باب ۶۳ از ۶۵صفحات ۴۳۲–۴۳۶
گوشۂ مناقب
علم و ہنر کا آفاق
الجامعۃ الاحمدیہ قنوج کے بانی و مہتمم شیخ طریقت، مناظرِ اہلسنت ،بحر العرفان، استاذ العلماء، خزینۂ علم و فن، حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد صدیقی نقشبندی مجددی، رحمۃ اللہ علیہ کے وصال پر گلہائے تعزیت،،
حسب حکم میرے رفیق گرامی ، محبوب العلماء و المشائخ۔ حضرت مولانا بشارت علی صدیقی اشرفی ، جدہ، حجاز مقدس
وصال 9 ذیقعدہ 1440ھ۱۳؍جولائی 2019 بروز سنیچر
مولانا سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان
سُرخرو ہو کے چلے جانبِ مولیٰ آفاق
کر گئے کام شہ دیں کی وفا کا، آفاق
انکے دامن میں ہنر کے مہ و مہر و انجم
تھے کمالوں کے یقیناً وہ سراپا آفاق
قبر میں لیٹا ہے قنوج کی دھرتی کا فلک
خود زمیں رو پڑی جب چلدیا اس کا آفاق
اپنے افکار میں، رعنائیِ کردار میں ہے
آسمانوں سے بھی اونچا یہ زمیں کا آفاق
وہ جیے، نیَّرِ سرہِند کے مظہر بن کر
اپنا کردار نبھا کر گئے پورا، آفاق
زندگی ، نورِ تصوف سے مکمل معمور
سالکِ راہِ عمل ، صاحبِ تقویٰ آفاق
موت بھی روک نہ پائے گی روانی ان کی
علم و اخلاق و محبت کے ہیں دریا آفاق
وہ ادب پرور و معمار سخن، علم نواز
فہم و ادراک و تدبر کا خزینہ آفاق
پیڑ گرتا ہے تو مٹ جاتا ہے سایہ اُس کا
وہ گئے، پَر ہمیں دیکر گئے سایہ، آفاق
پردۂ فکر و نظر میں وہ رہیں گے روشن
علم و حکمت کا دکھا کر گئے جلوہ، آفاق
ہم بھلا کیسے کہیں، چھوڑ گئے وہ ہم کو
ہر گھڑی ساتھ میں ہیں بن کے اجالا، آفاق
اہل سنت کے مسائل کا سدا حل ڈھونڈا
دردِ ملت سے تڑپتے تھے ہمیشہ، آفاق
کُلُّ نَفسٍ نے ہمیں صبر کی فطرت بخشی
ورنہ ہم جانے نہ دیتے کبھی، ایسا آفاق
ساتھ لے کر چلے ملت کے وفا داروں کو
اور غداروں پہ تھے غیظ کا شعلہ آفاق
خوب رکھتے تھے ہنر حوصلہ افزائی کا
عمر بھر دیتے رہے سبکو سہارا آفاق
ان کی ہستی رہی ناموسِ نبی پر قرباں
سرحدِ عشق پہ دیتے رہے پہرا آفاق
چند جملے نہیں بن سکتے خراجِ تحسین
ہم چلیں اُس پہ، جو دے کر گئے رستہ آفاق
سب کہیں مِل کے فریدی کی دعا پر آمین
پائیں مولیٰ کے وہاں رتبۂ اعلیٰ، آفاق
محورِ اَصداق چلے
الجامعۃ الاحمدیہ قنوج کےبانی شیخ طریقت، مناظرِ اہل سنت، بحرالعرفان،استاذالعلماء،خزینۂ علم وفن، حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمدصدیقی نقشبندی مجددی، رحمۃاللہ علیہ کے وصال پرملال پراظہارتعزیت!
وصال9ذیقعدہ1440ھ13 جولائی 2019 بروز سنیچر
مولانا ازہرالقادری
ہو کے مغموم یہ کہتے ہوئے عشاق چلے
داغ فرقت کا ہمیں دے کے وہ آفاق چلے
جن سےمحفوظ ہوں عظمت کی ردائیں دے کر
مذہب و مسلک و ملت کے وہ اسباق چلے
جیتے جی تک سدا ابطال کیا باطل کا
عمر بھر حق کا وہ کرتے ہوئے احقاق چلے
علم و فن فکر ونظر میں ید طولیٰ کے دھنی
بحرعرفان کا جن پر ہوا اطلاق چلے
بےمثال ایسےکہ کوئی نہ جواب ان کا ہے
بے نظیر ایسے! زمانے نے کہا طاق چلے
باعمل مخلص و خود دار و مروت والے
روکے کہتے ہیں سبھی صاحب اخلاق چلے
مرضیِ حق کے طلب گار رہے دنیا میں
آگیا پیکِ اجل جانب خلاّق چلے
رہبر راہِ شرع رہ روِ راہِ عرفاں
خوب تھے شیخ طریقت کےوہ مصداق چلے
عمر بھر حکمت و دانائی کا پیغام دیا
منبعِ فکر و نظر مخزنِ اِشراق چلے
مطلعِ شفقتِ بے داد پہ قنوج نثار
اہل دل کی ہےصداہائےوہ اشفاق چلے
مسکرا دیتا تھا روتا ہوا اُن کے در پر
زخمِ دل کے لیے بن کر رہے تریاق چلے
جوڑنا بچھڑوں کو یہ کام بڑا پیارا ہے
مشغلہ اُن کا بہت خوب تھا اِلحاق چلے
شمعِ عشقِ کی تنویر سے روشن تھا دماغ
جس کی توقیر لیے وہ سوئے رزاق چلے
صدقِ صادق کے تصدق کے امینِ محکم
یہ حقیقت نے کہا محورِ اَصداق چلے
واہ !کتنوں نے کیا شرف زیارت حاصل
سینکڑوں لوگ رہے دید کے مشتاق چلے
تا ابد جن پہ رہے حُسنِ عمل تابندہ
دے کے احباب کو ازہر وہی اوراق چلے
جامعہ اہل سنت امدادالعلوم مٹہنا کھنڈسری
سدھارتھ نگریوپی انڈیا9559494786
حق و صداقت کی زباں
مولانا محمد مستقیم علی نعمت نگر ثم چھبرامئو قنوج
علم و فن کے ایک بحر بیکراں آفاق شاہ
اور تھے حق و صداقت کی زباں آفاق شاہ
ہو شریعت یا طریقت یا حقیقت معرفت
دل کے اندر اپنے رکھتے سب نہاں آفاق شاہ
صاحب صدق و صفا اور عارف و حق آشنا
جو کہو اس سے سوا ہیں بے گماں آفاق شاہ
تقویٰ و پرہیزگاری آپ کی تھی بے مثال
اور کمال و فضل کے تھے آسماں آفاق شاہ
وقف کر دی زندگی دین نبی کے نام پر
اس لئے مثل قمر ہیں ضوفشاں آفاق شاہ
تھر تھرا تا تھا منافق نام سن کر آپ کا
کیوں کہ شمشیر برہنہ تھے میاں آفاق شاہ
بھاگ جاتاتھا وہاں سے ہر وہابی سورما
ہو گئے جلوہ نما آکر جہاں آفاق شاہ
کیوں نہ ہو ھم سنیوں کو ناز ان کی ذات پر
مسلک احمد رضا کے پاسباں آفاق شاہ
نور میں ڈوبا ہوا تھا وہ سماں اے مستقیم
جلوہ فرما تھے جو سب کے درمیاں آفاق شاہ
عشق و عرفان و محبت کی کہانی تم ہو
نتیجہ فکر:مولانا ابو القیس خیری مجددی
عشق و عرفان و محبت کی کہانی تم ہو
سیکڑوں شعبۂ تعلیم کے بانی تم ہو
تیرے اوصاف مدینے کا پتا دیتے ہیں
میرے آفاق مدینے کی نشانی تم ہو
ڈال دی جان تصوف کے ہر اک شعبے میں
گلشن عشق و تصوف کی جوانی تم ہو
چھوڑ کر ہم کہاں جائیں گے تمھارے در کو
میرا قبلہ ہو میرا رکن یمانی تم ہو
کہہ کے یہ قیسؔ تیری شان میں چپ ہوتا ہے
فخر دیں فخر وطن فخر جہانی تم ہو
کلام برزمین کلام اعلیٰ حضرت اشرفی میاں
مولاناسید نور عالم مصباحی
.
قلب جاناں ہے شبیہ طور سینا ہو بہو
انفس و آفاق کھلتے ہیں جہاں تو تو ہی تو
قتل ہوں کیوں نہ بھلا نازنین خوبرو
جان جاناں کر چکا ہے تیغ ابرو رو برو
کیا کہوں کتنا ستاتا ہے مجھے میرا صنم
ظلم سہنے پر اتر آیا ہے دل خو خو بخو
قد و قامت سرو ہے تو چشم آہو آنکھ ہیں
دیکھ کر ان کو پپیہا بولے کو کو کو بکو
رنگ دیا کتنے بتوں کو نقشبندی رنگ میں
ہو نہ گر ذکر خفی سنتے پجاری ھو ھو ھو
سیدؔ نا چیز پاتا کب بھلا ایسا ہنر
اشرفیؔ سرکار لکھتے نہ اگر مو مو بمو
منقبت بحضور سیدی مرشدی بحر العرفان مفتی الشاہ آفاق احمد مجددی علیہ الرحمۃ والرضوان
عزیمت استقامت کا جہاں
مولانا محمد آصف رضا مجددی
.
عزیمت استقامت کا جہاں آفاق احمد ہیں
خدا کے قرب کا واضح نشاں آفاق احمد ہیں
ہزاروں دل کئے روشن نگاہ فیض سے جس نے
طریقت کے وہی پیر مغاں آفاق احمد ہیں
کیا روحانیت کو پھر سے زندہ دور ظلمت میں
تصوف کے حقیقی رازداں آفاق احمد ہیں
شریعت اور سنت کے اگر ہیں بدرِ کامل تو
طریقت کی بہار گلستاں آفاق احمد ہیں
خدائے پاک نے بخشا کمالوں میں کمال ایسا
کہ ہر خوبی میں میر کارواں آفاق احمد ہیں
جہاں کے طالبانِ نور آؤ اس طرف آؤ
مثال شمس اب بھی ضو فشاں آفاق احمد ہیں
چلے ہو ناپنے کس کی بلندی اے جہاں والو!
سنبھالو اپنی اپنی ٹوپیاں آفاق احمد ہیں
غزالی تھے ہمارے دور کے وہ علم و عرفاں میں
ہے دنیا جس پہ اب حیرت کناں آفاق احمد ہیں
کمالات مجدد الف ثانی کو کیا تازہ
ولایت کا وہ اونچا آسماں آفاق احمد ہیں
حسیں صورت حسیں سیرت زمانے میں نرالی ہے
تو علم و فضل کا کو کوہ گراں آفاق احمد ہیں
تجھے اب قبر کی تاریکیوں کا خوف کیا آصفؔ
تمہارے سر پہ جب سایہ کناں آفاق احمد ہیں