مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتمحبت نماز کا مثالی پیکر

باب ۴۸ از ۶۵صفحات ۳۲۸–۳۳۱

محبت نماز کا مثالی پیکر

عنایت برکاتی صاحب کانپور

حضور رفیق ملت سید شاہ نجیب حیدر نوری (سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ شریف) نے حضرت مفتی آفاق صاحب کو اپنی خلافت سے نوازہ، اتفاق سے میں اس محفل میں نہیں شریک تھا، ایک روز مسجد سعید آباد میں مرحوم نوابو بھائی نے نماز مغرب کے بعد مفتی صاحب سے ملاقات کرائی، مجھے بیحد خوشی ہوئی، میں مفتی صاحب سے اپنے غریب خانہ پر چلنے کی گذارش کی جسے انہوں نے قبول فرمایا، یہ میری اور انکی پہلی ملاقات تھی۔

جلد ہی نجیب میاں کانپور تشریف لائے اور مفتی صاحب بھی کانپور آئے ہوئے تھے، نجیب میاں نے مجھے حکم دیا کہ ’’عنایت ایک کمپیوٹر مفتی صاحب کے مدرسہ میں لگوا دو‘‘ بفضلہ تعالیٰ مفتی صاحب نے نجیب میاں سے عرض کیا ’’حضور ضرورت پڑنے پر عنایت بھائی کچھ کام لے سکتا ہوں‘‘ نجیب میاں نے فوراً مجھے حکم دیا حضرت مفتی صاحب رات ۲؍بجے بھی آواز دیں فوراً حاضر ہو جانا۔ الحمدﷲ یہ میری خوش قسمتی تھی ۔

حضرت مفتی صاحب کا قنوج میں ایکسڈینٹ ہو گیا جس سے بائیں ہاتھ کی باہ اور پنجے میں فریکچر ہو گیا، مجھے فون پر اطلاع ملی ، میںنے فوراً مفتی صاحب سے کانپور تشریف لانے کی گذارش کی اور نجیب میاں کو اطلاع دی ۔ حضرت نجیب میاں نے مجھے تاقید کی کہ مفتی صاحب کا سب سے اچھے ڈاکٹر سے علاج کرائو چاہے جتنا خرچ ہو کیونکہ مفتی صاحب قوم کیلئے بہت قیمتی شخصیت ہیں۔ الحمد ﷲاتر پردیش کے سب سے اچھے ڈاکٹر سے انکا علاج کرایا گیا اور اﷲ نے انہیں مکمل شفا سے نوازا۔جب مفتی صاحب کو آپریشن تھیٹر لے جا رہے تھے تو میں مفتی صاحب کو روتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا کہ’’ اے اﷲ میری نماز قضا نہ ہو۔‘‘ اور الحمدﷲ نماز ظہر کے وقت ختم سے ہونے ۱۵؍منت قبل ہی مفتی صاحب نے کئیی قسطوں میں ہوش پر آنے پر اپنی نماز ادا کر لی۔اس کے بعد تو اسپتال جتنے بھی دن مفتی صاحب رہے، نمازیں باجماعت ہوتی رہیں۔جب مفتی صاحب قنوج واپس گئے تو ایک بڑے بزنیس مین ان سے ملنے آئے اور ایک موٹی رقم مفتی صاحب علاج کیلئے دینا چاہا پر مفتی صاحب نے لینے سے انکار کیا اور فرمایا کہ’’میرا علاج حضرت نجیب میاں نے کرادیا ہے لہٰذا اب کوئی ضرورت نہیں بچی۔‘‘ بعد میں وہ بزنیس

مین نے اس رقم کو مفتی صاحب کے تکیہ کے نیچے چپکے سے رکھ کر چلا گیا، پتا چلنے پر مفتی صاحب نے مولانا آفتاب کو بُلایا اور حکم دیا کہ رقم مدرسہ کے اخراجات میں خرچ کرو۔

مفتی صاحب اپنے احباب کے ساتھ بنارس عرس میں جانے کیلئے کانپور تشریف لائے، کانپور سینٹرل اسٹیشن سے ان لوگوںریزرویشن تھا، ہم لوگ پلیٹ فارم پر کھڑے تھے کہ ٹرین آ گئی، اتنے میں نماز مغرب کی آذان کی صدا آنے لگی ، مفتی صاحب نے سب کو حکم دیا کہ جماعت کیلئے صفیں بنا لیں، چونکہ میں مفتی صاحب کو رخصت کرنے کیلئے پلیٹ فارم پر موجود تھا ،میں سوچا جماعت ہوگی تو ٹرین چھوٹ جائے گی ، ادھر ٹرین نے ہارن دینا بھی شروع کر دیا تھا پر مفتی صاحب نے نیت باندھ لی، اور اپنی نماز فرض ،سنت اور نفل بہت اطمنان سے ادا کی ، میں خود گواہ ہوں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ٹرین کی طرف رُخ کیا اور جیسے ہی بیٹھے، ٹرین اب چل دی۔

الحمد ﷲ سرکارانِ مارہرہ کے فیضان اور توسل سے مفتی صاحب مجھ سے اور میرے گھر کے ہر فرد سے بہت محبت فرماتے تھے۔ میری بیٹی حیا برکاتی سلّمہا کی شادی میں نکاح کے بعد لوگوں کے ہاتھ میں عطر کی شیشیاں دکھیں جو میں نے نہیں بٹوائی تھیں، بعد میں پتا چلا کہ مفتی صاحب اپنی طرف سے لوگوں کو شادی کی خوشی میں عطر کا تحفہ دیا۔

تقویٰ اتنا تھا کہ ابھی رمضان سے پہلے مفتی صاحب کی ایک آنکھ میں موتیا بند تھا تو میں حضرت سے عرض کیا کہ کانپور تشریف لے آئے تاکہ اسکا آپریشن ہو سکے، حضرت نے آپریشن کے بعد پرہیز اور احتیاط کے بارے میں ڈاکٹر سے دریافت کیا، ڈاکٹر نے حضرت سے کہا کہ کم از کم ایک ہفتہ سجدے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ مفتی صاحب نے آپریشن سے انکار کر دیااور یہ کہا کہ میں سجدہ نہیں چھوڑ سکتا اور مزید کہا کہ میری ابھی ایک آنکھ ٹھیک ہے، لہٰذا میرا کام ابھی چل رہا ہے۔

مفتی صاحب کا اِدھر وِصال ہوا اُدھر میری بیٹی حیا برکاتی جو اپنی سسرال میں تھی نے خواب دیکھا کہ مفتی صاحب کا جنازہ مدینہ شریف کی گلیوں میں گھمایا جا رہا ہے اور بعد میں جنت البقیع میں رکھ دیا گیا۔مفتی صاحب نے ایک شخص کے ہاتھ دو چیزیں (ایک عطر کی شیشی اور بال) یہ کہہ کر بھیجی کہ حیا برکاتی کو دیکر کہنا کہ اسے مقامِ ابراہیم پر رکھ دیں۔

الحمد ﷲ میری بیٹی حیا برکاتی( جس نے چار سال اور ۹ سال کی عمر میں حج کیا اور رمضان کا عمرہ بھی کیا)نے یہ دونوں چیزیں مقامِ ابراہیم پر جاکر رکھ دی۔

حضور بحر العرفان کی ذات جامع طریقت و شریعت تھی

سید شاکر حسین، ڈھاکہ ،بنگلہ دیش

حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ اس صدی کی نہایت ہی عبقری شخصیت تھے ، آپ کی ذات اقدس مجمع البحرین فی الطریقۃ و الشریعۃ تھی ، آپ نے اس صدی میں علماء و صوفیا کے درمیان حائل خلیج کو پاٹا ہے ، آپ کی ذات اس لیے بھی یکتائے روزگا رتھی کہ آپ نے اتحاد امت کیلے جی توڑ کوشش کی جو عصر حاضر کا سب سے بڑا ورک تھا،آپ ہر مدرسہ کو ،ہر جامعہ کو، ہر عالم کو ،ہر شیخ طریقت کو ہر طالب علوم نبویہ کو دین کا اثاثہ سمجھتے تھے .جب آپ پانچ روزہ بنگلہ دیش کے دورے پر تشریف لائے تو آپ نے اپنے ہر خطاب میں اتحاد امت پر زور دیا اور آپ نے عام مسلمانوں سے بھی گزارش کی کہ آپ اپنے سینے ،اپنے بھائیوں کے لیے کشادہ رکھیں، نفاق ،حسد ، اور کینہ جیسے موذی مرض سے اپنے آپ کو بچائیں چونکہ یہ ایسا مرض ہے جس سے فرد بھی کھوکھلا ہوتا ہے اور معاشرہ بھی کمزور پڑجاتا ہے ، آپ ہمیشہ قلب کی صفائ اور تزکیہ نفس پر زور دیتے کیونکہ یہی روحانی بالیدگی اور اس میں پختگی کا اصل ذریعہ ہے آپ کی سادگی اور دعوتی اسلوب و طریقۂ کار نے بنگلہ دیشی نوجوانان اسلامی کو بہت متأثر کیا ہر وقت دیوانوں کا ایک ہجوم رہتا نہ کبھی تھکتے اور نہ تھکاوٹ کا اظہار کرتے اس دورے میں آپ نے چار عالمی کانفرنس سے خطاب فرمایا لاکھوں لاکھ کا مجمع ہوتا اور سب کے سب حضور بحر العرفان کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہوتے اور ایسامحسوس ہوتا کہ تاریخ نے ہم سبھوں کو بنگلہ دیش سے اٹھا کر بغداد کی دھرتی پر چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں حضور غوث الاعظم کی مجلس میں پہونچا دیا ہے اس دورے میں ہزاروں نوجوان مرید ہونے کے خواہش مند تھے لیکن آپ نے سب کو پہلے رزق حلال اور نماز پنجگانہ کی تلقین کی اور نماز کو اس وقتوں پر ادا کرنے کا عادی بننے پر زور دیا اور آپ نے فرمایا یہی کامیابی کی بنیادی سیڑھی ہے ۔

حضور بحر العرفان کی ذات اور شخصیت سے ہم اور دیگر نوجوانان اہلسنت بنگلہ دیش ایک عرصہ سے واقف تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلہ دیش کی عظیم علمی شخصیت اور عالمی مبلغ و داعی حضرت علامہ ڈاکٹر سید ارشاد البخاری صاحب ڈاریکٹر اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن آف بنگلہ دیش ۔

حضور بحر العرفان کی تربیت میں ایک عرصہ تک رہ کرتحصیل علوم اسلامی کرتے رہے ہیں اور آپ

کے شب و روز اور معمولات زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ڈاکٹر صاحب آپ کی حیات طیبہ کے ایک ایک گوشہ سے واقف ہیں بلکہ ان کی زندگی میں بھی حضور بحر العرفان کی چھاپ نمایاں طور پر نظر آتی ہے ، ڈاکٹر صاحب قبلہ اپنی ہر مجلس اور گفتگو میں اپنے شفیق استاذ و مربی حضور بحر العرفان کا تذکرہ اس انداز میں کرتے کہ آپ کی آنکھیں خوشی سے چھلک پڑتیں اور انداز والہانہ ہوجاتا اس قدر عقیدت و محبت کو دیکھ کر مجلس میں بیٹھے ہر شخص کو حضور بحر العرفان کی زیارت کا شوق انگڑائیاں لینے لگتا یہی وجہ ہیکہ جب حضور بحر العرفان دسمبر 2017 میں بنگلہ دیش کے دورے پر تشریف لائے تو آپ کی زیارت کے لیے لاکھوں لاکھ لوگوں کا مجمع ہوتا اور ہر ایک کی زبان پر یہی بات ہوتی کہ برسہا برس کے بعد کوئ علمی و روحانی شخصیت کے دیدار کا موقع نصیب ہوا ، آپ کے چہرۂ انور کو دیکھ کر بہت سارے نوجوان اپنے گناہوں سے تائب ہوئے ، آپ جب گفتگو فرماتے تو بلا کی کشش اور نور کے پھوارے آپ کے چہرہ سے پھوٹتے ، دیدار کرنے والوں کو طمانیت کا احساس ہوتا ،آپ کی مجلس میں بیٹھنے والوں پر سکینت کاسماں ہوتا آپ اپنی ہر گفتگو میں اعلی اسلامی اخلاق اور اقدار مسلمانی پر زور دیتے اور فرماتے کہ ہمارے بزرگوں نے پوری دنیا اسی دولت سے جیت لی ، آپ اپنوں اور بیگانوں سب کے غمگسار تھے ، آپ سے ملنے والا ہر شخص یہی کہتا کہ حضور بحر العرفان ہم سے زیادہ محبت کرتے ہیں ، یہ احساس پہلی ملاقات کرنے والوں کے اندر بھی جاگ جاتا ، بلاشبہ آپ کی ذات اس صدی کی بڑی عبقری ذات تھی جس کی نظیر اس صدی میں پیش کرنا ناممکن ہے ، میں یقین کامل کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ اس صدی کے مجدد طریقت ہیں اور آپ کا کارنامہ زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے جس کا احاطہ کرنا اس مضمون میں مشکل ہے ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے