مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتآپ جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے

باب ۲۱ از ۶۵صفحات ۱۴۸–۱۵۵

آپ جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے

ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی٭

پھول جیسا چہرہ ،لوہے جیسا عزم وارادہ ، عقاب جیسی طلب و جستجو ،ہمہ وقت ملت کی فکر میں سرگرداں رہنے والی شخصیت ، جو بیک وقت درسگاہ کا ایک مثالی مدرس ہے ، جس کا خاص فن منطق ہے ، مگر حدیث دانی کا ایسا گوہر لٹا رہا ہے کہ اس کی نظیر خال خال ملتی ہے، میں تو آپ کو سلسلہ نقشبندیہ کا ایک فعال، متحرک اور بزرگ صفت عالم دین سمجھتا تھا مگر مولانا عمران صاحب قبلہ ازہری اور آپ کی بارگاہ کے دیگر فیض یافتہ حضرات سے معلوم ہوا کہ آپ درسگاہی دنیا کے ایک عظیم شہسوار تھے ، منطق کی کتابیں بڑے آسان لب ولہجہ میں پڑھاتے ، بخاری شریف سال بھر میں ختم کرادیتے تھے، یہ آپ کی کرامت ہی کہیے کہ کثرت اسفار، تربیت مریداں، ملی وقومی مصروفیات کے باوجود زینت درسگاہ ایسے کہ بخاری جیسی کتاب ختم کرانے کا شرف حاصل ہو ۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

مگر سچائی یہ ہے کہ مفتی صاحب کی ذات ان ستودہ صفات شخصیات سےمیں سے ہے جنھوں نے

درسگاہی اور خانقاہی نظام میں یگانگت پیدا کی اور اپنے علم وعمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ درسگاہ کو خانقاہ سے اور خانقاہ کو درسگاہ سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے ، گویا آپ پوری زندگی حضرت امام مالک علیہ الرحمہ کے اس قول: من تفقہ ولم یتصوف فقد تفسق ومن تصوف ولم یتفقہ فقد تزندق ومن جمع بینھما فقد تحقق۔ کی عملی تصویر بنے رہے۔

یہی وجہ کہ آپ نے قنوج کی سرزمین پر مدرسہ کی شکل میں جہاں سب سے پہلے جماعت اہل سنت کا قلعہ قائم کیا وہیں خانقاہ بھی بنایا اور طلبہ کو علوم دین ودنیا کے ساتھ صوفیانہ تربیت بھی دی ، اوراد وظائف کا خاص اہتمام کیا ، بزرگوں کے معمولات کا عادی بنایا ۔

اور یہی نہیں کہ آپ نے درسگاہ وخانقاہ کے درمیان بڑھتے فاصلوں کو لگام دی ہو بلکہ عصریات اور دینیات کے درمیان پائی جانے والی خلیج بھی پاٹنے کی بھر پور کوشش فرمائی، چنانچہ آپ نے جہاں دار العلوم قائم کا کیا وہیں اسکول بھی بنایا، اور انگلش میڈیم سے پڑھائی کراکر امت کی ضرورتوں اور زمانے کے تقاضے کے مطابق مسلم نونہالوں کے لئے روشن مسقبل کی مثال قائم فرمائی، یہی نہیں بلکہ مستقبل میں اک عظیم عصری یونی ورسٹی کا خواب لے کر ہم سے رخصت ہو ئے ، آپ کے اس منصوبے کے لئے زمین بھی فراہم کرلی گئی تھی ، تاہم عمر نے وفا نہ کیا اور خواب اب خواب ہی دکھ رہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کے پاس عالمی سطح پر مسلمانوں کے تعلق سے دھڑکتا دل تھا ، ایک تڑپ تھی ، کچھ کرجانے کی چاہت اور آرزو تھی، اسی لئے کبھی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی تو کبھی مسلم مسائل کے حل لئےسمپوزیم کا انعقاد کیا، کبھی علما مفکرین اور اصحاب قلم کو بلا کر ان کی رائے لی ، کبھی ایجوکیٹڈ طبقہ کی طرف توجہ فرمائی تو کبھی غریبوں اور بیواوں کا خیال فرمایا۔

غرضیکہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے کارنامے چہار سو پھیلے ہوئے ہیں ، جن کو دیکھ کر یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپ ایک جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے ، بہترین مدرس ، بلند پایہ مفکر ، ایک مثالی قائد ورہنما ، اور اپنے وقت کے ایک صاحب دل بزرگ جنھوں نے اس مادی زمانے میں نہایت خوبصورت انداز میں تصوف کی آبیاری ہے ، آپ کی وفات ملت کا عظیم خسارہ ہے ، دعا ہے کہ مولا تعالی آپ کی قبر انور پر رحمت وانوار کی بارش فرمائے اور ملت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔........................٭دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، بستی، یوپی

حضور بحرالعرفان کا نظریہ تعلیم و تربیت

مولانا سلمان شاہد آفاقی مبارکپور، اعظم گڑھ

تاجدار ولایت، مجدد طریقت، مظہرِامام ربانی مجدد الف ثانی، سند العلماء، مناظر اہل سنت حضور بحرالعرفان مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی ایک دور اندیش مرد کامل اور رجل عظیم کا نام ہے اللہ رب العزت نے آپ کو بے شمار خوبیوں اور صفات کا جامع بنایا تھا آپ محدث، محقق، مفکر، مدبر، مصنف، مناظر، فقیہ، اور زبان و بیان پر کامل قدرت رکھنے والے ادیب و خطیب بھی تھے

ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر جو سب سے بڑی خوبی تھی وہ یہ تھی کہ آپ متبع سنت بھی تھے اور پورے طور پر سنت رسول کی پیروی کرنے والے پیر کامل بھی۔

آپ کے سینے میں ایک مستقل دھڑکتا ہوا دل تھا جو نصرت مسلماں کے لیے ہر آن پھڑکتا رہتا تھا جس کی گواہی ہر وہ شخص دے سکتا ہے جو آپ کی محفل میں ایک لمحہ کے لیے بھی شریک رہا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی زبوں حالی، علمی پسماندگی، علماء و عوام کی بے عملی اور اخلاق و کردار کی بے راہ روی پر حد درجہ متاسف رہتے تھے ۔آپسی کدورتوں، مشربی نفرتوں کو مٹانا ،شریعت کا کامل پیروکار بنانا ،تصوف کو دلوں میں اتارنا، سنتوں کی راہ پر چلنا چلانا، قوم کی خدمت کرنا اور دین کی سچی تبلیغ کرنا آپ کا مطمحِ نظر تھا۔ان ہی خوبیوں کو آپ اپنے تلامذہ اور علما میں دیکھنا چاہتے تھے ۔

آپ فرماتے تھےکہ آج قوم کو باصلاحیت دیندار اور قائدانہ مزاج کے مالک ،بلند فکر اور روحانیت کے حامل رہنماؤں کی سخت ضرورت ہے ۔آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جنہوں نے علم کو اپنا یااور علم ہی کو اپنا محور بنایا ۔علم چاہے دینی ہو یا دنیوی ،دونوں مفید ہیں۔ لیکن صرف علم دنیا آدمی کو دنیا دار تو بنا سکتا ہے دیندار نہیں اور ایک انسان کے لیے دنیا میں رہنے کے لیے علم دنیا جس قدر ضروری ہے اس سے ہزار گنا زیادہ علم دین ضروری ہے کہ بے علم دین انسان جانور سے بھی بدتر ہے دنیاوی علم تو انسان دنیا کے حصول کے لیے سیکھتا ہے لیکن دینی علم دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہوتا ہے اور یہی علم انسان کی فلاح و نجات کا ذریعہ ہے۔

لہذا مسلمانوں کو علم دین کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ساتھ ہی دنیاوی تعلیم بھی ہو تو

دنیا وی فوائد کے ساتھ دین کا بھی فائدہ ہے کہ عالم دین جب علم دنیا سے بھی آراستہ ہوتا ہے تو اس سے وہ دینی کام لیتا ہے اس طرح اس کا دنیاوی علم بھی دین اور کار ثواب بن جاتا ہے۔ چنانچہ علم دین کے ساتھ علم دنیا کے حصول کے متعلق فرماتے تھے ۔

میں چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے معروف زبانوں میں صاحب قلم ،صاحب لسان اور جدید علوم و فنون سے آراستہ ہوں۔ تاکہ مذہب حق اہلسنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کر سکیں۔ آپ زمانہ طالب علمی ہی سے نمازوں کے پابند اور سنتوں پر عمل پیرا تھے کئی مدارس میں پڑھا بھی اور پڑھایا بھی اس لیے طلبا اور مدرسین کے حالات سے بخوبی آگاہ تھے طالب علموں کی بدعملی اور علماء و اساتذہ کی جاہ وحشمت سے دلچسپی اور دنیا طلبی سے حددرجہ کبیدہ خاطر رہا کرتے ۔

جب آپ نے اپنے پیرومرشد عارف باللہ حضرت مولانا احمد رضا خان نقشبندی کی بارگاہ سے تصوف کا درس لیا اور دل نور معرفت سے منور ہوا تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ عمل صفا ے قلب سے ہے نہ کہ فقط علم سے تو آپ کے اندر یہ تحریک پیدا ہوئی کہ کوئی ایسا مدرسہ ہو جس میں علم ظاہر کے ساتھ علم باطن بھی ہو تو جو طالب علم وہاں سے فارغ ہو گا علم پر عامل ہوگا اور عام طور پر علماء وطلباء میں پائی جانے والی برائی سے پاک ہوگا نیز اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آراستہ ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں:

میں چاہتا ہوں کہ اچھے علماء تیار کروں، اچھے پیر تیار کروں ، روحانیت ختم ہو رہی ہے میں پھر سے روحانیت زندہ کروں، میں اپنی قوم کے لیے کچھ کام کر جاؤں ،تقویٰ پرہیزگاری کا مجسمہ بن کر دین کا جذبہ لے کر جس دن یہ فوج میدان عمل میں اتر پڑے گی نصرت و نجاح ان کی قدم بوسی کریں گی۔

آپ بچوں کو تاکید کرتے کہ ہمیشہ قوم کی فلاح کا کام کرنا آج ایسے علماء کی سخت ضرورت ہے جو دوسروں کی جیبوں پر نظر نہ رکھیں بلکہ ہمیشہ عوام کی فلاح کی بات کریں ۔جو دوسروں کی بھلائی چاہتا ہے اللہ سے کبھی محروم نہیں رکھتا بلکہ اسے غیب سے روزی عطا کرتا ہے ۔ پڑھنے پڑھانے اور عمل کے متعلق ایک بار ارشاد فرمایا :

عمل صرف کتاب پڑھنے سے حاصل ہوجاتا تو کون ایسا طالب علم ہے جو یہ نہیں جانتا کہ چوری کرنا برا ہے زنا حرام ہے دوسروں کا حق مارنا ظلم ہے مگر کتنے طلبا اس سے محفوظ رہتے ہیں کتاب پڑھنا پڑھانا الگ چیز ہے اور باعمل بننا بنانا الگ چیز ۔

اس مذکورہ ارشاد میں آپ نے علم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت کی ضرورت و اہمیت پر بہت ہی جامع بات کہی ہے ۔اس لیے کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ طلبہ اپنے زمانہ طالب علمی میں علم کے حصول میں خوب محنت کرتے ہیں لیکن عمل پر کوئی توجہ نہیں ہوتی اگرعلم کے ساتھ عملی تربیت بھی ہوتی رہے تو طالب علم علم و عمل دونوں سے آراستہ ہوگا اور قوم کی فلاح و بہبود میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

یہی وجہ تھی کہ آپ فجر تا اشراق، بعد ظہر، عصر تا مغرب اور بعد عشاء طلبہ اور اہل سلوک کی کثیر تعداد کے ساتھ مراقب ہوتےاور اس محفل ذکر و مراقبہ میں ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس بحر عرفان سے چلو بھرتا۔

یہی وہ روحانی محفل تھی جہاں آپ کی توجہات سے جانے کتنوں کے مردہ دل غافلین سے ذاکرین و واصلین کی صف میں آکر قرب و عرفان کی دولت سے بامراد ہوئے۔آپ مختلف اوقات میں مختلف انداز سے اپنے انہیں نظریات کو دہراتے رہتے تھے آپ تقریر میں، در س میں اقوال و ارشادات میں اختصار و جامعیت کے عادی تھے۔ کم بولتے مگرنپی تلی بات کرتے۔ زیادہ بولنے اور لمبے چوڑے دعوےکرنے کے عادی نہیں تھے اور نہ ہی اس کو پسند فرماتے جو کہتے کرکے دکھاتے تھے

آج کے دور میں جب کہ اکثر مدارس کے لوگ صرف اپنی دال روٹی کے لیے مدرسوں کو بھرنا جانتے ہیں نہ اس سے غرض کی بچے نماز پڑھتے ہیں یا نہیں وہ باعمل ہو رہے ہیں یا نہیں اسلامی تہذیب و ثقافت سے آراستہ ہیں یا نہیں اس کے برخلاف آپ فرماتے:

ہم دس بچوں کو پڑھا ئیں گے مگر باعمل بنائیں گے۔

آپ فرماتے ہیں:

دارالعلوم ہماری اشد ضرورت ہے لیکن وہ تبھی ہمارے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں جب اس کی چہار دیواری میں پڑھنے والوں کو تعصبی اور فسادی نہ بنائیں، بد عمل نہ بنائیں، بلکہ بچوں کو شروع سے نمازی اور باعمل بنائیں ،ان کی رگ رگ میں عمل کا جذبہ پیدا کریں ،ان کے اندر قیادت پیدا کریں۔ آج اگر ہم چاہیں تو ان مدرسوں کے ذریعے اسلام و سنیت کا بہت بڑا کام کرسکتےہیں۔

آپ بچوں کی اچھی تعلیم کے ساتھ ان کی اچھی تربیت پر بہت زیادہ زور دیتے ان کے اخلاق عادات و اطوار پر خود بھی نگاہ ر رکھتے اور دوسروں کو بھی تاکید کرتے۔

آپ طلباسے اکثر کہا کرتے کہ علماء کی شان سے رہا کرو، اپنے وقار کو ہمیشہ ملحوظ رکھو، ایسے کپڑے نہ پہنو جن سے فخر و مباہات ٹپکے اور نہ ایسے چلو جیسے متکبر چلتا ہے ۔

آپ نے مسلمانوں کی زبوں حالی ان کی علم بیزاری اور عوام و خواص کی بے عملی کو دیکھتے ہوئے سہ نکاتی پروگرام پر اپنے دائرہ عمل کو استوار کیا تھا۔

مدرسہ، خانقاہ اور عصری ادارے ۔

یہ ایک ایسا جامع اور مضبوط منصوبہ ہے جو عوام وخواص کی ترقی و کامیابی کا ضامن ہے۔

مدارس اسلامیہ ہی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کر سکتے ہیں۔ مذہب حق اہلسنت و جماعت کی ترویج واشاعت، باطل اور گمراہ فرقوں کے رد و ابطال اور نیک وصالح علما کے لیے آپ نے مدرسہ قائم کیا۔ تاکہ اس سے ایسے افراد تیار ہوجو علوم دینیہ، اخلاق فاضلہ اور دینی درد کے حامل ہوں اورقوم کی سہی دینی و مذہبی قیادت کر سکیں ۔

اس کے لیے آپ نے قنوج میں بچوں کے لیے الجامعہ الاحمدیہ اور قوم کی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے جامعۃالمحصنات قائم کیا ۔اس کے علاوہ سیکڑوں مدارس کی سرپرستی فرماتے رہے۔

عصری ادارے ۔دور حاضر میں مغربی تہذیب کی یلغار اور اعلی تعلیم کے نام پر مسلم طالب علموں کا جو استحصال کیا جارہا ہے وہ کسی بھی ہوش مند پر مخفی نہیں ۔ان کے پاک اور معصوم ذہنوں میں بدعقیدگی اور اشتراکیت کے جو جراثیم بھرے جا رہے ہیں یہ کتنے خطرناک اور مہلک ہیں ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہمارے اپنے عصری ادارے ہیں اور نا ہی اپنا نصاب ۔اگر اپنے اسکول وکالج ہیں تو نصاب غیروں کا جس کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے۔ دین سے دوری، علماء سے بیزاری، اپنوں سے بے رغبتی اور اپنے ہی مذہب پر بے جا اعتراضات اور متشکک ذہن۔

نباض قوم و ملت حضور بحر العرفان بہت ہی حساس طبیعت کے مالک تھے ۔آپ کو اس کا بہت پہلے ہی احساس ہو چکا تھا ۔آپ فرماتے ہیں۔ اگر ہمارے اسکول وکالج ہوتے اور ہم نےانگریزی کے ساتھ اپنی نبی کی تعلیم بھی پڑھائی ہوتی ۔ لڑکیوں کے کالج ہوتے ہم ان میں پردہ کے ساتھ پڑھائی کراتے ۔ہمارے کالجوں میں بہترین انگریزی ہوتی اور اس کے ساتھ ہی نبی کی سنتیں بھی سکھائی جاتیں تو

ہمارے بچے اور بچیاں کبھی بھی بے راہ رو نہیں ہوتے۔

آپ نےنا تو اس فتنے سے راہ فرار اختیار کی اور نا ہی قوم کو گمراہیت و ضلالت کے سمندر میں غرقاب ہونے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑا۔ بل کہ کشتی نجات کے ناخدا بن کر قدیم صالح اور جدید نافع کا ایسا راستہ اختیار کیا۔ جس سے مسلمانوں کے ایمان و ایقان کا تحفظ بھی ہو سکے ،اسلامی تشخص بھی برقرار رہ سکے اور قوم ترقی کے راستے پر گامزن بھی ہو سکے۔

اس کے لیے آپنے مشہور و معروف عصری علوم وفنون کے ماہرین سے ایک ارتباط کامل کرتے ہوئے عصری تعلیم کے میدان میں بڑی پیش رفت فرمائی تھی ۔اور ایک عظیم یونیورسٹی کے لیے جتنی اراضی کی ضرورت تہی اس کا بہی انتظام کر لیا تھا ۔لیکن دنیاوی حیات نے وفا نہ کی اور فنا سے بقا کی طرف کوچ کر گئے

آپ نے قنوج اور دیگر شہروں میں اسکول و کالج قائم کیے۔

آپ فرماتے ہیں۔

میں ایسے افراد تیار کرنا چاہتا ہوں جو داعیانہ مزاج کے حامل ہوں اور ہمارے جتنے بھی مدارس اور اسکول ہیں ہم ان میں صرف سنی ہی نہیں بلکہ سنی گر بنائیں گے۔

خانقاہ۔ ایسے دور میں جب کہ خانقاہیں اپنی معنویت کھو چکی ہیں۔ ان کے اثرات معدوم ہوتے جارہے ہیں ۔عمومی طور پر سجادگان و ذمہ داران تن آسانی، مادیت پسندی، جہالت، خانقاہوں کے مقصد اساسی سے غفلت کا شکار ہو رہے ہیں اور اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی برت رہے ہیں۔ ورنہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ خانقاہیں ہی وہ جگہیں تھیں جہاں سے دین کے سوتے پھوٹتے تھے۔ تشنہ کام روحوں کی تسکین کا سامان فراہم ہوتا تھا۔ نیز پندونصا ئح ،وعظ و نصیحت اور مشائخ کی بافیض صحبت سے ہزاروں گم گشتگان راہ صواب ہدایت و فلاح کی دولت سے مالا مال ہوتے اور صغائر و کبائر سے تایب ہوا کرتے تھے۔ یہیں سے حق ھو کی وجد آگیں صدائیں اور اسم جلا لت کے لاہوتی نغمے بلند ہوا کرتے تھے، قلوب کا تصفیہ اور نفوس کا تزکیہ ہوتا تھا۔

کیوں کہ آپ خود تصوف کے نشیب و فراز سے کماحقہ واقف اور اس کے اسرار و رموز سے آگاہ تھےاور آپ کا قلب انوار الٰہی سے منور و مجلی تھا اس لیے آپ کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ جب تک

دلوں میں تصوف جاگزیں نہیں ہوتا انسان کا باعمل بننا دشوار ہے۔

آپ فرماتے میں تصوف کو اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ بغیر تصوف کے انسان انسان نہیں بن سکتا۔ تصوف اگر دلوں میں جاگزیں ہو جائےتو دلوں کو بغض حسد کینہ کپٹ سے پاک کردیتا ہے۔ عمل کا پابند بناتا ہے ۔دلوں کو منور کرتا ہے ۔سکون کی دولت دیتا ہے ۔محبت اتحاد اور اخلاص کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ کی محبت اور رسول اللہ کی جانثاری کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔اسی لیے آپ نے خانقاہ آفاقیہ مجددیہ قایم کی تاکہ افراد سازی کا کام بھی ہو سکے اور اخلاق و کردار کے غازی اور اخلاص و للہیت کے پیکر بن کر قوم کی خدمت بھی کر سکیں۔