مواد پر جائیں

باب ۵ از ۶۵صفحات ۵۳–۵۶

دل کی بات

مولانا احمد سعید مجددی

جانشین بحر العرفان قدس سرہ

الحمد اللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

اللہ رب العزت کا بہت بڑا احسان ہےکہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور ان نفوس قدسیہ کا دامن عطا فرمایا جن کے نقوش راہ کو راہ مستقیم اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں فرمایا۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم۔

میں اپنے رب کے احسانات کو گنا نہیں سکتا، مجھے کروڑوں برس کی زندگی ملے اور برابر اس کا شکر ادا کرتا رہوں پھر بھی اس کا شکر ادا نہیں ہوگا، میرے رب نے مجھے جہاں بیشمار نعمتوں سے نوازا وہیں اس نے جو مجھے سب سے بڑی نعمت عطا کی وہ مرشد برحق، میرے مربی، میرےرہنما، میری عزت ،میری دولت، میرا دنیا وآخرت کا سرمایہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمۃ و الرضوان کی ذات ستودہ صفات والد بزرگوار کی شکل میں عطا کی۔

لیکن کیا پتا تھا کہ وہ نعمت مجھ سے اتنی جلدی رخصت ہوجائے گی جس کا وہم وگمان بھی نہ تھا، کیا پتا تھا کہ مجھے اپنے مجدد کی چوکھٹ پر حاضری کے لئے بھیج کر وہ بارگاہ الہی کی طرف رخصت ہوجائیں گےمجھے تو ایک بہت چھوٹے سفر پر بھیجنے سے پہلے فرمانے لگے بیٹا جلدی آجانا لیکن آپ تو ایسے سفر پر چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹتا نہیں ہے۔میرے ابا جان! آپ ہم لوگوں سے کیوں ناراض ہوگئے کیوں اپنی آنکھوں کو اتنی جلدی بند کرلیا، آپ ہم لوگوں کو کس کے سہارے چھوڑ کر چلے گئے ابا جان! آپ نے تو ہم کو ہماری ماں ،بھائی بہنوں کو اوراپنے جامعہ کو جامعہ کے طلبہ ومدرسین و مریدین کو اس دنیائےفانی میں اکیلا چھوڑ دیا ہے، لیکن اب اتنا کرم تو کریں کہ دنیا کی بچی ہوئی زندگی، آپ کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے تک لے جانے، جامعہ احمدیہ کی خدمت اور اس پر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ نچھاور کرکے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کے آپ کی تمناؤں کو پورا کرکے جب اس دنیا سے رخصت ہوں اور موت کی گھڑی ہو تو آپ وعدہ کیجیے کہ آخرت کی زندگی میں آپ ہم لوگوں کے ساتھ ہوں گے، آپ کسی

حال میں ہ نہیں میں چھوڑیں گے، جہاں دنیا میں آپ نے ہزاروں قلوب کا تصفیہ کیا وہیں قبر کی تاریکی میں بھی مجھے آپ کی ضرورت پڑے گی، حشر میں آپ کا ساتھ چاہئے اور آپ وعدہ کیجئے کہ جنت میں آپ اپنے غلاموں کے بغیر نہیں جائیں گے، آپ دنیا میں تو سب کو روتا بلکتا چھوڑ گئے آپ تو بڑے رحم والے تھے آپ تو جب کسی دوسرے کی موت کی خبر سنتے تھے تو رونے لگتے تھے اور آج اپنے غلاموں کو زندگی بھر کے لئے غمزدہ فرما گئے۔

ابا جان! آپ تو فرماتے تھے کہ تم لوگ فکر کیوں کرتے ہو؟ ہم تمھارے سامنے آکے باتیں کیا کریں گے، اباجان اسی انتظار میں چوکھٹ پہ آنکھیں لگایا ہوا ہوں کہ کب میرے مرشد، میرے والد آئیں گے اور ہم ان سے کچھ باتیں کریں گے، ابا جان! آپ ان گناہگار کندھوں پر اتنا بڑا بوجھ ڈال کر گئے تو مدد بھی آپ ہی فرمائیے۔

ہاں! مجھے امید ہے اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل آپ ہی بنائیں گے آپ سے ہی امید کرم ہے آپ کی روحانی طاقت ہمیں ہر موڑ پر سہارا دے گی ابا جان! اگر آپ کے جامعہ کی خدمت ہم غلاموں کے ذمہ نہ ہوتی اور خوف خدا نہ ہوتاتو آپ کے جنازے کے پیچھے آپ کےغلاموں کے بھی ہزاروں جنازے ہوتے۔

اس دار فانی سے ایک دن جانا تو سب کو ہے، لیکن آپ کے جانے کا غم ناقابل برداشت ہے ۔آپ کے اچانک جانے کی خبر آپ کے مرشد برحق نے اپنے اشعار میں کنایۃ پہلے ہی دے دی تھی۔

ہے تقاضہ محبت سر اٹھے نہ آستاں سے

جہاں عقل تک نہ پہنچے میں گذر گیا وہاں سے

میں غلام ہوں رضا کا کہ سراپا راز الفت

میرا حال ہوگا ظاہر کبھی مرگ ناگہاں سے

میرے مرشد کی چشم باطنی کا اندازہ اس شعر سے لگا سکتے ہیں کہ آج سے تیس سال پہلے حضور بحرالعرفان کے پیر ومرشد حضور عارف باللہ شیخ العالم مولانا شاہ احمدرضا خاں صاحب دام ظلہ العالی نے یہ اشعار حضور بحرالعرفان کے لئے فرمائے تھے جن کی صداقت ہر ایک کے سامنے ہے کہ تیرہ جولائی کا سورج طلوع ہونے سے پہلے اچانک علم وعرفان کا سورج جو اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ دلوں کی ظلمتوں کو چھاٹنے اور طالبین راہ خدا کی پیاس بجھانے اور میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا عملی جامہ پہن کر اپنے مریدین ومتعلقین کو سنن مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کاپیکر بنانے اور حق کا سیدھا راستہ

دکھانے میں مصروف عمل تھا غروب ہوگیا، علم و فضل ،ولایت وروحانیت کا یہ تاجدار، بندگان خدا اور امت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے، ہر مرید و پیر وہر مہتمم اورہر والد کے لئے نمونہ عمل اور ایک مثال تھا ۔

آپ اگر سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کریں تو حضور بحرالعرفان کا ہر ایک پہلو سیرت نبوی کے سانچے میں ڈھلا ہوا پائیں گے میں اپنے مرشد کے کیا کیا وصف گناؤں، لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے، دیکھنے والوں نے بہت کچھ دیکھا ہے، سننے والوں نے بہت کچھ سنا ہے، لیکن میں نے جو انکے شب و روز دیکھے ہیں انکی تنہائیوں میں جو آہ وفغاں، قوم کا جو درد انکے سینے میں محسوس کیا ہے ،سنیت کی بگڑتی ہوئی تصویر کو سنوارنے، اصل سنیت کو اپنے کردار و عمل سے غیروں کے سامنے پیش کرنے کی لگن جو آپ میں تھی اسکی نظیر شاذ و نادر ہی ملے گی۔

کیا کیا بیان کروں؟ اس مرد قلندر نے جو کچھ بھی کیا صرف اللہ و رسول کی رضا کے لئے کیا، میرے مرشد کا ہر وصف انوکھا تھا ہر ادا نرالی تھی، آپ ان کی زندگی کسی بھی پہلو سے دیکھ لیجیے میرے مرشد نے گرتوں کو ہمیشہ اٹھایا ہے، ڈوبتوں کو تیرنا سکھایا ہے، ہمیشہ ہر معاملے میں حوصلوں کو بلند کیا ہے، ان کی روحانیت نے جو طاقت بخشی ہے اس پرزندگی میں بہت بار سوچا، سوچ سوچ کربہت رویا کہ اگر میرے والد بزرگوار کو خدانخواستہ کچھ ہوگیا تو میرے گھر میں ایک نہیں کئی جنازے نکلیں گے لیکن کیا پتا تھا کہ ان گناہگار کندھوں کو ایک ولی کامل کا جنازہ اٹھانا پڑے گا۔

لیکن وہ جب گئے ان کاندھوں کوبوجھ اٹھانے کی قوت بخش گئے، ہمتیں بڑھا کر گئے، سیدھا راستہ دکھا کر گئے، دین کی خدمت، اتبا ع سنت کا جذبہ دیکر گئے، بزرگوں کی محبت دلوں میں پیوست کرکے گئے، انصاف کا درس دے کر گئے ،بزرگوں کے مراتب بتا کر گئے ،غریبوں کی مدد کا جذبہ دے کر گئے، اپنی اولاد کو یتیم کرکے دوسرے یتیموں کا سہارا بننےکا سبق پڑھاکر گئے، اتحاد کا درس دےکر گئے ۔

آپ نے پوری زندگی اپنے آپ کو چھپا کررکھا نام و نمود ،ریا وسمعہ سے گریز کیالیکن اس ساٹھ سالہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ہر آن اپنےاللہ کا ذکر کرتے اور کراتےرہے ۔اس لیے آپ کے رب نے آپ کا چرچا اپنے وعدے کے مطابق پورے عالم میں عام کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وعدہ فرمایا۔ فاذکرونی اذکرکم ۔دنیا والوں نے دیکھ لیا جو اپنے اللہ کے ذکر کو عام کرتا ہے اللہ اسکا ایسا چرچا

کرتا ہے کہ دنیا والے عش عش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس پر فخر کر تے ہیں ۔

اس کا اندازہ آپ کے جنازہ میں خلق خدا کی عقیدت و محبت سے بخوبی ہوتا ہے جوبھی آئے دلوں میں یہ تمنا لے کر آئے تھے کہ آج حضور بحرالعرفان کی نماز جنازہ پڑھنے کو مل جائے تو مغفرت ہوجائے گی ۔ابا جان آپ کا جنازہ اٹھاتے وقت ہم غلاموں نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ آپ کے چھوڑے ہوئے مشن کو پائے تکمیل تک پہونچا کر ہی دم لیں گے ۔ ان شاءاللہ۔

بس آپ کا فیضان ہم غلاموں پر بارش کی طرح برستا رہے، محنت کرنا ہم سب کا کام ہے جو کام کل تک آپ کرتے رہے آج بھی آپ کریں گے اور کل بھی آپ کی روحانی طاقت اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ ان شاءاللہ

میرے والد بزرگوار یقیناً ہمارے لیے بھی دنیا و آخرت کا بیش بہا سرمایہ تھے اور متوسلین و مسترشدین کے لیے بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کے صدقے میں ہم سب پر ان کا سایہ دونوں جہان میں دراز فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین علیہ و علیٰ آلہ افضل الصلاۃ و التسلیم۔