باب ۳۴ از ۶۵صفحات ۲۳۵–۲۴۲
آہ! مجددی قلندر رحمۃاللہ علیہ
مولانا شمس الھدیٰ مصباحی صاحب قبلہ٭
یہ جانکاہ خبر بجلی بن کر گری کہ ہمارے مخلص کرم فرما ہمدرد اہل سنت مرد قلندر حضرت علامہ مفتی محمد آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ اب اس دارفانی سے دار جاودانی کی جانب کوچ کر گئے کچھ دیر تک سکتہ کا عالم تھا کہ خبر بہرحال محتمل صدق وکذب ہوتی ہی ہے شاید یہ خبر خلاف واقعہ ہو لیکن جب قنوج سے حضرت کے بعض اقربا نے اطلاع دی تو یقین ہوا اور بے ساختہ زبان سے نکلا ‘‘آہ مجددی قلندر’’ خیر
مرضی مولی از ہمہ اولی، اور صبروتو اصل صدمہ اولی کی گھڑی ہوتا ہے۔ ایک عرصہ دراز سے میرا ان کے ساتھ دینی، مسلکی، علمی رابطہ رہا ہے۔ انھیں حضرات مجددین امام ربانی مجدد الف ثانی اور مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سرہما سے والہانہ عقیدت تھی اور ان کے طریقہ دعوت کو عملی لباس پہنانے کی تگ ودو میں شب وروز انتھک جدوجہد فرماتے اور اس راہ میں ان کے جذبہ اخلاص کی برکتیں؛ بہت سے ایسے علاقہ جات میں نمایاں نظر آتی ہیں جہاں ہمارے اکابر کی جلوہ گری نہ ہوسکی یا کم ہوئی اور خلق خدا کی ایک بڑی تعداد بد مذہبوں اور بے دینوں کے چنگل پھنس چکی تھی۔ انھیں اس مہلک دلدل سے نکال کر وادی رضا کی بہاروں سے روشناس کردیا۔ اللہ سبحانہ وتعالى ان کے اولاد روحانی وجسمانی سب کو ان کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق رفیق بخشے اور ان کے چھوٹے ہوئے مشن کو آگے لے جانے کا حوصلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مسلکی حوالہ سے سرہند شریف، ہریانہ، میوات، راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار وغیرہ میں ایک بڑی تعداد کو راہ حق پر گامزن فرمایا تصفیہ قلوب کی خاطر مخصوص اوراد و وظائف کا درس دیتے تھے اور بہتوں کی عملی تربیت بھی فرماتے تھے۔ آپ کی تعویذات میں خدا عز وجل نے بڑا اثر رکھا تھا کبھی کبھار لوگوں کا بڑا ہجوم ہوتا، ہندو ہو یا مسلم ہر کوئی آپ کے تحریر فرمودہ نقوش سے مستفید ہوتا ہم نے دہلی میں دیکھا کئی بڑے آئی، ایس افسران بھی آپ سے گہری عقیدت رکھتے ہیں انھیں عقیدہ حقہ پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تدابیر بھی فرماتے۔ مذہبی، سیاسی، سماجی ہر میدان کے باہر افراد آپ کی خاصی قدر کرتے تھے۔ بڑے بڑے سیاست داں آپ کی دعا لینے کے لیے قنوج حاضری دیتے تھے آپ کی سادگی بھی لوگوں کو بہت بھاتی تھی ان کے جامعہ احمدیہ میں امتحان لینے کے لیے نیز تقریب ختم بخاری شریف میں جانا ہوا رخصت کے وقت فرمایا، تقریب ختم صحیح البخاری، میں جو روحانیت، نورانیت اور نزول رحمات کا سما تھا وہ بہت کم دیکھنے کو ملا۔ اور بڑے مشفقانہ اور مخلصانہ انداز میں سال آئندہ کی دعوت دیتے ہوئے الوداع فرمایا۔ آپ کو عالم اسلام اور عالم عرب سے رابطہ کی خاصی فکر رہتی تھی۔ اس سلسلہ میں فون پر بارہا رابطہ فرماتے تبادلہ خیال فرماتے۔ آدھا، آدھا گھنٹہ گفتگو فرماتے اپنے درد، دکھ کا اظہار فرماتے کہ بد مذہبوں نے ہم اہل سنت کا تعارف دنیائے اسلام میں اپنے تعلقات کی بنا پر ایک جدید فرقہ کی حیثیت سے بغیر کسی ٹھوس صحیح ثبوت کے کر رکھا ہے اور برصغیر میں اہل سنت کا صحیح ترجمان اپنی جماعت کوہی ان کے قلوب و اذہان میں بیٹھا دیا ہے جب کہ معاملہ اور حقیقت بالکل برعکس ہے ہمارے پاس
مظبوط قوی دلائل و شواہد موجود ہیں لہذا ہم اگر منظم طور پر اسلام دنیا سے رابطہ استوار کریں تو برصغیر کے سنیوں کو بے حد قوت مل سکتی ہے اور ہم اپنے کھویے ہوئے وقار کو نہ صرف بحال بلکہ اس کے اندر کافی استحکام پیدا کرسکتے ہیں چنانچہ انھوں نے عملی زندگی میدان میں پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ قدم رکھا اور کئی کانفرنسیں کیں اور کئی عربوں کو مدعو فرمایا ہماری جماعت کی روایت کہ محض بات کے بادشاہ اور شیخ چلی کی منصوبہ بندی ہی میں مگن رہنا کو توڑا۔ فقیر بیرون ہند اپنی گوناگوں اور علمی، دینی مصروفیات کے باعث ہر کانفرنس میں تو نہ حاضر ہوپاتا مگر بعض میں شرکت ہوئی۔ مسرت ہوئی خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو ان جیسا مخلص بے لوث، درددل رکھنے والا بدل عطا فرمائے اور ان کے مشن کو فروغ بخشے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ واکرم التسلیم۔
٭استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور یوپی
مسئول دارالافتاء کنز الایمان یو۔کے
حضور بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ اورجذبہ اتحاد
مفتی اویس رضا خیری مجددی٭
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس دنیائےرنگ و بو میں کچھ شخصیتیں ایسی ہوئی ہیں جن کے وجود مسعود سے زمانہ برکتیں حاصل کرتا رہا ہے اور وہ پر انوار ہستیاں اپنی تجلیات سے زمانے کا مرجع اور رہنما ہوتی ہیں جو امت مسلمہ کو اتحاد کا مقصد عطا کرتی ہیں اور رہنمائی بھی فرماتی ہیں انہیں مقدس ہستیوں میں ایک عدیم المثال ہستی خاندان مجددیہ نقشبندیہ کے رکن رکین فرد فرید اور عظیم سپوت مسلک اعلیٰ حضرت کے بے نظیر ترجمان فکر مجدد و رضا کے معتبر اور مؤقر شارح شاہ سیوان کے علمی و روحانی وارث ہم شبیہ سرکار قطب زماں سید ابو الخیرات فلک شیخ المشائخ کے ماہتاب منیرحضور شیخ العالم کے روحانی فرزند واقف رموز شریعت و اسرار طریقت نمونہ اسلاف بحر العرفان الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو کہ ۹ ذیقعدہ ١٤٤۰ھ بروز ہفتہ علی الصباح شاہ سرہند کے میخانہ وحدت کا جام لوگوں کو پلاتے ہوئے داغ مفارقت دے
گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون )
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
لیکن یہ بات بھی یقین کے اجالے میں عیاں ہو گئ ہے کہ زندہ اور متحد قوم اپنے بزرگوں کی یاد مرنے نہیں دیتی۔
علمی دنیا کا مقولہ ہے کہ نالہ درد سے درد مند ہی متاثر ہوتا ہے اہل عالم اس بات سے باخبر ہیں کہ ماضی قریب میں ملک کے طول وعرض میں پھیلی سنیت کا عظیم خسارہ حضور بحر العرفان الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی کے سانحہ ارتحال سے وقوع پذیر ہوا ہمارے گریہ غم پر صبر کی تلقین بھی ناقابل برداشت ہے اس لیے کہ حضور بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ کا اچانک اس دنیاے فانی سے کوچ کرنا ملت اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ ہے اس جانکاہ صدمہ کا احساس صرف عوام اہلسنت ہی کو نہیں بلکہ خواص علماء ومشائخ اور دانشوران قوم و ملت واطراف و اکناف وطن کے افراد بھی اس روح فرسا سانحہ سے درد و کرب سے دو چار نظر آتے ہیں۔
دل کا یہ حال ہوا ان سے جدا ہوتے ہی
جیسے شیشہ کوئی پتھر پہ گرا دیتا ہے
مگر کیا کریں یہ کارخانہ قدرت ہے( کل نفس ذائقۃ الموت) نص قطعی
(الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب) موت ایک پل ہے جو حبیب کو حبیب سے ملا دیتا ہے ہر آنے والا جانے والا ہے لیکن مبارک ہے وہ مرد مومن جس کے جانے پر خلق خدا اشکبار ہو یقینا آپ کا وجود مسعود اہل زمانہ کے لیے خدا کی ایک عظیم نعمت تھا اور اتحاد و اتفاق کا حسین سنگم تھا لیکن وہ عظیم الشان نعمت آج ہم سے روٹھ چکی ہے گو کہ زبان حال سے کہہ رہی ہو۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی ذات بیک وقت متعدد صفات و کمالات کا جامع تھی تقوی ،طہارت ، عمل، زہد و ورع کا منبع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال مدرس خانقاہ خیریہ کے لاجواب صوفی خوشخصال صورت و سیرت کا منبغ قرآن و سنت کے ایک عدیم المثال داعی اور اپنے وقت کے نمونہ اسلاف اور مفتی اعظم تھے آپ ایک ایسی انجمن تھے جس میں تحریک کی تحریک تھی آپ نہایت بلند عزائم کے
مالک خوش اخلاق، ملنسار،شخصیت شناس وشخصیت ساز ایک سنجیدہ پروقار عاجزی و انکساری کا پیکر تھے۔
اس مادیت اور اختلاف و انتشار کے دور میں تشنگان علوم ظاہرہ و باطنہ کی سرابی اور ملت بیضا کی حفاظت وصیانت کے لیے جہاں آپ نے الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ جیسا سنیت کا ایک عظیم قلعہ تعمیر فرمایا اس کی متعدد شاخیں متعدد عصری جامعات خانقاہیں قائم فرمائیں وہیں اصلاح اعمال اور تصفیہ قلب اور مقصد تخلیق سے بھولی بسری زندگی گزارنے والے فرد بشر کو منشاے تخلیق سے آگاہ کرنے اور ان کے دلوں میں سرکار مدینہ علیہ التحیۃ والثنا کی محبتوں کا چراغ روشن کرنے ان کے دلوں میں معرفت حق کا دیپ جلانے کے لیے متعدد خانقاہوں کی داغ بیل بھی ڈالی۔
اور جذبہ اتحاد اس قدر تھا کہ مخالفین سے بھی اپنی عظمت کا لوہا منوایا آپ کے نمایاں زندہ و تابندہ عظیم کارنامے اعلی اوصاف امتیازیات و خصوصیات نیز علمی، دینی سماجی ، ملی ،قومی خدمات رہتی دنیا تک ہمیشہ یاد رہیں گی۔
حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ کاجذبہ اتحاد:
حضور بحرالعرفان رحمۃاللہ علیہ جن کے نام اور شخصیت کے ساتھ تین باتیں واقف کار کے ذہن میں بلا ارادہ آتی ہیں ایک دین اسلام کی بے پناہ خدمت اور سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے لیے نئے دور کا آغاز اور اتحاد و اتفاق کے لیےیے بےپناہ کا وشیں۔
خانقاہ خیریہ مجددیہ کے روحانی چشم و چراغ حضرت مفتی آفاق احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرت عارف باللہ بحر العرفان کے خطاب سے ہوئی اپنے مرشد برحق سرتاج ولایت واصل بارگاہ سبحان شیخ العالم الشاہ احمد رضا خان نقشبندی دام ظلہ النورانی کے دامن کرم سے وابستگی کے بعد آپ نے پوری زندگی خدمت دین خصوصا فروغ تصوف اور اتحادامت کےلیے وقف کردی۔
اتنا ہی نہیں کہ آپ نے فقط تحریک تصوف کو فروغ دیا بلکہ موجودہ دور کے جاہل صوفیوں کی نقاب کشائی بھی خوب کی اصل اور نقل حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچا جیساکہ آپ کی تصانیف ذکر وفکر ، سلسلہ نقشبندیہ اور اس کا سلوک تصوف اور اس کے فوائد وغیرہ سے ظاہر و عیاں ہے
آج جہاں میں حضور بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ کو نم کنومۃ العروس کی لوریاں سنا رہی ہے وہیں سے اس شاہکار کا آفاقی پیغام جملہ اہل فکر کو یہ درس دے رہا ہے کہ اپنی پرسوز فغاں آتش نوا اور نالہ شب گیر سے ہم
پہاڑوں کے جگر میں سوراخ کر سکتے ہیں لیکن علمائے اسلام اور خانقاہی حضرات کو اس بات پر متفکر ہونا ہوگا کہ ہمیں مقصد اتحاد میں کامیاب و کامران ہونے کے لیے باہمی محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے آنگن میں اتحاد کا شجر لگانا ہوگا۔
متحد ہو تو بدل دو گے زمانے کا نظام
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
اتحاد و اتفاق کا یہی وہ حسین مقصد تھا جس کی دعوت میں آپ تادم حیات کوشاں ر ہے اور خلق خدا کو اس حکم الہی کی دعوت دیتے رہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں کچھ یوں ہے ۔(واعتصمو بحبل اللہ جمیعاً ولاتفرقوا)(سورہ آل عمران، آیت نمبر ١۰٣)یعنی اور تم سب لوگ مل کر اللہ کی رسی یعنی دین اسلام کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں اختلاف و تفرقہ نہ کرو۔
دوسری آیت سورہ انفال کی ہے فرمان الہی ہے (واطیعوا اللہ ورسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصابرین)
یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا و اختلاف نہ کرو ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
پہلی اور دوسری آیتوں میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو اختلافات اور تفرقہ سے واضح طور پر روکا ہے جو ہر طرح کے اختلافات وتفرقہ کو شامل ہے مثلا سیاسی دینی اور اقتصادی اختلاف وغیرہ اور یہ بھی بتلایا ہے کہ اگر اختلاف کروگے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور وہ نتیجہ امت کی کمزوری اور طاقت و قوت کا ختم ہونا ہے جن کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے اس دور میں کر رہے ہیں جتنا آج مسلمان ذلیل و رسوا ہے شاید کبھی اتنا ذلیل اور رسوا رہا ہو نیز جتنا کمزور آج کا مسلمان ہے شاید کسی دور میں اتنا کمزور رہا ہوں یہی وجہ ہے کہ آج کے زمانے میں مسلمانوں کی بین الاقوامی طور پر کوئی اہمیت وقعت نہیں رہ گئ ہے۔ مسلمانوں پرکیسی مصیبت آن پڑی ہے ہر جگہ ان کو ہراسان کیا جا رہا ہے ان کی عزت وناموس محفوظ نہیں ہے ان کو تہہ تیغ کیا جارہا ہے اسلامی شعائر و عبادات سے ان کو دور کیا جارہا ہے امت اسلامیہ دور حاضر میں بہت مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے باریش شخص کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی اکثریت غربت اور جہالت جیسی مہلک بیماریوں سے جوجھ رہی ہے آخر ایسا کیوں ہے اس کے وجوہات و اسباب کیا ہیں جب کہ مسلمانوں پر ان کی معصیت و گناہوں کے باوجود اللہ رب العزت نے مختلف قسم کے فضل وکرم فرمائے ہیں مسلمانوں کو
زراعتی معدنی جسمانی روحانی غرضیکہ ہر قسم کی ثروت و دولت سے نوازا ہے ان کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے اور اسلامی ممالک کا رقبہ بھی بہت زیادہ وسیع و عریض ہے ان تمام سوالات کے جوابات مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں موجود ہے جوکہ مسلمانوں کا ہر قسم کا باہمی اختلاف و تفرقہ ہے۔
حضور بحر العرفان رحمۃ اللہ علیہ کا مجددی مشن اور آپ کی زندگی کا خاص و اہم پہلو اتحاد اتفاق کی دعوت تھی فرماتے کہ مسلمان بھائیوں کی کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ آپسی اتحاد اتفاق ہے اور صرف اسی کے ذریعے ہم اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکتے ہیں
اس دور پر فتن میں حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کی تعلیمات پر عمل کر کے فرقہ واریت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے آپ کی اعلیٰ فکری آب زر سے لکھنے کے قابل ہے یہی وجہ ہے کی ملت اسلامیہ کے بکھرے ومنتشر شیرازے کو جوڑنے اور یکجا کرنے میں ہمیشہ فکرمند رہا کرتے تھے آپ فرماتے کہ ایک مبلغ کے لیے بھرپور علم ہونا اور اس کی تربیت کا تام ہونا حسن فہم اور حکمت کا ہونا خاص طور پر اپنی تبلیغ میں خالص ہونا بہت ضروری ہے جبھی ہم اپنی تبلیغ میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں اور بغیر حسن تبلیغ اور شخصیت سازی کے اسلام وسنیت کا فروغ اوراتحاد قائم کرناحد درجہ مشکل ہے۔
آپ کے اخلاص اور بے نفسی کا عالم یہ تھا کہ آپ کے پیروکار جوکچھ نذرانہ آپ کی بارگاہ میں پیش کرتے وہ دین کی راہ میں خرچ کر دیا کرتے تھے بلکہ ۲٥ سال تک مدرسے سےتنخواہ ہی نہ لی تبلیغ دین کے لیے جو آپ کے اسفار ہوتے وہ خود اپنے ذاتی پیسے سے ہوتے یہ تمام باتیں اور آپ کی مبارک ذات نذرانہ خور نام نہاد علما و مشائخ کے لیے نمونہ عمل ہے اور اس دور پر فتن میں بےمثال نصیحت ہے پیارے اسلامی بھائیو! یہ صرف ایک سچے قائد ہی کی پہچان ہوتی ہے۔
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ علما و مشائخ کا بہت احترام فرماتے بایں علوم مرتبت اور فضل وکمال علمائے ظاہر کے لیے بھی آپ کھڑے ہوجاتے اور نہایت تواضع اور خندہ پیشانی سے ملتے۔
آپ اپنی پوری زندگی فروغ تصوف اور اتحاد کا کام انجام دیتے رہے اس کے لیے آپ نے نیری خانقاہوں کا رخ کیا اور علماء و مشائخ کی خدمت میں اتحاد کا پیغام پیش فرماتے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہند بھی اس پیغام کو جاری رکھا آپ اپنے اسٹیجوں پر بریلی شریف مارہرہ شریف کچھوچھہ شریف مکن پور شریف وغیرہ ودیگر اہل سنت کے عظیم المرتبت علما و مشائخ کو اکٹھا کرتے نیز ان سے اتحاد اورفروغ
تصوف کے متعلق مشورہ بھی کرتے اور بحسن و خوبی ان کی خدمت میں اپنی تجاویز بھی پیش فرماتے۔
آپ کی زندگی کا مقصد مسلک اعلی حضرت کی نشرواشاعت سنت رسول پر فعال ہونا اور اتحاد کے پرچم کو بلند کرنا تھا کیونکہ آپ خود میں ایک تحریک ہی تحریک تھے آپ کے سارے جلسوں ،محفلوں، تقریبات وغیرہ میں فقط اتحاد ہی اتحاد نظر آتا تھا کیونکہ اتحادِ امت آپ کے حیات کے گوشوں میں ایک خاص پہلو تھا
اور ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں آپ نے مسلمانوں کے دلوں کے ٹوٹتے تاروں کو جوڑنے کی سعی بلیغ فرمائی وہیں اعداے دیں کے سامنے دین و مذہب کے دفاع میں آہنی دیوار بن کر کھڑے رہے کیونکہ یہی وہ وصف خاص ہے جو عشق کو تمام دیوانوں میں ممتاز کردیتا ہے آپ آیت کریمہ ( والذین امنوا اشداء علی الکفار ورحماء بینہم ) کی جیتی جاگتی تصویر تھے جہاں آپ مسلمین سے آپسی منافرت کو ختم کرنے کی بے انتہا کوشش فرماتے وہیں یہ فکر بھی ہمیشہ دامن گیر رہتی کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھولی بھالی امت کو بھیڑیے اپنی درندگی کا شکار نہ بنا لیں الحمد للہ یہ رنگ عاشقانہ آپ کی تصانیف میں جابجا نظر آتا ہے۔
آپ کے وعظ و تقریر سے بھی دین کی تڑپ اور ملت بیضاء کے لیے بےحساب محبت نظر آتی ہے حادثۃً کبھی کسی کی دل شکنی کے جملے نہ نکلتے فقط محبت و اتفاق کی باتیں بیان فرماتے نیز آپ فرماتے کہ پیارے اسلامی بھائیو: الحمد للہ ہم مجددی ہیں اور مجددی کبھی اختلاف نہیں کرتے اور جو اختلاف و تفرقہ سے کام لے وہ مجددی ہو ہی نہیں سکتا اس لیے کہ امام ربانی پوری زندگی اتحاد و اتفاق کا درس دیتے رہے۔
محترم قارئین کرام: جذبہ اتحاد کا یہ سیل رواں آپ کی ذات با برکات میں اس قدر جاری و ساری تھا کہ آپ احکام شرعیہ پر عمل پیرا ہوتے تو اس حسن تدبیر سے کہ حتی الامکان جمع بین المذاہب ترک نہ ہو جیسا کہ آپ کے مکاتیب شریفہ سے عیاں ہے۔
سرہند سے مدینہ بہت ہی قریب ہے
آفاق اس ڈگر پہ چلے ہیں چلائیں گے
اللہ رب العزت آپ کے طفیل ذاکروشاکراور دین کا درد رکھنے والے بندے پیدا فرمائے اور آپ کا فیض سارے عالم میں کثرت سے عام فرمائے۔
٭خانقاہ خیریہ کمالپور شریف، ضلع مرزاپور