مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiبحر العرفان: سمات و جہاتاسلام کا درخشندہ ستارہ

باب ۱۵ از ۶۵صفحات ۹۷–۱۰۱

اسلام کا درخشندہ ستارہ

مولانا حفیظ الرحمٰن رضوی

خطیب وامام:جامع مسجد بھیلواڑہ

وناظم اعلیٰ:دارالعلوم سلطان الہند ورضا وجامعہ فاطمۃ الزهراء،بھیلواڑہ راجستھان

شیخ طریقت حضرت علامہ مفتی محمّد آفاق احمد نقشبدی کاوصال دنیائے سنیت کے لئے ایک عظیم خسارہ۔

ہمیں یہ روح فرسا خبر سن کر بے حد غم وافسوس ہواکہ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخ طریقت،اہلسنت کے ممتازمفتی، متعدد تعلیم گاہوں کے بانی وسرپرست،بہت سی دینی واصلاحی کتب کے مصنف،عالَمِ اسلام کے درخشندہ ستارہ، دنیائے تصوف کے عظیم صوفی حضرت علامہ مفتی محمّد آفاق احمد نقشبندی مجددی ۹ذیقعدہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۳ولائی ۲۰۱۹ء بروز سنیچر اس دنیائےفانی سے عالَم جاودانی کی طرف رحلت فرماگئےاِنّالِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیهِ رَاجِعُون! آپ کا وصال اہل قنوج کے لئے بالخصوص اور پوری دنیائے سنّیت کے بالعموم ایک عظیم خسارہ ہے، جس کی تلافی بظاہر مشکل ترین نظر آتی ہے، اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے

دنیائے سنّیت کو آپ کانعم البدل عطا فرمائے! بلاشبہ حضرت مفتی صاحب قبلہ قوم وملت کے بڑے سچےہمدرد،فروغ سنیت بالخصوص تصوف کی ترویج کے لئے ہمیشہ بڑے کوشاں نظر آتے تھےاور بہت حد تک اس میں اُنہیں کامیابی بھی ملی!حضرت مفتی صاحب ایک عظیم مبلّغ شریعت وطریقت بزرگ ہونے کے ساتھ انتہائی منکسرالمزاج تھے،اُنہیں دیکھ کر بزرگان دین کی یادتازہ ہوتی تھی!ملک کے بیشتر صوبوں میں آپ کے کثیر مریدین بھی ہیں!ہمارے بھیلواڑہ واطراف بھیلواڑہ میں بھی حضرت کے بہت سے مریدین ومعتقدین ہیں!

حضرت مفتی صاحب قبلہ سے احقر کو کئی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا!وہ کام کے آدمی تھے اور کام کرنے والے لوگوں کی قدر اور حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے!مختلف دینی وملّی امور پر تبادلۂ خیالات کے بھی مواقع میسّر آئے آپ حضور حافظ ملّت علیہ الرّحمہ کے اس فرمان "ہر مخالفت کا جواب کام ہے" کی تلقین فرمایاکرتے تھے آپ نے شہر قنوج میں کئی تعلیمی وفلاحی ادارے قائم کئے،ان میں الجامعة الاحمديه،محمّدی امدادی فاؤنڈیشن،مدرسہ جامعةالمحصنات،وارثی پبلک انٹر کالج اور سرہند پبلک اسکول نمایاں ہیں جواپنی اپنی جگہ دینی وعصری تعلیم کے فروغ نیز اصلاحی ورفاہی خدمات کے انجام دہی میں مصروف ہونے کے ساتھ حضرت کی عظیم یادگار کے طور پر باقی رہیں گے گویا حضرت نے اپنی پوری زندگی کو دینی ومِلّی خدمات کے لئے وقف کررکھاتھا اورآپ نے زندگی کی آخری سانس تک قوم وملّت کی صلاح وفلاح ہی لئے کام کیا!اللہ عزّوجل اپنے محبوبانِ بارگاہ کے صدقہ وتوسّل سے آپ کی ان سبھی خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول ومقبول فرمائے، اور حضرت مفتی صاحب قبلہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائےآپ کے جملہ پسماندگان بالخصوص آپ کے اہل خانہ،تلامذہ،مریدین ومتوسلین اور عقیدت مندوں کو صبر جمیل واجر جزیل مرحمت فرمائے۔آمین بجاہ سیّدالمرسلین ﷺ

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں

مفتی آل مصطفی مصباحی

خادم تدریس و افتاء جامعہ امجد یہ رضویہ،گھوسی

محب گرامی قدر مولانا سید نور عالم مصباحی زید مجدہ سلام مسنون

یہ خبر فقیر کے لئے باعث رنج و غم بنی کہ آپ کے خسر محترم حضرت مفتی آفاق احمد صاحب مجددی علیہ الرحمہ کا بتاریخ ۹ذیقعدہ ۱۴۴۰ھ کو وصال ہو گیا دنیا میں رہنے کے لئے کوئی نہیں آیا ،جو یہاں آیا اسے ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے ،لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے دنیا سے رخصت ہونے پر نہ صرف عوام بلکہ خواص اور ارباب فکر و بصیرت بھی اظہار افسوس کرتے ہوں ،اور انکی دینی ملی خدمات کو یاد کر کے اسے نہ پر ہونے والا خلا قراردیتے ہوں ۔

مفتی آفاق صاحب علیہ الرحمہ کی عالمانہ و صوفیانہ زندگی نسل نو کے لیے نمونہ عمل تھی وہ جہاں خود اپنے قائم کردہ دینی ادارے چلاتے تھے وہیں متعدد اداروں کی سرپرستی بھی فرمایا کرتے تھے بہ اعتبار مجموعی ان اداروں میں سیکڑوں طلبہ و طالبات ان کے وصال کے بعد بھی علم دین کے حصول میں مصروف ہیں ،انہوں نے کئی خانقاہوں کی بھی داغ بیل ڈالی اور تصوف و روحانیت کا نورانی ماحول بنایا ۔ مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم علم دین ،تہذیب نفوس ،اور تربیت روحانی کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا ،وہ ایک اچھے باصلاحیت مدرس بھی تھے ،اور صوفی بھی، شاعر بھی تھے اور مبلغ بھی مصنف بھی تھے اور واعظ و خطیب بھی ،

شہرت و ناموری سے دور اپنے کاموں میں ایسا مصروف تھے کہ زندگی کے قیمتی لمحات انہوں نے اس میں صرف کر دئے ۔اپنے محدود وسائل کے با وجود انہوں نے جوقابل رشک کارہائے دینی و علمی انجام دیے وہ رہتی دنیا تک انکے نام کو روشن کرتے رہیں گے کہ؎

بے نشانوں کے نشاں مٹتے نہیں

مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائےگا

اور یہ خدمات انکے لئے غیر معمولی صدقہ جاریہ ثابت ہوں گی

للہ ما اعطا ولہ ٗ ما اخذ و کل شئی عندہ باجل مسمی ،خدا جو دے وہ اسکا اور جو لے وہ اسکا اور ہر

چیز کے لئے اسکے یہاں وقت مقرر ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آپ اور انکے صاحبزادگان و نمائندگان انکے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے ۔مولیٰ تعالیٰ انکی تربت پر انوار کی بارش برسائے آمین ۔

آفاقی فکر کے مالک تھے

مولانااختر حسین فیضی مصباحی صاحب

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ

بخدمت مولانا احمد سعید مجددی ومولانا برکات احمد مجددی صاحبان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

۹؍ذی قعدہ 1440ھ/13جولائی2019 بروز شنبہ تقریباً صبح آٹھ بجے استاد مکرم علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی مدظلہ العالی کے صاحب زادے مولانا عصام الدین مصباحی نے فون کے ذریعے یہ روح فرسا خبر دی کہ سلسلہ مجددیہ کی عظیم روحانی شخصیت بحرالعرفان علامہ مفتی محمد آفاق احمد مجددی، نقش بندی اس دنیا میں نہ رہے، اناللہ واناالیہ راجعون، اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے، ان کی دینی، علمی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔

حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ آفاقی فکر کے مالک تھے، وہ اپنے مریدین و متوسلین کی روحانی تربیت تو کرتے ہی تھے ساتھ ہی قنوج شہر کے اندر دینی تعلیم کے فروغ کے لیے الجامعۃ الاحمدیہ للبنین اور جامعۃ المحصناب للبنات قائم کرکے تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام فرمایا تاکہ اہل قنوج اور دیگر جگہوں کے طالبان علم اپنی علمی پیاس بجھا سکیں اور اہل زمانہ کے شانہ بہ شانہ چلنے کے لیے عصری تعلیم کا بندوبست بھی فرمایا تاکہ اسلامی بچے اور بچیاں خود کو اہل زمانہ سے کم نہ سمجھیں اور اس کے ذریعے ان کی دنیوی ضرورتیں بھی بخوبی پوری ہوتی رہیں۔

بحمد اللہ تعالیٰ یہ ادارے بڑی شاندار اور اطمینان بخش خدمات انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں مزید ترقیوں سے ہم کنار فرمائے۔آپ نے تحریری اثاثہ بھی چھوڑا ہے جس میں تمام تر کتابیں اصلاح و موعظت اور سلوک و معرفت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں یہ تحریریں اتنے آسان پیرایے میں ترتیب

دی گئی ہیں کہ قارئین کو ان سے استفادے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہوتی اور بحسن و خوبی ہر عام و خاص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔دعا ہے پروردگار عالم حضرت کے چھوڑے ہوئے کام کو مزید عروج عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، صاحب زادگان، اہل خانہ اور دیگر متعلقین کو صبر و شکر کی نعمت سے نوازے۔