مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتجس نے دل کے سیاہ آنگن میں گھر بنا لیا

باب ۴۱ از ۶۵صفحات ۲۸۷–۲۸۹

جس نے دل کے سیاہ آنگن میں گھر بنا لیا

مولانامحمد منظر امن مصباحی٭

علم و ہنر اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج کے اس پر فتن دور میں ان کی طرح کسی کا ہونا بالکل کم دیکھنے میں آتا ہے۔ کیونکہ ان کا انداز ہی جدا تھا۔ مدرسہ سے زیادہ اسکول سے اصلاح و دعوت کے قائل تھے حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب قبلہ موجودہ علمائے اسلام کے درمیان ایک منفرد ممتاز عالم دین تھے، الگ ڈھنگ سے سوچتے اور منفرد انداز میں اقدام کی کوشش کرتے تھے، اپنی سوچ پر پہلے خود کاربند ہونے پر یقین رکھتے تھے، قنوج جسے اتہاس کی نگری کہا جاتا ہے وہاں مفتی صاحب نے ایک قدیم ترین مسجد سے تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع کیا۔

آج سیکڑوں ایکڑ میں آپ کی تعمیری خدمتوں کے شامیانے تنے ہوئے ہیں لیکن میں ان کی ذاتی خوبیوں میں ایک خوبی کی وجہ سے ان سے متاثر تھا وہ اتنے عاجز اور منکسرالمزاج تھے کہ جہاں جلسے کا ایک عالیشان شامیانہ لگا ہو اس پر قندیلیں اپنی روشنی کی تمتماہٹ سے چاروں طرف ایک رعبدار سماں باندھ رہی ہو تو کس پیر کا جی نہیں چاہے گا کہ وہ اس تمتماہٹ کا شہسوار دولہا بن کر بیٹھے لیکن اس ذات کو میں نے دیکھا کہ وہ اسٹیج کے بالکل کورنر پر بیٹھ کر ہرچھوٹے بڑے زائرین کا استقبال بنفس نفیس کررہے ہوں۔ ہاں میں مانتا ہوں کہ اور بھی لوگ ایسے ہوں گے لیکن میری نگاہوں نے ایسا منظر نہیں دیکھا۔

میری تو صرف ایک دو ملاقات رہی ہے اور میرا دل تو ایسے ہی سیاہی کے اندھیرے میں گم ہے لیکن اس ذات کی اس خوبی نے میرے دل کے سیاہ آنگن میں بھی اپنی جگہ بنا لی۔جب ایسا ہوا تو میں نے ان کو پڑھا، جانا تو معلوم ہوا کہ وہ مدرسہ و مکتب سے دست بردار ہوئے بغیر، اسلامی ماحول میں اسکولی تعلیم اور پروفیشنل کورسیز کے معیاری اسکولوں کے ذریعے اسلامی دعوت و تبلیغ اور مسلم معاشرہ کی اصلاح و فلاح کے ایسے قائل تھے کہ قنوج شہر میں دو بڑے معیاری اسکول قایم کیے، سرہند پبلک اسکول، وارثی انٹر کالج اور تیسرے کی تیاری میں تھے،آپ خود کفیل مدرسہ کے قائل تھے، اسی لئے آپ نے اپنے مدرسہ جامعہ احمدیہ قنوج میں دھان کوٹنے، آٹا پیسنے، مسالہ پیسنے اور ہاسٹل کی ضرورت کے سبھی انتظام کر رکھے ہیں تا کہ ان کے لئے بار بار مدرسہ سے دور جانا نہ پڑے، ماحولیات کو خوش گوار بنا کر رکھنے پر اتنی توجہ دیتے کہ ہر عمارت کے ارد گرد خالی جگہ چھوڑی، سایہ دار درخت لگائے اور مختلف قسم کے پھولوں کی شجر کاری کی ہے، ایک خود کفیل غیر سرکاری مدرسہ میں اس طرح کی بنیادی چیزوں پر توجہ دینا، بانی و مہتمم کے انتہائی با ذوق اور نفیس طبیعت ہونے کی واضح ترین دلیل ہے، مفتی صاحب نے اسلامی علوم و تاریخ، مسلم ثقافت اور بطور خاص تعلیمات تصوف اور صوفیہ کی تاریخ کی تعلیم و تحقیق کے لئے ایک معیاری جامعہ امام ربانی انٹرنیشنل یونیورسٹی کا منصوبہ بندی کر لی تھی اور زمین بھی حاصل کر لی تھی لیکن اچانک ہی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے، اب ان کی صحبت میں تعلیم و تربیت یافتہ حضرات کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں، امید ہے کہ وہ مفتی صاحب کے تعلیمی مشن کو مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

٭چیف ایڈیر ڈیلی انڈیا نیوز،نئی دہلی

فیو ضات بحر العرفان

مولانامحمد کلام الدین سیوان

میں محمدکلام الدین دورطالب علمی میں ہی صوفی نظام الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے 1994 میں مرید ہوا تھا لیکن لاعلمی کی وجہ سےپیرکارتبہ مجھے معلوم نہیں تھاکہ پیر کا احترام عزت کیسے کی جاتی ہے صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سےملاقات ہوتی رہتی تھی بس سلام کرکے اپنے کام میں ادھر اُدھر چلے

جاتے تھے میں سوچتا تھا کہ انسان مرید ہو گیا اب کچھ بہیں کرنا ہے ساری ذمہ داری پیر صاحب کی ہے لیکن جب میں حضور بحرالرفان صاحب قبلہ رحمتہ اللہ علیہ سےملاقات 3۔جون2008۔میں طالب ہوااور دھیرے دھیرے حضرت کی صحبت میں رہنےلگا تومجھےمعلوم ہو کہ مرید کی نظر میں پیر کا کیا مرتبہ ہونا چاہیئے پیر کی موجودگی اور غیر موجودگی میں مرید کو کیسے رہنا چاہیے تصوف کا نام بھی مجھکو معلوم نہیں تھا حضور بحرالرفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربت سے پتہ چلا کی تصوف کیا ہے اور تصوف کے فائدے کیا ہیں حضرت کی صحبت سے پہلے دنیا کی محبت میرے دل میں بھری ہوئی تھی لیکن حضرت کی قربت کے بعد دنیاوی محبت ہمارےدل سے جاتی رہی آوردن بہ دن آخرت کی فکر ہمارے دل میں اترتی رہی اور میرا دل ذکر خدا سےمحروم تھالیکن حضرت کی نگاہ کرم نے معتدل کو ذکر الہی میں مشغول کرادیا یہ ان کا کرم ہے کہ میرا دل اور میری روح ہمہ وقت اللہ کو یاد کر تا رہتا ہے۔

اور میری تمنا یہ ہے کہ میری پوری زندگی حضرت کی تعلیمات پر گزرتی رہے اور اکثر وقت اللہ کے ذکر و اذکار میں صرف ہوتا رہے حضرت کی تاکید کرنے پر میں اکثر سمتوں پر عمل کرنے لگا حضور بحر العرفان مفتی آفاق احمد مجددی رحمہ اللہ کی میرے ساتھ کرامت یہ ہے کہ میرے دل خیال آتا تھا کہ میں مرید ہوں قادری سلسلہ میں اور وظیفہ پڑھتا ہوں نقشدیہ کا یہ سوچ کر میں نے وظیفہ پڑھنا چھوڑ دیا دو یا تین مہینہ کے بعد حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ سے بات ہوئی تو وہ بنارس شیخ المشائخ رضی اللہ عنہ کے عرس مبارک میں جا رہے تھے تو میں نے کہا حضور آپ سے ملنا ہے تو انہوں نے کہا بنارس چلے آو ، میں نے جی میں آرہا ہوں اور جب میں وہاں پہنچا تو حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کے ارد گرد موجود تھے سہروردی سلسلے کے پیر صاحب سے گفتگو ہو رہی تھی دوران گفتگو بحر العرفان رضی اللہ عنہ نے بات کو تبدیل کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ لوگ قادری سلسلے میں مرید ہیں اور وظیفہ نقشبندیہ کا پڑتے ہیں اور کیال کرتے ہیں کہ میں اپنے سلسلے کا وظیفہ کیوں نہیں پڑھتا یہ سوچ کر دونوں سلسلے کا وظیفہ بند کر دیتے ہیں پھر حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسے لوگوں بے حد خوش ہونا چاہئے دونوں سلسلہ کا وظیفہ پڑھا کرہں دونوں طرف سے فیض ملے گا تو جلد از جلد کامیابی مل جائے گی ایسے لوگ وظیفہ پڑھنا نہ چھوڑ یں وہ لوگ بہت جلد کامیاب ہو جائنگے لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنا حضور بحر العرفان رضی اللہ عنہ کا بہت بڑا احسان تھا۔