باب ۴۲ از ۶۵صفحات ۲۹۰–۳۰۵
تصرفات بحر العرفان علیہ الرحمہ
ماسٹر کوثر امام آفاقی گوپال گنج٭
علی گڑ ھ مسلم یونیور سٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ملازمت کرنے کے دوران والد صاحب سے حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پتہ لگا ۔حالانکہ اس وقت ایک آزاد ذہن دنیا دار انسان تھا لیکن نام سے ہی الگ کیفیت محسوس ہوئی ۔جون 2005 ء میں کافی جد و جہد کے بعد حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ سے پہلی ملاقات قنوج میں ہوئی ۔اسی ملاقات میں دل کی کیفیت بدل گئی اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا سے بیزار رہنے لگا ۔ اکتوبر 2005 ء میں بیعت کا شرف نصیب ہوا ۔
نصیحت و کرامت ۔اپریل 2011ء میں بندئہ ناچیز پر حضور بحر العرفان کا خاص کرم ہوا فرمایا ماسٹر صاحب تہجد بلا ناغہ پڑھیں اور اسکے بعد 500 مرتبہ اللہ الصمد پڑھ کر تھوڑی دیر سو رہیں انشاء اللہ اچھے خواب آئیں گے جون 2011 ء میں حضور بحر العرفان کے کرم سے آقائے نامدار حضور احمد مجتبیٰﷺ کا دیدار نصیب ہوا پھر کئی بار ہوا جسکی طرف حضور بحر العرفان قدس سرہ نے پہلے ہی اشارے فرما دئے تھے ۔
فیض و کرامت ۔ دوران سفر سرہند شریف ایک ہفتہ صحبت میں رہنے کا شرف نصیب ہوا واپسی کے بعد میری کیفیت بدلنے لگی قرب خدا وندی ،عشق الٰہی مجدد الف ثانی سے محبت اور دنیا سے بے رغبتی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
فیضان مرشد گرامی قدس سرہ ۔35 سالہ قائم شدہ دارالعلوم اسلامیہ غریب نواز سیاسی تنازع کا شکار ہو کر ختم سا ہو گیا تھا بقاء کی کوئی امید نہ تھی حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کے قدم ناز کی برکت سے 5 سال کے مختصر عرصہ میں باب مجدد الف ثانی غریب نواز مسجد الآفاق دار الاقامہ سید ابو لخیرات لائبریری اور بہت سے دیگر کام انجام پزیر ہوئے تعلیمی میدان میں شعبہ درس نظامی ،اعدادیہ تا رابعہ ، حفط و قرات اور عصری تعلیم جدیج کی بنیاد پر علاقہ میں ایک الگ شناخت رکھتا ہے بے سرو سامانی کے عالم میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کی زندہ کرامت ہے ۔
کرامت و تصرف ۔حضور بحر العرفان سراپا کرامت تھے ۔ میرے تین عزیزوں کی ملازمت ختمہونے والی تھی بچنے کی کوئی صورت نہ تھی ایک صاحب کو تو ملازمت گنوانے کے ساتھ ساتھ جیل اور لاکھوں روپے جرمانہ بھی دینا تھا لیکن حضور مرشد گرامی نے فرمایا تھا ملازمت ان شاء اللہ بر قرار رہے گی پھر ایسا ہی ہوا ۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس مرد قلندر کے بارے میں مجھ جیسا دنیا وی علم رکھنے والا کیا لکھ سکتا ہے جسکو حضورﷺ نے اپنا بیٹا کہا ہو اور قطب جہاں کے منصب پر فائز کیا ہو انکے درجات و مراتب اہل معرفت و نظر ہی جا ن سکتے ہیں ۔
٭مہتمم دار العلوم اسلامیہ غریب نواز، مقام سریاں اختیار گوپال گنج
بحر العرفان ایک قابل تقلید شخصیت
مولانا ممتاز عالم مصباحی٭
کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں ،جو اپنی مثال آپ ہوتی ہیں ،ایسی شخصیتیں زمانہ کے لئے منارئہ نور اور آفتاب رشد و ھدایت ہوتی ہیں ،جن سے بندگان خدا روشنی حاصل کرتے ہیں اور اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارتے ہیں ۔
بلا شبہ ایسی ہی برگزیدہ شخصیات میں سے ایک شیخ طریقت استاذ العلماء ،جامع شریعت و طریقت بحر العرفان حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ مجددی قدس سرہ العزیز ذات ستودہ صفات تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے محاسن و کمالات کا جامع بنایا تھا ۔آپ عالم شریعت بھی تھے اور واقف اسرار و رموز معرفت و طریقت بھی، فقیہ و محدث بھی تھے اور مناظر و متکلم بھی،محقق و مصنف بھی تھے اور واعظ و خطیب بھی مبلغ و داعی اسلام بھی تھے اور مصلح و مربی بھی ۔زہد و ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری آپ کا نمایا وصف تھا،تصنع اور خود رائی و خود نمائی سے ہمیشہ دور رہتے تھے ۔
بہ ایں ہمہ محاسن و کمالات آپ حد درجہ خلیق و ملنسار بھی واقع ہوتے تھے آپ سے جو بھی ملاقات کا شرف حاصل کرتا تھا متائثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا ،مولیٰ کریم نے آپ کو دل درد مند اور سوز دروں سے نوازہ تھا آپ قوم و ملت کے لئے ہمیشہ پریشان اور فکر مند رہتے تھے اور ان کی ترقی کی ممکنہ تدابیر پر غور و فکر کیا کرتے تھے ۔
آپ ۱۹۸۴ میں سرکار غریب نواز قدس سرہ العزیز کے دادا پیر حضرت سیدنا حاجی شریف زندنی قدس سرہ کی نگری قنوج میں تشریف لائے اور ایک چھوٹی سی مسجد سے اپنی خدمات کا آغاز کیا اور مختصر سی مدت میں دار العلوم احمدیہ کے نام سے علم و عرفان کا ایک ایسا پر بہار گلشن آباد فرمایا ،جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ازیں آپ نے قوم مسلم کے بچوں کو دنیاوی سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لئے وارثی انٹر کالیج بھی قائم فرمایا مولیٰ کریم بطفیل رؤف رحیم وﷺ ان کی خدمات کو شرف قبول عطا فرمائے انکے درجات کو بلند فرمائے اور انکے صاحبزادگان خلفاء و مریدین اور تلامذہ کو انکے مشن کو فروغ دینے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ اکمل الصلوۃ و افضل التسلیم ۔
٭ شیخ الحدیث و صدر المدرسین جامعہ رضویہ مناظر العلوم نئی جامع مسجد بابو پروہ کانپور یو پی
بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان اور سفر حرمین شریفین
قاری محمد ضیاء القمر نقشبندی مجددی آفاقی ٭
مرشدنا سیدنا امام ھدیٰ مجدد طریقت بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی قدس سرہ ( متوفی 9/ ذی قعدہ 1440 ھجری مطابق13 /جولائی 2019 بروز سنیچر)نے حرمین شریفین کے سات سفر مبارک فرمائے۔
ان میں تین حج مبارک کے لئے اور چار عمرے کے لئےفرمائے آپنے اپنی مکمل حیات طیبہ خدمت اسلام و سنیت و فروغ تصوف وروحانیت اور جامعہ کی توسیع و تعمیر میں صرف کی کبھی اپنی ذاتی زندگی کے لئے کچھ بھی جمع نہ کیا اس لئے آپ پر حج فرض نہیں ہوا تھا مگرآپکے چاہنے والے اتنے زیادہ رہے کہ ہر سال آپ سے اس مبارک سفر کے لئےگزارشیں کرتے آپ دینی مصروفیات کی وجہ سے عذر فرمادیتے ورنہ مزید سفر مبارک ہوتے حالانکہ شب و روز مدینہ کی یاد میں تڑپتے رہتے اور ہر مجلس میں اکثر اپنے پیارے نبی علیہ السلام کا ذکر فرماتے اور غلاموں کو عشق مدینہ کی تعلیم دیتے عشق مدینہ آپکی رگ رگ میں سمایاہوا تھا جوکہ تحریرات و تقریرات سے عیاں ہے ہر جمعرات کو محفل درودخوانی منعقد فرماتے عشق رسول ﷺ میں اتنا کثرت سے روتے کہ ڈاڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی آج بھی غلامان بحر العرفان اس محفل میں پابندی سے شرکت کرتے ہیں اور اپنے اس محسن اعظم کی پیروی کرکے اپنے سینوں کو مدینہ کے نور سے پرنور کرتے ہیں۔
فقیر آفاقی کو بھی الحمد للہ اپنے پیارے مرشد و محسن و مربی کی با برکت معیت میں حرمین شریفین کے دو سفر مبارک کی سعادت حاصل ہوئی ان اسفار میں آپ کے چشم دیدمعمولات یہاں قلمبند کر رہا ہوں۔
آپکی معیت میں پہلا سفر حج مبارک12 /اکتوبر ۲۰١۲ مطابق ١٦ ذوالقعدہ ١۴٣٣ ۔ھجر ی میں کیا آپکے ساتھ ہم دو لوگ ایک فقیر آفاقی دوسرے انجینئر حاجی ذاکر حسین آفاقی قنوج شریک سفر رہے۔
دوسرا سفر عمرہ مبارک 19/مئی ۲۰١٦ مطابق ١۲ شعبان ١۴٣۷عمرہ مبارک کا یہ سفر آپکا آخری سفر تھا اس سفر مبارک میں آپکے ساتھ تقریبا ۸٥ مرد و خواتین جن میں آپکے اہل خانہ اور مریدین و محبین اور جامعہ کے اساتذہ شریک سفر ہوکر آپکی برکتیں حاصل کرتے ہوئے عمرہ کے شرف سے مشرف
ہوئےآج بھی مرشد گرامی کی یادیں قلوب کو رنجیدہ کرتی ہیں اور مرشد کی شفقتیں، آپکی باتیں اور قدم قدم پر دینی رہنمائی بہت یاد آتی ہے آپکا ہرہر لمحہ عشق مصطفیٰ اور اطاعت مصطفیٰ سے پر ہوتا تھا۔
معمولات حرمین شریفین:
اب آپ کے حرمین شریفیں کے معمولات جن کا آپ کے ساتھ رہ کر مشاہدہ کیا اب تک فقیر کی یاد داشت کے نہاں خانے میں محفوظ ہیں انہیں قلمبند کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں شاید کسی کے کام آئیں اور فقیر کو بھی مرشد کے طفیل برکتیں حاصل ہوجائیں۔
ہمارے حضور علیہ الرحمہ جب سفر مدینہ کا قصد فرماتے تو کافی دن پہلے ہی سے کثرت سے حرمین شریفین کے فضائل و مسائل بیان فرماتے۔ اور سفر سے ایک دن قبل شب میں محفل میلاد شریف منعقد فرماتے اور اس میں نعت و حمد کثرت سے پڑھوا تے اور حرمین شریفین بالخصوص دیار محبوبﷺ کی عظمتوں پر اس انداز میں روشنی ڈالتے کہ عاشقان مصطفیٰ کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں ایسی بافیض محفل میلاد اب فقیر کی نظر میں نہیں آتی جو کہ نور و فیضان سے بھرپور ہو تی تھی اسکے بعد آپ تمام احباب و مریدین سے ملاقات فرماتے اور جانے کے وقت تک آپ کے چاہنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔اسی محفل میں آپ اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق کے حوالے سے گفتگو فرماتے حقوق العباد کے معاملے میں بہت احتیاط فرماتے ہر ایک سے بلا جھجھک معافی مانگ لیتے لوگ سن کر شرمندہ ہوتے کہ حضور جیسا بزرگ اور ہم سے معافی ! جن کے بارے میں ہم غلام اتلاف حق العبد کا تصور بھی نہیں کرتے اس موقع پر لوگوں کی کثرت اس قدر ہو جاتی کہ جامعہ اور گھر کے باہر ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے اس کے باوجود آپ کے معمولات یومیہ میں سر مو فرق نہیں آتا حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی خاصیت تھی کہ لوگوں کی کثرت اور کام کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو لیکن وقت نماز مسجد جاکر جماعت سے نماز ادا فرماتے اور اس کے بعد مراقبہ و ذکر فرماتے یہ چیز پوری حیات مبارکہ میں رہی عزیمت پر عمل ہمیشہ رہا کبھی بھی کوئی سنت بلکہ مستحب تک کسی کی وجہ سے ترک نہ فرمایا اور اکثر دوسروں کو تلقین فرماتے کہ اتباع سنت لازم رہے اور کسی ایک کام کی وجہ سے دوسرے کام پر اور معمولات مشائخ پر فرق نہیں پڑنا چاہیے اس کا ہمیشہ خیال رکھو !
گھر والوں اور متعلقین کو خاص کر جامعہ کے اساتذہ و کارکنان کو خاص ہدایات فرماتے اس کے بعد
آپ گھر سے نکلتے وقت دو رکعت نماز سفر ادا فرماتے اور دعاء سفر پرھتے پھر ملاقات و مصافحہ کرنے کے بعد گاڑی میں بیٹھتے اور دعاء سفر پڑھتے گھر سے ایئرپورٹ روانہ ہوتے دوران سفر گاڑی میں کثرت درود شریف فرماتے یا پھر عظمت سرکار بیان فرماتے کوئی ضروری بات ہوتی تو ارشاد فرمادیتے ورنہ سکوت اختیار فرماتے ایئرپورٹ پہنچ کر سب چاہنے والے لوگ جو کہ آپ کو وہاں تک چھوڑ نے جاتے تھے ان سے یکے بعد دیگرے مصافحہ و معانقہ فرماتے اور پھر ایئرپورٹ میں داخل ہوتے ضروری دستاویزی کارروائی پوری کراتے اور اس دوران بھی ذکر و شغل جاری رکھتے اگر وقت نماز ہوتا تو سب سے پہلے نماز با جماعت ادا فرماتے نماز ہمیشہ جماعت ہی سے ادا فرماتے کیونکہ ہر سفر پر عموماً آپ کے ساتھ کوئی نہ کوئی مرید یا شاگرد رہتا تھا۔
اس لئے سفر میں بھی جماعت سے نماز ادا فرماتے، آپ ایئرپورٹ ہی پر احرام باندھتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نیت عمرہ کرنے کے بعد تلبیہ بآواز بلند پڑھتے اس کے بعد ہوائی جہاز میں سوار ہوتے اور تلبیہ پڑھتے اور پوراہوائی سفر درودشریف اور اپنے اذکار یا کتب بینی میں گزارتے اور جدہ پہنچ کر وہاں کی امیگریشن کی مشغولیات سے فارغ ہوتے عموماً قنوج والے حضرات لکھنؤ ایرپورٹ سے جدہ کی فلائٹ سے جاتے اس لئے شام کا وقت (عصر ومغرب) ہوتا پہلے نماز ادا فرماتے اور ایک وقت کی نماز تو فلائٹ ہی میں ادا کرنی پڑتی جدہ کے ایئرپورٹ پر بھی پہلے نماز ادا فرماتے فقیر نےبار ہا دیکھا کہ اگر کبھی نماز میں تاخیر ہوئی تو چہرہ مبارکہ کا رنگ متغیر ہونے لگتا پیشانی سے پسینہ نمودار ہونے لگتا اور باربار صرف اور صرف نماز کی بات کرتے بالآخر نماز ادا فرمالیتے ۔
جدہ ایئرپورٹ سے مکہ شریف کے لیے روانہ ہوتے جدہ سے مکہ شریف روانگی کےوقت بہت زیادہ انہماک بڑھ جاتا اور بہت زیادہ کعبۃ الله شریف کی طرف متوجہ ہوتے شہر مکہ میں پہنچ کر دعا پڑھتے اور شکر ادا کرتے اس کے فوراً بعد سامان روم میں رکھوا کر حاجت ہوتی تو فارغ ہوکر فورا وضو کرتے اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوجاتے سفر کی تھکاوٹ کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تلبیہ کا ورد فرماتے رہتےحرم شریف میں داخل ہوکر پہلے دعا پڑھتے اور کعبۃ الله شریف پر نظر پڑتے ہی حدیث میں مذکور دعا پڑھتے اگرنماز فرض کا وقت ہوتا تو نماز ادا فرماتے ورنہ دورکعت نماز نفل ادا کرتے اور زمزم نوش فرماتے اور زمزم پینے کے وقت کی دعا اللهم اني اسئلك علما نافعا ورزقا واسعا وعملا متقبلا وشفاء من كل
داء پڑھتے پھر آپ طواف کعبہ شروع فرماتے طواف سے پہلے اضطباع فرمالیتے یعنی چادر سیدھے کندھے سے نکال کر سیدھے ہاتھ کے بغل کے نیچے سے نکال کر اس کے دونوں پلے بائیں کندھے پر ڈال لیتے اور حجر اسود کے قریب یا سامنے لائٹ کے محاذی ہوکر طواف کی نیت :اللهم اريد الطواف بيتك الحرام فيسره لي وتقبله مني کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے حجر اسود کا استلام فرماتے یعنی چوم لیتے اور یہ دعا پڑھتے بسم الله والحمدلله والله اكبر والصلاة والسلام على رسول الله صلی الله علیہ وسلم۔ پہلے تین چکروں میں رمل فرماتے یعنی چھوٹے چھوٹے قدم سے بہادروں کی طرح چلتے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے آپ طواف کے دوران دعا ءخاص پڑھنا لازم نہیں فرماتے اور کوئی معلوم کرتا تو تیسرا کلمہ اور سبحان الله، والحمد لله، ولا الہ الا الله، والله أكبر اور درودشریف وغیرہ کے لیے فرما دیتے کہ یہ کافی ہیں۔ رکن یمانی پر :اللهم اني اسئلك العفو والعافية في الدين والدنيا والآخرة ) اور حجر اسود کے پاس جو کہ مقام مستجاب ہے: ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار اور آپ مقام ابراهيم پر خاصکر درود إبراهيمی پڑھتے طواف کے سات چکر مکمل فرما کر مقام ابراہیم علیہ السلام پر یا جہاں آپکو جگہ مل جاتی وہاں دو رکعت نماز کندھے ڈھک کر ادا فرماتے اور آپ زم زم بھی نوش فرماتے دوران طواف بہت احتیاط سے چلتے نگاہیں نیچی رکھتے یا پھر بیت اللہ کی طرف نظر فرماتے اکثر طواف کے دوران مختلف قسم کے لوگ آپ سے مصافحہ کرتے اور بعض پر اسرار بندوں کو فقیر آفاقی نے بھی دیکھا کہ وہ اشارات میں آپ سے کچھ کلام فرما لیتے اور اآپ بھی مسکرا دیتے بعض تو آپ کی پیشانی کو بوسہ تک لے لیتے اللہ تعالٰی نے آپ کو حسن سیرت کے ساتھ ساتھ حسن صورت میں لا جواب انفرادیت عطا فرمائی تھی جو دیکھتا ایک بار ضرور مڑ کر دیکھتا تھا۔
صفا ومروہ کی سعی:
پھر طواف سے فراغت کے بعد حجر اسود کا استلام کرتے اور صفا و مروہ کی سعی شروع فرماتے صفا پہاڑی پر چڑھتے وقت قرآن مقدس کی یہ آیات تلاوت فرماتے ۔اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۵۸﴾
پھر کعبۃ اللہ کی طرف منھ کرتے اور اللہ کی حمد و ثنا اورکلمہ توحید پڑھ کر سعی کی دعا فرماتے اللھم
انی ارید السعی بین الصفا والمروۃ فیسرہ لی و تقبلہ منی سعی کے دوران ذکر و دعا میں مشغول رہتے جب گرین لائٹ آتی تو درمیانی چال چلتے اور یہ دعا پڑھتے۔ رب اغفر و ارحم و تتجاوز عما تعلم وانت تعلم ما لانعلم انک انت الاعز الاکرم۔
ہری لائٹ سے گزرنے کے بعد چوتھا کلمہ کثرت سے پڑھتے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی آجاتی اس پہاڑی کے نچلے حصے پر کھڑے ہوکر اسی طرح کرتے جیسا کہ صفا پہاڑی پر کیا تھا پھر اس کے بعد صفا کی جانب وہی سب کرتے جو پہلے کیا تھااورپڑھتے ہوئے چلتے اسی طرح سات پھیرے مکمل فرماتے اور سعی کی تکمیل کے بعد مسجد میں دو رکعت نماز ادا فرماتے اسکے بعد اگر کوئی نماز کا وقت ہوتا تو پہلے نماز ادا کرتے اور اپنے اوراد و اشغال مراقبہ اور تلاوت قرآن پاک کرنے کے بعد مسجد سے باہر نکل کر سر منڈاکر عمرہ مکمل فرماتے پھر احرام اتار کر کپڑے زیب تن فرما لیتے تھے۔
حرم مکہ کے یومیہ معمولات :
آپ تہجد کی نماز کبھی مسجد حرام شریف آکر ادا فرماتے اور کبھی روم پر ہی ادا فرماتے اور فجر کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہوٹل سے تیار ہو کر نکلتے پہلے عطر لگاتے جتنے لوگ ساتھ میں ہوتے اپنے دست مبارک سے سب کو عطر لگاتے اور 100 بار سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظيم کی تسبیح پڑھتے ہوئے حرم کو روانہ ہوتے فجر میں جاتے وقت کوئی بھی کلام نہ فرماتے ذکر و درود میں مشغول رہتے حرم پہنچ کر نماز فجر اپنی جماعت سے ادا فرماتے اور اس کے بعد عادت کے مطابق مراقبہ اور شجرہ خوانی اور فاتحہ خوانی فرماتے اسکے بعد اشراق وچاشت کی نماز ادا کرتے بعدہ دلائل الخیرات شریف پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت دیر تک فرماتے تمام اوراد و اشغال سے فارغ ہو کر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے اور پھر ہوٹل تشریف لاتے راستے میں حسب ضرورت مختصر کلام فرماتے اکثر خاموش رہتے اور روم پر پہنچ کر نہایت قلیل ناشتہ تناول کرتے۔ اور پھرکسی کتاب کے مطالعہ اور زیادہ تر تو آپ کتاب ہی تحریر فرماتے رہتے اوقات فرصت میں کتب تحریر کرناآپکا محبوب مشغلہ تھا وقت کاصحیح استعمال اور اسکی قدر وقیمت کوئی آپ سے سیکھے۔پورے حج اور عمرہ مبارک کے بقیہ وقت میں کمرے پر بھی آپ مشغول رہتے حج کے تقریبا ً چالیس دن فقیر آپکی مبارک صحبت وخدمت میں رہا آپ کو بہت کم آرام کرتے ہوئے پایا تھوڑی دیر کے لئے لیٹے میں پیر دبانے لگ جاتا کچھ دیر گزرتی کہ آنکھ کھل جاتی اٹھ کر بیٹھ جاتے اور پھر لکھنے میں
مششغول ہو جاتے۔ اور مجھے آرام کے لئے فرماتے دوپہر کا کھانا کھاکر تھوڑی دیر قیلولہ کرتے اور پھر ظہر کی نماز کے لئے اسطرح نکلتے کہ وہاں کے مطابق عصر کی اذان جو کہ سعودیہ میں سایہ مثل کے تحت تقریباً تین بجے ہی پڑھ لیتے ہیں اور احناف کے یہاں سایہ مثلین ہے کہ عصر کا وقت وہاں کےتقریباً پانچ بجے شروع ہوتا ہے اس طرح ان کی عصر کے وقت اور اپنی ظہر کے وقت میں مسجد حرام شریف پہنچ کر ظہر کی نماز باجماعت ادا فرماتے ۔ ظہر کے بعد ذکر و مراقبہ فرماتے اور پھر تلاوت قرآن میں مشغول ہو جاتے یاپھر طواف کرتے اور کبھی احباب کے ساتھ مسجد عائشہ سے عمرہ کے لئے جاتے اور حسب سابق عمرہ کرتے۔ ایک عمرہ مسجد جعرانہ سے بھی ادا فرماتے تھے۔اور وہاں قبرستان میں صحابہ کرام کے مزارات کی حاضری بھی دیتے تھے۔
آپ نے کبھی بھی کسی بدعقیدہ کی اقتداء نہیں فرمائی وہابیوں کی اقتداء ان کی بدعقیدگی اور گستاخیوں کی وجہ سے اہل سنت وجماعت کے یہاں جائز نہیں مگر اپنی ہر نماز اکثر جماعت سے مسجد ہی میں ادا فرماتے اور پھر جب عندالاحناف عصر کا وقت آجاتا تو عصر کی نماز ادا فرماتے اور بعد عصر حسب معمول اپنے ذکر و مراقبہ میں مشغول ہو جاتے مغرب تک مراقبہ فرماتے۔ اور عصر کے بعد حضرت خواجہ محمد معصوم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول یہ استغفار ٢٥ مرتبہ استغفراللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم الحی القیوم الذی لا یموت و اتوب الیہ رب اغفرلی پابندی سے پڑھا کرتے تھے ۔
بعدہ مغرب کی نماز ادا فرماتے اور اوابین چھ رکعات ادا فرماتے اور کبھی پوری بیس رکعات بھی ادا فرماتے جیسا کہ حدیث میں ہے ان بیس رکعات کے تعلق سے فقیر سے حضور مرشدی الکریم نے فرمایا کہ ایک حدیث میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے بیس رکعات اوابین پڑھی لہذا اس پر عمل ہو جائے اور سنت کی ادائیگی بھی ہو جائے اگر چہ حدیث ضعیف ہے فقیر کو بخوبی یاد ہے کہ آپ نے حج کے فوراً بعد مغرب ادا فرمائی اور اس وقت آپ بھی بہت ہی تھکے ہوئے تھے کیونکہ منیٰ و مزدلفہ اور عرفات کے میدان سے واپسی تک مکمل سفر پیدل کیے ہوئے تھے اور اس تھکان کے باوجود آپ نے بیس رکعات ادا فرمائی فقیر نے بھی اپنے مرشد باکمال کی تبعیت میں مکمل بیس رکعات ادا کیں۔ضعیفی،وجسمانی کمزوری اور شگر کے مریض ہونے کے باوجود حضور بحرالعرفان اس کثرت سے عبادت میں مصروف رہتے کہ جوان بھی رشک کرتے اور حیرت میں پڑ جاتے آپ کی علو ہمت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ حج کے موقع پر
منی کی روانگی کے وقت جب حجاج کرام ٹرین اور بسوں سے جاتے ہیں اس وقت آپ نے ہم دونوں یعنی فقیر آفاقی اور انجینئر الحاج ذاکر خان آفاقی سے فرمایا کہ ایک حدیث کے مطابق جو آدمی مکہ مکرمہ سے پیدل عرفات تک پیدل حج کریگا اسکو ہر قدم پر 700 نیکیاں ملتی ہیں اور حرم مقدس کی ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں ملتی ہیں ایک لاکھ کو اگر سات سو میں ضرب دیا جائے تو گویا ہر قدم پر حاجی کو سات کروڑ نیکیاں ملینگیں۔فرماتے کہ اتنا سنہرا موقع اور بڑی نعمت نہیں گنوانا چاہئے لہذا پیدل ہی سفر کرینگے اس طرح آپنے ہم گناہگاروں کو بھی اس شرف سے مشرف فرمایا ۔اس واقعہ سے آپکے علو ہمت کا پتہ لگتا ہے اورنیکی کے کتنے حریص تھے اسکا اندازہ بخوبی ہوتا ہے جسمانی راحت کو بالکل ترجیح نہیں دیتے تھے ہمیشہ کثرت عبادت پر ابھارتے تھے- بہرحال مغرب کی نماز کے بعد جو وقت ملتا اس میں درود و تسبیحات پڑھتے درود شریف کم از کم ساڑھے تین سو مرتبہ جیسا کہ آپنے اپنی کتاب ذکر و فکر میں نقل فرمایا ہے اور بعدہ عشاء کی نماز ادا فرماتے اور حسب معمول مراقبہ کے بعد طواف ادا فرماتے اور پھر مسجد حرام سےکمرے پر تشریف لاتے راستے میں بزرگوں کے واقعات و ارشادات و معمولات یا قوم و ملت اور دین کے حوالے سے گفتگو فرماتے ہوئے آتے اور کمرے پر پہنچ کر کھانا تناول فرماتے پھر کچھ احباب زیارت و ملاقات کے لئے آتے تو انکو کچھ نصائح فرماتے اور آداب حرمین بیان فرماتے کچھ لوگ اکثر بعد طعام یا شام کو مسائل پوچھنے آتے تو انکی دینی مسائل میں رہنمائی فرماتے الغرض صبح تا شام ذکر و عبادت میں گزرتا میری معلومات میں ایک منٹ بھی ماسوا اللہ میں نہیں گزرتا اسکے بعد کچھ دیر پھر کتاب تحریر فرماتے اور پھر آرام کرنے کے لئے بستر پر لیٹ جاتے فقیر کو پیر دبانے کی خدمت کا شرف مل جاتا اور اس دوران بڑی قیمتی نصیحتیں یا بزرگوں کے اقوال و ارشادات اور دینی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو فرماتے اور تھوڑی دیر بعد مجھ جبرا پیر دبانے سے منع فرمادیتے اور آرام کے لئے کہتے تھے فقیر آپکے اصرار پر قدموں کی جانب اپنی چارپائی پر سو جاتا تہجد کے وقت مجھکو بھی حضور بحر العرفان جگا دیتے اور تہجد ادا فرماتے اور پھر ہم لوگ حرم شریف کے لئے روانہ ہوجاتے اسی طرح یہ روزانہ کا معمول رہتا تھا ۔
زیارات:
جنت المعلیٰ شریف کی زیارت کے لئے بڑے شوق سے جاتے اور راستے میں خاندان نبوت کے افراد
باالخصوص ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کے فضائل اور آپکی عنایات جو کہ آپکے اوپر تھیں بیان فرماتے ایک بار فرمایا کہ اماں خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا بڑی مہربان و مشفقہ ہیں آپکی وساطت سے بہت جلد کام ہوجاتا ہے اس لئے آپ جنت المعلیٰ میں باالخصوص آپکے مزار کے سامنے رو روکر دعا مانگتے تھے حالانکہ اب وہاں سعودی حکومت نے مزارات کے نشانات مٹادئے ہیں مگر پرانے لوگوں کو بالواسطہ نشانات قبر آج بھی معلوم ہیں۔ اس قبرستان میں حضرت ام المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنھااور حضرت عبد المطلب اور حضرت اسما بنت ابی بکر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر حضرت عبد اللہ بن زبیر حضرت فضیل بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھم وعنھن اجمعین اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادگان حضرت قاسم، حضرت طیب، حضرت طاہر رضی اللہ عنہم اجمعین انکے علاوہ بے شمار تابعین رحمہم اللہ اور اولیاء کرام مدفون ہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی قبرستان کی بابت فرمایا کہ اس مقدس قبرستان کے ستر ہزار افراد بلا حساب جنت میں جائیں گے۔
آپ حضور بحر العرفان جب جنت المعلی ٰتشریف لے جاتے تووہاں باری باری مختلف صحابہ کرام رضو ان اللہ علیہم اجمعین کے مزار ات پر فاتحہ خوانی فرماتے اس کے بعد تشریف لے آتے۔
اور مکہ شریف کی دیگر زیارات جو کہ ٹور والے بس کے ذریعہ کراتے ہیں آپ وہاں بھی تشریف لے جاتے مگر آپ زیادہ تر ذکر و اذکار میں مشغول رہتے حرا اور ثورپہاڑی وغیرہ کی زیارت دور سے ہی فرماتے اوپر نہیں چڑھتے بلکہ وہیں ذکر الہی میں مشغول رہتے اس کے علاوہ آپ مکہ شریف سے قریب حضرت ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مزار پاک کی زیارت کے لئےتشریف لے جاتے اب سعودی حکومت نے وہاں پابندی لگا دی ہے میری معلومات میں مکہ شریف کی یہی زیارات تھی جو کہ مذکور ہوئیں آپ کے ساتھ فقیر کو بھی میسر آئیں۔
محفل میلاد :
مکہ شریف میں آپ اپنے روم پر میلاد شریف اور نعت خوانی کا اہتمام فرمایا کرتے اور بڑی بارونق محفل ہوا کرتی حج کے موقع پر اکثر لوگ آپ کے بارے میں معلومات کر کے ملنے کے لیے آجاتے عرب اور دیگر ممالک پاکستان وغیرہ کے علماء و مشائخ بھی ملاقاتیں فرماتے حسب موقع ان سے قوم و ملت کی مسائل پر گفتگو ہوتی خاص کر سعودیہ میں وہابیت کے مضر اثرات اور وہابیوں کی زیادتیوں سے
بڑے نالاں رہتے اکثر مقامات پر مطوع اور پولس جو کہ ہر سنی کو پریشان کر تے ہیں اپنا دین سمجھتے ہیں اسکو دیکھ دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوتے اور وہ لٹریچر جس کے ذریعہ وہ لوگ اپنے فاسد عقائد مختلف زبانوں میں کتابوں کے ذریعہ نشر کر رہے ہیں اس سے بہت خفا ہوتے حج کے موقع پر مجھ سے فرمایا کہ جتنی کتابیں وہابی اسٹال پر فری تقسیم کرتے ہیں حاصل کرو تاکہ ان کو پڑھ کر ان کے باطل نظریات کا رد کر کے عوام الناس کو انکے دام فریب سے بچایا جا سکے اس موقع پر آپ نے ایک کتاب وہابیوں کے باطل عقائد کے رد میں تحریر بھی فرمائی اور ایک کتاب لطائف مدینہ کا ترجمہ بنام روائح سکینہ فرمایا آپ فرماتے ہیں اس کتاب میں حضرتِ معصوم رضی اللہ عنہ کے وہ مکشو فات درج ہیں جو کہ آپ حرمین شریفین کے مختلف مقاماتِ مقدسہ کے حوالےسے بیان فرمائیں ہیں اور ہر مقام مقدس و صحابہ اکرام کے مقام و انوار کی برکات کو اپنے کشف کے ذریعہ بیان فرمایا ہے وغیرہ وغیرہ مزید فرماتے کہ حضور مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ والرضوان کے اس شہزادے کی شان و عظمت اس دور میں ایسی تھی کہ علماء مشائخ حرمین شریفین آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہو کر اکتساب فیض کر تے تھے اور مجالسِ روحانیت جہاں لگتی تھی ذکرو مراقبہ کا ماحول رہتاتھا آج جس تصوف وروحانیت کا وہابی انکار کر تے ہیں اسکےتمام امور حرمین شریفین میں ہوتے تھے اس تعلق سے آپ نے اپنی ایک اور کتاب"کشف و الہام کی شرعی حیثیت:میں تفصیلی بحث فرمائی ہے بہرحال حرم شریف میں اکثر مشائخ اکرام کے حوالےسے گفتگو فرماتے تھے اور تربیت کے لئےان کے معمولات و برکات اور روحانی معاملات بھی کبھی کبھی ذکر فرمایا کرتے تھے اس طرح مکہ شریف میں جب تک رہتے متذکرہ بالا طریقے پر معمول رہتا اور پھر جب مدینہ منورہ کی روانگی کا وقت آتا تو آخری طواف فرماتےاور گڑ گڑا کر بارگاہ ایزدی میں دعائیں مانگتے اور پھر مدینہ شریف کے لئے روانہ ہو جاتے۔
مدینہ شریف کے معمولات
آداب مدینہ منورہ :
جب مدینہ شریف کے لئے روانہ ہو تے تو آداب کی سخت تلقین فرماتے اور درود شریف کی کثرت فرمایا کرتے کہ قلب کو ہر خیال سے خالی کرو اور توجہ صرف بارگاہ رسول کی طرف رہے کیونکہ ہم
محبوب خدا سبحانہ کی بارگاہ میں حاضری دینے جا رہے ہیں ساری عبادتوں کی قبولیت ان کی نظرو عنایت پر منحصر ہے آپ کی ایک نگاہ التفات دنیاو آخرت کی معراج ہے آپ راضی ہو جائیں تو رب راضی ہو جائے آپ کی ہی سفارش سے فرمان قرآن کے بموجب گنہ گاروں کی دعااور توبہ کی قبولیت ہو تی ہے لہذا ہر وقت آپ کی طرف متوجہ رہو ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہو اکثر فرمایا کرتے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رحمت عام ہے مگر جو امتی آپ سے جیسی امیدیں لے کر آتا ہے ویسا ہی اس پر کرم فرما تے ہیں جو آپ کے بارے میں جیسا گمان و عقیدہ رکھتا ہے ویسا ہی پاتا ہے اگر آپ کی نیت ہے کہ سرکار نوازیں گے تو ضرور نواز دیے جائیں گے اس در سے کوئی خالی نہیں جاتا فرماتے کہ آپ کی طرف سے بے اعتنائی اور لا پرواہی بہت مضر ہے کیونکہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے کہ سرکار نے فرمایا ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ بے نیاز ہو ں اور اللہ اغیرمنی یعنی مجھ سے بھی زیادہ بے نیاز ہے لہذا اس کی بارگاہ سے فیض و نور اور نظرکرم کے حصول کے لیے آپ کی بارگاہ کے مقربین صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کاملین نیز اپنے سلسلہ کے مشائخ عظام کے توسط سے عرض کرتے رہیں ان شا ءاللہ تعالیٰ بہت جلد فائز المرام اور فیضیاب ہونگے فرماتے کہ مدینہ منورہ کے ذرہ ذرہ کا ادب ملحوظ رہے یہاں کسی قسم کی سوء ادبی دنیا و آخرت کا بڑا خسارہ بن سکتی ہے حرمین شریفین میں جب تک رہو بلند آواز سے گفتگو نہ کرو اور خاصکر مواجہہ شریف اور مسجد نبوی شریف میں ۔جیساکہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ نبیﷺ کی بارگاہ میں آواز بلند نہ کرو ورنہ تمہارے سارے اعمال برباد ہو جائیں گے یہ کچھ آداب تھےجو کہ آپ سے فقیر نے سنے وہ بیان کر دیے مولیٰ تعالٰی سب کو تاجدارمدینہ کا عشق اور ادب کی توفیق عطا فرمائے۔
مدینہ کے پورے راستے نعتیں پڑھ واتے اور خود بھی اشعار گنگناتے رہتے اور درود شریف پڑھتے جوں جوں مدینہ قریب آتا آپ کی کیفیت بدلتی جاتی دل و زبان پر اپنے آقا کا ہی ذکر جاری رکھتےجب شہر مدینہ قریب آتا تو گنبد خضریٰ کی زیارت کے لئے بے قرار ہو جاتے کیونکہ گنبد خضریٰ شہر کے روڈ سے ہی نظر آنے لگتا ہے شہر میں گاڑی داخل ہو تے ہی گنبد خضریٰ کی طرف لَو لگاتے اور اٹھ اٹھ کر گنبد خضریٰ کی زیارت فرماتے اسی حالت عشق میں سلام پیش کرتے ۔ یہاں تک کہ منزل پر پہنچتے گاڑی کیونکہ پہلے ہوٹل ہی لیکر جاتی ہے سامان وغیرہ ہوٹل میں رکھا جاتا ہے اور پھر حاجی حضرات وہاں سے حرم روانہ ہوتے ہیں۔
منورہ پہنچتے اور کمرے ہی سے غسل فرماکر نئے کپڑے زیب تن فرماتے ،عطر لگاتے اور مسجد نبوی شریف کے لئے روانہ ہو جاتے اشکبار آنکھوں سے اور چہر پر مسکراہٹ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہو تے اور نماز ادا فرمانے کے بعد سب سے پہلے باب السلام سے بار گاہ نبوی علیہ السلام میں حاضری دیتے اور باب السلام سے آہستہ آہستہ درود شریف پڑھ ہوئے حجرہ مبارکہ کے سامنے پہنچ کر نہایت متواضعانہ انداز میں سلام پیش کرتے اور نگاہ نیچیں رہتیں ایک قدم قدم بڑی احتیاط سے اٹھاتے تعلیمہ باندہے رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے اور دعا مانگتے ۔ باب السلام کےداخل ہوتے وقت لوگوں کو عطر بھی لگایا کرتے دیر تک مواجہہ شریف میں قبلہ کی جانب پشت کر کے کھڑے کھڑے سلام پیش فرماتے اور آنکھیں بند فرما کر مراقب رہتے اس انداز میں بارگاہ نبوی میں آپ ایسے رہتے جیسا کہ مرید اپنے شیخ اور ایک عاشق اپنے معشوق کی بارگاہ میں ہوتا ہے فقیر نے اپنے متعدد اسفار مدینہ میں اب تک ایسی کوئی شخصیت اس کیفیت میں نہیں دیکھی اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے ہوئے گیٹ کی طرف پیٹھ کئے اور چہرا مواجہہ شریف کی طرف کئے ہوئے دھیرے دھیرے واپس ہوتے اور باہر نکل کر گنبد خضری کی زیارت فرماتے کبھی باہر صحن میں دیر تک بیٹھتے اور زیارت گنبد خضریٰ فرماتے اور ذکر درود شریف سلام پیش فرما کر کچھ ضروری باتیں بیان فرماتے اس کے بعد اگر وقت صبح ہوتا تو جنت البقیع شریف کی طرف جاتے اور وہاں اہل بیت عظام کے مزارات مقدسہ سے فاتحہ خوانی شروع فرماتے اور ازواجِ مطہرات کے مزارات پر رکتے اور سلام پیش کرتے بعدہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مزار مقدس پر حاضر ہوتے اور وہاں کچھ دیر فاتحہ خوانی کرتے یہاں زیادہ دیر تک سعودی پولس رکنے نہیں دیتی اس لئے آپ ان سے الجھنے کو نا پسند فرماتے اور وہاں سے واپس آجاتے۔ اس قبرستان کی عظمت بیان فرماتے کہ یہ دنیا کاسب سے افضل قبرستان ہے اس میں دس ہزار سے زائد صحابہ کرام اور بڑے تابعین واولیاء کرام حضرت امام مالک رضی اللہ عنھم اجمعین جیسے لوگ آرام فرما ہیں اسی جنت البقیع شریف میں ہمارے سلسلے کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ احمد سعید قبلہ عالم قدس سرہ بھی مدفون ہیں انکےبارے میں اکثر بیان فرماتے تھے جنت البقیع شریف کی زیارت کے لئے دوسرے تیسرے دن تشریف لے جاتے تھے اور فرماتے کہ بزرگوں کے
مزارات سے استفادہ روحانی ترقیات کے لئے بہت مفید ہوتاہے خاص کر صحابہ کرام اور اہل بیت عظام وازواج مطہرات سے بارگاہ رسالت میں سفارش کرانا چاہیے اس سے بہت جلد مقصود پوراہوجاتاہے بالخصوص ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بہت جلد بارگاہ رسالت میں کام کرادیتیں ہیں کیوں کہ محبوبہ محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسلئے آپ انکے نام سے بالخصوص فاتحہ خوانی کرکے دعا فرماتے ایسا ہی عمل حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ سے بھی منقول ہے۔
سرکار کی بارگاہ میں سلام پیش فرماکر کمرے پر تشریف لاتے اور کچھ دیر آرام فرماتے آپ کی عادت کریمہ تھی کہ دونوں حرم یعنی مکہ شریف مسجد حرام اورمدینہ شریف کی قدیم مسجد نبوی شریف ترکی والے حصہ میں نماز ادا فرماتے اور مراقبہ وغیرہ اسی حصہ میں کرتے بعدہ حسب سابق نمازوں اور ذکر ومراقبات کے تمام اوقات صبح تا شام حرم مکہ شریف کی طرح مدینہ منورہ میں بھی رکھتے تہجد کے لئے جلد بیدار ہو جاتےاور فجر تا اشراق و چاشت مصروف مراقبہ و ذکر رہتے اسکے بعد تلاوت کلام پاک کرتے اور بارگاہ رسول میں حاضری کے لئے جاتے اور سلام پیش فرماتے جب بھی مسجد نبوی علیہ السلام سے جاتے تو سلام کرکے ہی جاتے دن میں کئی بار حاضری ہوتی اسکے بعد وہاں سے کمرے پر تشریف لاتے اسی طرح حسب سابق ظہر کے وقت مسجد نبوی شریف آتے اور عشاء کے بعد تک مسجد نبوی میں رہتے اس دوران بھیڑ جب کم ہو جاتی تو ریاض الجنۃ میں نماز ادافرماتے اور کبھی اصحاب صفہ کے چبوترہ پر اگر جگہ میسر آجاتی ورنہ کسی بھی جگہ جہاں سکون رہتا وہیں مصروف عبادت رہتے اور جب کبھی رش کی بناپر ترکی والے حصہ میں جگہ نہیں ملتی تو نئے والے آگے کے حصے میں جہاں سے گنبد خضریٰ نظر آتاہے پہلے والی چھتری کے قریب نششت فرماتے اور اپنے معمولات میں لگ جاتے۔اسی طرح آپ کا یومیہ معمول رہتا آپ زیادہ تر مسجد نبوی شریف میں رہ کر عبادت کرنا پسند فرماتے تھے کیونکہ جو فیض سرکار کے قرب میں ملتا ہے وہ کہیں نہیں اور جو بھی جہاں ملتا ہے وہ یہیں سے ملتا ہے اس لئے مانگنے والے کے لئے اپنے آقا سے لَو لگائے رہنا چاہئے اس لئے آپ اپنا وقت زیادہ تر حرم ہی میں گزارتے اور مریدین و محبین کو بھی مسجد نبوی ہی میں نماز اور عبادت کی تاکید فرماتے اور فرماتے جب تک مسجد میں رہو باوضو رہواور سرکار کی طرف اس طرح متوجہ رہو کہ آپ ہمیں ہر وقت ملاحظہ فرمارہے ہیں یہاں تک فرماتے کہ اگر مسجد میں دلبستگی نہ رہے اور دل متوجہ نہ رہے خیالات منتشر ہوں تو اس وقت وہاں نہ
رہے بلکہ باہر جائے اور پھر تازہ ہوکر اطمینان قلبی حاصل کرے اور پھرمشغول عبادت ہوجائے۔ان شاء اللہ اس طر یقے سے فیضیاب ہو نگے۔
مقامات زیارات مدینہ منورہ:
آپ مدینہ شریف کے مختلف مقامات مقدسہ کی زیارات کے لئے تشریف لے جاتے ان میں کچھ اہم مساجد مدینہ منورہ وہ ہیں جو کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں تھیں جیساکہ مسجد قبا اور مسجد قبلتیں ،مسجد جمعہ مسجد غمامہ و مسجد اجابہ اور سبع مساجد وغیرہ ان تمام مقامات کی زیارات کے لئے تشریف لے جاتے جہاں جہاں عموما زائرین جاتے ہیں ان تمام مقامات کی فضیلتیں معروف ہیں اس لئے یہاں بیان نہیں کی ہیں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ فرماتے کہ ان مقامات کے فیوضات و برکات بہت زیادہ ہیں مدینہ منورہ کی ہر ہر گلی کوچہ نور سے منور ہے اس کے علاوہ آپ آخری عمرے پر بدر شریف بھی شہدائے بدر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے ایک دن قبل مجلس منعقد فرمائی جس میں جنگ بدر کا پس منظرتفصیلی بیان فرمایا اس دوران بیان آپ نے آقاعلیہ السلام پر کئے گئے کفار مکہ کے مظالم بیان فرمائے تو آپکی آنکھیں اشکبار ہوگئیں مجلس میں اکثر لوگ رونے لگے اور آپ نے آقا علیہ السلام کی اس وقت کی رقت انگیز دعا بیان فرمائی جس وقت کہ آپ نے خیمہ عریش میں بارگاہ مولا میں گریہ زاری کرتے ہوئے دعا فرمائی تھی کہ مولا کفار مکہ مقابل یہ مٹھی بھر مسلمان اس زمین پر تیرے نام لیوا ہیں اگر آج یہ جماعت ہی شکشت پا گئی تو اس زمین پر تیراکوئی نام لیوا نہ ہوگا اے اللہ مدد فرما اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کے مبارک منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺبس کیجئے۔اس بیان پر حضور بحر العرفان بہت روئے اور اپنے آقا کے امت پر احسانات کو گنائے اور طائف کی اذیتیں ذکر فرماکر پھر رونے لگے اس کے بعد آپ نے رقت آمیز دعا فرمائی ہرایک غلام کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں آج بھی اس مجلس کے اثرات قلب میں محسوس ہوتے ہیں اس طرح کی کیفیت اکثر اوقات میں ہو جاتی تھی آپ بہت زیادہ گریہ و زاری کرتے اور قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے محبین ومریدین اور معاونین جامعہ کے لئے دعائیں مانگتے تھے آپ ہر موقع پر اتباع سنت اور خاتمہ بالخیر کی د عا ضرور فرماتے تھے۔ مدینہ شریف میں بھی آپ محفل میلاد منعقد فرماتے بڑے اہتمام کے ساتھ محفل میں شریک ہوتے عظمت مدینہ بیان کرتے اور نعت خوانی ہوتی شیرینی کا
انتظام فرماتے اور لوگوں میں تقسیم کی جاتی ۔ راستے چلتے حرمین شریفین میں غرباء کی امداد بھی کرتے کبھی کچھ خرید کر تقسیم فرماتے اور حرمین شریفین آپ روزہ بھی رکھتے تھے۔
اور بھی بہت سی عادات کریمہ تھیں نیز بہت سی دعائیں اور اشعار آپ پڑھتے رہتے تھےجو فقیر کو یاد نہیں اور نہ ہی ادباً معلوم کرنے کی ہمت کر سکا آپ کے معمولات کے حوالے سےجو فی الوقت ذہن میں تھا وہ سپرد قرطاس کردیا معمولات میں جو بھی لکھا گیا ہے وہ فقیر کا چشم دید ہے یا جو آپ سے سنا وہ ذکر کر دیا ہے جو رہ گیا ہے اور کسی قسم کی کوئی غلطی ہوئی ہو تو اس کے لئے معذور ہوں جملہ اہل اسلام اور بالخصوص محبین و مخلصین اور مریدین بحر العرفان علیہ الرحمہ سے گزارش ہے کہ فقیر آفاقی کو بھی دعاؤوں میں یاد رکھیں ۔
٭الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج یوپی انڈیا