحب، سیدحسن میاں صاحب جائسی، نیز حضرت سید علیم اشرف صاحب جائسی و سید راشد میاں مکی صاحب (جوحضرت سید مدنی میاں صاحب کے بھتیجے ہیں ) و غیرہم نے حضرت قبلہ علیہ الرحمہ سے علمی استفادہ کیا ہے ۔
۱۴۰۲ھ میں حصول روحانیت و طریقت کے لئے اپنے مرشد گرامی وقارعارف باللہ حضرت الحاج مولانا شاہ احمد رضا خانصاحب نقشبندی دام ظلہ العالی کے حکم پر جامع اشرف سے مستعفی ہو کر حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ مدرسہ گلشن رضا چھپیہ بازار ضلع مہراج گنج یوپی، (جو پہلے ضلع گورکھپور میں تھا)تشریف لے آئے اور وہاں تعلیمی و تدریسی کام نہایت پر وقار انداز میں شروع فرمایا اور مدرسہ گلشن رضا میں بھی فضیلت تک کی ساری کتب کما حقہ پڑھاتے رہے ، نیز تدریس کےساتھ ساتھ مدرسہ کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی انتھک جد و جہد کرتےرہے،چھپیہ میں تدریس کےدوران جن خوش نصیب طلبہ نے حضور بحر العرفان صاحب علیہ الرحمہ سے با ضابطہ علمی استفادہ کیا ان میں سے چند یہ ہیں ، حضرت مولانا رئیس الخیری صاحب (مخدوم زادۂ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ) حضرت مولانا اخلاق احمد مجددی صاحب(برادر صغیرحضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ)،مولانا اسعد خیری صاحب،مولانا مظہر عالم صاحب
رسول آبادی،مولانا خوشنود عالم بھڑونسہ،مولانابہائوالدین صاحب جونپوری،مولانا غیاث الدین صاحب پرسہ خُرد مہراج گنج،وغیرھم۔
مدرسہ گلشن رضا چھپیہ میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ نے شوال ۱۴۰۲ ھ سے شعبان ۱۴۰۵ ھ تک مسلسل تین سال سخت پریشانیوں کے ساتھ صرف اپنے مرشد عالی مرتبت کی رضا جوئی کے لئے تدریسی خدما ت انجام دیں ،پھر کچھ وجو ہ کی بنا پر وہاں سے مستعفی ہو کر اپنے گھر تشریف لے آئے۔
اور ۱۴۰۵ھ ماہ مبارک رمضان سے قبل ہی قنوج تشریف لائے او ر مسلسل محنت و کوشش اور خاص فضل مولیٰ جل و علا سے اسی سال گہوارۂ علم عرفان الجامعۃ الاحمدیہ کی بنیاد رکھی گئی اور باضابطہ تعلیمی ، تدریسی اور تعمیری کام شروع ہوگیا ۔
چونکہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی علمی صلاحیت کا شہرہ بہت ہو چکا تھا اسی لئے پرانے شاگردوں کے ساتھ بہت سےاونچی جماعتوں کے نئےطلبہ بھی حضرت کے قیام قنوج کی خبر سنتے ہی حصول تعلیم کے لئے قنوج آگئے اس طرح ابتدا ہی سے الجامعۃ الاحمدیہ میں متوسطات تک کی تعلیم شروع ہوگئی، اور کچھ ہی عرصہ بعدفضیلت تک کی باضابطہ تعلیم ہونے لگی۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان سارے اسٹاف سے زیادہ خود پڑھانے میں دلچسپی رکھتے تھے، ۱۴۰۵ھ سے۱۴۴۰ھ تک مسلسل ہر سال بخاری شریف اور مشکوٰۃ شریف کا درس لازمی طور پر دیتے تھے، اس کے علاوہ دیگر کتب مختلفہ کبھی ملاحسن،تلخیص المفتاح،شرح عقائد،کافیہ،شرح جامی،مرقات الفرائض، السراجی، المعقتدالمنتقد، و غیرھاکتب کے علاوہ بہت ساری کتب احادیث وتفاسیر وفقہ کادرس کتابیں بدل بدل کرجاری رہتاتھا۔
اور ادھرتقریباًدس بارہ سال سے زیادہ تر بخاری شریف ، مشکوٰۃ شریف،المعقتد المنتقد، اور شرح جامی کا درس پابندی سے دیتے رہے ہیں،کئی مرتبہ لوگوں نے رائے دی کہ حضور اب پڑھانا بند کردیں تو جواباً ارشاد فرماتے کہ آخری سانس تک درس حدیث دینا ہمارے مشائخ علیہم الرضوان کا معمول رہا ہے،تو ہم بھی ان شاء اللہ آخر عمر تک بند نہیں کریں گے ۔
پڑھانے کی فکر اور لگن کاحال یہ تھا کہ اگر چہ ہزارہا کیلو میڑ کا سفر کرکے واپس تشریف لائے ہوں،خواہ کتنی ہی راتوں کے جاگے ہوئے ہوں ، طبیعت کتنی ہی نڈھال ہو،اگرچہ رات بھر سفر
کرکے فجر کے وقت ہی گھر پہونچے ہوں مگر کبھی بھی درس میں ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ انداز تدریس ایسا کہ کتنا ہی کند ذہن طالب علم سامنے ہوتا مگر اس حسین پیرائے میں بیان فرماتے کہ اس کے بھی فوراً سمجھ میں آجاتا ۔علمی استحضار کا یہ عالم تھا کہ کبھی بھی کوئی بھی طالب علم کیسا بھی مشکل سے مشکل مسئلہ یا کٹھن سے کٹھن سبق پوچھنے کے لئے آتا تو حضور قبلہ علیہ الرحمہ بلاتامل بغیر غور و فکر کئے بڑے آسان انداز میں اس کو سمجھا دیا کرتے تھے ۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ایک مفتی صاحب بنارس سے تشریف لائے ہوئے تھے اور ان کو کسی مسئلہ میں قرآن پاک سے استدلال کرنا تھا مگر یہ گتھی ان سے سلجھ نہ رہی تھی میں اس وقت اپنےحضرت قبلہ کی درسگاہ میں مشکوٰۃ شریف پڑھ رہا تھا وہ آئے اور آکر اپنا معاملہ حضرت کی بارگاہ میں پیش کیا ،سوال کو مکمل سننے کے بعد فوراً مجھے میرے حضرت نے حکم فرمایا کہ جائو کسی سے تفسیربیضاوی شریف لے آئو، میں آناً فاناً جاکر تفسیر بیضاوی شریف لے آیا ، حضرت قبلہ نےکتاب اپنے ہاتھ میں نہ لی بلکہ مجھ سے فرمایا کہ فلاں صفحہ کھولو اور فلاں فلاں سطر پڑھواورحضرت مفتی صاحب کو دکھائو، ہمارے حضرت کی اس قدر ذہانت اور حاضر جوابی سے مفتی صاحب حیرت زدہ رہ گئے،کہنےلگےحضرت میں بہت دنوں سے اس مسئلے میں غور کر رہا تھااور بہت پریشان تھا مگر آپ نے تو چٹکیوں میں حل کردیا ۔
اسی طرح ایک مرتبہ جس وقت علامہ مشتاق احمد صاحب جنکو اما م المنطق کہا جاتا تھا، اور مولانا مناظر صاحب جن کو معقولات میں بڑی دسترس حاصل تھی الجامعۃالاحمدیہ میں فرائض تدریس انجام دے رہے تھے، چونکہ اس دور میں معقولات میں گہرا علم رکھنے والے کو ہی عالم تصور کیا جاتا تھا باقی اور کسی کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی، چونکہ ہمارے حضرت بہت سادگی میں رہتے تھے اور زیادہ رجحان تصوف کی طرف تھا اس لئے علامہ مشتاق صاحب کے بعض شاگردوں کو یہ سوجھاکہ چلو آج حضرت مہتمم صاحب کے پا س چلتے ہیں اور ان سے منطق کی فلاں فلاں عبارت پڑھانے کو کہیں گے دیکھیں پڑھا پاتے ہیں یا نہیں، اسی پلان کے تحت حضرت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورکہنے لگے کہ حضرت! ہم لوگوں کو فلا ں فلاں عبار ت کا مطلب علامہ مشتاق صاحب کے پاس ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آیا ہے اب آپ ہی سمجھا دیجئے ، ان کی گفتگو سننے کے بعد حضرت نے بلا تامل منطق کی سخت ترین عبار ت کو اس انداز میں پڑھا اور اس کی وضاحت اس حسین پیرائے میں کردی کہ علامہ صاحب کے شاگرد انگشت بہ دنداں رہ گئے اور
شرم سے پانی پانی ہوگئے اور جب کمرے سے باہر نکلے تو ہر ایک یہی کہتا نظر آرہا تھا کہ ہم تو جھوٹ میں کہہ رہے تھے کہ علامہ مشتاق صاحب کے پاس یہ سمجھ میں نہیں آیا مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسا آج اس عبارت کا خلاصہ مفتی آفاق صاحب نے کیا ہے اور اتنی کٹھن بات کو اتنے آسان الفاظ میں ہمارے ذہن و دماغ میں اتار دیا ہے آج تک علامہ مشتا ق صاحب ایسا کبھی نہیں پڑھا سکے ہیں۔ (سبحان اللہ ) یہ ہے شان حضوربحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کی ۔
جہاںالجامعۃالاحمدیہ سےہزاروں افراد علم و دانش کی شمع سے روشنی حاصل کر کے جاچکے ہیں، وہیں الحمد للہ راقم الحروف کو بھی باقاعدہ و باضابطہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کی بارگاہ مقدسہ میں رہ کر علم ظاہر و باطن حاصل کرنےکی سعادت نصیب ہوئی ہے۔