باب ۶۲ از ۶۵صفحات ۴۱۳–۴۳۱
حضور بحر العرفان اوراحیاے تصوف و تجدید طریقت
مولانا آفتاب عالم آفاقی
الحمد للہ و الصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء و المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ۔
تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند
اب ضرورت ہے تیرا فیض ہو عام اے ساقی
اللہ کے کچھ چنندہ بندے ایسے ہوتے ہیں جنھیں وہ بڑے کاموں کے لیے دنیا میں بھیجتاہے ان کی تربیت اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ کرم پر لے لیتا ہے وہ اللہ کے محبوب اور مراد بندے کہلاتے ہیں لیکن انھیں بھی مرشد کامل کی ضرورت ہو تی ہے تاکہ اس کے ذریعہ فتح باب ہو سکے اور وہ بڑے فیوضات کےلائق بن سکے پھر اسکی روحانی ترقیات اور عروجات انوکھے اور نرالے ہوتے ہیں اسی لیےحضور بحر العرفان قدس سرہٗ تعلیم سے فراغت کے بعد روحانیت کی تلاش میں رہتے تھے اور اساتذہ سے مرشد کامل کے تعلق سے پوچھتے رہتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ ایسا مرشد ملے جو خود بھی واصل بارگاہ سبحان ہو اور دوسروں کو بھی واصل کراتا ہو۔ اللہ مسبب الاسباب ہے جو لوگ اس کی راہ تلاش کرتے ہیں انہیں وہ اپنی راہ ضرور دکھاتا ہے ، حضور عارف باللہ مولانا احمد رضا خان بنارسی دام ظلہ العالی سے ملاقات ہوئی ، دل تو پہلے ہی سے انکی ولایت پر مطمئن تھا ، لیکن ملاقات کے بعد خیال آیا کہ کوئی کرامت دیکھنے کو مل جاتی تو دل اور مطمئن ہوجاتا ، ساتھ میں بیٹھے ایک مولانا کو حضرت کے مرشد نے حکم دیا کہ الماری سے فلاں کتاب نکال کر لائو ، کچھ اوراق پلٹے اور حضور بحر العرفان سے فرمایا مولانااس کو پڑھئے ، جب پڑھاتو لکھا تھا کہ مرشد سے کرامت نہیں طلب کرنی چاہئے ، آقا علیہ السلام سے معجزات کفار طلب کرتے تھے، حضور بحرالعرفان کا دل بہت خوش ہوا کہ کرامت بھی دکھا دی اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا ۔
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ اپنے مرشدعالی وقار دام ظلہ العالی کی بارگاہ میں رہ کر تین یا چار سال تک برابر توجہات حاصل کرتے رہے ،اورسلوک نقشبندیہ مجددیہ کو طے کرتے رہے ، اس کے بعد مرشد نے حکم دیا کہ اب تم کو ہماری صحبت کی ضرورت نہیں ہے ، جائو اور ارشاد و ہدایت کا کام کرو ۔
مرشد گرامی سے اجازت و خلافت کے بعد قنوج کی سرزمین کو اپنے پاک قدموں سے شرف بخشا ،اور
شہر کے محلہ احمد نگر حمالی پورہ قنوج میں الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کا قیام فرمایا اوراپنی علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اس محلہ کی ایک چھوٹی سی مسجد (جوکہ بعد میں مسجد نقشبند یاحضرت والی مسجد کے نام سے مشہور ہوئی )میں اپنی پوری حیات طیبہ ذکر ومراقبات و عبادات کیے،اور اسی مسجد کے ایک چھوٹے سے حجرے میں سکونت اختیار کرلی ۔
اسی مسجد کے حوالے سے ایک اہم واقعہ جو کہ آپ کے دور حیات میں مشہور تھا ۔ اس کے متعلق مرحوم محمد صادق صاحب سےجو کہ مسجد کے پڑوسی تھے میں نے دریافت کیاکہ آپ کے حوالےسے میں نے سنا ہے کہ آپ نے ایک بار حضرت کو رات کے وقت مسجد میں دیکھا کہ حضور بحر العرفان کا ہر عضو الگ الگ ہو کر اللہ اللہ کر رہا ہے انہوں نے تصدیق کی اور کہا کہ ہم یہ دیکھ کر ڈر گئے ، اور مسجد سے باہر آگئے ، تھوڑی دیر بعد حضرت مسجد سے باہر نکلے اور مجھ سے فرمایا کہ جو دیکھا ہے اس کو کہیں ذکر نہ کرنا ، اور اسی واقعے کو میرے ساتھی حضرت مولانا عبد العزیز صاحب نے بھی ان سے دریافت کیا تو ان نے سے بتایا کہ میں سمجھا تھاکہ کسی نے حضرت والاکوکاٹ کر ڈال دیا ہے۔
ابتدائی دور کا ایک اور چشم دید واقعہ مولانا ظفر سیوانی نے بیان کیا کہ کشی نگر کے موضع شیخواپٹی کی مسجد میں رات کے وقت تقریبا ۱۱ بجے ہوں گے داخل ہوا دیکھا کہ حضرت چت لیتے ہیں اور دل خوب تیز دھڑک رہا ہے اور اللہ اللہ کی آواز آرہی ہے بغیر کچھ بولے باہر نکل گیا باہر دیکھا کہ مسجد کے اطراف میں جو درخت ہیں وہ بھی ہل رہے ہیں اور ان سے اللہ اللہ کی آواز آرہی ہے جسکو میں نےاپنے کانوں سے سنا ہے۔
مسجد نقشبند میں حلقہ ذکر و مراقبہ جاری رہتا تھا آپ کا معمول تھا بعد فجر تا اشراق مراقبہ فرماتے اورمریدین و طالبین پر حسب مراتب توجہات ڈالتے فاتحہ وشجرہ خوانی اور دعاپر حلقہ کا اختتام ہوتا۔نماز اشراق و چاشت سے فارغ ہو کر دلائل الخیرات کا ورداور قرآن کی تلاوت سے فارغ ہو کر وقت پر مدرسے آجاتے۔جامعہ سے فراغت کے بعد ظہر کی نماز ادا فرماتےاور مراقبہ فرماتے،عصر تا مغرب اور بعد عشاء بھی مراقبہ فرماتے مراقبے کے بعد خلفاء و اساتذہ جامعہ کے ساتھ قوم و ملت کے مسائل پر غور وفکر فرماتے اور ہفتہ میں ایک دن درس تصوف دیتے جس میں تصو ف کی اہمیت وافادیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتےجس میں عوام وخواص اہل ذکر شامل رہتے اور کبھی خواص اہل ذکر کے سامنے رموز و اسرار الہیہ اور معارف مجدد و مقامات سلوک بیان فرماتے ۔ جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کا طریقہ تھا۔
آپ کی بارگاہ میں طالبان حق کا ایک ہجوم ہونے لگا اور دیکھتے دیکھتے اتنا ہجوم بڑھا کہ مسجد نقشبند تنگ پڑنے لگی حلقہ ذکر و مراقبہ میں اکثر مدرسین جامعہ اور کثیر تعداد میں طلبہ اور دور دراز علاقوں سے علماو مریدین و سالکین اورشہر قنوج کے لوگ بھی اخذ فیض کے لئے حاضر ہوتے۔
یہ ہجوم خاص طور پر بعد فجر اور عشا میں ہوتا اور بعض لوگ چاروں وقت حاضر ہوتے اکثر عشاء کے بعد مراقبہ سے فارغ ہو کرتصوف کے نکات بیان فرماتے۔ امراض قلبیہ رذائل نفس اور مقامات عشرہ جو سلوک کے لازمی جز ہیں تفصیل سے بیان کرتے ذات و صفات الہیہ وغیرہ کو سمجھاتے اسباب قرب الہی اور موانع قرب بتاتے ذاکرین کا حال دریافت کرتےجس کی ترقی ہو جاتی آگے کا سبق بڑھاتے ذاکرین کی تعریف کرتے کہ فلاں کا ذکر اچھا چل رہا ہے،ان کا قلب خوب نور قبول کر رہا ہے ،کسی سے فرماتے کہ انکی کیفیت اچھی ہے ،اکثر جب سفر سے لوٹتے تو باہر کے ذاکرین کا تذکرہ کرتے کہ فلاں فلاں علاقہ میں کثرت سے ذاکر بندے تیار ہو گئے ہیں ۔
جن ذاکرین کو کیفیت ذکرمحسوس نہیں ہوتی توفرماتے کہ فلاں وقت میں تم میرے سامنے بیٹھنا، چند توجہات میں کیفیت محسوس ہونے لگتی ،اور کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو فرماتے کہ ایسے ہی پابندی کے ساتھ ذکرکرتے رہنا اور حلقہ بنا کر بیٹھنا کیونکہ ا س کا فائدہ یہ ہے کہ ایک کا ذکر بھی بارگاہ الہی میں قبول ہو گیا تو سب کا قبول ہو جاتا ہے۔
حضور بحر العرفان قدس سرہ کے مریدوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں ارشاد فرماتے کہ تم لوگ اب اس لائق ہو گئے ہو کہ دوسروں پر توجہ ڈال سکتے ہو طریقہ بھی بتاتے کبھی معین بھائی کو متوجہ کر کے فرماتے کہ یہ لوگ حیا کرتے ہیں، ماشاء اللہ! میری ٹیم بہت زبردست تیار ہو گئی ہے، اب ہمیں زیادہ فکر نہیں رہتی ہے، کام کرنے والے دو چار ہی بہت ہوتے ہیں، تم لوگ تو کافی کثیر تعداد میں ہو، فقیر سے کہتے کہ مبتدی ذاکرین کے نام لکھ لو اور انہیں پانچ پانچ کرکے تقسیم کردو ۔فلاں کے پاس پانچ فلاں کے پاس پانچ۔ تاکہ توجہ ڈالنے کی مشق ہو اور طریقت میں پختگی پیدا ہو۔
ہندوستان کے علاوہ بیرون ملک جو لوگ ذکرومراقبہ کرتے ان پر بھی غائبانہ توجہ ڈالتے جب لوگوں کے فون آتے تب پتا چلتا کہ ایک جگہ بیٹھ کر کتنی جگہوں پر آپ کا فیض جاری ہے۔ لندن، پاکستان ، بنگلہ دیش،نیپال، دبئی عرب امارات ،امریکہ سعودی عرب اورچین وغیرہ جیسے ممالک میں کثیر لوگ
مراقبات کرتے اور حضرت کی توجہات حاصل کرتے اور انکا سلوک طے کراتے۔
ہندوستان کے اکثر صوبوں میں ذاکرین ہیں کوئی جموں سے کوئی راجستھان سے کوئی مدھیہ پردیش سے کوئی بمبئ سے کوئی سرہند شریف سے پوپی بہار کے مختلف علاقوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد پر توجہ ڈالتے اور وقت بھی بتاتے کہ تم پر فلاں وقت توجہ دیتا ہوں تم کو فلاں وقت توجہ دیتا ہوں اور ذاکرین بھی ذکر کی کیفیت محسوس کرتے ۔ہم لوگ سن کر تعجب کرتےکہ حضرت ایک وقت میں کتنے لوگوں پر توجہ ڈالتے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ مریدین جو ذکر وفکر والے اس دار فانی سے جاچکے ہیں ان کی ارواح پر بھی توجہ ڈالتے اور کبھی نام لے کر فرماتے کہ فلاں فلاں بھی ہمارے حلقے میں آتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں انمیں مرحوم فرید مڑہر پور قنوجی اور مولوی شبیر مجددی مرحوم کانپوری اوراپنےوالد محترم (الحاج قیام الدین علیہ الرحمہ) کا ذکر کرتےاور فرماتے یہ لوگ اکثر صبح کے حلقہ میں حاضر ہوتے ہیں اور اخد فیض کرتے ہیں۔ مزیدفرماتے کہ مردوں پر توجہ تیز اثر کرتی ہے چونکہ روح جسم سے الگ ہو تی ہے۔
ذاکرین فون پر اپنی کیفیات بیان کرتے حسب لیاقت انکاسبق آگے بڑھا دیتے بعض ایسے بھی ذاکرین ہیں جو قنوج کبھی آئے بھی نہیں سفر میں ہی کچھ صحبت اٹھائی مختصر صحبت اور ملاقات میں ہی فیضیاب ہوئےاور آج وہ کافی ترقی پر ہیں ۔
آپ اکثرفرماتے کہ ہمارے سلسلے میں محرومی نہیں ہے بس محبت شرط ہے اور اگر محبت اور صحبت دونوں جمع ہو جائیں تو حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کے بقول یہ سرخ سونا ہے اور فرماتے کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ مردہ کے جسم سے نکلی ہوئی روح واپس کر دینا یہ اتنی بڑی کرامت نہیں جتنی بڑی کرامت مردہ دل کو زندہ کرنا ہے۔
مردہ قلوب کو ذاکر بنانابہت مشکل کام ہے اس میں بہت بڑے تصرف کی ضرورت ہوتی ہے اور فرمایا کہ جس انسان کا دل ذاکر ہو جاتاہے مرنے کے بعد اس کی قبر روشن ہو جاتی ہے اگر دنیا میں اسکو ولایت کی دولت نصیب نہیں ہوئی تو مرنے کے بعد ولایت کا درجہ مل جاتاہے ۔
اب میں ان مقامات میں سے چند کا ذکر کر رہا ہوں جہاں حضور قبلہ تشریف لے جاتے اور حلقہ ذکر لگتا مراقبات ا و ردروس تصوف کی مجالس منعقد ہوتیں۔
راج نگر (راجستھان )حاجی اختر کے گھر بھیلواڑہ شریف بھائی کے گھر اودےپور مستان بابا کے مزار پر اور حاجی ایوب صاحب کے گھر اودے پور راجستھان ،عمر آفاقی کے گھر شہر چتوڑگڑھ میں اور یعقوب آفاقی کے گھر نمباہیڑہ چتوڑ گڑھ میں ضلع جلگاوں مسجد جاپان جین قصبہ املنیر مہاراشٹر میں اس مسجد میں کافی بڑا حلقہ ہوتا مولانا مسعود آفاقی جو کہ اس مسجد کے پیش امام تھے ان کےساتھ وہاں بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہوتے اسی سے قریب ایک گاؤں بٹاود ضلع دھولیہ میں بھی حلقہ ہوتا ۔ اور قصبہ رسوڑ ضلع واشم مہاراشٹر عروس البلاد ممبئی میں مولانا عرفان آفاقی کی مسجد یعنی قادری مسجد نائک نگر سائن اور اسکے علاوہ ممبئی کے متعدد مقامات پر مراقبہ اور حلقہ ذکر ہوتا ۔ملک کی راجدھانی دہلی میں جناب زاہد خان صاحب اور اکثرجناب مشتاق صاحب اور حافظ عبد الرحمان کے گھر پر اور رگھوبیر نگر میں جناب عابد خان صاحب کے گھر پر پٹپڑگنج آزاد اپارٹمنٹ دھلی میں توحید الرحمن لطیفی کے گھر پر کافی مراقبات کیے۔
اور اس کے علاوہ جودھپور میں غلام رسول بھائی اور امتیازبھائی کے گھر ، ناگور میں حضرت صوفی حمید الدین چشتی ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پرانوار پر ، یاپھر علامہ عبید اللہ حیدری نقشبندی صاحب کے گھر پر ، دموہ ایم پی میں جناب حاجی محمد یونس صاحب (پٹیل بیڑی والے )اور جناب شکیل آفاقی صاحب اور کبھی مولانا عبد الحفیظ آفاقی کے گھر پر ،کٹنی ایم پی میں مرحوم حاجی محمد اقبال صاحب کے گھر اور خانقاہ بننے کے بعد خانقاہ مجددیہ جماعتیہ میں ،وشاکھاپٹنم ،آندھرا پردیش میں جناب حاجی برکت علی آفاقی صاحب کے گھر پر، اور حیدر آباد دکن، تلنگانہ جناب حافظ محمد راشد آفاقی صاحب کے گھر ،یا درگاہ یوسفین میں ، اور ضلع محبوب نگر تلنگانہ، موضع پگڑی ماری کی مسجد میں ، یاکبھی مولانا جہانگیر آفاقی صاحب کے گھر پر، اور ضلع مراد آباد کے موضع ڈینگر پور میں جناب حاجی محمد انیس صاحب لطیفی ، کبھی سالم بھائی آفاقی ، کبھی محمد عامر آفاقی ،(حبیبی ٹرانسپورٹ ) وغیرہم کے گھروں میں ،اور موضع ڈوم گھر میں محمد سہیل آفاقی صاحب کے گھر پر اور کبھی کندرکی لائن پار کی مسجد میں ، اور کبھی رفیق بھائی آفاقی صاحب کے گھر پر ، اورضلع بدایوں کے موضع پپلیا میں جناب مولانا مشاہد رضا آفاقی صاحب کے گھر پر اور کبھی اسی گائوں کی مسجد میں ، اور ضلع امروہہ کے موضع پپلوتی خرد میں مولانا قاری محمد ضیاء القمر آفاقی صاحب کے گھر پر ، او ر موضع ہریانہ میں مریدین اور فارغین جامعہ احمدیہ کے گھروں میں ، اور موضع جہتولی میں جناب مولانا محمد عمران آفاقی صاحب ، قاری محفوظ ، دین محمد امامی صاحب کے گھروں پر حضور بحر العرفان صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ و الرضوان نے حلقہ ذکر
فرمایا ہے اور فقیر آفاقی کے گھر موضع بسنت پور ضلع دیوریا میں عرس قطب الاقطاب حضرت مولانا سید ابوالخیرات سیوانی علیہ الرحمۃ و الرضوان کے موقع پر حلقہ ذکر برپا ہوتانیز اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ و الرضوان کے قل شریف کی محفل منعقد ہوتی جس کے انوار و تجلیات بیان سے باہر ہیں۔ اور شہر سیوان (بہار )میں اکثر قطب الاقطاب مولانا سید ابو الخیرات سیوانی نقشبندی مجددی قدس سرہٗ کے مزار پر انوار پر اتنابڑا حلقہ لگتا کہ منظر دیکھنے کے لائق ہوتا ۔ ان میں سے بیشتر جگہیں وہ ہیں جہاں آپ نے لائق افراد کو امیر حلقہ مقرر کر دیا اور وہاں مستقل حلقہ ذکر و مراقبہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو بیان کیا گیا نہایت اجمال ہے ورنہ ضلع مراد آباد ، امروہہ ، سنبھل اور بدایوں، کے اطراف و اکناف میں جتنی جگہوں پر حلقہ ذکر ہوتا اور طالبین دور دور سے حلقہ میں شریک ہونے کے لیے جمع ہوتے تھے وہ شمار سے باہر ہے ۔
اور حضور بحر العرفا ن علیہ الرحمہ حلقہ ذکر سے فارغ ہونے کے بعد ہر جگہ کچھ نہ کچھ تصوف و روحانیت کی تعلیم فرمایا کرتے تھے ۔ اور مذکورہ علاقوں کے بارے میں حضور قبلہ علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جب یہاں آتا ہوں تو بہت اچھا لگتا ہے، یہاں سے سرہند شریف قریب ہے ، حضرت مجدد قدس سرہٗ کی یاد آنےلگتی ہے اور انکا فیض بھی اس علاقہ میں محسوس کرتا ہوں ،نیز یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ یہ ہمارے بزرگوں کا علاقہ رہا ہے ۔
حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کی یہ بھی انوکھی شان نظر آتی تھی کہ آپ کے حلقہ ذکر و مراقبہ میں عوام سے زیادہ علما ، حفاظ اور ائمہ حضرات شامل ہوتے تھے۔
قنوج میں سالانہ عالمی کانفرس کےمو قع پر ملک اور بیرون ملک اور ہندوستان کے مختلف صوبوں اورشہروں سے اس کثرت سے ذاکرین حاضر ہوتے کہ مسجد نقشبند تنگ پڑ جاتی تو طیبہ مسجد میں حلقہ فرماتےآپ اہل ذکر پرتوجہات ڈالتے اور اس موقع پر کچھ دیر مختلف نشستوں میں باہر سے آئے ہوئے مریدین کی تربیت فرماتےاور جو ذکر میں ترقی یافتہ ہوتے انکا سبق بڑھا دیتے ۔
اب ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جنکے قلوب ایک ہی مجلس میں یا دوسرے دن ذاکر ہو گئے یا طالب یا مرید ہونے سے پہلے ہی حلقہ میں بیٹھنے سے قلب میں حرکت شروع ہو گئ بسا اوقات حضور بحر العرفان کی توجہ اتنی پر تاثیر ہوتی کہ جن پر توجہ ڈالی تو مغلوب ہو گئے اور کثرت نور کی وجہ سے زمین پر لیٹ گئے۔
کافی دیر بعد اپنی اصل حالت پر آئے اس سے حضور بحر العرفا ن کے تصرف باطنی کا پتہ چلتا ہے۔
حافظ اسحاق صاحب سنبھلی مقیم راجستھان جنکے لطائف پر انگلی رکھ کر حرم کعبہ میں ذاکر کر دیے تھے۔ مولوی صابر صاحب جھانسی پرمسجد نقشبند میں توجہ ڈالی تو بے ہوش ہو گئے پھر کچھ پڑھ کر دم کیا تو ہوش میں آئے کافی دیر تک ایسی کیفیت میں رہے اور ذکر کا ایسا غلبہ ہوا کہ بیٹھ نہیں پا رہے تھےحضرت نے فرمایا کہ انہیں لٹا دو اس منظر کو بہت سے لوگوں نے دیکھا فقیر بھی موجود تھا ۔قاری اعظم صاحب کے گاؤں موضع گرُدن پائی ضلع راجوری جمو ںوکشمیر میں مولانا یونس عطاری پر توجہ ڈالی فیض کا اس قدر غلبہ ہوا کہ مولانا مچھلی کی طرح تڑپنے لگے قریب تھا کہ بے ہوش ہو جاتے حضرت نے فرمایا ان کو ہم سےجدا کر دو ورنہ یہ کیفیت دور نہیں ہوگی الگ کرنے کے بعد بھی مذکورہ کیفیت برقرار تھی ادھر شام ہو رہی تھی مولانا کو گھر بھی جانا تھا اس لیے آپ نے انھیں قریب بلایا اور پھر توجہ ڈالی پھرمولانا اصلی حالت پر آگئے۔ حضرت نے فرمایا کہ آج پہلی بار فیض کو واپس کھینچا ہے مولانا نے عرض کیا کہ حضور ہم کو اسی کیفیت میں رہنے دیتے اور میں یاد الہی میں تڑپ تڑپ کر مر جاتا یہی مولانا ہیں کہ انھوں نے حضرت سے عرض کیا کہ ہم کو تینوں سلسلہ میں خلافت حاصل ہے آپ سلسلہ نقشبندیہ کی عطا کر دیں حضرت نے فرمایا ہم ایسے خلافت نہیں بانٹتے فرمایا ذکر کرو ۔ چند دنوں کے بعد فون آیا قلب ذاکر ہو گیا حالانکہ اس وقت تک مولانا طالب نہیں ہوئے تھے ۔ کئی لوگوں نے عرض کیا کہ حضور قلب پر انگلی رکھ کر ذاکر کردیں فرمایا پابندی سے ذکر کرو توجہ کافی ہے۔
حافظ جاوید عرف پروانہ جموں کشمیر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہواکہ سامنے بٹھا کر توجہ ڈالی قلب میں حرکت ہونے لگی حالانکہ اس وقت وہ طالب بھی نہیں ہوئے تھے۔
حافظ محمود صاحب آفاقی جو کہ لندن میں رہتے ہیں انہیں عرصہ دارز سے روحانیت کی تلاش تھی جس کی خاطر انھوں نے ہندوستان و پاکستان کی متعددخانقاہوں کے پیروں کی بارگاہوں میں حاضری دی کئی خانقا ہوں سے خلافت بھی ملی مگر مقصود حاصل نہ ہو ا مرشد کامل کی تلاش تھی بالآخر ہندوستان میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کی بارگاہ میں سرہند شریف حاضر ہوئے اور دعا مانگی کہ کو ئی شیخ کامل مل جائے بعدہ تنویر بھائی جو کہ حضور بحر العرفان کے خلیفہ ہیں سے سرہند شریف میں ملاقات ہوئی اور ان سے اپنا مدعا بیان کیا انھو ں نے حافظ صاحب کی طلب روحانیت کو دیکھ کرکہا کہ ہمارے شیخ
حضور بحر العرفان ایسے کمالات کے حامل ہیں جن کی بارگاہ سے کثیر لوگ کسب فیض کررہے ہیں اور معرفت وروحانیت اور سلوک کی منزلیں طے کر رہے ہیں آپ وہاں جائیں ان شاء اللہ ان کی بارگاہ میں آپ کی روحانی پیاس بجھ جائے گی۔اسکے بعد تنویر بھائی کے ساتھ وہ قنوج آئے اور شرف ملاقات حاصل کر اپنا مقصود عرض کیا حضور بحر العرفان نے کرم فرمایا اور طریقہ ذکر تلقین فرمایا بعدہ عشاء کے مراقبے میں ان پر خاص تو جہ ڈالی اور بعد مراقبہ حال دریافت فرمایاعرض کیا حضور قلب میں بھاری پن محسوس کیا۔ فرمایا کہ یہ قلب ذاکر ہونے کی علامت ہےاور یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے آپ میں نیکی ہے ان شاء اللہ تھوڑے دنوں میں قلب ذاکر ہو جائے گا حافظ صاحب نے عرض کیا جس مرشد کی تلاش تھی آج وہ مجھے مل گیا ہے لہذا خاکسار کوحضور مرید فرمالیں آپ نے منع فرمایا زیادہ اصرار پر آپ نے داخل سلسلہ فرمالیا ۔لند ن جانے کے بعد حافظ صاحب نے فون کیا کہ قلب میں حرکت ہونے لگی ہےاور حالت یہ ہیکہ جب آپ کا تصور کرتا ہوں تو آپ سامنے نظر آتے ہیں۔ سبحان اللہ آج الحمد للہ بحرالعرفان کے کرم سے حافظ صاحب کے جملہ لطائف ذاکر ہیں اور سات سمندر پار یورپ کی سرزمین لندن میں رہ کر سلوک کی منزلیں طےکر رہے ہیں اور آفاقی فیضان سے مالامال ہو رہے ہیں ۔حضور بحر العرفان قدس سرہ نے فرمایا کہ ماشاء اللہ ہمارےبزرگوں کا فیضان یورپ کی سرزمین لندن میں بھی پہنچ گیا۔ الحمد للہ
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
اب میں ان خوش نصیب ذاکرین حضرات کے اسماء گرامی ذکر کر رہا ہوں جو آپ کی ذات والا صفات سےمستفیض ہوئے اوراپنے قلب وقالب کو ذاکر کرکے لذت ذکر و عبادت سے آشنا ہوئے اور مرشد عالی وقار قدس سرہٗ کے دنیا سے روپوش ہونے کے بعد بھی فیضان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے ، اور مزار اقدس پر بیٹھنے سے محسوس ہورہا ہے کہ فیض کا دریا بہ رہا ہے ، اور جن جن مقامات پر حضور قبلہ نے حلقہ ذکر قائم کیا ہے وہاں پر بیٹھنے سے ، اور آپ کی تصنیف کردہ کتب کا مطالعہ کرنے سےبھی اہل ذکر فیض محسو س کر رہے ہیں ۔اور جو لوگ ابھی تک قنوج حاضر نہیں ہوئے ہیں وہ بھی صرف تصور شیخ کرکے ہی اس لذ ت کو محسوس کر رہے ہیں ۔
واضح رہےکہ ان حضرات کا ذکر محض اس مقصد سے کیا جارہا ہے کہ اس پر فتن اور کذب بیانی کے دور میں
عام طور پر مریدین اپنے مشائخ کے تعلق سے مبالغہ آرائی کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔لہذااہل ذکر وشغل کے نام اور پتے کے ساتھ بات کو پختہ کرنے کی کوشش کی ہے نیز اس سے اہل طلب کو رغبت بھی پیدا ہوگی۔
آپ کے روحانی تصرفات و کمالات کے بہت سے واقعات ہیں ان شا ء اللہ آئندہ بیان کرونگا اس وقت آپ کے غم فرقت اور اس نمبر کی طباعت کی جلدی کی وجہ سے اسی پر اکتفاء کر رہا ہوں باتیں تو بہت ہیں کیا کیا بیان کروں ان کی شان ہی نرالی ہے۔
بیرون ممالک اہل ذکر کے اسماے گرامی:
حافظ محمود آفاقی۔ لندن، نصیر الدین خان، عبد اللہ، طلحہ، محترمہ صائمہ۔ پاکستان، محمد رضا آفاقی۔ سید پور، بنگلہ دیش، محمد ذاکر خان۔ دبئی، مولانا عبد الرحیم ہود۔ چین، مولانا نذیر آفاقی۔ نیپال
اہل ذکر علماء کی فہرست :
اہل ذکر علما کے اسماےگرامیشہر و صوبہ
حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب جانشین بحر العرفانقنوج شریف
حضرت مولانا برکات احمد مجددی صاحب نائب جانشین بحر العرفانقنوج شریف
حضرت مولانا سید نور عالم مصباحی برکاتی صاحببلرامپور ، یو۔پی
حضرت مولانا آصف رضا صاحب آفاقی صاحبقصبہ جراری فرخ آباد
حضرت مولانا آفتاب عالم آفاقی مجددی صاحببسنت پور ، ضلع دیوریا
حضرت مولانا محمد ضیاء القمر آفاقی مجددیپپلوتی خورد حسن پور امروہہ
حضرت مولانا عبد العزیز آفاقی مجددی صاحبقنوج شریف
حضرت مولانا مشاہد رضا مجددی صاحب
حضرت مولانا زین العابدین ،برکاتی، آفاقیپپلیا، بدایوں شریف
گنج ڈنڈوارہ
حضرت مولانا عمران احمد آفاقی مجددی صاحبسکندر پور ، سنبھل
حضرت مولانا راشدآفاقی صاحب ،ثقافیبھڑونسہ ، فرخ آباد
حضرت مولانا کلام الدین صاحب نظامیکشی نگر ،
حضرت مولانا ایوب صاحب ازہری قادریدروغہ ڈیہ ،کشی نگر
حضرت مولانا قیام الدین آفاقی صاحبکشی نگر ،
حضرت مولانا نور الدین آفاقی صاحبکشی نگر ،
حضرت مولانا عالم گیر آفاقی صاحبکشی نگر ،
حضرت مولانا آفاق صاحب آفاقیکشی نگر ،
حضرت مولانا ریاض الدین نظامی آفاقیکھرکیا کشی نگر ،
جناب مولوی صلاح الدین آفاقی صاحبکھر کیا کشی نگر
حضرت مولانا قاسم صاحب آفاقیبڑہریا سیوان بہار ،
حضرت مولانا احمد علی آفاقی مجددی صاحببڑہریا سیوان بہار
حضرت مولانا تبریز آفاقی صاحبسیوان ،بہار
حضرت مولانا شاھد آفاقی مجددی صاحبچوری چورا ،گورکھپور
حضرت مولانا عبد الماجد آفا قی مجددی صاحبہریانہ ،امروہہ
حضرت مولانا طارق آفاقی مجددی صاحبہریانہ ،امروہہ
حضرت مولانا راشد آفاقی مجددی صاحببھدورہ ،امروہہ
حضرت مولانا نور عین آفاقی مجددی صاحبقنوج ،شریف
حضرت مولانا ابو دجانہ آفاقی مجددی صاحبقنوج ،شریف
مولوی محمد بلال آفاقیچھبرا مئو
حضرت مولانا انیس رضوی صاحبکندرکی ،مراد آباد
حضرت مولانا غیور آفاقی مجددی صاحبکندرکی ،مرادآباد
حضرت مولانا گلبیز آفاقی مجددی صاحبکندرکی ،مراد آباد
حضرت مولانا شاہ نواز آفاقی مجددی صاحبعیسیٰ پور ،مرد آباد
حضرت مولانا ظہیر الاسلام صاحبسنبھل ،
حضرت مولانا سید اوصاف آفاقی صاحبجمال پور ،علی گڑھ
حضرت مولانا اکرم آفاقی صاحبنکٹیہ، بریلی شریف
جناب مولوی شفیق صاحب آفاقیبنارس،
(مولانا) ناظم آفاقی مجددی صاحبسیسونہ ،سنبھل
حضرت مولانا غلام ربانی آفاقی صاحبداعی پور ،قنوج
مولانا شمائل آفاقیمنصور پور، مراد آباد
حضرت مولانا شاھد آفاقی مجددی صاحبقصبہ جراری ۔فرخ آباد
حضرت مولانا شکیل آفاقی صاحبجراری فرخ آباد
حضرت مولانا اویس آفاقی مجددی صاحبقنوج شریف
حضرت مولانا شفیق ہمدانی شیری آفاقی صاحبراجوری جموں وکشمیر
حضرت مولانا عبد الرشید آفاقی صاحبپونچھ ،جموں و کشمیر
حضرت مولانا سعید نقشبندی آفاقی صاحبدرہال ،جموں و کشمیر
حضرت مولانا عبید اللہ حیدری نقشبندی صاحبناگور شریف ،راجستھان
جناب مولوی احمد بخاری آفاقی صاحبناگور شریف ،راجستھان
حضرت مولانا منظور نقشبندی آفاقی صاحبباڑمیر ،راجستھان
حضرت سید سہیل چشتی صاحبسیکر ،راجستھان
حضرت مولانا سلمان شاہد آفاقی صاحبمبارکپور ،اعظم گڑھ
حضرت مولانا مدثر عثمان آفاقی صاحبمبارکپور ، اعظم گڑھ
حضرت مولانا عصام الدین صاحبمبارکپور ، اعظم گڑھ
حضرت مولانا جہانگیر آفاقی صاحبمحبوب نگر ، تلنگانہ
حضرت مولانا محمد آصف رضا آفاقی صاحبمحبوب نگر ، تلنگانہ
جناب مولوی عابد حسین صاحببنارس ، یوپی
جناب مولوی ارشاد آفاقی صاحببھدوہی ، یوپی
جناب مولوی سید امجد علی صاحبڈنڈوری، ایم ۔ پی
جناب مولانا نور عالم مجددی صاحبرسول آباد ،کانپور دیہات
جناب مولانا عرفان آفاقی صاحبمحمد آباد، اوریا،یو۔پی
جناب مولانا عالمگیر صاحب اشرفیارریا ، بہار
جناب مولانا محمد مسعود آفاقی صاحبارریا، بہار
جناب مولانا یونس عطاری صاحب آفاقیراجوری ، جمو و کشمیر
جناب مولانا غلام علی آفاقی صاحبجالور، راجستھان
جناب مولانا محمد سلمان آفاقی صاحبدیوہا ، کانپور نگر
جناب مولوی محمد اختر رضا نظامی صاحبکشی نگر ، یوپی
جناب مولوی محمد غلام جیلانی نظامی صاحبکشی نگر ، یوپی
جناب مولوی محمد سلیم آفاقی صاحبکھرکیا ، کشی نگر
جناب مولوی محمد کلام الدین آفا قی صاحبکشی نگر ، یوپی
جناب مولوی عبد السبحان آفاقی صاحبحمالی پورہ قنوج
جناب مولانا محمد اشفاق آفاقی صاحبپرسونی ، کشی نگر
جناب مولانا محمد سراج آفاقی صاحبملّاواں ،ہردوئی
جناب مولانا عبد الحفیظ آفاقی صاحبدموہ ، ایم پی
مولوی محمد عادل آفاقیاکبر پور، قنوج
جناب مولانا محمد سرتاج آفاقی صاحبکھیری ، لکھیم پور
مولوی محمد سلمان آفاقیسلطان پور، یو پی
مولانا محمد رضوان آفاقیقصبہ ردرپور، اودھم سنگھ نگر
اہل ذکر حفاظ و قرا کے اسماے گرامیشہر، وصوبہ
جناب حافظ محمد اسحاق آفاقی صاحبسکندرپور ، سنبھل
جناب حافظ وقاری محمد امین رضوی صاحببیکانیر ، راجستھا ن
جناب حافظ فیض الاسلام صاحب لطیفیسنبھل ، یوپی
جناب حافظ و قاری قمر عالم اشرفی صاحببگروّا، مراد آباد
جناب حافظ و قاری محمد اعظم صاحب شیریراجوری، جمو ںو کشمیر
جناب حافظ محمد جاوید عرف پروانہ صاحبدرہال ، راجوری ،جموں
جناب حافظ محمد جاوید آفاقی صاحبکیری ، راجوری، جموں
جناب حافظ محمد آصف آفاقی صاحببھڑونسہ ، فرخ آباد
جناب حافظ شاہ اعظم آفاقی صاحبسیوان ، بہار
جناب حافظ محمد فہیم آفاقی صاحبسیسونہ ، سنبھل
جناب حافظ محمد سمیر صاحبسیسونہ ، سنبھل
جناب حافظ محمد افتخار آفاقی صاحبڈھکّہ ،ہریانہ،امروہہ
جناب حافظ محمد تلخیص صاحب آفاقیڈھکّہ ، ہریانہ ، امروہہ
جناب حافظ و قاری مہتاب عالم آفاقی صاحبموتیہاری ، بہار
جناب حافظ محمد باب الدین صاحبکشی نگر ، یوپی
جناب حافظ غلام احمد رضا آفاقی صاحبکشی نگر ، یوپی
جناب قاری ارشد نوری صاحبسیوان ،بہار
جناب حافظ محمد فاروق آفاقی صاحبامروہہ یوپی
جناب حافظ اسلام الدین آفاقی صاحبشکلہ گنج ،کانپور
جناب قاری محمد نیر آفاقی صاحببالاپیر ، قنوج
جناب حافظ محمد عمران صاحب آفاقیعیسیٰ پور، مراد آباد
جناب حافظ محمد ریحان آفاقی صاحبعیسیٰ پور ، مراد آباد
جناب حافظ محمد الطاف آفاقی صاحبکھرکیا،کشی نگر
جناب حافظ محمد رمضان آفاقی (جھارکھنڈی)وشاکھا پٹنم، اے۔پی
جناب حافظ جلال الدین آفاقی صاحبپندرتی، وشاکھا پٹنم
جناب قاری نیازعطاری صاحب آفاقیسکندر پور ، ضلع قنوج
جناب قاری محمد ابصار آفاقی صاحبسکندر پور ، ضلع قنوج
جناب قاری محمد محفوظ ، صاحب آفاقیجہتولی، امروہہ
جناب قاری دین محمد (امامی) صاحب آفاقیجہتولی ، امروہہ
جناب حافظ عبد الخالق مجددی آفاقی صاحببھڑونسہ ، فرخ آباد
جناب قاری محمد نایاب آفاقی صاحبملّاواں ، ہردوئی
جناب حافظ عطاٖء المصطفیٰ صاحببدایوں ، یوپی
جناب حافظ محمد الیاس آفاقی صاحببدایوں ، یوپی
جناب قاری محمد سلمان آفاقی صاحبسرسئی ناور، اٹاوہ
حضرت مولانا بلال آفاقیعسیٰ پور ، مراداباد
مولانا عارف آفاقیاٹاوہ
بعض اہل ذکر حضرات کےاسماے گرامیشہرو صوبہ
جناب حاجی معین احمد آفاقی صاحباحمد نگر قنوج
جناب صوفی تنویراحمد جماعتی صاحب آفاقیالہ آباد ، یوپی
جناب حاجی محمد شمشاد عطاری صاحب آفاقیصفدر گنج ، قنوج
جناب ماسٹر محمد کوثر آفاقی صاحبسریاں اختیار ، گوپال گنج
جناب محمد ناصر خاں آفاقی صاحبچمڑا منڈی ،سیوان ، بہار
جناب محمد سرفراز خاں آفاقی صاحبکاغذی محلہ سیوان، بہار
جناب ڈاکٹر محمد اختر آفاقی صاحب رجسٹرار راجوری میڈیکل کالجراجوری جموں و کشمیر
جناب ماسٹر محمد شکیل آفاقی صاحبراجوری ، جموں و کشمیر
جناب محمد جنید فاروق (لکّی)آفاقی صاحبنالہ روڈ ، کانپور شہر
جناب محمد اسلم رنگریزآفاقی صاحببھیلواڑہ ،راجستھان
جناب محمد معین آفاقی صاحباودے پور ،راجستھان
جناب حاجی محمد انیس لطیفی صاحب آفاقیڈینگر پور ، مراد آباد
جناب محمد عامر آفاقی (حبیبی ٹرانسپورٹ والے)ڈینگر پور مراد آباد
جناب محمد ابرار آفاقی صاحبسرائے اورنگآباد بنارس
جناب محمد اسحاق صاحب نوریشہر بریلی شریف
جناب ڈاکٹر محمد احسان آفاقی صاحبگدی پور ، مراد آباد
حاجی محمد اویس صاحب آفاقیجیتواڑہ ، مراد آباد
جناب محمد سہیل آفاقی صاحبڈوم گھر ، مراد آباد
جناب محمد شاہ زیب آفاقی صاحبمبارکپور، اعظم گڑھ
جناب آفتاب عالم صاحب آفاقیپپلوتی خرد ، امروہہ
جناب ماسٹر محمد یونس نظامی صاحب آفاقیمخدومہ پور ، قنوج
سید سکندر آفاقیبیکانیر، راجستھان
ماسٹر دلشادعیسیٰ پور، مراد آباد
محفوظ عالمعیسیٰ پور، مراد آباد
محمد ریحان آفاقیگدی پورہ، مراد آباد
محمد عثمانگدی پورہ، مراد آباد
اشرف بھائیاسعد پور، مراد آباد
قاضی محمد اقبال آفاقیبھیلواڑہ، راجستھان
جمیل آفاقیسرہند شریف، پنجاب
محمد ریاض آفاقیشہر قنوج
محمد صغیرآفاقیشہر قنوج
محمد بلال آفاقی (ٹال والے)شہر قنوج
محمد وسیم آفاقیشہر قنوج
محمدنور عین آفاقی ولد محمد صغیرشہر قنوج
انور آفاقیشہر قنوج
مذکورہ بالا فہرست میں انہیں حضرات کے اسماے گرامی تحریر کیے گئے ہیں جن میں ذکر اچھی طرح سرایت کر چکا ہے اور بہت سے وہ ہیں جو مقامات قرب کی بڑی بڑی منزلوں پر فائز ہو چکے ہیں۔
بحر العرفان قدس سرہ کے چندمشہورخلفا و تلامذہ
رب تعالیٰ نے حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ کو شریعت وطریقت دونوں میں ہی مہارت تامہ عطا فرمائی تھی اس لئے طالبین وسالکین نے ظاہری وباطنی دونوں چشموں سے سیرابی حاصل کی آپکے ذریعہ علوم باطنی اور سلوک کی دولت حاصل کرنے والوں کی ایک جھلک گزشتہ صفحات میں دکھائی جاچکی ہے۔ جن میں سے کچھ خوش نصیبوں کو حضور والا نے کمال احتیاط کے ساتھ معدودے چند کو خلافت اور بعض کو اجازت سے سرفراز فرمایا جن کا ذکر یہاں کیا جارہا ہے۔
نیز آپ نے چار دہائیوں تک علم ظاہر کے دریا بہائے جن سے ہزاروں علماء و طلباء نے اپنے فکر وشعور کو جلا بخشی ان سب کا یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے لہذا صرف چند مشہور ترین تلامذہ کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔
واضح رہے حضور بحر العرفان نے اپنے خلفاء کی تین قسمیں فرمائی تھیں۔
(١ ) وہ خلفاء جنہوں نے باضابطہ صحبت اٹھا کر منازل سلوک طے کیں اور آپ نے انہیں خلافت مطلقہ عطاء فرمائی۔
( ٢) وہ علماء جنہوں نے باضابطہ سلوک طے نہیں کیا لیکن انکی نیکی اور دینی خدمات کے پیش نظر حضور قبلہ نے انہیں خلافت مقیدہ مرحمت فرمائی۔
( ٣) وہ اہل ذکر جو باضابطہ عالم نہیں ہیں لیکن ذکر وفکر میں مواظبت و ہمیشگی برتتے تھے اور آثار اچھے تھے انہیں آپ نے اجازت سے نوازا۔
یہ بھی واضح کہ حضور بحر العرفان کی تحریرات وتاکیدات کے مطابق آپ کی خلافت واجازت عقائد واعمال کی اصلاح اور محبت و وفاداری مشائخ کے ساتھ مشروط ہے لہذا اگر کوئی خلیفہ ومجاز فسادِ عقائدغیر شرعی فعل پر مداومت یا گستاخی مشائخ کا مرتکب ہوتا ہے تو آپ کی تحریر کی رو سے اسکی خلافت واجازت منسوخ ہو جائیگی۔
بحر العرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کےچند مشاہیر خلفا
١- حضرت مولانا احمد سعید صاحب جانشین بحرالعرفان قنوج
٢- حضرت مولانا برکات احمد صاحب نائب جانشین بحرالعرفان قنوج
٣ ۔ مولانا صابر علی رحمانی آفاقی رحمۃاللہ علیہ للا پورہ بنارس
۴۔حضرت علامہ مولانا آصف رضا مجددی آفاقی قصبہ جراری ضلع فرخ آباد یوپی (حال مقیم قنوج)
۵۔ حضرت مولانا سید نور عالم مجددی آفاقی، نرچہواں سیف ضلع بلرام پور
۶۔حضرت مولاناقاری ضیاءالقمرآفاقی مجددی موضع پپلوتی خوردضلع امروہہ(حال مقیم قنوج)
۷-حضرت مولانا آفتاب عالم آفاقی، موضع بسنت پور ضلع دیوریا
۸-حافظ محمد اسحاق آفاقی سکندر پور ضلع سنبھل (حال مقیم راج نگر راجستھان)
۹- مولانا قاسم صاحب آفاقی بڑھریا سیوان بہار
۱۰۔مولانا عبیداللہ حیدری نقشبندی، ناگورشریف راجستھان
۱۱۔مولانا حافظ محمد سعید آفاقی نقشبندی، وادی درھال ضلع راجوری جموں کشمیر
۱۲۔مولانا مشاہد آفاقی پیپلیا بدایوں
۱۳۔ مولانا کلام الدین آفاقی، کشی نگر
۱۴۔ مولانا زین العابدین برکاتی آفاقی، گنج ڈنڈوارہ
۱۵۔مولانا ایوب آفاقی، تمکوہی کشی نگر
۱۶۔مولانا نور الدین آ باقی بہوراچھپرا کشی نگر
۱۷۔مولانا سلمان شاہدآ فاقی مبارک پوراعظم گڑھ
۱۸۔قاری محمد اعظم آفاقی، موضع گُردن راجوری جموں کشمیر
۱۹۔مولانا شفیق ہمدانی آفاقی راجوری جموں کشمیر
۲۰۔مولاناعرفان آ فاقی محمدآباد ضلع اوریا
۲۱۔حافظ فیض الاسلام آفاقی سنبھل
۲۲۔قاری امین صاحب آفاقی بیکانیر راجستھان
۲۳۔مولوی شفیق آفاقی للا پورہ بنارس
۲۴۔صوفی تنویر آفاقی الہ ٰباد
۲۵۔مولانا یونس عطاری آفاقی راجوری جموں کشمیر
بحر العرفان قدس سرہ کےبیرون ملک خلفاء
۲۶۔ڈاکٹر حضرت مولانا سید ارشاد بخاری دیناج پور بنگلہ دیش
۲۷۔حضرت مولانا شیخ عوکل حسنی لبنان حال مقیم امریکہ
۲۸۔حضرت مولاناشیخ احمد یوسف صاحب امریکہ
۲۹۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب چین
۳۰۔حضرت مولانا شیخ اسحاق صاحب چین حال مقیم کلکتہ
بحر العرفان کے چندمشاہیر تلامذہ
١-حضرت مولاناڈاکٹرسیدعلیم اشرف جائسی، رائے بریلی یوپی
پروفیسر مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
٢-حضرت مولانا سید قسیم اشرف جائسی عرف حسن میاں رائے بریلی یوپی
٣-مولانا عبد الخالق جامعی کچھوچھہ صدر المدرس جامع اشرف کچھوچھہ شریف
٤-مولانا سید جلال الدین اشرف (قادری میاں) بانی ومہتمم مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف
٥-مولانا راشد میاں مکی کچھوچھہ شریف
٦ ۔ڈاکٹر سید ارشاد بخاری دیناج پور بنگلہ دیش صدر اسلامک ریسرچ سینٹر بنگلہ دیش
٧- حضرت مولانا مفتی شعیب احمد نعیمی صاحب علیہ الرحمہ داماد تاج الشریعہ بریلی شریف
٨-مولانا مفتی افضال صاحب جوکھن پور بہڑی مفتی مرکز دارالافتاء بریلی شریف
٩- حضرت مولانا سید نظام اشرف کچھوچھہ مقدسہ
١٠- مولانا نور الاسلام استاذ دار العلوم وارثیہ لکھنؤ
١١- مولانا مفتی معین الدین برکاتی صاحب استاد جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف
١٢- مولانا مفتی رئيس الخيری شہزادہ شیخ العالم مہتمم جامعہ محمدیہ جونپور
١٣- مولانا مفتی اویس خیری صاحب شہزادہ شیخ العالم خانقاہ خیریہ کمال پور شریف ضلع مرزا پور (بنارس)
١٤ - حضرت مولانا غیاث الدین صاحب مہراج گنج
١٥- مولانا خورشید الاسلام صاحب کچھوچھہ مقدسہ
اللہ تعالیٰ حضور بحر العرفا ن علیہ الرحمۃ والرضوان کے صدقے اپنے قرب وعرفان کی دولت لا زوال سے اورمشائخ مجددیہ کی نسبتوں اور کمالات سے حظ وافر عطا فرمائے اور اپنے پیارے محبوبﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے اور معتقدات اہل سنت و جماعت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔