باب ۵۷ از ۶۵صفحات ۳۸۴–۳۸۹
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے
عالمہ صالحہ صدیقہ دخترحضور بحرالعرفان٭
نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ حبیبہ الکریم
۱۳جولائی بروز سنیچر کا سورج ایک قیامت خیز،دردناک اور تار تنفس کو جھنجھنا نے دینے والی خبر لے کر طلوع ہوا جس کی خونی کرنوں نے جانے کتنی آنکھوں کو نہ صرف اشکبار بلکہ خوں بار بنادیا، اس جانکاہ خبر کو سن کر کلیجے منھ کو آنے لگے،سانسوں کی لڑیاں بکھرنے لگیں،غشی و بیہوشی اپنے پنجے گاڑنے لگی اورنالہ وفریاد،آہ و بکا،چیخیں اور سسکیاں قیامت کا منظر پیش کرنے لگیں کیونکہ یہ خبر میرے ابا حضور،میرے شیخ و مربی،میرے مأویٰ و ملجأ، میرے ہادی و رہنما،سفینۂ حیات کے کشتیباں،چمنستان زیست کے باغباں کے ا س دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کی تھی۔
اس حادثۂ عظمیٰ نے ہمارے سروں پر ہمارےپیارے ابا جان کی شفقتوں اورمحبتوں کی تنی ہوئی چادر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے،ہمیں کیا پتہ تھا کہ آج کا طلوع ہونے والا سورج ہماری ساری خوشیاں لے ڈوبے گا،ہمارے ارمانوں کا چراغ گل اور خرمن آرزوکو خاستر کردے گا۔
ہمارے پیارے ابا جان ہم بہنوں سے تسلی کے ایسے جملے بولتے تھے کہ ہمیں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی اپنی پیاری شہزادی خاتون جنت رضی اللہ عنہاسے محبت کی یاد تازہ ہوجایا کرتی تھی،میں نے ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک اپنے والد کو کوئی کام خلاف سنت کرتے ہوئے نہیں دیکھا،قرب قیامت کے اس دورمیں جبکہ لوگ بیٹیوں کے وجود ہی سے متنفر ہیں ہمارے ابا جان نے اپنی بیٹیوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے کی سنت کو بھی ادا کیا،آپ کبھی ہم لوگوں کا نام لے کر نہیں بلاتے بلکہ جب بھی بلاتے لفظ بٹیا کے ذریعہ بلاتے جب آپ کی زبان حق ترجمان سے یہ شیریں لفظ نکلتا تو ہمیں ایسا لگتا کہ نہ صرف ہمارے کانوں میں رس گھل گیا بلکہ یوں بھی محسوس ہوتا کہ جیسے محبتوں اور شفقتوں کی پیہم لہریں ہماری طرف آ رہی ہیں جس میں ہم بہنیں غوطہ زن ہو کر ھم و حزن سے پرے کسی ایسی دنیا میں پہنچ گئے کہ جہاں بس لاڈ ہی لاڈ ہے،شفقت ہی شفقت ہے اور مامتا ہی مامتا ہے۔
اذان فجر سے قبل جبکہ مرغ بھی خاموش ہوتاہے اس وقت ہمارے کانوں میں اس طائر لاہوتی کی
صدا آتی‘‘بٹیا اٹھو’’ یہ صدائے دلنواز سنتے ہی ایسا لگتا جیسے ہمارے دل و دماغ زمزم سے وضو کرکے محراب حرم میں سجدہ ریز ہو گئے ہوں،چند منٹ کی چہل پہل کے بعد پورا گھر بیدارہو کر وہ سارے کا م کرنے لگ جاتا جس کی تربیت ہمارے ابا حضور نے کی تھی۔
مجھے میرے بچپن کا وہ دن آج بھی یاد ہے کہ جب میں سو کر اٹھی تو کچھ کھانے کا جی چاہا میں نے پیاری امی جان سے حال دل کہہ سنایا،بھلا ہماری امی نا کب کرتیں بظاہر کوئی سامان نہ ہونے کے با وجود بھی انھوں نے کہا کہ جاؤ اور جو کچھ ملے اسے کھا لو،مگر ابا جان کو تو دورے پر گئے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے اس لیےمن چاہا کوئی سامان نہیں مل سکا،آخر میں مایوس ہو کر امی جان سے عرض کیا:‘‘امی! بابو سے کہیں کہ وہ زیادہ دنوں کے لیے باہر نہ جایا کریں،گھر خالی ہوجاتا ہے’’ اسی بیچ امی کے فون کی گھنٹی بجی اور جب انھوں نے ریسیو کیا تو ابا حضور کا فون تھا،امی نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر کہہ دیا کہ سنیں! تمہاری بٹیا صالحہ کیا کہتی ہے؟ وہ کہتی ہے کہ با بو زیادہ دنوں کے لیے نہ جایا کریں گھر خالی ہوجاتا ہے، ابا جان نے امی سے فرمایاکہ بٹیا سے کہو کہ وہ فکر مند نہ ہوں ابھی ان کی خواہش کا سامان کرتا ہوں۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ اس وقت میرے ابا حضور وشاکھا پٹنم(حیدرآباد) تھے وہاں سے انھوں نے اپنے کسی وفادار کے پاس فون کرکے ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزیں گھر بھجوا دیں۔
ابھی اسی سال شعبان(۲۰۱۹) کی بات ہے کہ مجھے علی گڑھ جانا تھا اور ایک ماہ پہلے ہی میرا اے،سی میں ٹکٹ کرایا جا چکا تھا،جب اجازت کی غرض سے امی نے ابا جان سے بتایا تو انھوں نے سب سے پہلے یہی کہا کہ بٹیا سے کہوکہ ٹکٹ کینسل کرادیں اور ہماری گاڑی سے چلی جائیں اس لیے کہ ٹرین میں دھکے وغیرہ لگتے ہیں۔
آپ کی اس قسم کی محبتیں تو ان گنت ہیں جنھیں الفاظ میں سمیٹا نہیں جا سکتا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن ان کی شفقتیں یاد آئیں اور آنکھیں ساون بھادوں کا نمونہ پیش نہ کریں مگر ابھی صرف انھیں بے جوڑ و بے ربط چند الفاظ پر اکتفا کرتی ہوں،دعا ہے کہ اللہ ہمیں صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری والدہ مشفقہ کو لمبی عمر عطا فرمائے، آمین! بجاہ حبیبہٖ سید المرسلین علیہ وعلیٰ آلہٖ الصلاۃ و التسلیم
٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ
شفقتوں کا ایک جہان حضور بحرالعرفان
عالمہ عائشہ صدیقہ دختر بحر العرفان٭
حامدا ومصلیا مسلماًعلی رسولہ الکریم
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میںمیں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کے روپ میں
باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے ہر باپ کا یہ خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلی سے اعلی تعلیم اور میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپناکردار ادا کر سکے باپ دنیاکی سب سے بڑی نعمت ہے۔
لیکن میرے والد ،میرے مربی،میرے،میرے مرشد صرف ایک باپ ہی نہیں وہ تو میری دنیا و آخرت کے سرمایہ تھے میرے والد بزرگوار حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان اللہ کے ولی، اسکے پیارے محبوب ﷺ کے سچے جانشین تھے۔انکی ہر ادا نرالی تھی انھیں جس حیثیت سے دیکھا جدا پا یا علم وفضل، زہد وتقویٰ عبادت و ریاضت۔کمال اتبا ع سنت میں اپنے مشائخ بالخصوص حضرت امام ربانی مجددالف ثانی قدس سرہ کی یادگارتھے۔میں کیا کیا انکے اوصاف بیان کرو ں مختصر یہ کہ باپ کے سینے میں اولاد کے لیے موجزن پدرانہ شفقت، اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے عمر بھر کی ریاضت، ان کی بہترین تربیت اور بحیثیت باپ اولاد کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سعی یہ وہ عوامل ہیں جو ایک باپ کو بہترین اور مثالی باپ کے عہدے پر فائز کرتے ہیں۔ میرے ابا جان ان سے بھی زیادہ خوبیوں کے مالک تھے۔
میں اپنے دل کا درد کیسے لکھوں کس سے بیان کروں ،جب یہ دل کو دہلا دینے والی خبر میرےکانوں میں پہنچی تو ایسا لگ رہا تھا کہ بجلی سی گرگئی، قیامت سی برپا ہوگئی ہو، ساری دنیا اندھیری سی ہوگئی ہو سوچتی تھی کوئی کہہ دے یہ خبر غلط ہے اس لیے کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی میں میرےسرسے ابا جان کا سایہ اٹھ جائے گا ان کی محبت و شفقت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اس لئے میرے ابا جان نے کبھی ایسا جملہ نہیں بولا جیساکہ عام طورپر والدین اپنی اولاد کو بول دیتے ہیں۔ نہ
ہم سب کو کو ئی احساس ہونے دیا ہمیشہ ہم سب کو اتنی محبت دی کہ کوئی بھی یہ نہ کہہ سکا کہ ابا جان مجھے زیادہ چاہتے ہیں۔ بلکہ ہم سب ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ابا جان جیسی محبت تو امی جان بھی کبھی نہیں دے پائیں گی۔ میرے ابا جان کو جب یہ معلوم ہو جائے کہ میری فلاں بیٹی کو فلاں چیز زیادہ محبوب ہے تو ہمیشہ آپ کا طریقہ رہا کہ اسی کو بلاکر وہ چیز اس کے ہاتھ میں دے دیتے۔
میرے پیارے ابا جان اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بیٹی! میری زندگی میں کبھی مایوس نہ ہونا اپنی ہر خواہش کو پورا کرنا ان کی یہ باتیں ہمیں وہ وقت یاد دلاتیں ہیں جب آپ خالی ہاتھ تھے آس پاس کچھ نہ تھا ۔ ہم سب کی خاطر ہرتکلیف برداشت کی لیکن کسی کے سامنے کچھ بیان نہیں کیا۔
میرے والد ہمیشہ ہم سب سے فرماتے تھے کہ بیٹا دین کا کام کرو ، اللہ و رسول کا کام کرو ،دین کی خدمت کرو،فضل مولیٰ سے دنیا کی کسی بھی چیز سے محروم نہیں رہوگی۔
آپ عورتوں میں دین کی ترویج واشاعت کے لئے ہمیشہ فکرمند رہتے اس کے لئے جامعۃ المحصنات قائم فرما یا جس میں ہم سب پڑھاتے ہیں۔ لڑکیوں کی دینی تعلیم سے بہت خوش ہوتے اور ہم ساری بہنوں کو بہت دعائوں سے نوازتے جب گھر پر تشریف رکھتے توہم سب بہنوں کو اکھٹا کرتے اور بزرگوں کے واقعات اور اقوال اور انکی دینی خدمات بیان فرماتے اور ہمیں دین کی خدمات کے لئے نیا حوصلہ دیتے۔ عورتوں میں دین کی تبلیغ کے لئے فرماتے اور انکے اندر اسلامی تعلیمات کو عام کرنا اپنا مقصد فرماتے کیونکہ اسلامی معاشرے کی تکمیل کے لئے عورتوں کی دینداری کو بہت بڑا دخل ہے اور یہ بغیر ان میں تعلیم و تربیت کے ناممکن ہے اس لئے عورتوں کے دینی پروگرام اور گھر گھر اسلامی تبلیغ کے فروغ کے کوشاں رہتے ۔سیرت نبویﷺ کی ترغیب و تعلیم دیتے،فرماتے کہ حضور مجدد الف ثانی قدس سرہ کا فرمان ہے کہ ہر کمال و خوبی کا حصول اتباع سنت میں ہے۔اور اتباع سنت کے لیے سیرت رسول ﷺکی تعلیم ضروری ہے۔
آج یہ ساری باتیں یاد آتی ہیں تو بہت رلاتی ہیں۔کہ ایسے دور میں جہاں سب دنیا ہی کا سبق دیتے ہیں میرا باپ وہ تھا جو ہمیں صرف دین کی دعوت وخدمت کا سبق پڑھاتا اور زندگی جینے کا مقصد ہی صرف خدمت سنت وسنیت بتاتا آج ہم اس مرشد ومربی والد سے محروم ہوگئے اس آسمان کے سایہ تلے سب کچھ ہے پر میرا سائبان نہیں رہا ۔ میرے ابا جان کا ایساسایہ جس نے کبھی ہم لوگوں کو اپنے
میں نے پڑھا تھا کہ والدین کی زیارت پر حج کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھےتو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور(اس کی ذات ) بہت پاک ہے ،(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سوحج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃ ،البیہقی فی الشعب )
جب میرے والد گھر پر تشریف لاتے توہم سب لوگ اپنے والد کی زیارت سے مشرف ہوتے اور حج کی اس سعادت سے بار بار مشرف ہوتے لیکن آج ہم اس عظیم شرف سے محروم ہوگئے اپنے پیارے ابا جان کی پیاری میٹھی آواز سن کر دل کو سکو ن ملتا تھا اپنی قسمت پر ناز کرتے تھےمگرافسوس اب بے شرف ہو گئے۔
اباجان والدہ ماجدہ سے کہا کرتے تھے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کی شادی اپنے سے جدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ سنت رسول ادا کرنے کے لئے کی ہے۔ ہمیں دنیا کی ہر تکلیف گوارہ ہے لیکن اپنے بچوں کی تکلیف گوارہ نہیں ہمیشہ ہم سب کو اچھا کھلایا ہم سب کا یہ طریقہ رہتا کہ جب مدرسے سے گھر پہنچتے تو امی جان سے پہلا سوال یہی کرتے کہ ابا جان کے پاس سے کچھ آیا ہےکہ نہیں۔اکثرآپ سفر پہ چلے جاتےان کے سفر پہ جانے سے ایسا لگتا تھا کہ گھر ویران ہے، آہ ایک گھر کیا اب تو ساری دنیا ویران نظر آتی ہےکیونکہ ابا جان نظر نہیں آتے آپ جب سفر پر جاتے تھے تو آسرا دےکر جاتے تھے ہم سب انتظار کرتے تھے ابا جان آئیں گے ہم سب بہنیں اکٹھا ہوجایا کرتیں تھیں۔
لیکن ابا جان! اب آپ نے تو ایسا سفر کیا کہ کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ لوٹ کر آئیں گے۔
ابا جان! ہر انسان نظر آتا ہے مگر آپ دنیا کے کسی کونے میں نظر نہیں آتے
ابا جان! آپ نے کبھی ہمیں غمزدہ نہ ہونے دیا اب ہم بے سہارا ہوگئے۔
ہمارے آنسؤوں کو پوچھنے والا کوئی نہ رہا ہم سب کو تسلی دینے والانہیں رہا آپ تھے تو زندگی تھی کیونکہ آپ کا وجود مسعود ہی ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت تھا۔اب دنیا کی ہر نعمت مل سکتی ہے لیکن آپ
کی محبت وشفقت تو نہیں مل سکتی آپ نے ہمیشہ ہر خواہش کو پورا کیا غریبی کے وقت میں بھی ہماری ہر تمنا، ہر آرزو کی تکمیل فرمائی ،کبھی بلند آواز سے بات نہیں کی ہمیشہ مسکرا کرہنستے ہوئے ہم سب سے باتیں کیں۔ آپ کا وہ مسکراتا دلکش چہرہ کہاں کہاں تلاش کروں۔
ایک دن ایسا بھی آیا کہ ابا جان نے ہم سب کی طرف نظریں نہیں اٹھائیں ہم سب بہنیں ابا جان کے دروازے پر کھڑی رہیں لیکن میرے ابا جان نے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا، آنکھوں میں آنسو آ گئے ایک مرتبہ بھی بیٹی کہہ کر نہیں بلایا، جو کبھی نام لے کر نہیں ہمیشہ بیٹی کہکر بلا یا کرتے تھے۔
آہ! آخری لمحہ میں بیٹی کا لفظ بھی نہیں بولا شاید اس لئے کہ بیٹی کو دیکھ کر باپ کا پیار اور زیادہ نہ ہو جائے اور برداشت کی طاقت ختم نہ ہو جائے کیونکہ آپ اپنے رب العزت کی آواز پر لبیک کہہ چکے تھے اسی طرح اپنے آ نسؤوں کو پوچھتے رہے ابا جان! اب آپ جیسا کہاں تلاش کرنے جائیں آپ سے سب کچھ تھا اب تو دنیا خالی نظر آتی ہے ہر انسان یہی کہتا ہے جب آپ اس دار فانی میں نہ رہے، تو ہم سب کی زندگی سے کیا فائدہ۔
ہمیں ناز تھا تو آپ پر، فخر تھا تو آپ پر۔ آج ہم سب کا غرور ٹوٹ گیا سایہ پدری سر سے اٹھ گیا ابا جان کی محبت سے محروم ہو گئے فخر کس پر کروں ناز کس پر کروں ہمیشہ آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی نے ہماری آوازوں کو بلند رکھا آج ہم سب کی زبانیں خاموش ہیں فقط اس لئے کہ ابا جان تو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہمیں یتیم کر گئے ہمیں اپنی محبت وشفقت سے ہمیشہ کے لئے محروم کر گئے۔ آہ میرے ابا جان! آپ کی شفقتیں عنایتیں ،محبتیں بے شمار ہیں جن کو بیان کرنا بس سے باہر ہے۔
میرے والد کے مقام و مرتبہ کو خدا ورسول ہی بہتر جانتے ہیں انکی دینی خدمات کا زمانہ معترف ہے لکھنے والے انکی حیات و خدمات پر لکھ رہے ہیں ۔ میں نے یہاں ایک بیٹی کا درد اور اسکے باپ کے جانے پر کیا کیفیت ہوتی ہے بھیگی پلکوں کے ساتھ صفحہ قرطاس پر قلمبند کر نے کوشش کی ہے اللہ تعالیٰ مجھے اور میری پیاری امی جان اور پیارے بھائیوں اور میری سعادت مند بہنوں کوصبر کی توفیق عطا فرمائے اور ابا جان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ئے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین
٭معلمہ جامعۃ المحصنات شاخ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ