باب ۱۷ از ۶۵صفحات ۱۰۶–۱۲۳
آہ !ایک مرد کامل چل دیے
مولانا محمد یونس ظہور قادری رضوی عطاری آفاقی
نگرولہ راجوری جموں کشمیر
بحر العرفان پیر طریقت رہبر شریعت عالم نبیل فاضل جلیل مبلغ اسلام مرد قلندر قطب زمانہ حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی کی رحلت ملت اسلامیہ میں ایک عظیم سانحہ اور خسارہ ہوا ہے ،آہ! آپ کی جدائی سے ہماری آنکھیں نم، دل پر غم، زباں خاموش اور بدن ساکت ہیں ہائے کیا کہوں وہ مرد تھے وہ عارف باللہ ولی کامل حسن و اخلاق کے پیکر باکردار نیک سیرت شخص تھے جن کی دینی خدمات اور نیک نامی رہتی دنیا تک باقی رہے گی وہ ایک فرد نہیں جماعت تھے اہل سنت و جماعت کو ایک دیکھنا چاہتے تھے وہ ہر فرد پر گہری نظر رکھتے تھے آپ کی توجہات سے نہ جانے کتنے قلوب ذاکر ہوئے ،آپ کی مجلس علمی وروحانی ہوا کرتی تھی آپ علم و عرفان کے ساقی تھے طالبین کو معرفت کے جام پلاتے اور مست بناتے تھے، صاحب حال تھے جو نظروں سے پلاتے تھے ؎
ابھی تو چراغ جلا تھا ہائے کیا ہوا
باد خزاں نے اسکو رہنے نہ دیا
اس دکھ بھری گھڑی میں آپ کے اہل خانہ و صاحبزادگان ،خلفاء و مریدین اور محبین کے غم میں برابر کا شریک ہوں اللہ تعالیٰ ان سب کوصبر جمیل اور اس پر اجر عظیم عطا کرے ۔
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے
سید اسحاق قادری، بنگلور
حضرت مولانا مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت سے ملت اسلامیہ ایک عظیم سپوت و مرد مجاہد سے محروم ہوگئی ۔
آپ بہ یک وقت مفکر ، عالم باعمل ، محرک ،سنتوں کے پیکر، برد باری کے علم بردار ، بلند پایہ قائد اور ولی صفت باوقار شخصیت واقع ہوئے ہیں ، اتنی ساری خوبیوں کے باوجود ایک سادہ زندگی بسر کرنا یہ دور حاضر میں معمہ سے کم نہیں ۔
آپ اپنی بےانتہا خوبیوںاور صلاحتیوں اور خدمات کے باعث سارے قنوج علاقے کے ہر دلعزیز رہنما و رہبر مانے جاتے تھے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت آفاق کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔
آہ! حضور بحر العرفان نہ رہے
مولانا ندیم اختر القادری الہندی
مقیم حال موریشس، افریقہ
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!!!
یہ خبر انتہائی رنج وغم اور افسوس کے ساتھ دی جارہی ہے کہ بھارت کی ریاست اتر پردیش (المعروف یوپی) کے شہر قنوج کی ایک انقلابی، ہمہ جہت، مشہور ومعروف علمی وفکری اور روحانی شخصیت، پیر طریقت، رہبر شریعت، صاحب تصانیف کثیرہ، قاضی قنوج، متعدد دانش گاہوں کے بانی وسرپرست، مفتی بحر العرفان حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ آفاق احمد نقشبندی مجددی صاحب قبلہ بانی الجامعة الاحمدیہ (قنوج، یوپی) کا 13 جولائی 2019ء بروز سنیچر دل کا دورہ پڑنے سے وصال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت کی دینی، تعلیمی، تصنیفی وتعمیری اور روحانی خدمات ناقابل فراموش ہیں جو عصر حاضر میں انھیں ایک ممتاز شخصیت بناتی ہیں۔اس غم کی گھڑی میں شہزادہ حضور بحر العرفان حضرت علامہ مولانا برکات میاں آفاقی مجددی نقشبندی دام ظلہ العالی اور اہل خانہ کے غم میں سگ بارگاہ غوث اعظم برابر کا شریک ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے پیارے حبیب پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک ﷺ کے صدقے وطفیل حضرت مفتی بحر العرفان مفتی آفاق احمد نقشبندی مجددی علیہ الرحمۃ والرضوان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے؛ آپ کے پسماندگان، وابستگان ومحبین اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل سنت و جماعت کو ان کا بدل عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین الکریمﷺ
موت العالم موت العالم
مولانا محمد تحسین رضاقادری، دارالعلوم مصطفیٰ کانپور
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ محبوب العلما ء شیخ طریقت رہبر راہ شریعت مفکر اہل سنت نا زش فکر و فن فخر خطابت ہمدرد قو م و ملت پیکر زہد و تقویٰ عالم با عمل حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی محمد آفاق صاحب نقشبندی مجددی قادری بر کاتی بانی الجامعۃ الاحمدیہ قنوج کا وصال آج موخہ 13. جولائی 2019 . کو صبح ہو گیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
حادثہ فاجعہ کا راقم الحروف محمد تیسیر الدین تحسین رضاقادری خادم دارالعلوم ضیائے مصطفیٰ کانپور کو روحی و قلبی صدمہ ہے ۔لیکن مرضی مولیٰ ازہمہ اولیٰ کے تحت صبر و شکر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں دنیا کی ساری چیزیں فانی ہیں ایک نہ ایک دن سب کو دار فنا سے دار بقاء کی طرف سفر کرناہے ۔ یقینا مفتی صاحب علیہ الرحمتہ کا وصال دنیائے اسلام وسنیت کے لیے ایک عظیم خلاء ہے جو مستقبل قریب میں پر ہونا مشکل نظر آرہاہے ۔
وصال کی خبر سنتے ہی دارالعلوم ضیائےمصطفیٰ کانپور میں اساتذہ دارالعلوم ہذا کی تعزیتی نششت منعقد ہوئی ( زیر صدارت پرنسپل ادارہ حضرت علامہ قاری سید محمد ابوسعید بر کاتی قادری صاحب قبلہ ) حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حق میں بلندی درجات کی دعاء کی گئی اہل خانہ، مریدین متعلقین، متوسلین، محبین اور خویش و اقارب کو صبر و شکر کی تلقین کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کو جوار رحمت میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین ﷺ .
ناقابل فراموش خدمات انجام دیں
جملہ اساتذۂ مظہر العلوم گرسہائے گنج قنوج یو پی
عزیزگرامی وقار حضرت مولانا احمد سعید و مولانا برکات صاحبان
سلام مسنون
آج صبح بعد نماز فجر نہایت ہی افسردہ خبر موصول ہوئی کہ آپ کے والد گرامی پیر طریقت رہبر شریعت بحر العرفان مفتی اعظم قنوج حضرت علامہ مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ مجددی بانی و مہتمم الجامعۃ الاحمدیہ قنوج نے داعیِ اجل کو لبیک کہدیا ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
حضور بحر العرفان کی رحلت بلا شبہ علمی وروحانی دنیا میں عظیم خلاء ہے مفتی صاحب نے دین و سنیت رشد وہدایت دعوت و تبلیغ کی جو خدمات انجام دی ہیں یقینا وہ نا قابل فراموش ہیں اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کے ذریعہ کی گئی دین و سنیت کی راہ میں خدمات قبول فرمائے آمین۔ اور انکے شہزادگان اعزاء و اقرباء مریدین و معتقدین کو اللہ رب العزت صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل سنت وجماعت کو نعم البدل عطا فرمائے ۔ فقط والسلام ۔
گوشۂ مضامین
قنوج بحرالعرفان سے قبل اور تشریف آوری کے بعد
قنوج بحرالعرفان سے قبل اور تشریف آوری کے بعد
مولانا محمد ضیاء القمر مجددی آفاقی٭
الحمد للہ حمداً کثیرا والصلوۃ والسلام علی رسولہ الاعلی وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ۔
تاروں سے توقع ہے نہ امید سحر سے
ہم روشنی پھیلائیں گےاب داغ جگر سے
مایوس نہ ہو اے چمن ملت بیضا
زندہ ہیں تو سینچیں گے تجھے خون جگر سے
بحرالعرفان علیہ الرحمہ اس دور قحط الرجال میں اسلاف کے کردار و گفتار کا عملی نمونہ ،کمالات و فیوضات کا منبع مشائخ نقشبندیہ کی نسبتوں، ولایتوں کے حقیقی امین، رشد و ہدایت کے سر چشمہ، علوم نبویہ علیہ التحیۃ والثناء کے سچے وارث، مجدد الف ثانی کے ظاہری اور باطنی کمالات کے جامع اور مجددی نقشبندی فیوض و برکات و انعامات کے حامل اور کامل و مکمّل شیخ طریقت تھے۔
بحرالعرفان کی شخصیت محتاج تعارف نہیں آپ کی خدمات جلیلہ ہی آپ کا عمدہ ترین تعارف ہیں۔اب ہم قنوج کے حالات اور اسکی کچھ تفصیلات قلمبند کر رہا ہوں تاکہ معلوم ہوکہ بحر العرفان نے کن حالات میں دین وسنیت کاقلعہ تعمیر کیاکس طرح اس مدینۃ الاولیاء کی عظمت رفتہ کی نشاۃ ثانیہ فرمائی۔
قنوج بحرالعرفان علیہ الرحمہ سے قبل
قنوج کی تاریخی حیثیت:
قنوج ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کا نہایت قدیم تاریخی شہر ہے۔تاریخ ہندوستان کے مطابق قنوج دنیا کی دوسری یا تیسری آبادی ہے جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے بسایا تھا۔قدیم زمانے میں یہ شہر پورے غیر منقسم ہندوستان کی راجدھانی رہا ہے۔ تاریخ فرشتہ کے بیان سے اس کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز عرصۂ دراز تک شمالی ہند کی راجدھانی رہا شہر قنوج کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ ایک زمانے میں 32 ہزار تمولیوں کی دکانیں ہو ا کرتی تھیں۔آج بھی یہاں کے نشیب و فراز کے علاقے اور آثار قدیمہ کے کھنڈرات ،شکستہ قلعے اورمحلات ،
مقبرے اور نوابوں ،زمینداروں کی حویلیاں اپنی عظمت رفتہ کا پتہ دیتے ہیں جن سےقنوج کی ثقافت نیزتعمیر وتہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ قنوج کےاکابر اولیاء، علماء و مشائخ کے مزارات اور انکے ناموں سے منسوب محلے اس کی قدامت و عظمت کا پتہ دیتے ہیں۔ رتکالہ شریف میں صحابہ کرام کے مزارات، خواجہ غریب نواز کے دادا پیر حضرت حاجی شریف علیہ الرحمہ کی درگاہ ،حضرت بالاپیر کا روضہ۔حضرت جلال حیدر ثالث علیہ الر حمہ کا روضہ اور اس سے متصل مسجد مخدوم جہانیاں جہاں گشت ،حضرت مخدوم اخی جمشید علیہ الرحمہ،کی درگاہ، شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے اساتذہ کے مزارات ،قبے، پنج پیر و سلطان پیر علیھم الرحمۃ و الرضوان وغیرہم کی مقابر دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔مذکورہ بالااکابرین میں سے چند کی تفصیلات ان شاء اللہ آگے بیان کی جائیں گی۔
محل وقوع:
قنوج شہر کانپور سے دہلی کو جانے والے جی ٹی روڈ سے تقریباً ۸۰؍ کلو میٹر جانب غرب اور دہلی سے تین سو چالیس کلو میٹر کی دوری پر جانب شرق واقع ہے۔
اقتصادی حالات: قنوج شہر تجارت و معیشت کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حامل رہاہے۔ یہاں کا عطر پوری دنیا میں جاتا ہے اور قنوج کو عطر و اتہاس کی نگری کہا جاتا ہے۔قنوج میں مختلف کاروبار ہیں مثلا زراعت میں آلو کی پیداوار زیادہ کی جاتی ہے اور آڑتی نظام میں مسلمانوں کا کاروبار نا کے برابر ہے زیادہ تر طبقہ کاشت کار یا مزدور پیشہ ہے بڑاکاروبار تو صرف عطر کا ہے جسکے بڑے بڑے کارخانے ،میل آج بھی ہیں ابتدائی دور میں تو سارا عطریات کا کام مسلمانوں کے ہاں تھا پر دھیرے دھیرے غیر مسلموں نے اس کاروبار کو اپنا لیا آج دس فیصد تقریبا ًمسلمانوں کے پاس ہے اس میں بھی جو مسلمان بڑے کاروباری ہیں وہ غیر مقلد یا دیوبندی مسلک کے ہیں سنیوں میں معدودے چند محلوں کے مثلاًپاٹا نالہ کی انڈیا سیلس انٹر نیشنل فرم اور عبد المجید خاں صاحب اینڈ سنس وغیرہ یہ ہیں اور کچھ افراد ہیں جو سنیوں کے دینی ،سماجی امور میں مالی معاونت کرپاتے ہیں ورنہ اکثریت مالی زبوں حالی کا شکار ہے۔اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے جس میں تقریباً ۴۰؍ فیصد مسلم آبادی ہے اور اہل سنت کو اکثریت حاصل ہے۔
قنوج میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
الحمدللہ مدینۃ الاولیاءشہر قنوج کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہاں تین صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزارات مقدسہ ہیں۔ ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں اس کی صراحت موجود ہے۔قنوج کے راجہ حضرت سرباتک ہندی تھے۔ ابن اثیر نے اسدالغابہ اور حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں قنوج کے راجہ سرباتک سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صحابہ حضرت حذیفہ، حضرت اسامہ ،حضرت صہیب رضی اللہ عنہم اجمعین انکے پاس اسلام کا دعوت نامہ لیکر حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرلی اور پھر انہوں نے سات سو سال عمر پائی اور ابو موسیٰ کے حوالہ سے اسحاق بن ابراہیم طوسی کی زبانی نقل ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں قنوج کے راجہ سرباتک سے ملاقات کی اور ان سے دین اسلام کے بارے میں گفتگو بھی کی -اس وقت انکی عمر 715برس تھی-ابو حاتم احمد بن حامد بلوی نے لکھا ہے کہ میں نے سرباتک ہندی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ مکہ میں اور ایک مرتبہ مدینہ میں دیکھا ہے- آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت اور درمیانہ قد کے تھے -(الاصابہ جلد2- ص121)
عنہم کے مزارات مقدسہ ہیں۔ ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں اس کی صراحت موجود ہے۔قنوج کے راجہ حضرت سرباتک ہندی تھے۔ ابن اثیر نے اسدالغابہ اور حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں قنوج کے راجہ سرباتک سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صحابہ حضرت حذیفہ، حضرت اسامہ ،حضرت صہیب رضی اللہ عنہم اجمعین انکے پاس اسلام کا دعوت نامہ لیکر حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرلی اور پھر انہوں نے سات سو سال عمر پائی اور ابو موسیٰ کے حوالہ سے اسحاق بن ابراہیم طوسی کی زبانی نقل ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں قنوج کے راجہ سرباتک سے ملاقات کی اور ان سے دین اسلام کے بارے میں گفتگو بھی کی -اس وقت انکی عمر 715برس تھی-ابو حاتم احمد بن حامد بلوی نے لکھا ہے کہ میں نے سرباتک ہندی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ مکہ میں اور ایک مرتبہ مدینہ میں دیکھا ہے- آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت اور درمیانہ قد کے تھے -(الاصابہ جلد2- ص121)
اس کے بعد یہ بھی تحریر ہے کہ 333ھ(بمطابق945ء) میں سرباتک ہندی رضی اللہ عنہ 894برس کی عمر میں انتقال فرما گئے۔
اس کے علاوہ مشائخ کے مکشوفات بھی اس پر شاہد ہیں جیساکہ حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب تذکرہ مشائخ مجددیہ سوم میں اپنے مرشد گرامی شیخ العالم عارف باللہ حضرت مولانا احمد رضا خاں بنارسی دام ظلہ کے مکشوفات میں لکھا ہے۔ قنوج کے قریب ایک رتکالہ مقام ہے جب ہم قنوج آئے تو لوگوں نے بتایا کہ رتکالہ میں صحابی کا مزار ہے۔ دراصل 1931 میں ایک لاش پانی کے کٹاؤ سے کھل گئی جو بالکل صحیح و سالم تھی انہیں لوگوں نے ٹیلے پر لاکر دفن کیا جہاں لاش برآمد ہوئی تھی کچھ مٹی ہٹانے پر ایک بڑا سا پتھر نمودار ہوا جو تربت کے سائز کا تھا اس میں کلمہ شریف وغیرہ کے علاوہ جو پائتیں طرف عبارت لکھی ہوئی تھی اس سے 99 ھ مفہوم ہوتا ہے اس کی وجہ سے یہ مشہور ہو گیا کہ یہ صحابی ہیں۔ ہمارا قلب بہت متردد تھا ایک بار ہم نے آپ سے عرض کیا تو آپ تشریف لے گئے۔کافی دیر مراقب رہے پھر بعد میں بہت گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں مانگیں جس سے ہم لوگ سمجھ گئے کہ یہ کوئی اہم شخصیت کا مزار ہے واپسی میں ہم نے عرض کیا جب اصرار بڑھا تو فرمایا کہ ہاں یہ صحابی ہیں اور اس
مقام پر دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دکھائی دیے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض کے مزارات یہیں قریب میں ہوں فرمایا کہ جو نور محسوس ہوا وہ صحابہ کا ہی تھا۔ میں نے عرض کیا کہ حضور صحابہ کا نور عام اولیاء کرام سے جدا ہوتا ہے؟ تو آپ نے ایک فرق یہ بیان فرمایا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات پر مراقب ہونے سے جب وہ لوگ نظر آتے ہیں تو انکے بدن سے وہی خوشبو محسوس ہوتی ہے جو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم اور پسینہ سے آیا کرتی تھی کیونکہ صحابہ کرام کا آقا علیہ السلام کے ساتھ اختلاط اور مصافحہ و معانقہ رہتا تھا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ ہمیں انکے بارے میں کچھ معلومات نہ تھیں جبکہ یہ بات عجیب سی لگتی تھی کہ قنوج میں صحابی کا مزار ہے لیکن تحقیق و جستجو شروع کی تو معلوم ہوا کہ اصابہ نامی کتاب میں علامہ ابن حجر علیہ الرحمہ نے ایک روایت نقل فرمائی ہے جس سے دس صحابہ کرام کا قنوج تشریف لانا ثابت ہے۔ پھر ہمارے ایک ہم سبق ساتھی مولانا محمد نایاب صاحب نے بتایا کہ انکے پاس ایک کتاب عربی میں ہے جو ردی میں مل گئی تھی اس میں قنوج میں صحابہ کرام کی آمد کا تفصیلی تذکرہ ہے۔(تذکرہ مشائخ مجددیہ سوم 113،114)
قنوج کے اکابر علماء ومشائخ
خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے دادا پیرقنوج میں، عظیم ترین بزرگ ہستی:
مقتدائے اولیاء،قطب افراد اور مشائخ وقت قدوۃ الاولیاء حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا نام شریف ہے، لقب نیّر الدین اور شہرت خواجہ حاجی شریف کے نام سے ہے کیونکہ آپ نے متعدد حج کیے۔ آپ زَندَنہ از بلادِ بخارہ (روس) میں ۴۹۲ھ بمطابق ۱۰۹۹ء پیدا ہوئے۔
آپ کی عظمت کے لئے اتنا کافی ہے کہ آپ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے پیر حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کے پیر ہیں اور حضرت خواجہ کے دادا پیرہیں ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمتہ اللہ علیہ چودہ سال کی عمر سے باوضو رہنے لگے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ ہمیشہ پرانے اور پیوند شدہ کپڑے پہنتے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا روزہ بھی مسلسل ہوتا تھا اور تین دن کے بعد بغیر نمک والی سبزی سے روزہ افطار کرتے تھے۔
احوال و مراتب:
خزینۃ الاصفیاء و سیر الاقطاب میں ہے کہ چودہ سال تک کی عمر کے بعد آپ کا وضو سوائے قضائے حاجت کے ضائع نہیں ہوا تمام عمر پیوند لگے کپڑے پہنے چالیس سال تک آپ جنگل میں عبادت الہی میں مشغول رہے. جس پر آپ کی نظر پڑتی وہ ولی کامل ہوجاتا۔ اہل تصوف کا بیان ہے کہ حضرت حاجی شریف علیہ الرحمہ کی ریاضت انتہائی اعلیٰ مراتب تک پہنچ گئی تھی کہ وہ جاہ وجلال آپ کے چہرہ انور سے ٹپکتا تھا کہ خوف سے لوگ آپ کے چہرے کی طرف دیکھ نہ سکتے تھے۔
آپ نے حضرت سید مخدوم قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ اقدس پر بیعت فرمائی۔ خواجہ نے فرمایا: اے شریف! تو نیک بخت ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے التماس کی ہے کہ تو میرا جانشین بنے اور لوگوں کو اللہ کی طرف راغب کرے"۔ شیخؒ نے جو اسمِ اعظم اپنے مرشدسے حاصل کیا تھا وہ آپ کو تعلیم فرمایا جس سے تمام علوم آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئے۔ آپ نے عُزلت نشینی اختیار کی تو شیخ نے رسول اللہ ﷺ کا معراج والاخرقہ بطور خرقۂ خلافت عطا فرمایا اور نصیحت کی "درویش کے لیے ضروری ہے کہ کہ شبانہ روز یادِ الہی میں مصروف رہے، ماسوٰی اللہ دل سے محو کر دے، درویشوں سے محبت و صحبت رکھے، درویش محبینِ الہی ہوتے ہیں۔’’ آپ نے کبھی دنیا کے مال کی تمنا نہ کی اور نہ ہی کبھی کسی دنیا دار کو صدرِ مجلس میں جگہ دی۔ آپ نے ۴۰ سال مجاہدہ کیا، ۱۴ سال کی عمر سے آخری لمحاتِ حیات تک آپ کا وضو سوائے قضائے حاجت کے کبھی باطل نہ ہوا۔اللہ کے خوف سے ہر وقت روتے رہتے اور نماز ادا کرتے تو مکمل حضوری حاصل ہوتی۔ مجاہدے میں کامل تھے، پیوند لگی گودڑی زیبِ تن فرماتے، تین تین چار چار روز کا فاقہ کرتے اور کئیی دن فاقہ میں گذار لینے کے بعد بطور شکریہ ۱۰۰ رکعت نوافل ادا فرماتے۔ عجز و انکساری اور مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ حاضرین حیران رہ جاتے، مہمان کے آگے با ادب بیٹھتے۔ آپ کا فرمان ہے ’’میرے بدن کا ہر ایک بال زبان ہو اور تمام مخلوق کی تعداد کے مطابق نماز ادا کروں تو بھی اُس کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔‘‘ذ
۱۲۰ سال کی عمر میں ۶۱۲ھ بتاریخ ۳ رجب المرجب بمطابق ۱۲۱۰ء قنوج میں وفات پائی ۔
دریا کے کنارے آپ کا مدفن ہے آپ ہی کے نام سے منسوب محلہ حاجی شریف ہے۔ (علیٰ اختلاف
الروایۃ) (سیر الاقطاب صفحہ 90،خزینۃ الاصفیاء جلد دوم، -56,55)
آج بھی صدیوں سے ہ آپ کا سالانہ عرس مبارک ضلع قنوج میں سب سے بڑے پیمانے پر ہوتا ہے لاکھوں کی بھیڑ ہوتی ہے میلاد شریف کی عالیشان محفل منعقد کی جاتی ہےجس میں خصوصی خطاب حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ کا ہوتا تھا۔ قل و فاتحہ کی تقریبات میں کثیر علماء و عوام بڑی عقیدت سےشریک ہوتے ہیں۔ آپ کے توسل سےدعائیں مانگتے اور اپنے دامن مراد کوبھرتے ہیں۔
حضرت شاہ جیونہ علیہ الرحمہ قنوجی:
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد سادات شاہ جیونہ علیہ الرحمہ کے اجداد نےتبلیغ دین کے لئے قنوج بھارت کی طرف رخ کیا، جہاں حضرت پیر شاہ جیونہ علیہ الرحمہ پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا اسم گرامی سید صدرالدین شاہ کبیر تھا، جو ایک جید عالم دین تھے، اور سکندر لودھی بادشاہ ہند کے مصاحبین میں سے تھے۔
حضرت شاہ جیونہ علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ (895ھ تا 961ھ) تقریباً 66سال قنوج میں گزارا آپ نے شاہان ہند سکندر لودھی، ابراہیم لودھی، ظہیر الدین بابر، نصرالدین ہمایوں اور جلال الدین اکبر کا عہد دیکھا ۔ قنوج جوکہ اب ضلع ہے اس میں ایک تحصیل جلال آباد ہے جوکہ سادات جلالی بخاری کے نام سے منسوب ہے۔ اسی تحصیل میں قصبہ ’’جیون‘‘ واقع ہے۔اسی طرح مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کے نام سے منسوب مسجد بھی قنوج میں موجود ہے۔ حضرت پیر شاہ جیونہ علیہ الرحمہ باکرامت ولی کامل تھے، جب آپ قنوج میں تھے تو وہاں کے راجہ کے بیٹے کو پیٹ میں چاقو لگا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی، لیکن آپ کے دست کارساز سے اللہ کے فضل سے راجہ کا بیٹا زندہ سلامت اٹھ بیٹھا۔ جس سے آپ ’’ شاہ جیونہ پاٹے سیونا‘‘ مشہور ہوگئے اور آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر راجہ اور اس کی رعایا کے لوگ مسلمان ہوگئے۔حضرت پیر شاہ جیو نہ کو یہ کرامت ورثہ میں ملی تھی۔ آپ کے جدِ امجد مخدوم جلال الدین سرخ بخاری کے متعلق کتاب حدیقۃ الاولیاء اورانوار الاولیاء مولفہ رئیس احمد جعفری میں ان کرامات کا ذکر ہے۔
حضرت پیر شاہ جیونہ تبلیغ اسلام کے لئے 558ھ میں قنوج سے پیل پدھراڑ کے علاقہ میں تشریف
لائے اور یہاں کے قبائل کو کلمہ حق پڑھایا، یہ علاقہ پہلے بالکل بنجر تھا لیکن آپ کی برکت سے سرسبز ہوگیا، اور لوگوں نے یہ کرامت دیکھ کر جوق درجوق اسلام قبول کرلیا۔پیل پدھراڑ سے آپ جھنگ(پاکستان) میں موجود شہر شاہ جیونہ کے علاقہ میں تشریف لائے۔(ماخوذاز کتاب چراغ فقرمؤلفہ حاجی غلام رضا)
ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ سید محمد قنوجی علیہ الرحمہ:
آپ قنوج کے رسولدار سادات میں سے تھےفتاویٰ عالمگیری کی مجلس مؤلفین کے حصہ دارتھےریاضی اور ادب کے ماہر اور کریم الاخلاق اپنے وقت کے عظیم عالم، فاضل تھے فقرو تصوف کی چاشنی مزاج میں داخل تھی اور سلسلہ چشتیہ میں بیعت تھے شاہجہان کی نظر بندی کے زمانے میں مونس و دمساز تھے تمام عمر درس وتدریس میں بسر کی اور عنایت شاہی کے حقدار رہے 1091ھ کے بعد انتقال ہو اورقنوج میں اپنے عالیشان باغ میں مدفون ہیں۔ حاشیہ مطول انکی علمی یادگار ہے۔(فتاوی عالمگیری کے مؤلفین)
مزید برآں مختلف سلاسل کے کئیی بزرگوں کے مزارات بھی قنوج کی عظمت رفتہ کے گواہ ہیں۔ جیسے حضرت بالا پیر، حضرت سلطان پیر، حضرت مخدوم اخی جمشید، حضرت مخدوم جہانیاں رحمہم اللہ تعالیٰ۔ نیز خود حضرت خواجۂ ہندوستان خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ کے خاص خلیفہ حضرت شیخ احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی یہاں تشریف لائے اور یہیں مدفون ہوئے۔ آج بھی آپ کے نام سے محلّہ احمدی ٹولہ، آباد ہے۔مضمون کی طوالت کے پیش نظر انہیں اکابرکے احوال پر اکتفاء کیا گیا ہے ورنہ دفتر درکار ہوگا کیونکہ قنوج مدینۃ الاولیاء رہاہے۔
مذاہب و مسالک
قنوج کی قدیم تاریخ سےپتہ چلتاہے کہ تقریبا سارے وہ مذاہب جوکہ ہندوستان میں مروج تھے وہ یہاں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ملک کی راجدھانی رہا اس لئے یہاں سب مذہب کے لو گ تھے پر موجودہ دور میں اکثریت میں اسلام اور ہندو مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں اور نہایت اقلیت میں عیسائی
قنوج کی قدیم تاریخ سےپتہ چلتاہے کہ تقریبا سارے وہ مذاہب جوکہ ہندوستان میں مروج تھے وہ یہاں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ملک کی راجدھانی رہا اس لئے یہاں سب مذہب کے لو گ تھے پر موجودہ دور میں اکثریت میں اسلام اور ہندو مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں اور نہایت اقلیت میں عیسائی ہیں۔جس طرح بنام مسلمان شیعہ فرقہ قنوج شہر میں صرف ایک گھر شیعہ کا باقی سب سنی ہیں۔
مسالک:
مسلمانوں میں تین مسلک یہاں پائے جاتے ہیں۔ اہل سنت وجماعت،دیوبندی ، غیر مقلد۔
دیوبندیت:
دیوبندی فرقے نے جب سے ہندوستان میں جنم لیا اسی وقت سے یہاں دیوبندیت پیدا پوگئی کوئی سنی عالم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں دیوبندیت کو خوب پھیلنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے اکثریت ان کی ہوگئی دیوبند سے کئی مولوی پڑھ کرآئے اور کئی محلوں میں چھوٹے چھوٹے مدرسے قائم کیے۔اوھرجماعتوں کی بھی آمد و رفت سے کافی فروغ ملا اس کے علاوہ دیوبندی مشہور عالم مثلا صدیق ہتوڑا اور ابرار الحق ہردوئی وغیرہ آتے اورپیری مریدی کے نام پرسیدھے عوام کو گمراہ کر دیوبندی بناتے رہے۔
غیر مقلدیت:
قنوج کی غیر مقلدیت قدیمی ہے بلکہ ہندوستان میں غیر مقلد فرقے کے بانیین میں نواب صدیق حسن خاں کاآبائی وطن قنوج رہا ہے جسکے دور میں قنوج کی غیر مقلدیت پروان چڑھی۔ جسکا تعلق قنوج کے مشہور نقوی سادات سے ہے سادات قنوج کی عظیم تاریخ ہے۔قنوج میں غیر مقلدیت قدیمی اور مالی اعتبار سے مضبوط رہی مگر بحرالعرفان کی مساعی جمیلہ سے صرف ایک محلہ کے چند افراداور ایک خاندان میں سمٹ کر رہ گئی۔
اہل سنت و جماعت:
گزشتہ ادوارمیں قنوج میں سنیت ہی تھی مگر ماضی قریب میں بحر العرفان علیہ الرحمہ کےقنوج آنے سے قبل سنیوں کے حالات نہایت بد تر ہو گئے تھے اس دوران فرق باطلہ کو خوب موقع ملا ، مگربحر العرفان کی آمد کے بعد الحمدللہ سنیت غالب آئی اور تمام فرقوں کی کمر ٹوٹ گئی ہر سو، شہر واطراف میں سنیت کی بہاریں آگئیں الحمدللہ آج قنوج میں 90 فیصد سنیت ہے ۔ اسکی مزید تفصیلات آگے آرہی ہے۔
قنوج کے دینی حالات:
گزشتہ ادوار میں قنوج علماء ومشائخ کا مرکز رہا مگر مرور زمانہ کے تحت حالات متغیر ہوتے رہے اور آہستہ آہستہ عظیم شخصیات کے اٹھ جانے سے دینی سرگرمیاں سرد پڑ گئیں اور جہالت کی تاریکیاں چھا گئیں سنیت کا بڑا نقصان ہوا باطل فرقے وہابیہ اور دیابنہ نے اپنی کوشش جاری رکھیں اس طرح قنوج شہر اور مضافات میں بھی دیوبندیت کا اثرورسوخ بڑھ گیا۔
بحرالعرفان کی آمد سے قبل حالات یہاں تک بگڑے ہوئے تھے کہ شہر قنوج کی تقریباً پچاسی مساجد میں کوئی سنی امام تک نہ تھا اور پورے شہر میں کوئی سنی عالم نہ مکتب ومدرسہ تھا اکثر مساجد میں دیوبندی امام تھے اور باقی میں امام تک نہ تھے اور ان میں بھی جماعتوں کی آمدورفت تھی اس طرح انھیں کا قبضہ تھا شہر کی امامت وقیادت انھیں کے زیرنگیں تھی مذہبی امور میں عوام انھیں کے ائمہ اور مدارس کے ذمہ داروں سے رجوع کرتی حالانکہ عوامی اکثریت معمولات اہل سنت وجماعت پر کاربند تھی مگر کسی سنی عالم اور حفاظ وقرأ کی عدم موجودگی اور قائد نہ ہونے کی وجہ سے میلاد وفاتحہ خوانی اور بزرگوں کے اعراس کے پروگراموں کو بھی دیوبندی اپنی شاطرانہ چالوں سے سیدھے سادے سنیوں کی محفلوں اور میلاد شریف کے پروگراموں کو اپنے طور طریقے سے رسما ادا کرتے، میلاد شریف میں بجائے عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم کے اور اعراس میں بزرگوں کی سیرت وتذکرے بیان کرنے کے اپنے باطل و فاسد عقائد بیان کرتے جس سے دن بدن سنیت کا نقصان ہو رہا تھا۔
دوسری جانب عام سنیوں کی جہالت اور دین سے دوری کا یہ عالم تھا کہ اکثر فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی کے لئےحتی ٰکہ عید وبقر عید، نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی دیندار شخص تک میسر نہ آتا تھاجس کے لئے کافی دور درازسے کسی حافظ صاحب وغیرہ کو بلانا پڑتا۔
راقم سے قنوج کےبعض بزرگ لوگوں نے بتایا کہ حضرت بحر العرفان علیہ الرحمہ کے آنے سے قبل قنوج میں سب سے بڑی دقت اہل سنت و جماعت کی یہ تھی کہ فاتحہ ودرود اور مسجدوں کی امامت اور کسی انتقال کے ہوجانے پر جلدی کوئی نماز پڑھانے والانہیں ملتا تھا ہم لوگ کبھی مکن پور شریف حضرت مدار صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان کے علاقہ سے کسی کو بلا کر لاتے اور نماز جنازہ وغیرہ پڑھواتے تھے۔
قنوج اور اطراف قنوج کی دینی حالت بڑی خستہ تھی ۔ دیہات کی حالات نہایت ہی خراب تھےھنود کی صحبت کی وجہ سے ان کے رسم و رواج کا اتنااثر پڑاکہ قنوج کے بعض مواضعات جن میں مسلمان اقلیت میں رہتے ہیں وہاں کی عورتیں مندروں میں چڑھاوے اور نز ریں پیش کر نےجاتیں اور نام تک اپنے بچوں کے کفار ومشرکین کے نام پر رکھ لیتے آدھا نام مسلم تو آدھا نام مشرکانہ ہوتا۔
قادیانیت بھی بعض علاقوں میںاپنی مادی طاقت کے بنا پر پھیلنے لگی تھی قادیانیوں نے قنوج کے اس علاقے کو خالی دیکھا تو اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے کثیر مال وزر غریب مسلمانوں میں صرف کرکے بعض افراد کو دین سے منحرف کر لیا۔
اسی طرح قنوج اور اطراف کے دینی حالات بہت زیادہ بھیانک ہوتے جارہے تھے سنیت کی کوئی دیکھ بھال کرنے والانہ تھا مرکزیت سے کوئی رابطہ نہ تھا اور نہ ہی ہندوستان کے کسی عالم یا پیر کا یہاں آنا ہوتا تھا اور جماعت اہل سنت کا کوئی رابطہ نہ تھا جس کی بنا پر یہ علاقہ اہل سنت و جماعت کے ہاتھ سے جاتا رہا اور باطل فرقوں کو خوب پھیلنے کا موقع مل گیا۔
ایک زمانے میں اس شہر قنوج کی سنیت اتنی معروف ومقبول تھی کہ ملک و بیرون ملک میں بھی یہاں کے اکابرین کے کارناموں اور خدمات دینیہ کی وجہ سے اس شہر کو مرکزیت حاصل تھی مگر حالات کی ستم ظریفی اپنوں کی بے اعتنائی کہ بزرگوں کے قدیمی شہر کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا حالانکہ یہ شہر خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے دادا پیر حاجی شریف علیہ الرحمۃ والرضوان کی نشست گاہ اور عارفان حق اور مشائخ چشت کا مرکز رہا تھا. دھیرے دھیرے وہابیت کی زد میں آ گیا اور جہالت کی تاریکیوں میں ڈوب گیا اور حالات نہایت نازک ہو گئے، المختصر یہ کہ سنیت کا عظیم نقصان ہو چکا تھا جس کی تلافی بظاہر بہت مشکل تھی ۔
قنوج کے حالات کے حوالے سے بحر العرفان علیہ الرحمہ خود اپنی کتاب ‘‘تحدیث نعمت’’ میں یوں بیان فرماتے ہیں: کہ جامعہ کے قیام کے لئے اس وقت جو مناسب جگہ خیال میں آئی وہ قنوج تھی یہاں کوئی اہل سنت کا جامعہ یا مدرسہ تو بڑی بات ہے کوئی اچھا مکتب تک نہ تھا نہ کوئی عالم یہاں تحفظ سنیت کا کام کررہے تھے قریب قریب پورا شہر دیوبندیوں کی لپیٹ میں تھا مساجد میں امام انھیں کے تھے عیدین وجمعہ کی نمازیں وہی پڑھاتے تھے عام طور پر لوگ مذہبی معاملات میں انھیں کی طرف
رجوع کرتے تھے حد تو یہ میلاد کے نام پر جو محافل منعقد ہوتیں وہی لوگ آکر تقریریں کرتے اور بغیر قیام وسلام کےمحافل کا اختتام ہو جاتا جنازوں کی نمازیں وہی پڑھا تے چونکہ اس دیار میں قنوج کو ایک مرکزیت حاصل تھی اس لئے ان کا اثر مواضعات اور گاؤوں پر بھی بہت پڑ رہا تھا مالدار طبقہ زیادہ تر مکمل ان کے ہاتھ میں آچکا تھا قرآن خوانیوں میں ہر جگہ وہی بلائے جاتے تھے۔ (تحديث نعمت )
مذکورہ بالااحوال سے واضح ہوتا ہے کہ بزرگوں کے اس شہر کی کیاحالت ہو گئی تھی اور کتنے بھیانک اور نامساعد حالات تھے اور مسلمان دین سے اتنا دور ہورہے تھے کہ کوئی دین کا درد رکھنے والانہ تھا جو سنیت کے اس لٹتے قافلے کا تحفظ کرسکے اور شکستہ قلعہ کی تعمیر نو کر سکے اللہ عزوجل کا فضل اور یہاں کے مشائخ و بزرگانِ دین کا کرم ہوا کہ سنیت کی بازیابی کے لئے اس فصل خریف کو "فصل بہار بنانے کے لئے اور دین کی سربلندی اور اس کی ضوافشائی کے لئے بزرگوں کی عظمتوں کو خلق خدا میں اجاگر کرنے کے لئے بدعقیدگی اورجہالت کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے ،علم وعمل ، حسن اخلاق اور کردار وگفتار اور اتباع رسول سےآراستہ کرنے کے لئے رب قدیر نے علم و فضل، ولایت اور روحانیت کے تاجدار استاذالعلماء حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان کو اس خطے میں بھیج دیا ۔اس طرح آمد بحرالعرفان کے بعد اس خزاں رسیدہ چمن میں ہر طرف فصل بہار آگئی۔
قنوج بحرالعرفان کی تشریف آوری کے بعد
قنوج میں آمد:
حضور بحرالعرفان علیہ الرحمہ مذکورہ حالات میں بغیر کسی تعاون کے بےیاروں مددگار بے سروسامانی میں تن تنہا توکل علی اللہ کی چادر اوڑھے عزم وہمت اور کچھ کرنے کا حوصلہ اور خدمت دین کا جذبہ لے کر مشائخ اور بزرگوں کی عنایت کے سہارے "١٩٨٤ء" کو ابتدائے رمضان المبارک میں قنوج تشریف لائے۔
قیام جامعہ:
ابتداءً اللہ کے اس ولی حضور بحر العرفان علیہ الرحمہ نےسلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ والرضوان کے دادا پیر حضرت خواجہ حاجی شریف علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں باریابی حاصل کرکے اپنی دینی خدمت کا آغاز فرمایا شب اول درگاہ میں گزاری اور نماز فجر کے بعدشہر میں نکلے اور مختلف محلوں میں جا جا کر لوگوں سے ملاقاتیں کیں اپنے دینی خدمات کےارادے ظاہر کئیے بعض مقامات پر صرف تسلی اور بعض سے مایوسی ہوئی بالآخر تین روز کی تگ ودو کے بعد محلہ احمد نگر( حمالی پورہ) میں واقع ایک چھوٹی مسجد سے متصل آپ نے ٥رمضان المبارک کو امام ربانی مجدد الف ثانی کے نام نامی سے منسوب الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کا قیام فرما یا اورایک پیڑ کے نیچے اس وقت کےمحدث ،مفتی اور مفکر،علوم و فنون کے ماہر استاذ نے دین کی خاطر قاعدہ بغدادی کے بچوں سے اپنے سفر کا آغاز کیا اس کے بعد آپ کے تلامذہ پروانوں کی طرح اس محدث ومدرس زمانہ کی بارگاہ میں جمع ہوگئے شوال سے باضابطہ درس نظامی کا آغاز ہوگیا بیرونی طلباء کے قیام کے لئے محلہ کے کچھ لوگوں نے کمرے دے دیے طعام کے لئے گھروں سے انتظام کردیا گیا. اور پھر حضور بحرالعرفان نے شب و روز دور دھوپ کرتے جامعہ کی توسیع اور تبلیغ دین کے لئے روز انہ درسگاہ سے طلباء کو پڑھانے کے بعد نکل جاتے اور بڑی جد وجہد کرتے اور بھوک وپیاس سے بے پرواہ ہوکر جامعہ کے لئے دوڑتے رہتے میلوں میل گاؤں گاؤں کبھی پیدل تو کبھی سائیکل سے سفر فرماتے۔
میں باریابی حاصل کرکے اپنی دینی خدمت کا آغاز فرمایا شب اول درگاہ میں گزاری اور نماز فجر کے بعدشہر میں نکلے اور مختلف محلوں میں جا جا کر لوگوں سے ملاقاتیں کیں اپنے دینی خدمات کےارادے ظاہر کئیے بعض مقامات پر صرف تسلی اور بعض سے مایوسی ہوئی بالآخر تین روز کی تگ ودو کے بعد محلہ احمد نگر( حمالی پورہ) میں واقع ایک چھوٹی مسجد سے متصل آپ نے ٥رمضان المبارک کو امام ربانی مجدد الف ثانی کے نام نامی سے منسوب الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کا قیام فرما یا اورایک پیڑ کے نیچے اس وقت کےمحدث ،مفتی اور مفکر،علوم و فنون کے ماہر استاذ نے دین کی خاطر قاعدہ بغدادی کے بچوں سے اپنے سفر کا آغاز کیا اس کے بعد آپ کے تلامذہ پروانوں کی طرح اس محدث ومدرس زمانہ کی بارگاہ میں جمع ہوگئے شوال سے باضابطہ درس نظامی کا آغاز ہوگیا بیرونی طلباء کے قیام کے لئے محلہ کے کچھ لوگوں نے کمرے دے دیے طعام کے لئے گھروں سے انتظام کردیا گیا. اور پھر حضور بحرالعرفان نے شب و روز دور دھوپ کرتے جامعہ کی توسیع اور تبلیغ دین کے لئے روز انہ درسگاہ سے طلباء کو پڑھانے کے بعد نکل جاتے اور بڑی جد وجہد کرتے اور بھوک وپیاس سے بے پرواہ ہوکر جامعہ کے لئے دوڑتے رہتے میلوں میل گاؤں گاؤں کبھی پیدل تو کبھی سائیکل سے سفر فرماتے۔
طریقہ کار بحر العرفان:
آپ کا طریقہ کار یہ تھا کہ صبح کو نماز فجر سے فراغت کے بعد اپنے اورادو وظائف ومراقبہ سے فارغ ہوتے اور چاست کی نماز ادا فرماتے پھر جامعہ میں آتے اور طلباء کو پڑھاتے اس کے بعد خدمت خلق میں مصروف ہو جاتے اورلوگوں کے مسائل حل فرماتے دعا وتعویذ کے ضرورت مندوں کو تعویذات فرماتے اور پھر باقی وقت شہر یا گاؤں میں تبلیغ دین اور جامعہ کے فروغ کے لیے نکل جاتے دیر رات کو گھر آتے ،گھر کیا تھا وہ بھی پیڑ کے نیچے ایک تخت تھا جس پر آپ آرام فرماتے اور کمروں میں طلباء کو قیام کراتے کچھ دنوں بعد مسجد کے ایک نہایت خستہ حجرے میں قیام فرمانے لگے جس میں سالوں تک آپ نے قیام فرمایا جامعہ کی تعمیرات کا سلسلہ شروع کیا بڑے بڑے کمرے بنائے، ھال، دارالاقامہ بنایا مگر اس خدا کے بندے نے اپنے گھر کی کوئی پرواہ نہ کی احباب کے اصرار کے باوجود اپنے اہل خانہ کو اس چھوٹے سے کمرے میں رکھا اور جامعہ کی توسیع میں لگے رہے ، آپ جامعہ کے لیے ہرممکن کوشش کرتے۔
دعوت و تبلیغ :
دین وسنیت کے فروغ کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے اس کے لیے آپ نے اپنا نظام الاوقات کچھ اس طرح مرتب کیا کہ ہر روز شہر کی ایک مسجد میں اپنے کچھ طلباء کے ساتھ جاتے اور لوگوں کو دین کی دعوت دیتے اور تقریروبیان فرماتے نماز کی ترغیب دیتے مختلف محلوں میں دینی مجلس کرتے بلامعاوضہ لوگوں کےیہاں جاتے ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور قرآن خوانیاں میلادیں کراتے اور جنازوں میں شرکت کرتے خود بحرالعرفان نے فرمایا کہ قنوج کی کوئی گلی اور چوراہہ پر کوئی دکان ایسی نہ تھی جہاں ہم نہ گئے ہوں اور لوگوں کو دعوت دین نہ دی ہو، فرماتے کہ خاص کر وہ چوراہے اور چائے کی دکانیں جہاں پر لوگ جمع رہتے ہیں وہاں دیر تک بیٹھتے اور ان کو تبلیغ کرتے اور رغبت دین اور جذبات پیدا کرتے دھیرے دھیرے آپ کی دعوت وتبلغ کا اثر ظاہر ہوا اور لوگ وابستہ ہونے لگے جامعہ کے لئے بھی راہیں ہموار ہوئیں اس کے لئے آپ نے سالانہ اجلاس کا بھی انعقاد کیا جس میں طلبہ کی فراغت ہوئی اور دستار دی گئی علماء ومشائخ کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور سنیت اور مسلک اعلی حضرت کو خوب فروغ ملا۔
شہر کی اکثر مساجد بحرالعرفان کی دور اندیشی اور کاوشوں سے سنیوں کے قبضے میں آگئیں آپ نے جامعہ کے طلباء کو بلا تنخواہ مسجد میں امام رکھا اور بعض ائمہ کی تنخواہ کا انتظام اپنے پاس سے کیا۔
حضور بحرالعرفان کی مساعی جمیلہ اور مخالفین :
جب شہر قنوج میں حضرت کی مساعی جمیلہ رنگ لانے لگیںتو دیو بندی اور وہابی مسلک کے لوگ چراغ پا ہوگئےا نھوں نے آپ کی مساعی پر قدغن لگانے کی ہر چند کوششیں کی لیکن خدا کے اس بندے کے ساتھ جو نصرت ربی اور فیضان اولیاء رہا اس کے سامنے مخالفین ناکام ہوئےاس طرح الحمدللہ شہر کی اکثر مساجد سنیوں کے پاس آگئیں ٨٥ مسجدوں میں سے صرف دو محلوں میں چند مساجد دونوں فرقوں (دیوبندی اور غیر مقلدین ) کی رہی اور ان محلوں میں بھی بحر العرفان کےحسن اخلاق اوردعوت وتبلیغ کے ذریعے سنیت بڑھنے لگی۔
تبلیغی جماعت پر پابندی
دیابنہ نے اپنی شاطرانہ چالوں سےبحر العرفان کے بڑھتے قدم روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جو
ناکام ہوئی۔ تو انہوں نے آپ کی دعوت وتبلغ روکنے کے لئے اپنی جماعت کے سربراہ لوگوں سے مشورہ کیا اور قنوج میں باہر سے ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ایک بڑی جماعت چار مہینے کے چلے پر تبلیغ کے لئے بلائی اور اس کو پورے شہر میں منصوبہ بند طریقے سے جگہ جگہ پھیلادیا اور زبردستی سنیوں کے محلوں اور مسجدوں اور گھروں میں جا جا کر سنیوں کو پریشان کرنے لگے ۔حضور بحرالعرفان علیہ الرحمۃ والرضوان نے اپنی فکروتدبر سے شہر کے چنندہ افراد کو اعتماد میں لے کر اپنے تلامذہ اور محبین کے ذریعے دیوبندیوں کی اس بڑی سازش کو بھی ناکام بنا دیا ۔
حضرت کے طریقے کے مطابق جامعہ سے چند علماء ومبلغین دعوت دین کے لئے محلہ بی بی چمنی کی مسجد میں تبلیغ کے لئے گئے تو وہاں کے کچھ دیوبندی افراد نے ان کو مسجد میں بیان کرنے سے روک دیا اور بحث و مباحثہ کیا اس کو لیکر شہر میں چرچا ہوا حالات ناساز بن گئےکافی ہنگامہ ہوا پولیس انتظامیہ تک بات پہنچی دونوں فریقوں کو بلایا گیا دیوبندیوں نے اپنی بات رکھی کہ ہماری جماعتیں چار مہینے کے لئے یہاں آئیں ہیں ہم یہیں رکیں گے اور ایسے ہی اپنے مشن کو پورا کریں گے اس پر سنیوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ بیرونی لوگ یہاں رہیں گے تو شہر کا ماحول خراب ہو گا اور یہ لوگ سنیوں کی مسجدوں اور محلے میں جائیں گے اور اپنی تعلیمات دوسرے مسلک کے لوگوں پر تھوپیں گے اس طرح لڑائی بڑھے گی نظام شہر درہم برہم ہوگا اس پر پولیس انتظامیہ نے دیابنہ کو کڑی پھٹکار لگائی کہ تم لوگوں کو باہر سے بلا کر شہریوں کو پریشان کر تے ہو،ماحول خراب کرتے ہو لہذا جماعت کو یہاں سے بھیج دینا چاہیے. پہلے دن کی نشست ہوئی پولیس نے جماعت کوہی فساد کا سبب قرار دیا اور ان کو شہر چھوڑ کر جانے کے لئے کہا، اس کے بعد دیوبندی وہابی پھراکٹھا ہوئے۔ دوسرے دن میٹنگ کی گئی اس میں بھی دونوں فریق جمع ہوئے دیابنہ، وہابیہ آس پاس کے علاقوں ،فرخ آباد وغیرہ سے بھی آئے اور پولیس پر زور بنایا پیسے کا لالچ دیاتاکہ فیصلہ ان کے حق میں ہوجائے۔
ادھر بحرالعرفان کے محبین نے معاملے کی نزاکت کو اور انکی شیطانی چال کو جان لیافوراً بحر العرفان کے شاگردو جامعہ کے استاد حضرت مولانا حافظ شاھد صاحب مجددی اور حاجی معین صاحب حاجی شمشاد وغیرہ نے داروغہ سے کہا کہ مسئلہ شہر کا ہے تو یہ بیرونی لوگ فیصلے کرنے کیوں آئے ہیں نزاع کی جڑ تو بیرونی لوگوں کاجماعت کا شہر میں آنا ہے اس پر مزید یہ بیرونی لوگ مسئلے کو بھڑکانے لگے ہیں ۔