مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتحضور بحر العرفان ایک بے مثال مربی

باب ۵۳ از ۶۵صفحات ۳۶۱–۳۶۵

حضور بحر العرفان ایک بے مثال مربی

دا ر العلوم کی ترقی مثالی حیثیت کی حا مل ہے ،امید ہے کہ حضرت قبلہ اور ان کے مشا ئخ کی تو جہات کی بدو لت آنے والے وقت میں یہ دین کا انو کھا اور نرالا مدرسہ ہو گا ۔ اور رشد و ہدا یت ۔ علما و صلحا اور اسلام و سنیت کے داعیوں کاایک عظیم مرکز ہو گا ،یہاں کے اسا تذہ و طلبہ کی نیکی اور اخلاق حسنہ سے میں بے حد و بے پناہ متا ثر ہوا۔مولی کریم کی با رگا ہ میں قلب کی گہرا ئیوں کے سا تھ عرض ہے کہ حضرت پیر صاحب قبلہ کو عمر طویل نصیب ہو اور ان کے بچوں کو ان کا سچا جا نشین بنا ئے اورہر شر و فتنہ سے محفوظ رکھے۔آمین

اظہارمحبت ،تقریظ بر،،تذکرہ سادات لونی شریف سوجا شریف :

بحرالعرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی

جامعہ احمدیہ قنوج یوپی

بِاِسْمِہِ تَعَالیٰ

حَامِدًا وَّ مُصَلِیًّا وَّ مُسَلِمًا

آج اسلام و سنیت اور بارگاہ الٰہی کے مقربین وانبیاخصوصاً حضور سید الانبیاﷺ اور اولیا و اصفیا علیہم الرضوان کی مقدس ذاتوں پر عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر کفار و مشرکین اور فرق باطلہ کی طرف سے جس قدر رکیک حملے ہو رہے ہیں انھیں حساس اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں۔ دوسری طرف خود علما کی علم سے دوری اور ان برگزیدہ بندوں کی عظمتوں سے ناواقفیت، ان کے ضعف ایمان اور اعمال صالحہ سے دوری کا سبب بنی ہوئی ہے۔

آج امت مسلمہ عالمی سطح پرجن حالات سے دوچار ہےاور جن امراض کی شکار ہے اس کا سب سے اچھا علاج گھر گھر علم پہنچانا اور صالح علما اور بالغ نظر داعیوں کا وجود ہے۔ مخدوم گرامی مرتبت شیخ طریقت عالم شریعت حضرت سید غلام حسین صاحب مد ظلہ نے باڑ میر اور قرب و جوار کے اضلاع میں جو علمی و اصلاحی اور تحفظ سنیت و اشاعت مسلک کا جو کام کیا ہےوہ اس دیار میں اپنی مثال آپ ہے۔ نہ معلوم کتنی مساجد و مدارس میں آپ کے جامعہ کے فارغین امامت و تدریس کے ذریعہ تحفظ سنیت کا کام کر رہے ہیں اور آپ نے بیعت و ارشاد کے ذریعہ نہ معلوم کتنے ہزار لوگوں کے ایمان بچائےہیں۔

حضرت سید موصوف مد ظلہ نے اپنے علم و عمل، حسب و نسب، قومی و ملی خدمات، با رعب شخصیت،

فراخ دلی اور ہر مشرب و سلسلے کے مشائخ و علما سے محبت و الفت وغیرہا اوصاف و کمالات کی بدولت جو قبول عام اس دیار میں حاصل کیا اس کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ لوگ انھیں سر کاتاج بناتے، دل میں جگہ دیتے، ان کی درازیِ عمر کی دعائیں کرتے اور جو ممکن تعاون ہوتا وہ کرتے، مگر اس کے بجاے بعض نےوہی کام کیا جو عام علما و مشائخِ دنیا کر رہے ہیں جنھیں کسی کی ترقی نہیں بھاتی ہےاور کبھی بغض و حسد اس منزل پر لے آتا ہے کہ وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کی اپنے نبیﷺ کے صدقے حفاظت فرماتا ہے اور لوگوں کاحسد ارباب فضل کی ترقی کاباعث ہو جاتا ہے۔حضرت سید موصوف صاحب مد ظلہ کی ترقی لائق دید ہے۔ آپ کی روش عام علما و مشائخ کی روش سے ہمیشہ دور رہی اور کبھی تصنع و بناوٹ اور خود کو چمکانے اور بڑے بڑے القاب اور مدح کی خواہشوں سے محفوظ رہے، مگر بد خواہوں اور حاسدین نے جو حالات پیدا کر دیے ان کے تناظر میں خود حضرت پیر سید صاحب اور ان آبا و اجداد کی شائستہ خدمات اور اوصاف و کمالات کو تحریری جامہ پہنا کر کارناموں کو محفوظ کر دینا اور سنجیدہ حضرات تک پہنچانا ان حضرات کا بڑا کارنامہ ہے۔ جنھوں نے یہ خدمت انجام دی ہے خاص کر حضرت مولاناعبد الرحیم صاحب، شیخ الحدیث دار العلوم فیض صدیقیہ ، سوجا شریف جنھوں نے اس تعلق سے نہایت جاں فشانی و محنت و مشقت سے کام لیا اور اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ جزاھم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بصد نیاز التجا ہےکہ حضرت پیر صاحب قبلہ کا سایہ دراز فرمائے اور صحت و عافیت کے ساتھ رکھے اور ان کی اولاد و امجادکو ان کا سچا وارث اور جانشین بنائے۔ دوران سفر عزیزم مولانا آفتاب عالم سلمہٗ کی خواہش اور یاددہانی پر یہ چند کلمات قلم بند کر دیے ۔ خیال رہے! حضرت پیر صاحب قبلہ اور ان کی خدمات و اوصاف کومیں نے بہت قریب سے دیکھا ہے اور حق سبحانہ نےمجھے ہر ایک کی خوبیوں کا اعتراف کرنے اور لائق شخصیات کے تعارف کا جذبہ عطا فرمایا ہے تاکہ لوگ سچے پیشواؤں کو پہچانیں۔ جی تو بہت کچھ لکھنے کو چاہتا تھا، لیکن عدیم الفرصتی دامن گیر رہی؛ اس لیے اسی پر اکتفا کیا۔فقط

آفاق احمد مجددی ، جامعہ احمدیہ، قنوج، یو پی

بتاریخ ۱۳؍جمادی الآخرہ ۱۴۳۸ھ/ مطابق ۱۲؍مارچ ۲۰۱۷ء

٭شیخ الحدیث جامعہ صدیقیہ، سوجا شریف

حضور بحر العرفان ایک بے مثال مربی

مولانا محمد نورعین آفاقی ابن الحاج معین احمد آفاقی٭

حضور بحر العرفان علیہ الرحمة و الرضوان کے مراتب تو اولیاء کرام ہی بیان کر سکتے ہیں مگر چند باتیں میں بھی قلم بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اس نیت سے کہ حضور مرشدی الکریم کے ثناخوانوں میں میرا بھی نام ہوجائے۔

حضور کی شفقتیں تو سب پر عام ہیں مجھ ناچیز پر بھی بڑی شفقتیں ہیں جو بیان سے باہر ہیں کیونکہ میرے والد صاحب کا ممبئی رہنا پھر حضرت سے ملاقات اور پھر اتنی قربت کہ میں نے دیکھا حضور بحر العرفان اکثر باتوں میں ان کو متوجہ کرتے کبھی کہتے معین بھائی وہاں چلنا ہے تو کبھی معین بھائی یہ ٹھیک ہے تو کبھی معین بھائی دیکھ لینا وغیرہ وغیرہ فرماتے اکثر میرے والد صاحب کو متوجہ کرتے ہی رہتے۔

میرے والدین کے مجھ پر یوں تو بہت احسانات ہیں مگر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے مجھ کو حضور بحر العرفان کے قدموں میں ڈال دیا ورنہ ناجانے ہمارا کیا حال ہوتا میں اس بات کو صد سالہ جشن امام احمد رضا خان علیہ الرحمة و الرضوان کے موقع پر مجھ پوروہ میں بیان کرتے ہوئے رونے لگا اسی وقت میں نے عوام کو ایک ذہن دیا کہ اپنے بچوں کو ایک اللہ والے کے حوالے کر دو۔

جب میں جماعت رابعہ میں تھا تو جامعہ کی مسجد طیبہ کی امامت و خدمت میرے ذمہ کی اور دعوت و تبلیغ کی خدمت میں بھی حصہ لے نے کا حکم دیا اور قافلے میں پابندی اور طلبہ کو دعائیں یاد کرانے کا بھی حکم عنایت فرمایا۔

یہی پیغام دو آفاق دنیا میں رہو جب تک

نبی کے عشق میں کوشش کرو خود کو مٹانے کی

اس شعر کے مطابق حضور بحر العرفان اپنے ہر چاہنے والے کو سچا عاشق رسول دیکھنا چاہتے تھے۔

حضور بحر العرفان نے میرے دور طالب علمی ہی میں میرا اور اپنے بڑے شہزادے حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب کا ذہن بنا دیا کہ تم دونوں لوگ صبح فجر میں صدائے مدینہ لگایا کرو الحمد للہ ہم دونوں

ایک عرصہ تک صدائے مدینہ لگاتے رہے حضرت بہت خوش ہوتے تھے۔

جب میں جماعت سادسہ میں حضرت کی درسگاہ میں مشکوة پڑھنے گیا تو درس کے اختتام پر حضور مرشدی الکریم کے لیے حقہ تازہ کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا ان دنوں میں جب بھی حقہ پینا ہوتا تو فرماتے نورعين سے کہو حقہ تازہ کر دے۔

اور جب میری فراغت 2008عیسوی میں ہوئی تو میں نے ایک سال اور شرح جامی کا درس حاصل کیا اور مرشد کی خدمت بھی کرتا رہا حضور بحر العرفان اس درمیان مجھ سے مدرسے کے ایک شعبے کی بات کرتے اور فرماتے تم کو دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ہے۔

ایک سال کے بعد میں نے سوچا کہ کسی دور شہر میں دین کا کام مرشد کی سرپرستی میں کرتا رہوں گا اور مرشد بھی خوش رہیں گے جب حضرت کو مولانا غلام ربانی کے ذریعے معلوم ہوا کہ میں باہر جانا چاہتا ہوں تو جلال آگیا اور پھر بہت ڈانٹا یہ بھی ان کی محبت ہی تھی اس کے بعد بخوشی فرمایا جگہ تو بہت ہیں لیکن میری مرضی یہ ہے کہ تم مجھپوروہ چلے جاؤ وہاں ایک امام کی سخت ضرورت ہے اور وہابیت بھی بہت ہے مگر تم حکمت سے کام کرنا اگر اچھا نہ لگے تو واپس آجانا۔

ایک دن فرمایا سب کچھ ٹھیک تو ہے میں نے عرض کیا حضور سب تو ٹھیک ہے مگر کچھ سنی وہابیوں سے رشتہ کرتے ہیں اور نکاح کا مسئلہ آتا ہے میں نہیں پڑھا تا ہوں فرمایا کسی وہابی کا نکاح نہ پڑھانا اگر وقت پڑے تو واپس آجانا۔

اللہ کا شکر ہے کہ کتنے وہابیوں صلح کلیوں وجواریوں شرابیوں نے بحر العرفان کے دست مبارک پر توبہ و بیعت کی اور ایک مجھپوروہ ہی نہیں نا جانے کہاں کہاں حضرت کا فیضان عام ہوا کتنے لوگوں کے ایمان محفوظ ہوئے اور قلوب منور ہوئے۔

جب بھی مجھپوروہ آتے تو بہت خوش ہوتے اور بہت دعاؤں سے نوازتے بہادری کا درس دیتے لیکن آہ! میرے اسٹیج کی زینت ۔

حضور بحر العرفان عليه الرحمة و الرضوان نے حیات ظاہری کا آخری عمرہ 2016 میں ادا فرمایا تھا حسن اتفاق کہ میں بھی اپنے والدین سمیت اس عمرے میں شامل تھا ایک دن مکہ مکرمہ میں ایک مفتی صاحب دوران گفتگو مجھ سے بولے حضرت رابعہ کےلیے کعبہ چل کے گیا میں نے کہا کہ یہ اینٹوں اور

پتھروں سے بنا ہوا کعبہ نہیں گیا بلکہ نورانیت کعبہ یا حقیقت کعبہ مراد ہے۔

تو انہوں نے کہا نہیں یہی اینٹوں اور پتھروں والا ہی گیا تھا میں چپ ہو گیا اور سوچا حضور مرشدی الکریم سے یہ عرض کروں گا لیکن مکہ مکرمہ میں تو موقع مل نہ سکا آخر جب مدینہ منورہ پہونچے اور بدر شریف جانے لگے تب ہی میں نے بس میں حضور مرشدی الکریم سے عرض کیا.

تو میرے مرشد نے ارشاد فرمایا کہ کعبہ ایک ولی کی طرح ہے جس طرح ایک ولی کئ جگہ ایک وقت میں جاسکتا ہے ایسے ہی کعبہ بھی ایک وقت میں کئی جگہ جاسکتا ہے اور حوالہ دیا المعتقد شریف کااور فرمایا اس سے حقیقت کعبہ ہی مراد ہے نا کہ یہ اینٹوں اور پتھروں سے بنا ہوا کعبہ مراد ہے اس وقت میرے دل و دماغ میں وہ حضرت کے فرمانے کے انداز کا منظر گھوم رہا ہے۔

اللہ اكبر کیا شان ہے میرے مرشد کی بدر شریف کی واپسی پر وہ مفتی صاحب مجھے ہوٹل میں جب ملے تو میں نے ان سے سب کچھ بیان کیا تو وہ چپ رہے اور بغور سنتے رہے۔ اب حضور کی بہت یاد آتی ہے

میں امید کرتا ہوں کہ شہزادگان حضور بحر العرفان ہم خادموں کو اپنے والد صاحب کے طریقے پر اپنے احسانات سے محبتوں سے دعاؤں سے نوازتے رہیں گے

بحسب حکم خلیفہ بحر العرفان صوفی آفتاب عالم مجددی صاحب و قاری ضیاء القمر صاحب و مولانا عبدالعزیز صاحب یہ چند سطور وجود میں آئیں ۔

ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے مخدوموں کا بھی ویسا ہی ادب کریں گے جیسا اپنے مرشد کا ادب کرتے تھے۔ اللہ كريم ہمارے مخدوم زادگان کا ہم پر سایہ دراز فرمائے۔

آمین بجاہ طہ ویسین علیہ الصلاۃ والتسلیم

٭پرنسپل الجامعۃ الرضویۃ بركات العلوم (شاخ الجامعۃ الاحمدیۃ )